Site icon DUNYA PAKISTAN

پاکستان میں لاک ڈاؤن: ’بچوں کو یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ دیہاڑ نہیں لگی‘

Share

غازی خان ایک دیہاڑی دار مزودر ہیں۔ وہ پاکستان کے صوبے خیبر پختون خواہ میں سوات کے علاقے کالام سے اپنے بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کا پیٹ پالنے کی خاطر بہتر روزگار کی تلاش میں پنجاب کے شہر راولپنڈی آئے لیکن یہاں قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

کورونا وائرس کے پیش نظر لاک ڈاؤن کی وجہ سے غازی خان لاکھوں دیہاڑی دار مزدوروں کی طرح اپنی رہائش تک ہی محصور ہو کر رہ گئے۔

اب نہ تو غازی خان اپنے اخراجات پورا کر پارہے ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کو کوئی تسلی دے پا رہے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے غازی خان نے اپنی مشکل کچھ ان الفاظ میں بیان کی: ’ہم لوگ تو ادھر راولپنڈی کے علاقے میں پھنس کر رہ گے ہیں۔ کئی دن ہوگئے ہیں دیہاڑ لگ نہیں رہی، باہر نکلیں تو پولیس والے مارتے ہیں۔ میرے چار کم عمر بچے ہیں۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ کدھر جاؤں اور کس سے فریاد کروں۔‘

غازی خان کا تعلق کوھستانی قبیلے سے ہے، جو اپنی روایات کے مطابق ہر سال سخت سردیوں کے موسم میں محنت مزدوری کرنے راولپنڈی سمیت ملک کے دیگر شہروں کا رخ کرتے ہیں۔

غازی خان کے قبیلے کے افراد سوات اور اپر دیر کے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔

نقل مکانی، کوھستانی قبائل کی قدیم روایت

غازی خان کا کہنا ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ ہر سال سردیوں کے موسم میں جب ہمارے علاقوں میں برف باری کی وجہ سے روزگار کے مواقع مسدود ہو کر رہ جاتے ہیں تو ہمارے قبیلے کے لوگ روزگار کی تلاش میں پشاور اور پنجاب کے مختلف علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔

موسم کی شدت کی وجہ سے ہم اپنے بچوں کو بھی ساتھ لے آتے ہیں اور کسی شہر پہنچ کر خاندان کے کچھ افراد مل کر چھوٹے چھوٹے مکان کرائے پر حاصل کرتے ہیں۔

غازی خان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے دو بھائیوں کے ساتھ مل کر اٹھارہ ہزار میں چار کمروں کا مکان کرائے پر لیا ہے۔ اس مکان کے ایک کمرے میں غازی خان اپنے بال بچوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔

غازی خان کا کہنا ہے کہ محنت مزدوری کرنے کے بعد وہ اپنے اخراجات پورے کر لیتے تھے مگر یہ سب گزرے برسوں کی بات ہے۔

غازی خان کا کہنا ہے کہ اس سال صورتحال بہت مختلف ہے۔ کئی دونوں سے لاک ڈاؤن ہے۔

غازی خان کا کہنا ہے کہ ’بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے ہمیں کوئی بھی محنت مزدوی کرنے میں شرم محسوس نہیں ہوتی۔‘

’بچوں کو نہیں بتا سکتا دیہاڑ نہیں لگی‘

لاک ڈاؤن کی وجہ سے ملک بھر کے محنت مزودری کرنے والے طبقے کی طرح غازی خان کا بھی پورا خاندان ہی مشکلات سے دوچار ہے۔

غازی خان کہتے ہیں کہ ان کی جیب میں جو تھورے بہت پیسے تھے وہ بھی ختم ہوچکے ہیں۔ غازی خان کو بس اب ایک ہی فکر ستا رہی کہ کہ اب اگر جلد مزدوری نہیں ملے گی تو پھر ان کے بچے کہاں سے کھائیں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’بچوں کو تو یہ نہیں بتا سکتے کہ دیہاڑ نہیں لگی ہے۔‘

اب سوات جانا بھی ایک خواب

غازی خان اور ان کے خاندان والے ان مشکل حالات میں واپس سوات اپنے آبائی گھر جانا چاہتے ہیں مگر اب یہ بھی اتنا آسان نہیں رہا۔

ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں ہم واپس اپنے علاقے سوات جانے کی کوشش کرتے ہیں مگر نہ تو کوئی گاڑی والا ہمیں لے کر جانے کو تیار ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی ہماری بات کو سمجھ رہا ہے۔

کوھستانی قبیلے کے اپر دیر سے تعلق رکھنے والے گل خان جو کہ راولپنڈی ہی میں پھنسے ہوئے ہیں کا کہنا ہے کہ ہم لوگ یہاں پر اجنبی بن کر رہ گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ عام حالات میں بھی جہاں پر ہم لوگ جاتے ہیں، وہاں پر مقامی لوگ ہم سے زیادہ میل جول نہیں رکھتے۔

مگر اب لاک ڈاؤن کی وجہ سے صورتحال ہمارے لیے پیچیدہ تر ہوتی جارہی ہے۔

’کسی کو بتا بھی نہیں سکتے ہم کون لوگ ہیں اور کس مشکل میں ہیں‘

گل خان کا کا کہنا ہے کہ ’مشکل یہ بھی ہے کہ ہمارے ارد گرد رہنے والے بھی ہمارے حالات کے بارے میں بے خبر ہیں۔ ہمیں کوئی امداد بھی نہیں دیتا کہ وہ ہمیں جانتے ہی نہیں ہیں۔‘

کسی سے ہاتھ پھیلا کر مانگ نہیں سکتے کہ ایسا کرنا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس صورتحال میں ہمارے لیے ایک ہی حل ہے کہ ہم لوگ فی الفور اپنے آبائی علاقوں میں پہنچ جائیں۔ مگر حالات یہ ہیں کہ کوئی ٹرک والا تیار ہی نہیں ہوتا جو ہمیں اپنے بال بچوں اور سامان سمیت آبائی علاقے میں پہنچا دے۔

مالک مکان کرایہ مانگ رہا ہے، مزید رکے تو مزید کرایہ ادا کرنا پڑے گا، وہ کہاں سے ادا کریں گے؟

سوات امن جرگہ کے انور سرفراز کے مطابق سوات اور اپر دیر میں بسنے والے اس کوھستانی قبیلے کے اسی فیصد افراد ہر سال سردیوں کے موسم میں اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر روزگار کی تلاش میں ملک کے دیگر علاقوں کی طرف نکل پڑتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ محنت کش اور جفا کش لوگ ہوتے ہیں۔ ان کے پاس جمع پونجی نہیں ہوتی مگر جہاں جاتے ہیں وہاں پر محنت مزدوری کرکے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال لیتے ہیں۔

مگر اس سال تو لاک ڈاؤن کی وجہ سے یہ جہاں گئے وہیں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ لوگ اپنے آبائی علاقوں میں واپس پہنچ جائیں تو یہاں پر ان لوگوں کے پاس کم ازکم رہائش کے لیے مکان تو موجود ہیں۔

اگر مدد ممکن نہیں تو حکومت واپسی کا رستہ دے

انور سرفراز کا کہنا ہے کہ کوھستانی قبیلے سے تعلق رکھنے والے یہ انتہائی خوددار لوگ ہیں، کسی سے مانگ بھی نہیں سکتے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کرے۔ ’اگر مدد کرنا ممکن نہیں ہے تو پھر ان کو ان کے آبائی علاقوں میں واپسی کا راستہ دے دیں۔‘

ڈپٹی کمشنر سوات ثاقب رضا اسلم کا کہنا ہے کہ ہم نے سردیوں میں سوات سے نقل مکانی کرنے والوں کو سوات کی سرحد پر سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جو لوگ سوات کی سرحد پر پہنچیں گے، ان کی مکمل سکریننگ کی جائے گی اور ان کو 14 دن قرنطینہ میں رکھا جائے گا، جس کے بعد ان کو ان کے علاقوں میں پہنچا دیا جائے گا۔

ثاقب رضا کے مطابق ’ہمیں جو فہرستیں دستیاب ہورہی ہیں، اس کے مطابق ہم لوگ ان اضلاع کی انتطامیہ سے بھی گزارش کرکے ان لوگوں کو نقل و حرکت میں سہولت دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

مگر پابندیاں تو پورے ملک میں ہیں۔ اس وجہ سے جتنا ممکن ہے اتنا ہی کرسکتے ہیں۔

ان کے مطابق کئی لوگ واپس پہنچنے میں کامیاب بھی ہوئے ہیں، جن کو سوات کی انتظامیہ نے سہولتیں فراہم کی ہیں۔

سوات اور اپر دیر کے کوھستانی قبائل کون ہیں؟

سوات اور اپر دیر کے کوھستانی قبائل صدیوں سے ان علاقوں میں آباد ہیں۔ ان کا ایک تعلق افغانستان کے کوھستانی قبائل سے بھی بتایا جاتا ہے۔

عمومی طور پر یہ لوگ سوات اور اپر دیر کی مجموعی طور پر آٹھ یونین کونسلوں میں زمینوں میں محنت مزدوری کرتے ہیں۔

ان کے پاس مال مویشی ہوتے ہیں۔ سوات کے علاقوں میں سیاحوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے یہ وہاں مقامی ہوٹلوں میں بھی ملازمتیں کرتے ہیں۔ کچھ مقامی آبادی میں چھوٹی چھوٹی دکانیں بھی چلاتے ہیں۔

اکثر کوھستانیوں کے پاس اپنے ذاتی گھر اور زمینیں نہیں ہیں۔ یہ علاقے میں صدیوں کے رواج کے مطابق مقامی زمینداروں کی زمینوں پر کام کرتے ہیں اور ان ہی کے گھروں میں رہائش پذیر ہیں۔

سوات کے کوھستانی قبائل کے علاقوں، جن میں سر فہرست یونین کونسل کالام ہے۔ وہاں پر سوات میں جب طالبان داخل ہو گئے تھے تو بھی ان قبائل کے علاقوں میں شدت پسندوں کو کبھی بھی پزیرائی نہیں ملی۔ ان کوھستانی قبائلیوں نے انتظامیہ اور فوج کے حق میں لشکر بھی بنائے تھے اور شدت پسندی کا شکار بھی بنے۔

اب یہ ایک بار پھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے غربت کے گرداب میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔

Exit mobile version