مدارس کی اصلاح کا معاملہ

syed Mujahid Aliوفاق المدارس العربیہ نے ایک بار پھر حکومت کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔ 12 دسمبر کو اس وفاق سے وابستہ علمائے کرام اور مدرسوں کے مہتممین کا اجلاس پشاور میں طلب کیا گیا ہے۔ اس موقع پر احتجاج اور مدرسوں کے خلاف حکومتی حکمت عملی کے خلاف ردعمل ظاہر کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کیا جائے گا۔ یوں تو مدارس چلانے والے مختلف علما کی طرف سے عام طور سے حکومت کے بارے میں دھمکی آمیز طرز عمل اختیار کیا جاتا ہے لیکن قومی ایکشن پلان کے تحت مدرسوں کی اصلاح کے منصوبہ پر خاص طور سے ان اداروں کے نگران پریشانی کا شکار ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت ابھی تک قومی ایکشن پلان کے تحت کسی قسم کا کوئی اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے باوجود پیش بندی کے طور پر آواز بلند کر کے اصلاحات کے عمل کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حالانکہ اگر یہ سارے زعما حقیقی معنوں میں اس ملک میں دین کی تعلیم سائنٹیفک بنیادوں پر دینے کی خواہش رکھتے ہیں تو انہیں خود اصلاحات کا بیڑا اٹھانا چاہئے اور ان سب عناصر سے لاتعلقی کا اعلان کرنا چاہئے جو دینی درسگاہوں کو انتہا پسندانہ ذہن تیار کرنے کے لئے جہادی کیمپوں کے طور پر بھی استعمال کرتے رہے ہیں۔
یہ درست ہے کہ اسلامی دنیا میں مدرسوں کا انسٹیٹیوٹ بہت پرانا ہے۔ لیکن قرون وسطیٰ میں یہ ادارے رشد و ہدایت کا منبع ہوتے تھے۔ اس کے علاوہ یہاں صرف قرآن و حدیث کی تعلیم نہیں دی جاتی تھی بلکہ طالب علم ہر قسم کے علوم کا درس پاتے تھے۔ تب تعلیم جدید بنیادوں پر بھی استوار نہیں ہوئی تھی اور دینی رہنما?ں نے بھی مدرسوں کو اپنی پناہ گاہ بنا کر سیاسی اور اقتصادی مفادات کے حصول کا ذریعہ نہیں بنایا تھا۔ وقت بدلنے کے ساتھ نظام تعلیم میں بھی اصلاحات ہوئیں۔ ایسے ادارے معرض وجود میں آنے لگے جہاں ہمہ جہت علوم تک طالب علموں کی دسترس تھی۔ مسلمان معاشرے میں پروان چڑھنے والے ان اداروں میں مذہبی علوم کی تدریس کو بھی خصوصی اہمیت دی جاتی رہی ہے لیکن سرکاری یا بڑے کمرشل اداروں کی نگرانی میں چلنے والے تعلیمی اداروں پر کسی ایک فرد یا گروہ کا قبضہ نہیں ہوتا۔ جبکہ مدرسوں کی صورت میں ملک کے چپے چپے میں ایک فرد یا چند لوگوں کا گروہ اپنا دینی ادارہ قائم کر کے حسب منشا نئی نسل کی تربیت کا فرض ادا کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ ملک کے سیاسی و سماجی ڈھانچے کی ضرورتوں کے مطابق اب ان افراد نے یہ سیکھ لیا ہے کہ آپس میں مل کر ہی ان مفادات کا تحفظ کیا جا سکتا ہے جو صرف ایک خاص فرد یا زیادہ سے زیادہ ایک خاندان سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اسی تحریک کی بنیاد پر وفاق المدارس العربیہ وجود میں آیا ہے۔ اس کے زیر انتظام 18 ہزار سے زائد مدارس ملک میں کام کر رہے ہیں۔
یوں تو وفاق المدارس العربیہ مدارس کی مختلف تنظیموں میں سے صرف ایک تنظیم ہے جو دیو بندی مسلک کے مدرسوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ گویا یہ ایک مسلکی ادارہ ہے جو زیادہ سے زیادہ ایک محدود مذہبی گروہ کے جذبات یا ضرورتوں کی نمائندگی کرتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ملک میں جب بھی مدرسوں کی اصلاح یا وہاں دی جانے والی تعلیم کے حوالے سے نگرانی کی بات کی جاتی ہے تو سب سے زیادہ غل وفاق المدارس العربیہ یا دیوبندی مسلک فکر کی طرف سے ہی سننے میں آتا ہے۔ یہ بھی محض حادثہ یا اتفاق نہیں ہے کہ ستر کی دہائی میں شروع ہونے والی افغان جہاد کی کوکھ سے جنم لینے والی متعدد انتہا پسند تنظیموں نے اسی مسلک اور اس سے متعلق مدارس میں ہی نظریاتی تربیت حاصل کی اور وہیں سے انہیں جہاد کے نام پر خوں ریزی اور مار دھاڑ کے لئے آمادہ کیا گیا۔ ان میں افغان طالبان ، تحریک طالبان پاکستان یا ملک میں متحرک متعدد فرقہ وارانہ تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ اس لئے آسانی سے یہ سمجھا جا سکتا ہے کہ جب بھی مدارس کی اصلاح کا سوال سامنے آنے پر وفاق المدارس احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کی دھمکی دیتا ہے تو لامحالہ اس ملک کا عام شہری اس احتجاج اور ان مدرسوں سے وابستگان کی خوں ریزی کو علیحدہ کر کے نہیں دیکھ سکتا۔ یہ بات بھی اس ملک کے ہر شہری کے علم میں ہے کہ یہ مدارس اور ان کے نمائندہ رہنما بھی انتہا پسند عناصر سے مکمل کنارہ کشی کا اعلان نہیں کرسکے ہیں۔ بلکہ انہوں نے شدت پسندوں کے خلاف ہر حکومتی کارروائی کو مسترد کیا ہے اور اپنے طور پر ان تحریکوں اور تنظیموں کو اخلاقی اور سیاسی امداد فراہم کی ہے۔ جب ایسے گروہوں سے مواصلت کی ضرورت پیش آتی ہے تو وفاق المدارس العربیہ کے زعما ہی بڑھ کر حکومت کی مدد کا اعلان کرتے ہیں اور اپنے ہم خیال عناصر کو قومی دھارے میں لانے کی تگ و دو بھی کرتے رہتے ہیں۔
بدقسمتی سے اس قسم کی کوششوں کے کبھی حوصلہ افزا نتائج سامنے نہیں آئے۔ تحریک طالبان اور ان کے ہمنوا شدت پسندوں کو جب ضرورت ہوتی ہے وہ ان علما اور لیڈروں کو آگے کر دیتے ہیں اور سیاسی مقصد پورا ہونے کے بعد وہ من مانی کرنے کا چلن جاری رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود دیو بندی علما نہ ان گروہوں کو مسترد کرنے کا حوصلہ کرتے ہیں، نہ ان کے خلاف منظم ہو کر رائے عامہ ہموار کرتے ہیں، نہ منافرت اور فرقہ بندی کی سیاست ختم کرنے کی بات کرتے ہیں اور نہ ہی دوسرے مسالک اور اقلیتوں کے احساس عدم تحفظ کو ختم کرنے کے لئے سرگرم ہوتے ہیں۔ لیکن جب بھی بہتری اور اصلاح کی بات کی جائے تو وہ اپنے مدرسوں میں پڑھنے والے طالب علموں کو سڑکوں پر لا کر اپنی قوت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اب تک وہ اس پالیسی سے مدرسوں کی بہتری کے لئے سرکاری مداخلت کو روکنے میں کامیاب ہیں۔ یہ جدوجہد دراصل ایک خاص گروہ کے مالی اور سیاسی و سماجی اقتدار اور اختیار کی جنگ ہے۔ حکومت نے ابھی تک اس معاملہ کو درست تناظر میں دیکھنے اور ایسے تمام مدرسوں کو بند کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جو سماجی توڑ پھوڑ اور مذہبی انتشار کا سبب بن رہے ہیں۔
یہ دعویٰ غلط ہے کہ مدارس ملک میں دینی تعلیم کے واحد مراکز ہیں۔ ملک کی درجنوں یونیورسٹیاں دینی علوم کے بہتر اور قابل اعتماد عالم پیدا کر رہی ہیں اور انہیں کبھی اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے طالب علموں کو سڑکوں پر لانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ جبکہ مدارس کے نام نہاد نگران یا مہتممین جو دراصل ان اداروں کے مالکان ہیں، اپنے ذاتی اختیار اور مفاد کی جنگ میں معصوم اور بے خبر طالب علموں کو استعمال کرنے سے کبھی گریز نہیں کرتے۔ اس حوالے سے جب بھی نعرہ بلند کیا جاتا ہے تو اس کا پیغام یہ ہوتا ہے کہ حکومت مغربی ممالک کے کہنے پر مدارس کا راستہ روکنے کی کوشش کرتی ہے کیونکہ یہاں سے حقیقی مسلمان فراہم کئے جاتے ہیں۔ حالانکہ سچائی یہ ہے کہ یہ مدارس اپنے طالب علموں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو مفقود کر تے ہیں اور انہیں ایک خاص ڈھب اور طریقے سے سوچنے اور عمل کرنے پر مجبور کر کے نوجوان نسل کو تباہ کرنے کا سامان بہم پہنچا رہے ہیں، جس کا نمونہ ہم پاکستان میں روز بروز بڑھتی بے چینی ، مذہبی انتہا پسندی اور حقائق و دلیل سے فراریت کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔
مدارس کا دعویٰ ہے کہ وہ طالب علموں کو مفت تعلیم فراہم کرتے ہیں لیکن وہ یہ بتانے سے گریز کرتے ہیں کہ یہ وسائل کہاں سے فراہم ہوتے ہیں۔ ملک کا جو متمول طبقہ زکوٰة اور صدقہ کی مد میں اربوں روپے ان مدارس پر صرف کرتا ہے، وہ مروجہ قوانین اور ضابطوں کے مطابق ٹیکس ادا کرنے سے گریز بھی کرتا ہے۔ لیکن ذاتی حرص میں گرفتار دین کے ٹھیکیدار کبھی مدارس کے ان مخیر معاونین کو یہ بتانے کی زحمت نہیں کرتے کہ جو دولت وہ قوانین کی خلاف ورزی کر کے اور ٹیکس چوری کے ذریعے حاصل کرتے ہیں، وہ زکوٰة یا خیرات دینے سے پاک نہیں ہو سکتی۔ مذہبی اصطلاح میں یہ حرام کمائی ہے خواہ اسے مدارس کی توسیع پر ہی کیوں نہ صرف کیا جائے۔ اس کے علاوہ کئی مدارس بیرونی ممالک سے کثیر امداد حاصل کرتے ہیں اور اس کے عوض متعلقہ ملک کی سیاسی و نظریاتی خدمت گزاری میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ جب ان سے ان وسائل کا حساب دینے کی بات کی جاتی ہے تو طعن و الزام کے تیر تفنگ لے کر میدان میں اتر آتے ہیں اور یونیورسٹیوں، کالجوں اور اسکولوں کو گمراہی کے ٹھکانے، حکومت کو مغرب کا ایجنٹ اور تنقید کرنے والوں کو اسلام دشمن قرار دینے میں ذرا دیر نہیں لگاتے۔ یہ طرز عمل مٹھی بھر لوگوں کی طرف سے پوری قوم کو بلیک میل کرنے کے مترادف ہے۔
ملک کے ہر بچے کو تعلیم فراہم کرنا حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے۔ مروجہ تعلیمی نظام ، نصاب اور طریقہ کار کے بارے میں درجنوں اعتراضات اٹھائے جا سکتے ہیں لیکن مدرسے جس طرح اس ملک کے مظلوم اور غریب گھروں کے بچوں کو خیرات پر پالتے اور پڑھاتے اور اس طرح ایک طرح کا بھکاری بنا رہے ہیں ........ اسے نہ دین کی خدمت قرار دیا جا سکتا ہے اور نہ ایسی درس گاہوں سے اسکالر اور عالم پیدا ہو سکتے ہیں۔ نمونے کے لئے کوئی بھی شخص اپنے محلے کے کسی بھی مدرسے کا دورہ کر کے بچشم خود  ملاحظہ کر سکتاہے کہ قوم کے یہ بچے کس قسم کے ابتر ماحول میں اناڑی استادوں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مدارس میں سزا اور استحصال کے جو طریقے اور ہتھکنڈے مروج ہیں، کوئی زندہ معاشرہ انہیں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔ ان حالات میں یا تو مفلوج ذہن پیدا ہوں گے یا ایسے شدت پسند جو جسم سے بم باندھ کر دوسروں کو مارنے کو عین عبادت اور جنت کا راستہ سمجھتے ہوں۔
مدارس کی اصلاح نہ صرف اس قوم کو خطرناک انتہا پسندانہ مذہبی رجحانات سے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہے بلکہ یہ ان لاکھوں بچوں بچیوں کے بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ بھی ہے جو مدرسہ نما زندانوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ کیونکہ ان کے والدین اپنی اولاد کا پیٹ بھرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور ملک کی حکومت یہ ذمہ داری قبول کرنے سے گریز کرتی ہے۔ ملک کے مولوی نے ذاتی ہوس و اختیار کے لئے قوم کے نونہالوں کو بھکاری بنا دیا ہے۔ آخر کب تک فرد سے لے کر قوم تک خیرات کو اپنا شعار بنا رکھیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *