نیا اسلامی فوجی اتحاد کیوں !

mujahid aliسعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی کے ذریعے جاری ہونے والے ایک بیان میں اسلامی ملکوں کے ایک فوجی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اتحاد سعودی عرب کی قیادت میں کام کرے گا اور اس کا ہیڈ کوارٹرز ریاض میں قائم کیا جائے گا۔ اس اتحاد کا مقصد دہشت گردی اور زمین پر فساد برپا کرنے والے اداروں اور گروہوں کے خلاف جنگ کو مربوط بنانا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ 34 مسلمان ملکوں کا یہ اتحاد مسلک اور عقیدہ کی تخصیص کے بغیر ہر اس گروہ کے خلاف کارروائی کرے گا جو دہشت گردی کے ذریعے معصوم افراد کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف اسلامی ملکوں کے اس نئے عسکری اتحاد کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کا اعلان سعودی عرب کے نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے آج صبح ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ عام طور سے شاہی قیادت اس طرح میڈیا کے ذریعے پیغام پہنچانے کی کوشش نہیں کرتی۔ اس نئے اتحاد کے دیگر پہلوﺅ ںکی علاوہ یہ بات اہم ہے کہ اس میں پاکستان شامل ہے جبکہ ایران کو اس گروہ کا حصہ نہیں بنایا گیا۔
اگرچہ دنیا میں عقیدہ و مذہب کی سربلندی کے نام پر بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے تناظر میں بین الملکی تعاون و اتحاد بے حد اہم ہے۔ لیکن اچانک ایک ایسے فوجی اتحاد کے قیام کا اعلان جو مسلمانوں کی طرف سے دہشت گردوں کا مقابلہ کرے گا، دنیا میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اس وقت دہشت گردی اور انتہا پسندی کی جو صورتحال دیکھنے میں آ رہی ہے، اس کی بنیادی وجوہات میں ایران اور عرب ملکوں کے اختلافات اور شیعہ سنی عدم اتحاد بھی شامل ہیں۔ اس لئے سعودی عرب کی قیادت میں نئے اسلامی عسکری اتحاد کے قیام کا مقصد بنیادی طور پر خطے اور دنیا میں سعودی عرب کی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے۔ شیعہ اکثریت کے اہم علاقائی ملک ایران کو اس نئے اتحاد سے علیحدہ رکھ کر یہ واضح کیا گیا ہے کہ سعودی عرب ، ایران کے مقابلے میں اسلامی دنیا میں اپنی اہمیت اور قدر و قیمت کو سامنے لانا چاہتا ہے۔ اس حکمت عملی سے اسلامی دنیا فرقہ وارانہ گروہوں میں تقسیم ہو گی اور مسلکی اختلاف کی بنیاد پر جنگ اور فساد بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
سعودی عرب کو اس وقت امریکہ اور یورپ کا اتحادی ہونے کے باوجود مغربی دنیا کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ پیرس اور پھر کیلیفورنیا میں پیش آنے والے دہشت گرد حملوں کے بعد بڑھتی ہوئی اسلامی انتہا پسندی اور دہشت گرد گروہوں کے سلفی عقائد کے حوالے سے بھی سعودی عرب کو تختہ مشق بنایا جا رہا ہے۔ متعدد مغربی مبصرین یہ بات کہنے لگے ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے سعودی عرب کی پالیسیوں کا تبدیل ہونا ضروری ہے۔ سعودی نظام جس سخت گیر، کٹر اور یک طرفہ عقیدہ کو زبردستی دوسروں پر مسلط کرتا ہے اور اختلاف رائے یا عقیدہ کی بنیاد پر جس طرح سعودی عرب میں لوگوں اور گروہوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے، وہ ہوبہو وہی طرز عمل ہے جس کا مظاہرہ داعش اپنے زیر تسلط علاقوں میں کرتا ہے۔ سعودی عرب میں جنسی امتیاز ، مسلکی شدت پسندی ، سزاﺅں کی نوعیت اور ان پر عمل درآمد کا طریقہ کار وہی ہے جو دہشت گرد گروہوں کی طرف سے بھی دیکھنے میں آتا ہے۔ اس لئے یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر مغربی ملکوں کا ایک حلیف ملک ایک غیر انسانی معاشرہ کے تحفظ میں ہر حد سے گزرنے کے لئے تیار ہے اور دنیا اسے مساوات اور برابری کے اصولوں کو تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی تو مذہبی انتہا پسندی اور اس کے نتیجہ میں سامنے آنے والی دہشت گردی سے نجات حاصل کرنا سہل نہیں ہے۔
اس پس منظر میں آج ریاض سے سامنے آنے والے اعلان سے یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلامی ملک جن کی قیادت کا سہرا سعودی عرب کے سر ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہیں اور اب خود اس جدوجہد میں پیش رفت کریں گے۔ اس بات کا اندازہ تو آنے والے وقت میں رونما ہونے والے اقدامات سے ہی ہو سکے گا کہ سعودی عرب اس فوجی اتحاد کے ذریعے کس حد تک دنیا کو انتہا پسندی کے خلاف اپنی ناپسندیدگی کے بارے میں قائل کر سکے گا۔ یا یہ اتحاد کس طرح اور کیوں کر مختلف اسلامی ملکوں میں انتشار، بدامنی اور قتل و غارت گری کی صورتحال کو کنٹرول کر سکے گا۔ لیکن فوری طور پر اور یک طرفہ اعلان سے اس مجوزہ اتحاد کی عسکری قدر و قیمت سے بڑھ کر اس کی سیاسی اور سفارتی ضرورت کا اندازہ کرنا مشکل نہیں ۔
سعودی عرب کے طاقتور نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان نے آج پریس کانفرنس میں بتایا ہے کہ ابتدائی طور پر عراق ، شام ، لیبیا ، مصر اور افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو مربوط کیا جائے گا۔ شہزادہ محمد بن سلمان اگرچہ نائب ولی عہد ہیں لیکن ان کے سیاسی عزائم کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں۔ یہ بات کھل کر کہی جاتی ہے کہ شاہ سلمان اپنے بعد بیٹے کو ہی تخت نشین دیکھنے کے آرزو مند ہیں لیکن شاہی خاندان کے دباﺅ اور شہزادہ محمد کی کم عمری کی وجہ سے فی الوقت انہیں ولی عہد نامزد کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس صورتحال کو تبدیل کرنے کے لئے شاہ سلمان نے اپنے بیٹے کو وسیع اختیارات دئیے ہیں تا کہ وہ شاہی خاندان کو اپنی صلاحیتوں سے متاثر کرسکیں۔ اس طرح انہیں جانشینی میں سرفہرست لانا آسان ہو جائے گا۔
یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن کی خانہ جنگی میں مداخلت کا فیصلہ کیا تھا۔ یمن میں اقتدار میں حصہ مانگنے والے حوثی قبائل کے خلاف سعودی عرب کی بے دریغ بمباری سے دنیا بھر میں یہ تشویش پیدا ہو گئی ہے کہ اس قسم کی حکمت عملی سے مشرق وسطیٰ میں تنازعات مزید پیچیدہ اور مشکل ہو جائیں گے۔ پاکستان اور مصر سمیت متعدد اسلامی ملکوں نے زبردست سفارتی دباﺅ کے باوجود اس جنگ کے لئے فوج فراہم کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اب اقوام متحدہ کے تعاون سے یمن میں جنگ بندی کا معاہدہ کیا گیا ہے۔ اگر یہ جنگ بندی برقرار رہتی ہے تو یہ اندازہ کیا جا سکے گا کہ سعودی عرب اب اس جنگ کی بے مقصدیت اور تباہ کاری کو تسلیم کر رہا ہے۔ اس لئے یہ قیاس کرنا بعید از حقیقت نہیں ہو گا کہ شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن میں اٹھائی جانے والی ہزیمت پر پردہ ڈالنے کے لئے اب دہشت گردی کے خلاف نئے اتحاد کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اس طرح وہ خود اسلامی دنیا کے سپریم کمانڈر اور اسٹریٹجک لیڈر کے طور پر سامنے آ سکیں گے۔ حالانکہ فوجی قوت ، مہارت یا تجربہ کے لحاظ سے سعودی عرب کسی طرح بھی اس قسم کے فوجی اتحاد کی قیادت کا اہل نہیں۔ خاص طور سے جب اس اتحاد میں ترکی ، پاکستان اور مصر جیسے ملک شامل ہوں جن کی فوجی قوت و صلاحیت کسی شک و شبہ سے بالا ہے۔
اگر نیا فوجی اتحاد صرف سیاسی ہتھکنڈہ کے طور پر سامنے آیا ہے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اس سے کوئی معاونت نہیں مل سکے گی۔ اگر اس اتحاد کو حقیقی معنوں میں فوجی قوت میں تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ دیکھنا ہو گا کہ شام ، عراق یا افغانستان جیسے ملکوں میں یہ نیا اتحاد کیا رول ادا کر سکتا ہے اور کس طرح مختلف عسکری قوتوں کے درمیان ٹکراﺅ کی صورتحال ختم کر کے صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کرنے کا ماحول پیدا کیا جائے گا۔ ترکی کے شام ، پاکستان کے افغانستان اور سعودی عرب کے یمن میں مفادات کو دیکھتے ہوئے اس نئی قوت کی اہمیت اور کارکردگی کے بارے میں بیشتر مبصر حیرت اور استعجاب کا اظہار ضرور کریں گے۔ یہ قیاس کرنا مشکل نہیں ہے کہ سعودی عرب کی قیادت اور وسائل سے قائم ہونے والا یہ اتحاد اس ملک کی خارجہ اور دفاعی حکمت عملی کا تحفظ کرے گا۔ لیکن سعودی پالیسی کئی صورتوں میں نئے اتحاد میں شامل ہونے والی طاقتوں مفادات کے برعکس ہے۔ ان اختلافات کو ختم کر کے اس فوجی اتحاد کی کارکردگی اور دائرہ کار کے بارے میں متوازن اور غیر جانبدارانہ طریقہ اختیار کرنا آسان نہیں ہو گا۔
نئے اتحاد کے خواب کو عملی شکل دینے کے لئے پاکستان جیسے ملکوں سے فوجی نفری فراہم کرنے کی توقع کی جائے گی۔ کیا دہشت گردی کے خلاف ملک میں جاری جنگ اور سکیورٹی کی صورتحال میں پاک فوج یہ نئی ذمہ داری قبول کر سکتی ہے۔ پاک فوج نے چند ماہ پہلے ہی کسی دوسرے ملک میں فوجی دستے بھیجنے کی افواہوں کو مسترد کیا ہے۔ کیا اب یہ پالیسی تبدیل ہو رہی ہے۔ عام طور سے فوجی اتحاد میں شامل ملک یہ اتفاق و اعلان کرتے ہیں کہ ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہو گا۔ کیا نیا اتحاد اتنا توانا اور مضبوط ہو سکے گا۔ اور کیا اس صورت میں اس اتحاد میں شامل ملک ، رکن ملکوں کی جنگوں اور تنازعات میں حصہ لینے کے پابند ہوں گے۔ یہ مشکل اور پیچیدہ معاملات ہیں۔ اس لئے انہیں طے کرنے کے لئے طویل غور و خوض اور دور رس حکمت عملی تیار کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ریاض سے ہونے والے اعلان سے اس قسم کے کسی تدبر کا اظہار نہیں ہوتا۔
پاکستان کے حوالے سے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ ملک کی جمہوری سیاسی حکومت نے اس اتحاد میں شامل ہونے سے قبل قومی اسمبلی یا رائے عامہ کو اعتماد میں لینا کیوں ضروری نہیں سمجھا۔ پاکستان کی پندرہ فیصد آبادی اہل تشیع پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ ایران ہمارا فوری ہمسایہ ہے اور ہمارے متعدد علاقائی اور اقتصادی مفادات مشترکہ ہیں۔ کیا ایک ایسے اتحاد میں پاکستان کی شمولیت ملک کی دفاعی صلاحیتوں اور داخلی سکیورٹی ضرورتوں کے لئے ایک نیا چیلنج نہیں ہو گی، جو بظاہر ایران اور روس کے خلاف بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور جس کا بنیادی مقصد غالباً شام میں سعودی خواہش کے مطابق بشار الاسد کی حکومت کو زیر کرنا ہو گا!
یہ حقیقت حیرت کا سبب ہے کہ جس وقت ریاض سے ایک ایسے اسلامی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا جا رہا تھا جس میں پاکستان بھی شامل ہے، عین اس وقت اس ملک کی وفاقی اور ایک صوبے کی حکومت امن و امان میں فوج کے رول اور اختیار کے بارے میں غیر ضروری اور افسوسناک مباحث میں مصروف ہیں۔ پاکستان میں سرکاری سطح پر اس نئی حکمت عملی کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ حالانکہ یہ فیصلہ ملک اور خطے کی صورتحال پر دور رس اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ حکومت فوری طور پر اس حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرے اور بتائے کہ اس اتحاد میں پاکستان کا کیا رول ہو گا اور یہ اہم فیصلہ کرتے ہوئے عوام اور ان کے نمائندوں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی۔

نیا اسلامی فوجی اتحاد کیوں !” پر بصرے

  • Syed M Ali Bukhari
    دسمبر 15, 2015 at 11:09 PM
    Permalink

    Tabsra Parhney K Bad Ye Bat Samney Aati Hey K Ye Itehad Russia Aur Iran K Sham Main Mafadat K Khilaf Hey To Khatar Jama Raken K Ye Itehad America Aur Europe Ki Ema Ka Nteja Hey To Jang To Phir Russia Iran Iraq North Korea Hizb Ullah Sey Hi Ho Gey To Ab Ye Tay Hey K Bari Tabahi Aaney Wali Hey Agar China Bhi Russia K Sath Ho Geya To Phir Kiya Ho Ga

    Reply
  • دسمبر 16, 2015 at 12:36 AM
    Permalink

    مجاہد علی صاحب کاتجزیہ مد لل اور ٹھوس ہے ۔ میں اس سلسلہ میں صرف دو اہم نکات کی طرف توجہ دلانے کی کوشش کروں گا۔ اول ۔ سعودی عرب کو اس وقت اسلامی فوجی اتحاد کا کیوں خیال آیا اور اتنی عجلت میں کیوں اقدام کیا گیا؟ جب محصور غزہ پر اسرائیلوں نے وحشیانہ حملہ کیا تھا اور چھ سو بچون سمیت دو ہزار کے قریب فلسطینیوں کو ہلاک کردیا تھا اس وقت سعودیوں کا اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کا جذبہ مصلحتوں کے پردوںمیں کیوں پوشیدہ تھا۔ اور سولہ دسمبر کو پاکستان کے دو لخت ہونے کی برسی پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت ایک مسلم ملک کو ٹکرے ٹکرے ہوںے سے بچانے کے لئے سعودی عرب نے عالم اسلام کے قاید ہونے کے ناتے اسلامی فوجی اتحاد کیوں منظم نہیں کیا۔
    دوم پاکستا ن کی اسلامی فوجی اتحاد میں شمولیت پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس اہم فیصلہ سے پہلے پارلیمنٹ میں اس مسلہ پر بحث کیوں نہیں ہوئی اور اس فیصلہ کی پارلیمنٹ سے منظوری کیوں نہیں حاصل کی گئی۔ کیا ہم سعودی احسانات کے تلے اتنے دبے ہوئے ہیں کہ اس کے اشارہ پر سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔

    Reply
  • دسمبر 16, 2015 at 4:21 AM
    Permalink

    دہشت گرد اپنی زیادتی کو دہشت گردی نہیں کہتے بلکہ اُسے جہاد کا نام دیتے ہیں. 1450 سال سے دہشت گردی کرنے والے جب امن کے پاسباں مان لئے جائیں تو پھر وہ دنیا میں فساد ڈال کر بھی اُسے حفاظتتی کاروائی قرار دے دیں گے.
    اصلی چکر یوں ہے -- امریکی پروگرام کے مطابق سعودی اپنا رقبہ بڑھا کر دوسرے تیل لکالنے والے ملک اپنے تحت لانا چاہتے ہیں. سعودی مال امریکی بینکوں میں ہے، سو وہ مال آپ امریکی مال ہی گنیں کیونکہ وقت آنے پر بلی کے منہ سے چھینچھڑا کون چھینے گا؟
    بہاں تک تعلق اسلامی امن کا ہے، تو محمد اور ابوبکر صاحبان کے بعد امن کے جھنڈے پر کسی نہ کسی کا سر چڑھا رہا ہے اور چڑھا رہے گا۔ امن کے لئے انسانیت اور روشن دماغی چاہئے نہ کہ تنگ نظری اور فطری درندگی!
    پاکستان کی پوزیشن وہی ہے جو کرائے پر رکھے قاتلوں کی ہوتی ہے -- سر ان کے اور مخالفوں کے سپاہیوں کے گریں گے، تغمات افسران کو اور شہرت عربوں کو ملے گی کہ بہت بہادر لوگ ہیں جو کسی کو نہیں چھوڑتے.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *