چوہدری نثار : صاحب کے ہزلہ پن سے ہر ایک کو گلہ ہے

muhammad Shahzadکہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ایک ہی شکل و حلیہ کے سات انسان بنائے ہیں جو اس دنیا میں موجود ہیں۔ ہمیں ایسی باتوں پر ہرگز یقین نہیں مگر چارونا چار کرنا پڑا جب ہمیں اندرونِ و بیرونِ ملک راہ چلتے لوگوں نے اپنا دوست یا رشتہ دار سمجھ کر روک لیا اور پھر معذرت کی جب یہ یقین ہو چلا کہ ہم وہ نہیں جو وہ سمجھ رہے تھے۔ ہم نے یہ سوچا کہ اگر ایک ہی شکل اورحلیے کے سات لوگ ہو تو کیا ان کا دماغ بھی ایک جیسا ہو گا۔ خود ہی جواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ جڑواں بھائی یا بہن شکل و صورت میں تو ایک ہوتے ہیں پر ان کے مزاج، سوچ، آئی کیو لیول اور شخصیت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ لیکن ایک واقعہ حال ہی میں ایسا ہوا۔۔۔  معافی چاہتا ہوں ایک نہیں اوپر تلے کچھ واقعات ایسے ہوئے کہ ہمیں یہ یقین ہونے لگا کہ شکل و شمائل کے علاوہ سوچ بھی جڑواں ہو سکتی ہے۔ کچھ شرارتی لونڈے فیس بک پر ہمارے انتہائی سنجیدہ اور پروقار وزیرِ داخلہ جناب چوہدری نثار علی خان صاحب کی تصاویر کو بذریعہ فوٹو شاپ منقلب کر کے ایسا بنا دیتے کہ جب یہ مشہور کامیڈین مسٹربین ےعنی Rowan Atkinson کے بالمقابل رکھی جاتیں تو دونوں میں کوئی فرق نظر نہ آتا۔ یہ پتہ چلانا مشکل ہو جاتا کہ کونسی تصویر چوہدری صاحب کی ہے اور کونسی مسٹر بین کی۔ ہم نے کبھی بھی اس شرارت کو سنجیدگی سے نہیں لیا بلکہ دل ہی دل میں اس کی مذمت کی۔ کہاں وہ احمق مسٹر بین اور کہاں ہمارے ذہین و فطین وزیر! نجانے کیوں ہمارے وزیرِ باتدبیر ایسی دور کی کوڑیاں لانے لگ گئے جن کی وجہ سے گمان ہونے لگ گیا کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہو چکے ہیں بین و نثار۔ مثلاً بیٹھے بٹھائے Save the Childrenجیسے معتبر ادارے کو جو کہ بچوں کے لئے عظیم خدمات انجام دے رہا تھا بند کر دیا۔ اس ملک میں اگر کچھ اچھا کام ہوا تو فرنگی NGOsہی کی بدولت۔ مگر ہمارے منتری جی ہاتھ دھو کر ان کے پیچھے ایسے پڑے کہ جیسے اس مملکت خداداد میں جو بھی برا کام ہو رہا ہے ہو نہ ہو ان ہی بدیسی NGOsکا کیا دھرا ہے۔ اور اس لنگڑلے لولے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگ جائیں گی اگر انہیں نکیل ڈالدی گئی تو۔
حال ہی میں چوہدری صاحب یہ فرما چکے تھے کہ آرمی چیف امریکہ وزیرِ اعظم کی اجازت سے گئے تھے۔ اور چیف کا ہر دورہ وزیرِ اعظم کی اجازت سے ہی ہوتا ہے۔ اچھا ہوتا کہ یہ بھی کہہ دیتے کہ آرمی چیف مارشل لاءبھی وزیرِ اعظم کی منظوری سے ہی لگاتے ہیں۔ چوہدری صاحب کی اگلی درفنظنی کی زمین انگریزی کاایک محاورہ ہے A man is known by the company he keeps. یعنی انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔ اس محاورے کی مدد سے انہوں نے ایک نیا محاورہ ایجاد کیا جس سے یہ پتہ چلایا جا سکتا ہے کہ کون دہشت گرد ہے اور کون امن پسند شہری۔ یہ محاورہ ہے A terrorist is known by the number of rotis he buys. یعنی دہشت گرد روٹیوں کی خریدسے پہچانا جاتاہے۔ منتری جی نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعہ شہریوں کو حکم دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف منظم ہو جائیں ۔ آنکھیں کھلیں رکھیں اور اگر کسی بھی شخص کو تندور سے 50 یا اس سے زیادہ روٹیاں خریدتے دیکھیں تو فوراً بھانپ جائیں کہ بندہ دہشت گرد ہے اور سیکورٹی حکام کو مطلع کریں۔
چوہدری صاحب نے حال ہی میں ایک نئی پھلجڑی چھوڑی۔ ایک ایسا فرمان جاری فرمایا جس کے آگے مسٹر بین کی مزاحیہ حرکتیں ماند پڑ گئیں اور ہم ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ فرمان یہ کہ ایم کیو ایم کے عمران فاروق کے قتل کا مقدمہ پاکستان میں درج کیا جائے گا۔ عمران فاروق کا قتل لندن میں ہو۔ سن تھا 2010۔ مہینہ تھا ستمبر اور 16 تاریخ تھی۔ لندن پولیس جیسی جانی مانی فورس توقاتل کا پتہ نہ لگا سکی ۔پانچ برس گذر گئے۔ اب چوہدری صاحب یہ گتھی سلجھائیں گے۔ پاکستان کی سابقہ وزیرِ اعظم پاکستان ہی میں دن دھاڑے قتل کر دی جاتی ہے اور ہم سکاٹ لینڈ یارڈ اور یو این سے درخواست کرتے ہیں کہ بھیا آ جاﺅ اور قاتلوں کو پکڑ کر ہمارے حوالے کر دو۔ حالانکہ ہم جانتے تھے کہ قاتل کون ہیں۔ جائے وقوعہ بھی فوراً دھو ڈالتے ہیں تا کہ فرنگی پولیس کو کوئی کھرا نہ مل جائے۔ چوہدری صاحب جب مقدمہ درج کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو انہیں یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ مقدمہ کس کے خلاف درج ہو گا۔ کچھ دن بعد مقدمہ ایم کیو ایم کے قائد کے خلاف اسلام آباد میں درج ہوتا ہے اور ہمارا حال ایک بار پھر ہنسی سے بے حال ہو جاتا ہے۔ الطاف حسین کے خلاف تو پہلے سے ہی تھوک کے حساب سے مقدمے درج ہیں۔چوہدری صاحب ذرا قوم کو یہ بتلا دیں کہ کتنوں کی پیروی ہوئی۔ کبھی پیش کیا الطاف بھائی کو کسی عدالت میں؟ اب کیسے پکڑیں گے الطاف بھائی کو؟ کب معاہدہ ہوا برطانیہ کیساتھ مجرموں کی حوالگی کا جسے extradition treatyکہتے ہیں۔ جو قتل ہوا وہ برطانوی شہری۔ جس کے خلاف مقدمہ درج ہوا وہ بھی برطانوی شہری۔ کیسے اسلام آباد کی پولیس لندن جائے گی۔ الطاف بھائی کو ڈنڈہ ڈولی کر کے پاکستان لائے گی؟ ہماری ناقص عقل تو یہ ہی بتاتی ہے کہ اسلام آباد پولیس صرف ایک ہی صورت میں یہ کیس حل کر سکتی ہے اور اسکے سوا کوئی چارہ نہیں کہ کسی معصوم کو پکڑا جائے۔ اس کی جیل میں اچھی طرح خاطر تواضع کی جائے۔ وہ چند منٹوں میں ہی مان جائے گا کہ اصل میں وہ ہی الطاف بھائی ہے اور اسی نے عمران فاروق کا قتل کیا تھا۔
ہم چوہدری نثار صاحب کی بہت عزت کرتے ہیں۔وہ ایک سنجیدہ سیاستدان ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتاکہ کیوں وہ آئے دن ایسی اقدامات کرتے ہیں جس کی توقع ذی ہوش انسان صرف ایک مسخرے ہی سے کر سکتا ہے۔ اس کام کے لئے ن لیگ کے پاس پہلے سے ہی عابد شیر علی اور رانا ثنا اللہ جیسی جید ہستیاں موجود ہیں۔ اگر تو چوہدری صاحب کو شہرت کا چسکہ لگ گیا ہے تو پھرایسا کرنا فرض ہے۔ چونکہ ہم چوہدری صاحب کی بہت عزت کرتے ہیں لہذا ہم یہ ہر گز نہ لکھیں گے کہ وہ عابد شیر علی یا رانا ثنا اللہ کو پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ ہم یہی سمجھیں گے کہ نون لیگ کو ایک جے سالک مل گیا ہے۔

[email protected]

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *