اسلامی بینک.... حیلہ بینک

سلیم جاوید

salim javedمیں کسی اورموضوع پر لکھنا چاہتا تھا لیکن ایک دوست نے برادر بزرگ اور مقبول کالم نگار کا مذکورہ عنوان والا کالم بھیج دیا(30 نومبر)- جس سے بڑی ذہنی کوفت ہوئی-چونکہ ردعمل میں لکھی گئی تحریر پہ جذبات غالب ہوتے ہیں لہٰذ، بے ربط گفتگو کی پیشگی معذرت چاہوں گا۔
بزرگ کالم نگار کے دینی جذبات کا احترام مگر بھائی، آپ عالمِ دین نہیں ہو-اب ایک طرف آپ یہ بھی فرمارہے ہو کہ سٹیٹ بنک کے شریعہ ایڈوایزری بورڈ میں ہرمسلک کے علمائے کرام شامل ہیں، دوسری طرف آپ ان علما پریہود کی طرح حیلہ سازی کا الزام بھی لگارہے ہو-سیدھی سی بات ہے اگرجناب کی اسلامی معاشیات پرکوئی مناسب شہرت ہوتی تو سٹیٹ بنک نے ضروراس بورڈ میں شامل ہونے کے لئے آپ کی منت سماجت کی ہوتی(کیونکہ سکّہ بند مولویوں کی بجائے، ان کوآپ کی طرح کے بیوروکریٹ دانشور زیادہ بھاتے ہیں)-
بات یہ ہے کہ ،سود جس قدربڑا گناہ ہے،اتنا ہی پیچیدہ مسئلہ بھی ہے۔ خاکسار، چونکہ عالم دین نہیں ہے لہٰذا،اس موضوع پر معتدبہ مطالعہ کے باوجود، رائے زنی سے گھبراتا ہے۔ مگر جب ہرایسا ویسا، اس نازک موضوع پر چونچ فرسائی فرماکر، عوام کو تذبذب میں مبتلا کررہا ہو،تو خاکسار کابھی ٹانگ اڑاناحق بنتا ہے-
جناب! پہلی بات تو یہ سمجھئے کہ شریعت میں حیلہ سازی کوئی عیب نہیں بلکہ اگرکسی عوامی مسئلہ کے حل کی خاطر ہوتومستحسن ہے -اسی کو فقہ کہتے ہیں-خود قرآن نے ایوب(ع) کو حیلہ بتایا کہ 100 لکڑی مارنے کی قسم، ایک ایسی جھاڑوکی ایک ضرب سے پوری کرلو، جس میں لکڑی سے بنے100 ریشے ہوں-
سود، کیا چیز ہے؟ اورکیوں اتنا بڑا گناہ ہے؟
دیکھئے!اسلام، سوسائٹی کے ہرفرد کو،اس لحاظ سے فعال دیکھنا چاہتا ہے کہ اپنی صلاحیتیں، کائنات کی تسخیرمیں صرف کرے (جس کا اصل مقصد، انسانیت کی فلاح ہو)-گھر بیٹھ کرنہ کھائے کیونکہ اسکی یہ مفت خوری،سوسائٹی کے لئے مزید قباحتوں کاسبب بنتی ہے-اسلام اس سے بھی غافل نہیں کہ ہرزمانہ میں، اپنی ذہانت، خود داری اورمحنت کے باجود، ایک طبقہ، مختلف اسباب کی بنا پر، بنیادی ضروریات سے محروم رہے گا۔اسی لئے ایک طرف صدقات و زکوٰة کا نظام دیا گیا، دوسری طرف ان کی فلاح کی کوشش کو اعلی ترین عبادت قرار دیا گیا(اس لئے ہم علما کی جمہوری سیاست کے قدردان ہیں)-
سود کیا ہے؟ ایک دولت مند شخص، کسی ضرورت مند کو، کچھ رقم اس شرط پہ کسی معیاد کے لئے ادھار دیتا ہے کہ اس سے زائدرقم واپس کروگے، چاہے تمہاری ضرورت پوری ہویا نہ ہو۔ ہوتا یوں ہے کہ پیسے کی بنیاد پر پیسا اکٹھا ہونے سے، سوسائٹی میں ایک مفت خور،کاہل، دولت مند(ضمنی طورپر،عیاش اورظالم) طبقہ وجود میں آتا چلا جاتا ہے حتیٰ کہ یہ لوگ،صرف پیسے کی بنیاد پر،پرچون نہیں، بلکہ تھوک (بلک ٹریڈنگ) کا کنٹرول کے کر،منڈیوں کے بھاو¿ طے کرتے ہیں-پھرانسانیت، اپنی بنیادی ضروریات کے لئے بھی،انکے رحم و کرم پہ آجاتی ہے –جبکہ خدا اپنی مخلوق کو، ان کے حوالے نہیں کرنا چاہتا-
سرکاردوعالم نے فتح مکہ پرسود کی حرمت کااعلان فرمایا تھایعنی عرب میں رائج، طاقتورسودی معیشیت پراس وقت زد کی گئی جب مملکتِ اسلامی، اس مافیا سے زیادہ طاقتورہوچکی تھی۔ (اس سے اسلام کی وہ معاملہ فہمی واضح ہوتی ہے جس سے کالم نگار مذکور جیسے لوگ محروم ہیں)۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ اسلام کو امیروں سے خواہ مخواہ کا بیرنہیں مگروہ کسی فرد کو، گردن کا پسینہ نکالے بغیر،امیرسے امیر تر ہوتا نہیں دیکھنا چاہتا-
موجودہ سرکاری بنکاری میں،ایک فرد(سیٹھ) تو ہوتاہی نہیں ہے-عوام جس سرکاری بنک سے سود پہ قرض لیتے ہیں، اس کے منافع کا ایک حصہ، بنک کے ان ملازمین کی معاشی بہتری میں صرف ہوتا ہے جوکسی سیٹھ کے گھر کے خاندانی منشی نہیں ہوتے بلکہ یہ ملازمین، عوام میں سے ہی میرٹ پہ سلیکٹ ہوتے ہیں، دوسرے انکی تاحیات ملازمت نہیں ہوتی بلکہ ریٹائر بھی ہوتے ہیں-(یعنی یہ ایک خاص طبقہ نہیں)- دوسری طرف سرکاری بنک کو جو پیسہ ملتا ہے، وہ بھی کسی خاص فرد کو امیر سے امیر ترنہیں بناتا بلکہ عوام کی فلاح کے لئے استعمال ہوتا ہے-آج کے سرکاری بنک کا سودی نظام، اور سرکار دوعالم کے زمانے کا سودی نظام،سوائے لفظ"سود" کے، اپنی اصل میں بالکل مختلف ہے-
اب نجی بنکاری کی طرف آئیے- وہاں اگرچہ، سارا منافع سیٹھ کو جاتا ہے مگر یہ مکہ والا سیٹھ نہیں جس پہ سوسائٹی کی طرف سے کوئی پابندی نہ تھی-فی زمانہ، اس کو بھی مارکیٹ میں مقابلہ کا سامنا ہے(قرض خواہ،اسی ایک بنک کے لئے مجبورنہیں)- موجودہ نجی بنکارکی آمدنی بڑھتی ہے تو اسے سوسائٹی کوانکم ٹیکس بھی دینا پڑتا ہے-(یعنی یہ کیس بھی سٹڈی مانگتا ہے)
االبتہ، اچھی حیلہ سازی کی طرح،بری حیلہ سازی بھی ہوتی ہے-ہمارے ڈیرہ اسماعیل خان میں، فردی سود کا رواج زیادہ تھا-(بدقسمتی سے پٹھانوں میں)۔ سود خور، تبلیغ میں لگے توعلما سے رابطے ہوئے۔ اب حیلہ یہ کیا گیا کہ سودی کاروبارکو، قسطوں پرکاروبارکی شکل دی گئی ۔جس مجبور کو ایک لاکھ روپے قرض درکار ہے، اس سے کہا جاتا تھا کہ ہنڈا موٹر سائکل خرید لوجو نقد پہ ایک لاکھ کی ہے اور قسطوں پہ ڈیڑھ لاکھ کی ہے- (یہ موٹر سائیکل، سود خور کے شو روم میں موجود ہوتے تھے)-جونہی وہ موٹر سائیکل خریدتا(زبانی) توسود خورصاحب، وہیں،اس سے وہی موٹر سائکل، نقد میں ایک لاکھ دے کرواپس خرید لیتا تھا اور یہ مجبور،ایک لاکھ روپے جیب میں لیکر خوشی خوشی گھر جاتا- یوں موٹرسائکل بھی اپنی جگہ سے نہ ہلتی(نیا ’مالک‘ اس پہ ہاتھ رکھتا تھا) اورایک لاکھ پر، 50 ہزارروپے سود، بشکل قسط بھی ادا کرنا پڑتا-
خیر،بفضلِ خدا،علما کی محنت سے یہ حیلہ سازی اب تقریبا" ختم ہوگئی لیکن عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگرکوئی بدنیت ہوجائے تو اس کسی زمانے میں نہیں روکاجا سکتا-اس لئے امام بخاری نے اپنی کتاب کو شروع ہی نیت والی حدیث سے کیا-یہ ایک الگ موضوع ہے-
قصہ کوتاہ، موجودہ زمانے کی مشکلات کے تحت،اہل بصیرت علمااگراچھی حیلہ سازی کر رہے ہیں توبراہ کرم، تنگ ذہن حضرات ان کو اپنا کام کرنے دیں،کوئی پرابلم ہے توان سے براہ راست رابطہ کریں مگرعوام کے دینی جذبات کی بلیک میلنگ کرتے ہوئے، سوسائٹی میں بدامنی نہ پھیلائیں-
خلاصہ اس تحریر کا یہ ہے کہ کسی قوم کی کی منتخب جمہوری حکومت کے مقرر کردہ، باختیارادارے کواطمینان کام کرنے دیا جائے،تاوقتیکہ کہ آپ یہ ثابت نہ کردیں کہ آپ کے انفرادی رابطوں اور دلائل کو پرکاہ برابر اہمیت نہیں دی جارہی-( ہمارے پاس اسلامی نظریاتی کونسل کے نام سے یہ ادارہ قائم ہے)-
اسلام کی اصل ہی،سلامتی کے ساتھ رہنااورسلامتی کے ساتھ،ہرزمانے کی سوسائٹی کی رہبری کرنا ہے-

اسلامی بینک.... حیلہ بینک” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 10, 2015 at 2:12 PM
    Permalink

    بہت خوب سلیم جاوید صاحب

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *