تجربہ بول رہا ہے

asif Mehmoodملک میں اس وقت ’تجربے‘ کا راج ہے ۔تجربہ بول رہا ہے اور جب ’ تجربہ‘ بولتا ہے تو دیوتا بھی خاموش ہو جاتے ہیں۔
چند ہی روز پہلے ’ تجربہ کار‘ سر جوڑ کر بیٹھے اور عوام پر چالیس ارب کے ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دیا ۔تھوڑا شور اٹھا تو ایک ’ تجربہ کار‘ نے مسکراہٹیں بکھیرتے ہوئے کہا: ان ٹیکسوں کا عام آدمی کی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔اس کے بعد قوم کی تربیت کا مرحلہ شروع ہوگیا۔’ تجربے‘ کی روشنی میں قوم کو بتا یا گیا کہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں قربانی دینا ضروری ہے۔قوم ابھی قربانی دے کر فارغ ہوئی ہی تھی کہ ’ تجربے‘ نے اس کی کھال شوگر مل مافیا کو دے کر ثوابِ دارین حاصل کر لیا۔ برسوں غریب کسانوں کی ادائیگیاں روکے رکھنے والے اس مافیا کو ساڑھے چھ ارب روپے کی سبسڈی دے دی گئی ہے ۔اپوزیشن لیڈر فرماتے ہیں ان کی ’بکواس‘ وزیر اعظم تک پہنچا دی جائے۔شوگر مافیا میں چونکہ ساری جماعتوں کے سیاست دان شامل ہیں اس لیے اس وارداتِ تازہ پر تو کوئی ’ بکواس‘ بھی نہیں کر رہا۔ابھی ابھی بلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں، سیاسی جماعتوں میں چونکہ کوئی باقاعدہ مالی معاونت کا نظام تو ہے نہیں ، یہ اہل ثروت کے عطیات کے محتاج رہتی ہیں شاید اسی لیے اپنے محسنوں کو فوری طور پر نواز دیا گیا ہے اور چار سو خاموشی ہے۔غریب آدمی اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیاں قربان کر کے ان مگر مچھوں کا پیٹ بھرتی رہے کیوں کہ ملک و قوم کا ’ مفاد‘ اسی میں ہے۔کل قومی اسمبلی میں ارشاد ہوا: مزاح کے نام پر سیاسی قائدین کی تضحیک بند ہونی چاہیے۔( یہ کارِ خیر اب پوری سنجیدگی سے ہونا چاہیے)
پی آئی اے کی نجکاری ہو رہی ہے۔معزز پارلیمان موجود ہے لیکن نجکاری کے لیے صدر محترم سے کہا گیا :قبلہ کچھ گنجائش نکالیں ، اور صدر صاحب نے فوری طور پر آرڈی ننس جاری کر کے کرپشن کے خلاف اپنی مبینہ جدوجہدکو مزید آگے بڑھا دیا۔یاد رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری میں نیویارک کے روزویلٹ ہوٹل کی بھی نجکاری ہو گی۔تجربہ ایک زمانے میں فلیش مین ہوٹل بھی نجکاری کے نام پر قریبی عزیزوں میں بانٹ دینا چاہتا تھا مگر پی ٹی ڈی سی کا سربراہ اس کوشش کی راہ میں حائل ہو گیا ۔اب پھر بڑے بڑے اداروں کی لوٹ سیل لگنے کو ہے۔پی آئی اے سے آغاز ہو رہا ہے۔حقائق انتہائی خوفناک ہیں۔پی آئی اے کے ملازم سراپا احتجاج ہیں لیکن تجربے نے کسی سے مشاورت کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ابھی پی آئی اے کا ستیا ناس ہوا نہیں لیکن وزرائے کرام نئے’ امکانات ‘ کی خوشبو میں بھیگے جا رہے ہیں۔وفاقی وزیر مذہبی امور ایک نجی ایر لائن ’ ایئر ایگل‘ کی رسم افتتاح بھی فرما چکے ہیں اور ’ سینیئر وفاقی وزیر‘ جناب سجاد قمر جو آج کل بیرونی دوروں پر پاکستان تشریف لاتے ہیں اکثر قومی خزانے پر بیرون ِ ملک پائے جاتے ہیں اس تقریب کا احوال بیان فرماتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھتے ہیں:’ ہمارے دوست صبیح رحمانی کی ایئر ایگل کی رسم افتتاح‘۔پی آئی اے کی رسم قل ابھی ہوئی نہیں یہاں یاروں نے اپنے دوستوں کی نئی ایئر لائنوں کے بندوبست پہلے ہی کرا دیے۔چمن کی تباہیاں بے سبب نہیں ہوتیں، باغبانوں کی بے نیازی اس میں ضرور شامل ہوتی ہے۔
تجربہ بول رہا ہے....باقی سب کی بولتی بند ہو چکی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *