یہ تیرے ’ پراسرار‘ بندے

nasir malikصاحب! ہم تو ٹھہرے گنہگار ، دنیا دار انسان۔ عبادات کی اہمیت و فرضیت معلوم ، لیکن عمل مفقود! وجہ تساہل پسندی، کاہلی۔ حضرت غالب ہماری کیا عمدہ ترجمانی کر گئے ہیں !
جانتا ہوں ثوابِ اطاعت و زہد
پر طبیعت اِدھر نہیں آتی !
لیکن جب ہم تھوڑا غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہماری مسجد سے قدرے دوری کی واحد وجہ ہماری فطری سستی ہی نہیں ہے بلکہ کچھ ایسی ’مہربان ‘ ہستیاں بھی ہیں جن کے ساتھ ہمیں گاہے بگاہے پالا پڑتا رہا ہے۔ اس مضمون میں انہی ’ کرم فرمائوں‘ اور ان کی ’نوازشوں‘ کا تذکرہ ہے۔
سب سے پہلے ہمارے محلے کی مسجد کے ایک محترم بزرگ کو ہی لیجئے ! یہ اپنے دائیں بائیں کھڑے نمازیوں کو دورانِ نماز اپنے انتہائی قریب کرنے کے شوقین ہیں۔ یہاں تک تو ٹھیک ہے ،لیکن اپنے اس شوق کے لئے وہ جس جارحیت کا مظاہرہ کرتے ہیں،اور وہ بھی بیچ نماز کے! کوئی ضعیف العقیدہ اور نحیف الجثہ انسان اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یہ صاحب ہمیشہ ’دامن کو اس کے آج حریفانہ کھینچئے‘ پرتلے دکھائی دیتے ہیں۔ قبلہ گاہی ہمیشہ اپنے ارد گرد اور خصوصاً دائیں طرف کھڑے نمازی کو، بھلے وہ بے چارہ کتنا ہی قریب کیوں نہ کھڑا ہو،اورکھینچ کر اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہیں اور یہی ان کا اصل ’مشن‘ ہے۔ سچ پوچھئے تو اسی مشن کی تکمیل ہی ان کی اصل نماز ہے۔ طریقہ بڑا سادہ سا ہے کہ دائیں طرف کھڑے نمازی کی قمیض،شلوار،پینٹ ،ٹانگ (جو بھی فوری ہاتھ لگے ) کو پکڑنا اور ایک جھٹکے سے اپنے قریب کھینچ لینا۔ اب، ہمارے ساتھ چونکہ یہ ’جھٹکا‘ آئے روز ہوتا رہتا ہے اس لئے ہم اس کی تفصیلات ومضمرات سے بخوبی و ’مضروبی‘ واقف ہیں۔ ہماری حتی الوسع کوشش ہوتی ہے کہ نماز میں ان صاحب کا ساتھ میسّر نہ آئے۔ لیکن برا ہو اس ضعف دماغ کا کہ عین وقت پر بھول جاتے ہیں اور اکثر انہی کے ساتھ کھڑے پائے جاتے ہیں۔ بس پھر کیا ہوتا ہے !ادھر امام صاحب نے تکبیرِاولیٰ کہی۔ ان صاحب نے نماز شروع کی اور پھر لاشعوری طور پر اپنا دایاں ہاتھ بڑھایا اورہماری قمیض یا شلوار کو کھینچنا شروع کر دیا۔اس دوران میں اس کھینچا تانی سے بچنے کے لئے ہم اپنے آپ کو ان کے انتہائی قریب کرتے ہوئے اپنا بایاں پاوں، جو ان کے پائوں سے پہلے ہی ملا ہوتا ہے، کو اور بھی ساتھ ملا دیتے ہیں۔یہ گویا اس بات کا اظہار ہوتا ہے کہ’ صاحب! میں آپ کے انتہائی قریب کھڑا ہوں اور مزید قربت ،کم از کم نماز کے دوران ممکن نہیں ہے‘۔ لیکن ان کی تسلی نہیں ہوتی اور کھینچا تانی جاری رہتی ہے۔اس ساری مشق کا سب سے اذیت ناک پہلو یہ ہوتا ہے کہ شلوار وغیرہ کا گھیرا چونکہ بڑا ہوتا ہے لہٰذا اس کے کھینچنے سے ’مدّعا‘ پورا نہیں ہوتا۔چنانچہ ان کا اگلا اور حتمی ٹارگٹ ہماری ’ران‘ ہوتی ہے۔وہ بظاہر بوڑھے اور کمزور ہاتھ کی بڑی سی چٹکی سے ران کو پکڑ کر کھینچتے ہیں او ر ہم ان کے ساتھ لگتے بلکہ ٹکرا جاتے ہیں اور انہیں سکون آ جاتا ہے۔ نہ جانے اس نحیف ہاتھ کی مڑی تڑی انگلیوں میں اتنی طاقت کہاں سے آ جاتی ہے کہ ہمیں وہ چٹکی ’ پلاس ‘ کی سی لگتی ہے۔ چٹکی جب ران کو پکڑ رہی ہوتی ہے تو اس خاص لمحے ران کے ’مقامِ اذیت‘ پر اک جھرجھری اور کپکپی طاری ہو جاتی ہے! جیسے کمہار کے گدھے کی کمر کا وہ حصہ جھرجھراتا ہے جس پر ’ سوٹا ‘پڑنے والا ہوتا ہے۔ اندریں حالات ہم مکمل’ سرنڈر‘ کرتے ہوئے ٹانگ ڈھیلی چھوڑ دیتے ہیں اور بابا جی کو دل ہی دل میں مخاطب کرکے کہتے ہیں۔” پلیز! فنش اِٹ‘۔
دورانِ نماز موبائل فون کی آواز ہم سب کو ناپسند ہے۔لیکن،غالباً آپ کے مشاہدے میں آیا ہو گا کہ کچھ لوگوں کے لئے یہ زندگی موت کا مسئلہ ہے۔ اب اگر غلطی سے کسی بےچارے نمازی کا فون ’آن ‘رہ گیا اور اس کی گھنٹی بجی تو گویا اس کی اپنی ’گھنٹی‘ بج گئی۔ اِدھر نماز ختم ہوئی ادھر اس کی کلاس شروع ہو گئی۔ ہماری مسجِد میں بھی تین چار صاحبان پر مشتمل یہ ’ اینٹی موبائل سکواڈ‘ موجود ہے۔ ماشااللہ سے سبھی ستر کے پیٹے میں ہیں لیکن مجال ہے کہ ’ثقلِ سماعت‘ انہیں چھو کر بھی گزری ہو۔ دورانِ نماز دنیا و ما فیہا سے بے خبر ہو کر ،پورے خشوع و خضوع اور انتہائی انہماک کے ساتھ موبائل فون کی بیل پر کان دھرے رکھتے ہیں۔ ’دامِ شنیدن‘  پوری مسجد میں پھیلایا ہوتا ہے۔ مجال ہے کہ معمولی سی ''Misbell" بھی ان کی سماعت سے بچ سکے۔ادھر کسی سے یہ ’جرم‘ سرزد ہوا ادھر اس کی شامت آگئی۔ سلام پھیرتے ہی ’توپوں‘ کا رخ اس ’کم نصیب‘کی طرف ہو جاتا ہے۔ پھر اس ’گستاخ‘ کی تادیب میں ایک سے بڑھ کر ایک جملہ سننے کو ملتا۔ ’فرمودات‘ جس روانی، بے ساختگی اور حسنِ ترتیب سے ان کے منہ سے نکلتے ہیں۔ اس سے لگتا کہ ان کے لئے باقاعدہ تیاری کی گئی ہے۔ گویا دورانِ نماز ہی ان ’ارشادات‘ کی نوک پلک سنواری جاتی اور اس کی ’ریہرسل‘ کی جاتی ہے۔مسجد چونکہ برلبِ سڑک ہے۔اس لئے ان صاحبان کو آئے دن کوئی تازہ ’شکار‘ ملتا رہتا ہے اور ہم ان کی ’زبان دانی‘ سے مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ایک روز عجب واقعہ ہوا کہ نماز کے دوران جس موبائل فون کی گھنٹی بجی وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اسی ’اینٹی موبائل گروپ‘ کے چیف کا تھا۔تو گویا ’صیاد ‘ خود زیرِدام آ گیا تھا۔بڑا اطمینان ہواکہ چلو آج حضرت خود ہی اپنی ’ کلاس‘ لیں گے۔ سلام پھیرتے ہی حسبِ معمول کلاس تو انہوں نے ضرور لی ،لیکن اس بار ’روئے سخن‘ اس ’گستاخ‘ کی طرف تھا جس نے جانتے بوجھتے اوقاتِ نماز میں انہیں کال کرنے کی جسارت کی تھی۔ فرما رہے تھے،کیسے ’بے حیا‘ لوگ ہیں کہ نماز بھی سکون سے نہیں پڑھنے دیتے۔
مساجد میں آج کل قابلِ ذکر تعداد ایسے حضرات کی بھی ہے جو آپ کے طریقہ نمازپر تنقید کریں گے اور پھر ’ سمری ٹرائل‘ کرتے ہوئے فیصلہ یا فتویٰ دیں گے کہ ’جناب! آپ کی نمازقبول نہیں ہوئی، (گویا انہوں نے خود ہی کرنا تھی) لہٰذا اپنی نماز لوٹائیے۔‘ یہ اعلان کرتے ہوئے ان کا زعمِ تقویٰ اور خبطِ عظمت دیدنی ہوتا ہے۔ یا پھر فرمائیں گے کہ آپ کی نماز ’مکروہ‘ ہو گئی ہے۔ اور لفظ ’مکروہ‘ کی ادائیگی کے دوران ایسی شکل بنائیں گے گویا کراہت نماز میں نہیں بلکہ آپ کی ذات میں ہے۔ یہ حضرات اکثر بھول جاتے ہیں کہ اگر اصلاح بھی مقصود ہو تو مستحسن انداز میں ہونی چاہئے۔ عزت نفس کا خیال رکھنا اوردل آزاری سے بچنا ہمارے مذہب کی بنیادی تعلیمات میں سے ہیں۔
ہماری مسجد میں آج کل ’سمری ٹرائل‘ کی اہم سیٹ پر محترم جناب بزمی صاحب المعروف ’چاچا چکری‘ براجمان ہیں۔ یہ حضرت ایک سرکاری دفتر میں کسی اہم عہدے سے اسی سال ریٹائرہوئے ہیں۔ دوران ِ ملازمت پرلے درجے کے بد اخلاق اور انتہائی بد لحاظ مشہور تھے لیکن ’ با اصول ‘ بھی تھے۔ حتیٰ کہ رشوت کے بھی ’اصول‘ مقرّر کر رکھے تھے، یعنی جو ایک دفعہ طے ہو گئی اس سے آنہ برابر اوپر نیچے نہیں کرتے تھے۔ حرام ہے جو گھر میں کبھی حلال آنے پایا ہو ،اور! ساری زندگی اسی ’اصول‘ پر کاربند رہے۔ ان کا نا م ’چکری ‘ پڑنے کی وجہ بھی یہ تھی کہ دفتر میں ان کا سائل اگر ان کی ’فرمائش‘ پوری نہ کرتا تو اسے دفتر کے بے تحاشا چکر لگانے پڑتے بلکہ وہ بے چارہ اس قدر پھیرے لگاتا کہ بقول استادِ محترم جناب قاسمی صاحب وہ خود ’بھائی پھیرو‘ بن جاتا۔ لہٰذا لوگوں نے انہیں ’چاچا چکری‘ کہنا شروع کر دیا ۔ اب جو ریٹائرڈ ہوئے تو مسجد میں نمازوں کے خود ساختہ اصلاح کار بن بیٹھے۔ یہاں پر بھی حسبِ عادت وہ ’اصولی‘ موقف پر ڈٹے رہے۔اپنے علاوہ کسی دوسرے کی نماز کو کبھی درست نہیں سمجھا۔ کسی نئے نمازی کو تو بالکل ’نو مسلم ‘ گردانتے ہیں۔ خود پانچ وقت بڑی پابندی سے نماز باجماعت ادا کرتے ہیں۔ شنید ہے کہ وقت کی پابندی کے ساتھ انہیں مسجد بھیجنے میں ان کے گھر والوں کا بھی عمل دخل ہے۔ یہ بھی خبر ہے کہ اوقات ِنماز میں گھر کا ماحول بہت پرسکون رہتا ہے! چند دن پہلے ہم مسجد میں بزمی صاحب کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے۔ نماز ختم ہونے پرانہوں نے بڑی عجلت سے سلام پھیرا اورہماری طرف تقریباً گھورتے ہوئے فرمانے لگے، ’بھئی! آپ کی نماز مکروہ ہو گئی ہے، بہتر ہے ! لو ٹا لیجئے‘۔ آواز میں بلا کی رعونت تھی۔ صاحب! ان حضرات کے کہنے پر نمازیں لوٹاتے ہمیں اک عمر گزر گئی ہے۔ اس دن پتہ نہیں کیا ہوا، ہم نے خاطر جمع کی اور لبوں پہ ہلکی مسکراہٹ لاتے ہو ئے ان صاحب کو جواب دیا، ’جناب! چھوڑئیے! ہمیں معلوم ہے کیوں مکروہ ہوئی ہے ہماری نماز‘۔ فرمایا ، ’کیوں؟‘ عرض کیا۔’جناب! ہم آپ کے سا تھ جو کھڑے تھے‘۔ حکیم مومن کا اک شعر ایک عرصہ ہماری سمجھ میں نہیں آیا۔ لیکن اب سمجھ آنے لگا ہے کہ اس باکمال رومانوی شاعر کو بھی یقینا کچھ ایسے ہی حالات پیش آئے ہوں گے، تبھی تو انہیں کہنا پڑا....
شب جو مسجد میں جا پھنسے مومن
رات کاٹی خدا خدا کر کے!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *