عمران خان اور بکھرتے خواب

aniq najiوہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ عمران خان نے خود اپنی اور چاہنے والوں کی حیرت انگیز توانائیاں تاریک راستوں کے سپرد کر دیں۔ آج عمران اور تحریک انصاف دفاعی پوزیشن اختیار کئے ہوئے ہیں اور یہ افسردہ کر دینے والی حقیقت ہے۔ سیاست جس کا نام سنتے ہی ذہن میں چند ڈراﺅنے چہرے اور اکتاہٹ بھری بوجھل تقریریں ابھرتی تھیں‘ 30 اکتوبر 2011ءکے مینار پاکستان جلسے کے بعد یکایک رنگینیوں سے بھر گئی۔ نوجوان چہرے‘ گرم خون‘ بجلیاں بھردینے والی موسیقی‘ نئی امید.... یکایک پھیل جانے والی خوشبو کی طرح دلوں میں کھلنے لگی۔ جن سیاسی جلسوں کا ذکر یا خبر کا مطلب مدقوق چہرے‘بھاری بھرکم جسم‘ اسلحہ لہراتے گارڈز اور اکتاہٹ سے بھری تقریریںہواکرتا تھا‘ آن کی آن میں وہ گھر گھر کی دلچسپی خصوصاً نوجوانوں کی توجہ کا مرکز ہو گیا اور اصل پاکستان جو ضیاالحق کے بھاری بھرکم منافق نظریوں سے وحشیانہ طور پردبا ہوا تھا‘ طویل مدت بعد انگڑائی لے کر کھڑا ہوتا دکھائی دیا۔ روایتی سیاسی جمود کا شکار جماعتیں ہڑبڑا گئیں۔ قیادتیں حیرتوں کے سمندرمیں ڈوب گئیں اور روایتی جماعتوں کے کارکن تحریک انصاف کا نام لے کر اپنے قائدین کوڈرانے لگے۔ چنانچہ بے شمار ناراض کارکنوں کو منانے کا سلسلہ شروع ہوا۔خود لاہور میں مسلم لیگ کے کارکن ‘ پی ٹی آئی کو دعا دیتے کہ ان کے دباﺅکی وجہ سے ان کی سنی گئی۔
پاکستان کا وہ آدمی‘ جو سیاست کے موضوع سے بیزار تھا وہ اپنے کام کاج پس پشت ڈال کرصحت مند سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے لگا۔ یہ گلاسڑامعاشی ‘ انتظامی اور سیاسی ڈھانچہ جس کا ایک پیر فضا میںمعلق اور دوسرا کیلے کے چھلکے پر ہے‘ خوف سے لرزنے لگا تھا۔ اقتدار پر قابض روایتی چہروں کی طاقت جن کی بنیاد ظلم اور جھوٹ پر تھی‘ پھیکے پڑگئے۔ ان تمام امیدوں میں خان صاحب نہ جانے کب اور کیوں گم سے ہو گئے؟ پھر انہوں نے تابڑ توڑ حملے نما فیصلے کرنے شروع کئے۔ بصیرت رکھنے والوں کی ان کے پاس کمی نہیں تھی‘ جنہوں نے بارہا عرض کیا کہ یہ حملے آپ خود پر کر رہے ہیں۔ لیکن خان صاحب کی سوئی اٹک جائے تو عقل کی مجال ۔
سچی بات ہے‘ خان صاحب پر تنقید کرنے کو دل نہیں چاہتا کہ ان کے فیصلوں کے نتائج ان کے اپنے سامنے ہیں۔ دل سے دعا ہے کہ ان کا حوصلہ قائم رہے اور کاش و ہ اب بھی لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ ان کی پارٹی اب بھی قومی اسمبلی میں موجود ہے۔ وہ آج بھی بقیہ مدت میں پارلیمانی اپوزیشن کا سنہرا کردار ادا کر کے‘ جمہوری نظام کی زلفیں سنوار سکتے ہیں۔ لیکن وہ قومی اسمبلی آنے سے اسی طرح گریزاں ہیں‘ جیسے نوازشریف۔ کاش! عمران خان ہمیں سکھائیں کہ شیڈوکیبنٹ کیا ہوتی ہے؟ اس کا کام کیا ہوتا ہے؟ وزراءکو ایوان کے سامنے پابند کیسے کیا جاتا ہے؟ پڑھے لکھے متوسط طبقے کے افراد کو ذمہ داریاں سونپیں تو حکومت کو پنجوں کے بل کھڑے رہنے پر مجبور کرسکتے ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ عمران خان اور ان کی پارٹی نے ملک کے سب سے بڑے میڈیا ہاﺅس کو نہ صرف شدید دباﺅکاشکار کیا بلکہ انہیں دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا۔ طریقہ غلط تھا یا صحیح‘ یہ علیحدہ بحث ہے۔ لیکن عمران خان اپنے نوجوانوں کی طاقت سے میڈیا کے مادرپدر آزاد رویوں کو بھی اعتدال پر لا سکتے تھے۔ حال میں عمران خان نے بھارت کا دورہ کیا۔ کرن تھاپڑ نے ان کا انٹرویو کیا۔ انٹرویو دیکھ کر پھر افسوس ہوا کہ خان صاحب نہایت آسانی سے چاروں شانے چت ہو گئے۔ کرن تھاپڑ نے صحافیانہ چالاکی بھری معصومیت سے سوال کیا‘ کیا آپ پاک بھارت تعلقات میں بہتری چاہتے ہیں؟ خان صاحب نے فوراً اقرار کیا۔ تھاپڑ نے پھر پوچھا۔ کیا آپ مذاکرات کے عمل کی حمایت کرتے ہیں؟ جواب آیا۔ بالکل! پاکستانی عوام یہی چاہتے ہیں اور ساتھ ہی امن‘ تجارت اور خوشحالی کے فوائد گنوائے۔ تھاپڑکے جال میں پرندہ آ چکا تھا۔ کہا میں آپ سے یہ سوال اس لئے کر رہا ہوں کہ آپ کی پارٹی کی ذمہ دار شیریں مزاری نے نوازحکومت پر بھارت مذاکرات کے حوالے سے سخت تنقید کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ پاکستان نے کشمیر کی پوزیشن پر کمزور موقف اختیار کیا ہے۔ یہ بھی کہ پاکستان نے ممبئی حملے کے حوالے سے تحقیقات کی یقین دہانی کیوں کروائی؟ اور سمجھوتہ ایکسپریس پر کوئی وعدہ حاصل نہ کیا۔ خان صاحب مشکل میں پھنس گئے۔جواب یہ تھا کہ شاید شیریں نے اعلامیے کے متن پر تنقید کی تھی‘ خود مذاکرات کے خلاف نہیں۔ تھاپڑ کاسوال تھا۔ آپ نے کہا کہ پاک بھارت وزرائے اعظم کو لیڈرشپ دکھانی چاہیے۔ کیا اب دونوں وزرائے اعظم نے لیڈرشپ دکھائی ہے؟ خانصاحب نے نیلسن منڈیلا کی مثال دی کہ اس نے زخموں اور خون آلود تاریخ سے اوپر اٹھ کر فیصلے کئے۔ تھاپڑنے کہا جس لیڈرشپ کی آپ بات کر رہے ہیں‘ وہ نوازشریف نے دکھائی مگر شیریں مزاری جیسے لوگوں کی تنقید سے نوازشریف کمزور ہو گئے۔ خان صاحب کو یہ کہہ کر جان چھڑانا پڑی کہ شیریں مزاری خارجہ امورمیں مجھے مشورہ نہیں دیتیں۔
یہ واقعہ ایسا نہیںکہ اس کو مثال بنایا جائے۔بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اطلاعات کی ذمہ داری ایک ایسی خاتون کو دے رکھی ہے‘ جو یہ سمجھنے سے بھی قاصر ہے کہ وہ ایک ایسے وقت پر حکومت کی بھارت پالیسی پر گولے داغ رہی ہے‘ جب اس کی جماعت کا لیڈر بھارت میں ہے اور اسے بھارتی میڈیا کوان گولوں کا جواب دینا پڑے گا۔ ویسے بھی شیریں مزاری کو دیکھ کر خیال آتا ہے کہ ’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں ‘ ....
اب دہشت گردی کا موضوع شروع ہوا۔ یہاں بھی تھاپڑ انتہائی سکون سے خان صاحب کو ایسے مقام پر لے آیا‘ جہاں پہلے تو وہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے کردار کو ثابت کرتے رہے اور پھردھڑام سے یہ بول اٹھے کہ یہاں دہلی میں بیٹھ کر دہشت گردی کے خلاف بات کرنا آسان ہے۔مگرمجھ سے آپ کسی تنظیم کے حوالے سے سوال نہ پوچھیں۔ پاکستان میں زندگی گزارنا آسان نہیں اور یہ کہ میری جان پہلے ہی خطرے میں ہے۔ لہٰذا اس موضوع پر میں صرف پالیسی بیان دوں گا۔میرے محترم نے بھارتی کام آسان کر دیا۔لطف یہ ہے کہ محض پندرہ منٹ کے اندر یہ گفتگو ہو چکی تھی جو میں نے بیان کی ہے۔ انٹرویو 40 منٹ کا تھا۔بجائے بھارت میں موجود انتہاپسندوں کے نام لئے جاتے یا دہشت گردی کا ذکرکیا جاتا‘ سادہ الفاظ میں بھارتی موقف کو تقویت پہنچائی کہ بھارت کو مطلوب تنظیم اور افراد خود میری جان کے لئے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔خان صاحب کو جان کا خوف اتنا ہی ہے‘ تواس کا اقرار وہ اسلام آباد میں کر لیتے۔ (جو ایک دفعہ وہ پہلے بھی کر چکے ہیں)
کرب کی شدت دگنی اس لئے ہو جاتی ہے کہ عمران خان کے پاس سب کچھ ہے اور میں یقین سے کہہ رہا ہوں کہ عمران خان بزدل ہرگز نہیں۔ شدید کمی ہوم ورک یا مناسب تیاری کی ہے۔ ورنہ ایک بھارتی صحافی کی کیا جرات کہ وہ آپ کونہ صرف خاموش کروا دے بلکہ دہلی میں بیٹھ کر اپنی جان کو لاحق خطرات گنواتے ہوئے آپ کو اپیل کرنا پڑے کہ وہ آپ پر رحم کرتے ہوئے‘ نازک سوال نہ پوچھے۔ اس کی جرات، آپ کی تیاری کی کمی سے پیدا ہوئی۔ چند سوالوں پہ غورکریں۔ کیا جہانگیرترین کے جہاز پر سفر کرنے کا آرام بہت ضروری ہے؟کیا بنی گالا سے خیبرپختونخوا حکومت چلانے کا طریقہ جمہوری ہے؟ کیا قومی اسمبلی نہ جا کر جمہوری روایات مضبوط ہو رہی ہیں؟ کیا پرانے زنگ آلود‘ قابل نفرت چہروں نے آپ کے حسن میں اضافہ کیا؟ کیا آپ کی مہم، جلسے خصوصاً کراچی کے دورے میں کوئی نظم و ضبط دکھائی دیا۔ برطانیہ کی مثالیں آپ دیتے نہیں تھکتے۔ وہاں حال ہی میں ڈیوڈبلنکٹ نامی شخص ٹونی بلیئر کی کابینہ میں ہوم منسٹر جیسے اہم عہدے پر فائز رہا اور وہ نابینا ہے۔ یہی ڈیوڈ بلنکٹ تعلیم کی وزارت بھی سنبھال چکا ہے اور اپوزیشن میں یہ شیڈومنسٹر تھا۔ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت میں کتنے سپیشل‘ باصلاحیت پاکستانی دکھائی دیتے ہیں؟
خیبرپختونخوا میں 15لاکھ بچے رات سڑکوں اور بھیانک راستوں پر گزارنے پر مجبور ہیں۔ ان کی بے بسی اورکمزوری پر جتنا غورکیا جائے‘ نیند اور بھوک دونوں اڑ جاتی ہیں۔ خان صاحب! جان لڑا دیں۔ بیٹھ جائیں پشاور۔ ان بچوں کو رات گزارنے کی چھت ہی فراہم کر دیں۔ ایک کینسر ہسپتال پشاور میںبہت خوب۔ لیکن ابھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ کہیں تو فوکس کریں۔ ہر لڑائی‘ ہر وقت سب سے لڑنے والا آخری نتیجے میں وہیں کھڑا موجود ہوتا ہے‘جہاںآپ ہیں۔ عمران خان یقینا ایک غیر معمولی آدمی ہیں۔ لاکھوںووٹ لے کر محبوب لیڈر بن کر خود کو اس طرح ضائع کرنا کسی عام آدمی کے بس کی بات نہیں۔ دل یہ سوچ کر ڈوب جاتا ہے کہ خان صاحب کی ناکامی اس کمزور ترین مگر ظالم سیاسی‘ انتظامی اور معاشی ڈھانچے میں نئی جان بھردے گی اور لوگوں کا جوش اور امید ایک بار پھر بیزاری میں تبدیل ہو جائے گا اور وہ سب پر تین حرف بھیج کے بکرے بن کر قصائیوںکے سامنے پیش ہو جائیں گے۔
تبدیلی کا نعرہ موجودہ امریکی صدر باراک اوباما نے اپنی پہلی صدارتی مہم کے دوران بلند کیا اور حیرت انگیز کامیابیاں یوں حاصل کیں کہ امریکی تاریخ بدل دی۔ وہی نعرہ عمران خان کا تھا۔ تاریخ تو نہ بدلی۔ نعرے کا اختتام اب ایک گمنام ٹی وی چینل کاپروگرام ضرور بن گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *