پورا سچ بولنے کی ضرورت

mujahid aliسینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے ملک کو درپیش مسائل کی ذمہ داری سول اور ملٹری بیورو کریسی پر ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ اختیارات کے اس ارتکاز کی وجہ سے ملک میں انسانی حقوق کا تحفظ اور مساوات کا حصول ممکن نہیں ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر کراچی میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ قوم کو سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے علاوہ انتہا پسندی کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے ورنہ ہماری آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ اس سیمینار کا موضوع ” انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے آئینی ڈھانچہ “ تھا۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے مو¿قف اختیار کیا کہ اب سوچ بولنے کی ضرورت ہے۔ یہ حقیقت تسلیم کئے بغیر کہ ملک میں کن قوتوں کی حکومت ہے، انسانی حقوق کے حوالے سے صرف سیمینار ہی منعقد ہوتے رہیں۔ میاں رضا ربانی ایک اصول پسند اور حق پرست سیاستدان کی شہرت رکھتے ہیں اور انہیں ملک کو نیشنل سکیورٹی اسٹیٹ بنانے پر اعتراض بھی ہے۔ لیکن زیادہ دن نہیں گزرے کہ انہوں نے انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والوں کی مخالفت کے باوجود آئین میں اکیسویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا جس کے تحت ملک میں فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔
میاں رضا ربانی کی اس بات سے سو فیصد اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ قومی مزاج کو پروان چڑھانے اور مختلف اداروں کو مضبوط کرنے کے لئے سچ بولنے کی ضرورت ہے۔ زیر بحث سیمینار میں یہ اعلان کرنے کے بعد انہوں نے ملٹری و سول بیورو کریسی کے اختیار و قدرت کے حوالے سے جو نعرہ مستانہ بلند کیا ہے، بدنصیبی سے وہ ملک کی صورتحال کی سو فیصد درست عکاسی نہیں کرتا۔ جزوی سچ بولنا جھوٹ بولنے اور فریب کھانے اور دینے کے مترادف ہے۔ کیونکہ ایسا کرتے ہوئے کوئی بھی شخص صرف وہ تصویر دکھانے کی کوشش کرتا ہے جو اس کے نزدیک درست ہوتی ہے۔ وہ معاملہ کے سارے پہلوﺅں کو دیانتداری سے بیان کرنے کا حوصلہ نہیں کرتا۔ رضا ربانی کا یہ سچ کہ ملک میں اختیارات کا ارتکاز سول اور ملٹری افسروں کے ہاتھ میں ہے، بھی اسی طرح کا سچ ہے جس میں حقیقت حال بیان کرنے کی بجائے الزام تراشی کے ذریعے اپنی ذمہ داری سے گریز کا راستہ نکالا گیا ہے۔ اور یہی دراصل اس ملک کی مختصر تاریخ کا سب سے بڑا سچ ہے۔ نہ لیڈر قوم کو پوری تصویر دکھاتا ہے اور نہ وہ اپنی کوتاہیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کے لئے تیار ہوتا ہے۔
چیئرمین سینیٹ ایک جمہوری نظام میں منتخب پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے سربراہ ہیں۔ اس حیثیت میں اگر انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اختیارات کی تقسیم میں ان کی یا ان کے ادارے کی حیثیت ربر اسٹیمپ سے زیادہ نہیں ہے اور قومی اسمبلی یا سینیٹ اہم قومی معاملات پر فیصلے کرنے کی قدرت نہیں رکھتے کیونکہ اصل اختیارات تو افسر شاہی کے پاس ہیں، تو ان سے حق پرستی کے اصول کو عزیز رکھنے کے نقطہ نظر سے یہ ضرور پوچھا جا سکتا ہے کہ وہ ایک منتخب ادارے کے منتخب لیڈر کے طور پر کیوں خود کو اور قوم کو دھوکہ دینے کے درپے ہیں۔ اگر آپ کو احساس ہے کہ آپ بے اختیار ہیں اور اصل راستہ اس نظام کے خلاف جدوجہد کا راستہ ہے تو انہیں یہ بھی بتانا چاہئے کہ یہ جدوجہد کیسے اور کہاں سے شروع ہو گی۔ اور خود ان کا بطور فرد یا ایک منتخب لیڈر اس کوشش میں کیا کردار ہو گا۔ کیونکہ ان کے ارشادات کی روشنی میں یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ وہ موجودہ حیثیت میں خود کو بے اثر، بے وقعت اور بے اختیار مانتے ہیں۔
کسی کو اس بات سے اختلاف نہیں ہے کہ ملک کی تاریخ میں نصف وقت فوج نے براہ راست حکومت کی ہے اور اب بھی اہم معاملات میں یہ طاقتور ادارہ اپنی مرضی بیان کرنے اور منوانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ یہ سچ بیان کرنے کے بعد اگر اسی سچ کا دوسرا حصہ بیان نہ کیا جائے کہ ملک کی تاریخ میں باقی ماندہ نصف وقت سیاستدانوں نے حکومت کی ہے اور کم یا زیادہ اختیارات کے ساتھ معاملات پر اثر انداز ہونے کی کوشش بھی کی ہے۔ اس مدت میں پیپلز پارٹی کو تقریباً سترہ برس حکومت کرنے کا موقع ملا ہے۔ اس طرح وہ ملکی تاریخ کی ایک چوتھائی مدت تک حکمران بھی رہی ہے اور بعض ایسے اہم فیصلے کرنے کا سبب بھی بنی ہے جو اب بھی ملک میں انسانی حقوق کے حوالے سے مشکلات کی بنیاد بنے ہوئے ہیں۔ ان میں شراب پر پابندی اور احمدیوں کو اقلیت قرار دینے کے فیصلے تو خود اس پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کی اسی مذہبی قیادت کو خوش کرنے اور ان کی سیاسی اعانت حاصل کرنے کے لئے کئے تھے، جن کے خلاف جدوجہد کی بات اب رضا ربانی کر رہے ہیں۔ اس لئے ان سے مو¿دبانہ یہ تو پوچھا ہی جانا چاہئے کہ جب وہ افسر شاہی (فوجی اور سویلین) پر، اختیار پر قبضہ جمائے رہنے کا الزام لگاتے ہیں تو وہ یہ کیوں نہیں بتاتے کہ انہیں یہ اختیار حاصل کرنے اور ملک کے آئینی ڈھانچے کو زیر کرنے کا موقع کس نے فراہم کیا۔
اس بات کو ابھی ایک برس بھی نہیں بیتا کہ رضا ربانی نے خود آنکھوں میں آنسو بھر کر اسی اکیسویں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا تھا جسے انہوں نے خود اپنے ضمیر کے خلاف قرار دیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل یہ کہتی رہی ہیں کہ سویلین سیاسی نظام میں فوجی عدالتوں کا قیام انسانی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ رضا ربانی کی تقریروں اور باتوں سے بھی اسی قسم کا تاثر سامنے آتا ہے۔ پھر کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ ڈاکہ زنی کی اس واردات میں وہ خود بھی کیوں شامل ہو گئے تھے۔ اگر ان کی حیثیت و اختیار کے شخص کو مجبور محض کے طور پر اپنی رائے دینا پڑی تو دوسرا ایسا کون ہو گا جو اس طوفان کا راستہ روکے گا، جس میں عام آدمی کے حقوق اور معاشرے میں مساوات کا خواب خس و خاشاک کی طرح بہہ جاتا ہے۔ جب وہ دوسروں پر الزام دھرتے ہیں تو کیوں اپنی ناکامیوں ، مجبوریوں یا نالائقیوں کا سچ سامنے لانے سے گریز کرتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ پورا سچ بتائے اور جانے بغیر اس ملک میں تبدیلی اور آئینی بالا دستی ممکن نہیں ہے۔ اور پورا سچ صرف الزام تراشی سے سامنے نہیں آتا۔ آخر کوئی وجہ تو ہو گی کہ رضا ربانی آئین کی بات کرتے ہیں اور اسی کو سبوتاڑ کرنے کے لئے ترمیم کی حمایت بھی کرتے ہیں۔ ان کی پارٹی کے سرپرست آصف علی زرداری فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف پھنکارتے ہیں اور پھر دبئی میں گوشہ عافیت تلاش کر لیتے ہیں۔ اب رضا ربانی اور ان کے ساتھی دوسروں کے مظالم کی کہانی بیان کر کے خود اپنی پارٹی اور اس کی بداعمالیوں کے لئے ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جس شہر میں کھڑے ہو کر رضا ربانی نے جمہوری اداروں کی بے بسی اور افسر شاہی کی بالا دستی کی کہانی بیان کی ہے، اسی شہر کو روشنیوں کے شہر سے آگ کا دہکتا ہوا الاﺅ بنانے میں کچھ کردار تو سیاستدانوں نے بھی ادا کیا ہو گا؟ کیا ہی اچھا ہوتا کہ وہ اس حوالے سے بھی اپنے افکار زریں لوگوں کو بتا پاتے۔ یا اس صورتحال پر ہی روشنی ڈال سکتے جس کی وجہ سے انہی کی پارٹی کی صوبائی حکومت رینجرز کے اختیارات کی مدت میں نہ توسیع کرتی ہے اور نہ انکار کرتی ہے۔ البتہ اسے بنیاد بنا کر عسکری اداروں اور وفاقی حکومت کو تختہ مشق بنانے کا سلسلہ جاری ہے۔ سینیٹ کے چیئرمین ملک کو سکیورٹی اسٹیٹ بنانے کی کوششوں پر دل گرفتہ ہیں۔ کیا وہ اپنی پارٹی کی حکومت کو یہ مشورہ دے سکتے ہیں کہ وہ امن و امان کے لئے رینجرز پر تکیہ کرنے کی بجائے ، خود اپنے اداروں کے ذریعے صورتحال کو کنٹرول کرے۔ کیونکہ کبھی تو سیاسی حکومتوں کو یہ ثابت کرنا ہو گا کہ وہ بھی ایسے ادارے استوار کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ایک مہذب معاشرہ تعمیر کرنے میں مددگار ہوں۔ اگر وہ یہ مشورہ نہیں دے سکتے یا اس پر عمل ممکن نہیں ہے تو اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں تو مدد کر سکتے ہیں کہ ان کی پارٹی اسی ادارے کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں کیوں سرگرم ہے، جس کے تعاون اور امداد سے وہ کراچی میں امن بحال کرنے کے جتن کرتی ہے۔
پیپلز پارٹی کے سربرآوردہ لیڈر رضا ربانی کی نظر سے اپنی ہی پارٹی کے وزیراعلیٰ سندھ کا یہ بیان تو ضرور گزرا ہو گا جس میں انہوں نے بدعنوانی کے بارے میں الزامات کو میڈیا اور وفاقی حکومت کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ 2008 سے 2013 تک ملک اور صوبے پر حکومت کے بعد پیپلز پارٹی کے کئی مرکزی رہنماﺅں کو کرپشن کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ کیوں برس ہا برس تک ان مقدمات کا فیصلہ ممکن نہیں ہو پاتا۔ اور سندھ حکومت اس بات سے کیوں پریشان ہے کہ رینجرز صوبے میں بدعنوانی کے میگا اسکینڈلز کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان سب سوالوں کے جواب میں صرف یہ کہنا کافی نہیں ہے کہ ملک کی فوج اور سول بیورو کریسی پیپلز پارٹی کے خلاف ہے۔ یہ بہت یک طرفہ ، سادہ اور نامکمل جواب ہے۔
جس روز رضا ربانی اور ان کی پارٹی ان سوالوں کے سچے جوابوں کا سامنا کرنے کے قابل ہو جائیں گے اور متوازن اور قانونی معاشرہ تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کرنا شروع کر دیں گے .... اسی دن سے اس ملک میں عوامی اختیار مستحکم اور فوج کا تصرف کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ اب بہت سے دوسرے دعوﺅں کی طرح اس بیانیہ کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے کہ فوج اپنی قوت کی بنا پر اختیار مانگتی ہے۔ اس کی ہوس اقتدار کا آغاز سیاستدانوں کی نااہلی ، بدعنوانی اور اقربا پروری کے کلچر کی وجہ سے ہو¿ا تھا۔ اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *