وسط ایشیا کے گھڑ سوار

asaf jilaniالما عطا سے ترکمانستان کے دار الحکومت عشق آباد جانے والی پرواز تاشقند ہوتی ہوئی جاتی ہے۔ الما عطا کے ہوائی اڈے پر پہنچنے کے بعد پتہ چلا کہ تاشقند کی پرواز کی روانگی میں ایک گھنٹے کی تاخیر ہے لیکن یہ تاخیر جب تین گھنٹے کی طوالت اختیار کر گئی تو دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ تاشقند جانے والا طیارہ ابھی الما عطا نہیں پہنچا ۔ طیارہ تاشقند سے نہیں بلکہ سایبیریا کے شہر ، ارکوتسک (Irkutsk) سے آ رہا ہے۔
آدھے دن کے انتظار کے بعد جب میں تاشقند جانے والے طیارہ میں سوار ہوا تو طیارہ مسافروں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ یوں کہ مسافر ، فر یا بھیڑ کی کھال کے موٹے مو ٹے کوٹ پہنے اور الگ سے فر کے بڑے بڑے کن ٹوپ لگائے بیٹھے تھے۔ان میں سے بیشتر گہری نیند سو رہے تھے۔
میری نشست کے برابر جو صاحب بیٹھے تھے وہ البتہ جاگ رہے تھے ، میں نے ان سے پوچھا کہ طیارہ کے ارکو تسک سے آنے میں اتنی دیر کیوں لگی؟ کہنے لگے کہ وہاں موسم بے حد خراب ہے۔درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی 25 درجہ کم ہے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ ارکو تسک میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا نہیں۔ ان کا وطن منگولیا ہے اور وہ ’اولن بطور‘سے ارکو تسک ہوتے ہوئے تاشقند جارہے ہیں۔ نام انہوں نے اپنا ، بطور شاہ بتایا۔ میں نے پوچھا بطور شاہ کا مطلب؟ بہادر شاہ نا۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلادیا۔ کہنے لگے منگولیا کے دارالحکومت اولن بطور کے پتہ ہے کیا معنی ہیں۔ پھر خود ہی کہا.... لال بہادر.... میں نے پوچھا کہ کیا وہ مسلمان ہیں ۔ انہوں نے کہا کیوں نام سے پتہ نہیں چلتا۔ میں نے خاموشی سے اپنی نافہمی کا اعتراف کیا۔ بطور شاہ کہنے لگے مغربی منگولیا میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے اور جب سے سویت یونین بکھرا ہے منگولیا میں بھی تبدیلی اور جمہوریت کی لہر اٹھی ہے اور خاص طور پر مسلمان ایک نئی آزادی محسوس کر رہے ہیں۔ وسط ایشیا کی مسلم جمہوریاوں کی آزادی نے انہیں اور زیادہ تقویت بخشی ہے اور وہ ان جمہوریاوں کے مسلمانوں سے یک جہتی محسوس کرتے ہیں۔
tukrmanمیں نے بطور شاہ سے پوچھا کہ وہ تاشقند کس لئے جارہے ہیں؟ کہنے لگے کہ وہ کیمیکل انجنیر ہیں اور انہوں نے حال میں اولن بطور میں اپنی نجی کمپنی کھولی ہے ۔ تاشقند میں وہ اپنا دفتر کھولنے کی کوشش کریں گے۔ بطور شاہ کا ارادہ تاشقند کے بعد پاکستان جانے کا بھی تھا۔
میں نے ان سے پوچھا کہ طیارے میں یہ دوسرے مسافر کیا ازبک ہیں ۔ کہنے لگے کہ ہاں ، ان میں سے بیشتر ازبک ہیں جو سائبیریا کی کانوں میں کام کرتے ہیں او راب چھٹیوں میں اپنے بیوی بچوں سے ملنے وطن جا رہے ہیں۔ بطور شاہ کہہ رہے تھے کہ سویت یونین ٹوٹنے کے بعد اب بھی وسط ایشیا کی جمہوریاوں کے لوگ بڑی تعداد میں روس میں بر سر روزگار ہیں۔ مستقبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ویسے لاکھوں روسی بھی ان آزاد جمہوریاوں میں بر سر روزگار ہیں اور یوں یہ توازن قایم ہے۔
تاشقند سے عشق آباد کے لئے جب پرواز روانہ ہوئی تو میں تھک کر چور ہو چکا تھا۔ نشست پر بیٹھتے ہی اونگنے لگا۔ چند لمحے گزرے ہوں گے کہ کسی نے میری عینک جھپٹ لی۔ ہڑ بڑا کر میں اٹھ بیٹھا۔ دیکھا کہ برابر کی نشست پر ایک نوجوان خاتون کی گود میں بیٹھا ہوا ایک ننھا سا بچہ میری عینک ہاتھ میں لئے فاتحانہ انداز سے مسکرارہا ہے۔ میں نے عینک کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس نے میری عینک مجھے دینے کے بجائے اپنی ماں کو دے دی۔ خیر عینک تو مجھے واپس مل گئی لیکن نیند غائب ہوگئی۔ میں نے نوٹ بک سے عشق آباد کا نقشہ نکالا اور اندازہ لگانے لگا کہ ہوائی اڈہ شہر سے کتنی دور ہے اور شہر میں عشق آباد ہوٹل کس سمت ہے جہاں مجھے ٹھہرنا تھا۔
ashak02برابر کی نشست کی خاتون نے پوچھا کہ کیا میں پہلی بار عشق آباد جارہا ہوں؟ میں نے کہا ہا ں اسی لئے تومیں یہ نقشہ دیکھ رہا ہوں۔ مسکراتے ہوئے خاتون نے کہا کہ عشق آباد کے لئے نقشہ کے اس قدر مطالعہ کی ضرورت نہیں ۔ چھوٹا سا شہر ہے اور عشق آباد ہوٹل، بازار، سرکاری دفاتر ، صدارتی محل، ریلوے اسٹیشن ، غرض تمام اہم عمارتیں شہر کے وسط میں واقع ہیں۔
خاتون پوچھنے لگیں کہ میں کس شہر میں رہتا ہوں؟ جب میں بتایا کہ لندن میں ، تو خوشی کے مارے اچھل گئیں۔ کہنے لگیں کہ ڈیڑھ سال پہلے وہ اپنے میاں کے ساتھ لندن گئی تھیں ۔ میاں ان کے ترکمانستان کے ممتاز مصور ہیں جن کی تصاویر کی نمایش آکسفورڈمیں ہوئی تھی ۔ میں نے پوچھا کیا نام ہے ان کا؟ کہنے لگیںکہ میمک قلی اسیف۔ میں نے خاتون کا نام پوچھا تو بتایا .... سیوتلانا.... میں نے کہا یہ تو روسی نام ہے ۔ سیوتلانا نے کہا بالکل صحیح اندازہ لگایا۔ میں روسی ہوں اور میرے والدین تا شقند میں رہتے ہیں جن کے ساتھ چھٹیاں گذارنے کے بعد اب میں عشق آباد واپس جارہی ہوں۔
عشق آباد ہوائی اڈہ پر جب ہم اترے تواس وقت موسلا دھار بارش ہورہے تھی۔ سیوتلانا نے کہا کہ مارچ کا مہینہ یہاں سخت بارشوں کا ہوتا ہے ۔ میرا دل دہک سے رہ گیا کیونکہ میرے پاس صرف دو روز تھے عشق آباد کے لئے۔ اگر بارش کا یہ سلسلہ یوں ہی جاری رہا تو آنا جانا دوبھر ہو جائے گا ۔ابھی میں اس تشویس میں گرفتار تھا کہ سیوتلانا نے ہوائی اڈے کے پھاٹک پر اپنے شوہر میمک کو کھڑے دیکھ لیا اور کہا کہ فکر نہ کرو۔ ہمارے ساتھ چلو۔ واقعی اللہ میاں ، مسبب الاسباب ہیں۔
پستہ قد اور اپنی گھنی داڑھی میں مسکراہٹ چھپائے ترکمان مصور میمک اس درجہ مہربان تھے کہ جیسے میں ان کا ہی مہمان ہوں ۔ راستے میں میں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں کسی ترکمان تاریخ دان یا دانشور سے ملنا چاہتا ہوں ۔ انہوں نے مجھے ہوٹل پر اتارنے کے بعد کہا کہ وہ سیوتلانا اور بچے کو گھر چھوڑ کر واپس آکر مجھے ترکمان ادیبوں کی انجمن کے جنرل سیکرٹری پیسیف دردی سے ملانے لے جائیں گے۔
بیس منٹ بعد ہم ترکمانستان کے ادیبوں کی انجمن کی خوبصورت عمارت میں داخل ہورہے تھے۔ سامنے دیوار پر ترکمانستان کے قومی شاعر مخدوم قلی کی ایک قد آور تصویر آویزاں تھی۔ میمک اس عمارت کے مختلف دالانوں سے ہوتے ہوئے مجھے پیسیف دردی کے لاونج تک لے گئے اور مجھے وہاں بٹھا کر انہیں بلانے چلے گئے۔ یہ نہایت حسین اور بڑے سلیقہ سے سجا ہوا لاونج تھا ۔ اونچی اونچی کھڑکیاں جن پر مخمل کے پردے لٹکے ہوئے تھے ۔ دبیز نیلا قالین جس پر قیمتی صوفہ رکھا ہوا تھا۔ ایک طرف مہاگنی کی لمبی سی میز اور اس کے دونوں طرف خوبصورت کرسیاں بچھی ہوئی تھیں۔
ترکمانستان کے ایک ادیب کا ایسا خوبصورت لاونج دیکھ کر نہ جانے کیوں میرا ذہن ہزاروں میل دور ہندوستان کے شہر کانپور کے محلہ چمن گنج کی اس پتلی سے گلی میں چلا گیا جہاں ایک چھوٹے سے مکان میں جس کے دروازے پر پھٹا ہوا ٹاٹ پڑا رہتا تھا اردو کے ممتاز شاعر حسرت موہانی رہتے تھے اور گلی میں لگے بمبے سے بالٹی بھر بھر کر گھر میں پانی بھرتے تھے۔ یہ بات اس زمانے کی ہے جب ہندوستان برطانیہ کا غلام تھا۔ لیکن آزادی کے بعد میں نے کراچی میں گاندھی گارڈن کے عقب میں لارنس روڈ پر پیر بخاری کے چوک کے ایک طرف لکڑی کے ایک کھوکھے میں ایک ممتاز شاعر قمر جلالوی کو زندگی گذارتے اور مشق سخن کرتے دیکھا ہے۔ اسی کھوکھے میں ان کی سائیکلوں کی مرمت کی دکان تھی۔
Ashakabad01میں عشق آباد کے اس خوبصورت سجے ہوئے آرام دہ لاونج میں بیٹھا سوچ رہا تھا۔ کیا زمین و آسمان کا فرق ہے۔ترکمانستان کے یہ ادیب اور شاعر کتنے خوش قسمت ہیں۔ اتنے میں نہایت قیمتی سوٹ میں ملبوس ایک صاحب مسکراتے ہوئے لاونج میں داخل ہوئے ۔ یہ پیسیف وردی تھے جن کا چہرہ طمانیت اور خوش حالی سے پھٹا پڑ رہا تھا۔ پیسیف دردی بتا رہے تھے کہ ترکمانستان کے ادیبوں کی انجمن کے 162 اراکین ہیں اور یہ انجمن نہ صرف ان کے مفادات کی نگرانی کرتی ہے بلکہ ان کے مالی اور دوسرے مسایل کے حل میں ان کی مدد کرتی ہے۔
اس وقت میرا دل ترکمانستان کی تاریخ جاننے کے لئے بے تاب ہوگیا ۔ پیسیف دردی بتا رہے تھے کہ ایک ہزار سال قبل مسیح سے ترکمان قوم کی تاریخ وسط ایشیا میں رہنے والوں سے گتھی ہوئی ہے ۔ اس زمانے میں ترکمانستان میں .... مارگیانا.... اور پارتھیا نامی اقتصادی طور پر ترقی یافتہ دہ علاقے تھے ۔ چوتھی صدی قبل مسیح کے آخر میں ترکمانستان ، سکندر اعظم نے فتح کیا تھا جس کے بعد یہاں پارتھیا سلطنت ابھری لیکن دوسو سال قبل مسیح میں ساسانیوں نے پارتھیا سلطنت کو زیر کر کے جنوبی ترکمانستان پر قبضہ کر لیا۔ اس سے کئی صدی پہلے ترکمانستان کا شہر مرو (MERV) زر تشت نے بسایا تھا اور یہیں سے زرتشتی مذہب ابھرا۔ اس زمانے میں بودھ مت کا بھی غلبہ تھا ۔ مرو بحیرہ کیسپین سے چین تک پھیلی ہوئی شاہراہ ریشم کا ایک اہم مرکز تھا۔ آٹھویں صدی میں عربوں کی فتوحات کے بعد بھی مرو کو بغداد کے بعد دوسرا اہم شہر مانا جاتا تھا جس کے عالی شان محلات، رصد گاہیں، کتب خانے اور کاری گر چاردانگ عالم میں مشہور تھے ۔ اس زمانہ میں مرو پندرہ میل کے رقبہ پر پھیلا ہوا تھا۔
پیسیف دردی بتا رہے تھے کہ ترکمان قوم کے تانے بانے سیر دریا اور بحیرہ کیسپین کے مشرقی ساحل کے مابین علاقہ میں رہنے والے OGLUZقبایل سے ملتے ہیں جنہوں نے آٹھویں صدی میںاسلام قبول کیا تھا۔ پھر 1040 ءمیں ترک سلجوقیوں نے جب اس علاقے میں اپنی سلطنت قایم کی تو ترکمان قوم نے واضح شکل اختیار کی۔ 13 ویں صدی میں جب چنگیز خان نے اس علاقہ حملہ کیا تو یہاں خوارزم شاہوں کی حکومت تھی۔ 14ویں صدی میں تیمور نے اس علاقے پر قبضہ کیا اور پھر اٹھارویں صدی میں ترکمانستان نادر شاہ کی فوجوں کا شکار بنا ۔ 19ویں صدی کے آخر میں زار روس کے اس علاقے پر قبضہ کے وقت یہ خیوا کے خان کی ریاست کا حصہ تھا پھر 1917ءمیں ترکمانستان میں کمیونسٹ دور شروع ہوا جو 1991ءمیں سوویت یونین کے بکھرنے تک جاری رہا۔
ترکمانستان پر کمیونسٹ نظام کے غلبہ کے آغاز پر ترکمانستان نے اس کی شدید مزاحمت کی تھی ۔ اس زمانے میں سویت نظام کے خلاف لڑنے والے بیشتر ترکما ن گھڑ سوار تھے جو برق رفتاری سے آتے اور حملہ کرے اسی برق رفتاری سے غایب ہو جاتے تھے ۔ ان پر قابو پانا بجلی کو پکڑنا تھا۔ لہذا سویت حکومت نے ترکمانوں کو گھوڑے رکھنے کی ممانعت کر دی تھی۔ یہ ایساتھا کہ جیسے ترکمانوں کی شہ رگ کاٹ دی گئی ہو اور ان کی روایت ، آن بان اور شان سب مفقود ہو گئی ہو۔ ترکمانستان میں گھوڑے رکھنے پر پابندی سوویت دور کے خاتمہ تک جاری رہی۔ترکمانستان کی آزاد ی کے ساتھ ہی ترکمانوں کی بند روح آزاد ہوئی۔
ترکمانستان کے ادیبوں کی انجمن کے جنرل سیکرٹری پیسیف دردی سے ملاقات کے بعد جب میں اپنے ہوٹل واپس پہنچا تو عشق آباد میں پہلے امریکی سفارت خانہ کے افتتاح کی تقریب کا دعوت نامہ ملا۔ مجھے تعجب ہوا ۔ امریکیوں کو میرے بارے میں کیسے پتہ چلا جب کہ صبح ہی میں عشق آباد آیا ہوں ۔ لیکن معلوم ہوا کہ ٹورازم والوں سے انہیں میرے بارے میں پتہ چلا ۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ امریکی عشق آباد میں بڑی عجلت میں اپنا سفارت خانہ قایم کر رہے ہیں۔ کسی باقاعدہ عمارت کے انتظام سے پہلے ہی ایک ہوٹل میں۔
پھر اسی روز جب امریکی سفارت خانہ کے افتتاح کی تقریب ہوئی ایران کا ایک قافلہ عشق آباد پہنچا تھا۔ جس کی کوچوں پر امام خمینی کی تصاویر چسپاں تھیں اس موقع پر ایرانی قافلہ نے امام خمینی کے اس خط کی نقول تقسیم کیں جو انہوں نے سابو سویت یونین کے صدر گورباچوف کو لکھا تھا او ر جس میں انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی۔ یہ حسن اتفاق تھا کہ امریکا نے اس ہوٹل کے سامنے واقع ہوٹل میں اپنا سفارت خانہ قایم کیا تھا جہاں ایرانی سفارت خانہ تھا۔ ایرانی وفد تو اپنے پڑوسی اور مسلمان ملک سے رشتوں کی تجدید کے لئے آیا تھا لیکن امریکیوں کو، ترکمانستان کے تیل اور گیس کے وسیع ذخائر کشاں کشاں لے آئے تھے اور دلوں میں ایران سے رقابت کی آگ بھی سلگ رہی تھی۔

وسط ایشیا کے گھڑ سوار” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 14, 2015 at 12:52 AM
    Permalink

    یہ الما عطا نہیں بلکہ الما آتی ہے آتی باپ کو کہتے ہیں اور الما سیب کو یعنی "سیب کا باپ". نہ عشق آباد ہے بلکہ اشک آباد . اولن باتور ہے.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *