مذہبی انتہا پسندی اور ہمارے فیصلہ ساز

shozab asakriاگر کسی خوش فہم کو یہ لگتا ہے کہ ہمارے ملک کے مقتدر حکمران طبقے میں شامل بڑی سیاسی جماعتیں فرقہ واریت اور انتہاپسندی کے عفریت کے خلاف غیر معمولی طور پر متفق اور متحد ہیں تو ازرائے کرم اس غلط فہمی سے نکل آیئے۔ موجودہ بلدیاتی انتخابات میں سیاسی مفادات کے لئے جس طرح بڑی سیاسی جماعتوں نے نام بدل کر الیکشن میں حصہ لینے والی فرقہ پرست مذہبی تنظیموں سے سیاسی گٹھ جوڑ کیا ہے اس سے یہ تو واضح ہو ہی جاتا ہے کہ اپنے مفادات کے حصول کے لئے کوشاں ان سیاسی کرداروں نے پچھلے تیس سال کی قتل و غارت اور بدنامی سے کچھ نہیں سیکھا ۔ غیرملکی خبر رساں صحافتی ادارے کی وہ خبر کہ جس میں کالعدم سپاہ صحابہ کی ہم زاد ہ سیاسی جماعت ’' راہ حق پارٹی ‘ کی انتخابی کارکردگی اور اس کو سیاسی مفاہمت کے نام پر بلدیاتی انتخابات میں ملنے والی سیاسی کامیابی کا ذکر کیا گیا ہے، ہماری آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ حیرت ہے ملک بھر کے میڈ یاسپہ سالاروں پر کہ جن کی نگاہوں اور تبصروں کامطمح نظر ’سب سے پہلے اور سب سے آگے ‘ کی دوڑ ہے انہیں ذرا بھر بھی مثبت صحافت اور سیاسی شعور اجاگر کرنے کی توفیق عطا ہوئی ہو۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان اور دیگر ایسے ادارے جو اس مقصد کے لئے قائم کئے گئے ہیں کہ انتہاپسندسوچ کا خاتمہ کیا جا سکے ان کی تو خیر بات کرنا ہی احمقانہ لگتا ہے جب بھی کسی انتہاپسند عسکری یا سیاسی جماعت پر پابندی لگتی ہے تو وہ اگلے ہی صبح نام بدل کر پوتر ہوجاتی ہے۔اس صورتحال پر اگر تمثیلی طور پر کہا جائے تو نورے کمہار کا گدھا تو آگاہ ہوتا ہے مگر ’نیشنل ایکشن پلان‘ اور ’الیکشن کمیشن آف پاکستان‘ نا آشنا ہوتے ہیں۔
حالیہ بلدیاتی انتخابات کے دوران جھنگ میں ’راہ حق پارٹی‘ کے نمائندہ وہی چہرے استری کے نشان پر تیرہ نشستیں جیت لینے کے بعد ضلعی حکومت بنانے کی کوشش میں ہیں جو اس سے پہلے انہی تنظیموں کے نمائندہ ہوا کرتے تھے جو کچھ عرصے پہلے ہی کالعدم قرار دی گئیں۔ انتخابی حمایت کے لئے نعرے بھی وہی لگائے گئے جو کالعدم جماعتوں کے دور میں متعارف کروائے گئے تھے۔ لوگوں کو اپنی حمایت میں ووٹ دینے کے لئے یاددہانیاں بھی انہی امور کی ہی کروائی گئیں جو کبھی کالعدم قرار دی جانے والی تنظیم کے دور میں رواج ہوا کرتا تھا۔
حیران کن امر یہ ہے کہ چئیرمین بلاول بھٹو کس بل بوتے پر مذہبی انتہاپسندی کو للکارتے ہیں جب کہ بلدیاتی انتخابات کے لئے کراچی کی یوسی تین کا ایک تشہیر ی بورڈ اس عبارت کا حامل ہو۔ ’جماعت اہل سنت کے حمایت یافتہ پاکستان پیپلز پارٹی اور راہ حق پارٹی کے متفقہ امیدوار برائے چئیرمین فلاں صاحب ‘ اور بورڈ پر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی تصویر کے عین اوپر مولانا اورنگ زیب فاروقی صاحب کی تصویر لگی ہو جو پچھلے سال خیرپور سندھ میں موجود جامعہ حیدریہ کے جلسے میں تقریر کرتے ہوئے سپاہ صحابہ سے وفاداری کی بیعت کے لئے ہزاروں کے مجمع سے مخاطب تھے اور دلائل دیتے ہوئے نہایت جذباتی انداز میں اپنی تنظیم کا فکری تعلق چیچنیا ، افغانستان ، شام ، عراق سے جوڑتے ہوئے اسلام آباد کی لال مسجد تک لے آئے تھے۔
پاکستان کے ’ہردلعزیز‘ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کس بل بوتے پر پاکستان کا مستقبل لبرل ازم اور ڈیموکریسی میں دیکھتے ہیں جب کہ خود ان کی سیاسی جماعت نے بھی حالیہ بلدیاتی انتخابات میں ووٹ لینے کے لئے انتہاپسندی کی بہتی گنگا میں اشنان کیا ہو۔ بی بی سی اردو کی ایک رپورٹر نے پچھلے سال جھنگ سے اپنی ایک رپورٹ میں تحریر کیا تھا کہ ’مولانا محمد احمد لدھیانوی کی زیر سربراہی اہل سنت و الجماعت کی تنظیم ہو بہو سپاہ صحابہ پاکستان کی نقل ہے۔ جھنگ میں جامعہ مسجد حق نواز سمیت اس کے دفاتر بھی انہی مقامات پر قائم ہیں جہاں بارہ برس قبل پابندی کا شکار ہونے سے قبل سپاہ صحابہ کے دفاتر ہوا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ اہل سنت کی قیادت اب بھی اپنی تقاریر اور کارکنوں کے ساتھ روابط کے لیے سپاہ صحابہ کا نام کثرت سے استعمال کرتی ہے۔‘
’راہ حق پارٹی‘ کے صوبہ سندھ کے کنویئنر ثنااللہ حیدری مقتول مولانا علی شیر حیدری بھائی ہیں جو سپاہ صحابہ پاکستان کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن میں اس پارٹی کی رجسٹریشن حکیم محمد ابراہیم قاسمی صاحب کی طرف سے ہوئی ہے جو خیبر پختونخوا میں سپاہ صحابہ کے سرگرم رہنما رہے ہیں
کیا پاکستانیوں کی بڑی تعداد فرقہ وارانہ تشدد کی ذمہ دار بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر اسی جماعت کو نہیں سمجھتی ؟
کیا اہل سنت والجماعت، سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی، ان تمام جماعتوں کو ایک ہی سکے کے مختلف رخ نہیں سمجھا جاتا ؟
کیا ہم نہیں جانتے کہ سپاہ صحابہ پاکستان کو کالعدم قرار دیئے جانے کے بعد اس تنظیم نے نام بدل کر اہل سنت والجماعت رکھ لیا ہے ؟
پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی پر تحقیق کرنے والے معتبر محقق عامر رانا نے غیر ملکی خبر رساں ادارے سے جماعت اہل سنت کی سیاسی تشکیل پر گفتگو کرتے ہوئے جو کہا وہ بہت کچھ بیان کردیتا ہے۔
اگر چہ لشکر جھنگوی اور جماعت اہل سنت میں تنظیمی ربط نہیں رہ گیا لیکن لشکر کے پاس جو افرادی قوت ہے وہ سپاہ صحابہ یا جماعت اہل سنت ہی سے حاصل شدہ ہے۔ اس لیے کسی نہ کسی سطح پر اب بھی لشکر جھنگوی اور اہل سنت کا حلقہ نیابت ایک ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہل سنت والجماعت کی قیادت لاکھ کوشش کر لے، لشکر جھنگوی سے جان چھڑوانا اس کے لیے ممکن نہیں ہے۔
جھنگ ، کبیر والا ، خانیوال ، خیرپور اور اب کراچی کے مختلف حلقوں میں کھڑے کئے گئے 250 سے زائد امیدوار یہ سمجھانے کے لئے کافی ہیں کہ انتہا پسند عناصر اب اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے بلٹ کے ساتھ ساتھ بیلٹ کو بھی بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں۔اور وہ ہاتھ جو ان کا قلع قمع کرنے پر متعین ہونے چاہیئں، وہی ہاتھ انہیں دودھ پلا رہے ہیں۔
نیشنل ایکشن پلان اور آپریشن ضرب عضب کی کامیابی کے لئے لازم امر یہ ہے کہ انتہاپسندوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ پالیسی ساز ادارے ان نظریات کا بھی قلع قمع کریں جو اس فکر کو افرادی قوت مہیا کرتے ہیں۔ جب تک ایک موثر ، یکسو اور واضح پالیسی بنا کر بلاتفریق ان تمام گروہوں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا جو مذہبی تعصب کی بنیاد پر معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں، تب تک ترقی کرتے ہوئے پرامن اور خوشحال پاکستان کا خواب تعبیر نہیں پا سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *