ایک ماں کا خط.... بچے کے نام

پیارے بیٹے

husnain jamal (2)تمہیں یہ خط لکھنے سے پہلے کئی بار سوچا، کئی بار لکھ کر کاغذ پھاڑ دیا کہ یہ بچوں جیسی حرکت ہے۔ بے صبری ہے، میں ایک شہید کی ماں ہوں اور شہید زندہ ہوتا ہے۔ میرا سر معاشرے میں فخر سے بلند ہے۔ لیکن بیٹے، میں تمہاری ماں پہلے ہوں اور یہ رتبے تمہاری شہادت کی دین ہیں۔ بیٹا، کتنا ضبط کروں، کتنی برداشت پیدا کروں۔ جس دن تمہیں ان لوگوں نے مارا، اس دن تمہارے بابا نے ضبط کرنے کا حکم دیا۔ اس سے اگلے دن پوری دنیا کے لوگوں کی محبت نے مجھے ضبط کیے رکھنے پر مجبور کر دیا۔ اس سے اگلے دن محلے والے افسوس کرنے آے تو میں ضبط کیے رہی کہ میرا سر فخر سے بلند تھا۔ پھر رشتہ دار آئے، میں نہیں روئی۔ بیٹا سارا سال حکومت کے لوگ آتے رہے، بہت ہمارا دل بڑھایا، بہت عزت دی، میں نہیں روئی۔ ماں کے لعل، تمہاری شہادت پر ٹی وی کے پروگرام ہوئے، میں تمہارے بابا کے ساتھ گئی، ان لوگوں نے کرید کرید کر سوال پوچھے کہ کسی طرح مجھے رونا آ جائے، میں اپنا غم انہیں دکھا دوں، میں نہیں روئی۔ اخبار والے آئے، انہوں نے پوچھا، اب آپ اپنے بیٹے کے بغیر کیسا محسوس کرتی ہیں، میرا دل چاہا کہ دہائیاں دوں اور ان سے کہوں کہ تم میرا غم بانٹنے آئے ہو یا بڑھانے، لیکن بیٹے میں روئی نہیں۔
بیٹا آج تمہاری برسی ہے، تمہاری سالگرہ پر تمہیں موبائل دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اب تم صرف پھول قبول کرتے ہو۔ تب بھی دئیے، آج پھر بکھیر آﺅں گی۔ آج بھی تمام میڈیا تمہارے بابا کو فون کر رہا ہے، انہیں اپنے پروگراموں میں بلا رہا ہے، ساتھ تمہارے بابا مجھے بھی لے کر جائیں گے۔ میں تمہیں کیسے رووں بیٹا، شہید کی ماں سب کے سامنے روئے تو بھی بری بات ہے۔ چاہے وہ لوگ جس طرح کے سوال پوچھتے رہیں، تمہارے کپڑے اور جوتے میرے سامنے لائیں، تمہاری باتیں کریں، تمہاری چیزیں میرے سامنے لائیں، میں نہیں رووں گی۔ تمہارے بابا بھی فخر کرتے ہیں کہ میں حوصلے سے دکھ برداشت کرتی ہوں۔ لیکن جان مادر، ان لوگوں کو کیسے سمجھاﺅں کہ خدا کے واسطے تمہاری کتابیں اور کاپیاں میرے سامنے نہ لایا کریں۔ وہاں میرا حوصلہ ٹوٹ جاتا ہے بیٹا۔ ہر صفحے پر تمہاری شکل نظر آتی ہے۔ سارا کام تمہیں اپنے سامنے بٹھا کر مکمل کرواتی تھی، تمہیں کتنا مارتی تھی، ماں صدقے، کاش میرے ہاتھ ٹوٹ جاتے، تمہیں کچھ نہ ہوتا۔ تم نہیں پڑھتے تھے تو تمہیں ڈانٹتی تھی، کوستی تھی، اب سوچتی ہوں کاش تمہیں کبھی پڑھنے پر مجبور نہ کرتی، لیکن یہ سب تمہارے بھلے کو کرتی تھی میرے بچے، پتہ نہیں کیا بھلائی تھی اس میں، کاش تمہیں تمہاری مرضی کی زندگی گزارنے دیتی۔ یہاں میں بے اختیار ہو جاتی ہوں بیٹا۔ ماں ہوں، رو پڑتی ہوں۔mother
میرے راجے، جب سے تمہارے بابا نے تمہیں مٹی دی ہے، تم یقین مانو ایک رات نہیں سوئے۔ چار چار گولیاں نیند کی انہیں دیتی ہوں تو بھی دو، تین گھنٹے کو سوتے ہیں۔ اس دن سے آج تک وہ اس چیز کے انتظار میں ہیں کہ کوئی ایک بندہ حکومت کا یا کسی بھی اور ادارے کا اپنی نااہلی مان کر استعفیٰ دے دیتا۔ میں انہیں سمجھاتی ہوں کہ یہ لوگ اتنی ہمدردی کرتے ہیں، ہمارے بچوں کے نام زندہ رکھنے کے لیے کتنے سکولوں اور کالجوں کو ان کے نام پر کر دیا، تو وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ ہمیں اپنے بچوں کا غم بھولنے بھی نہیں دیتے۔ ہر گھنٹے بعد کسی نہ کسی چینل پر تمہاری یاد میں کوئی نغمہ چل رہا ہوتا ہے، کوئی نہ کوئی انٹرنیٹ پر تمہاری تصویریں لگا رہا ہوتا ہے، ہر دوسرے دن کوئی چینل فون کر دیتا ہے، تمہارے بارے میں سوال کرتا ہے، بیٹا، زخم کو آرام دیا جائے تو بھرتا ضرور ہے۔ یہ زخم تو وہ بدنصیب گھاﺅ ہے جسے کوئی بھرنے بھی نہیں دیتا۔ تمہارے بابا کی آنکھ میں ایک آنسو کسی نے کبھی نہیں دیکھا، بیٹا وہ نہا کر نکلتے ہیں تو ان کی آنکھیں سرخ ہوتی ہیں، پچھلے برس انہیں یہ بیماری نہیں تھی۔

تم لوگ جب پہلے سکول سے چھٹی کرنے کی ضد کرتے تھے تو بابا تمہیں مار کے بھی سکول بھیج دیتے تھے۔ اب تمہارے بھائی بہن اگر منہ سے ایک بار بھی کہہ دیں تو تمہارے بابا اگلی بات نہیں کرتے۔ ان کی پڑھائی میں دل چسپی بھی پہلے جیسی نہیں رہی بیٹا۔ تمہاری بہن جب تمہارے سکول کے آگے سے گزرتی ہے اسے خاموشی کا دورہ پڑ جاتا ہے۔ کئی گھنٹے بعد بات کرتی ہے۔ تمہارا بھائی دوستوں میں بہلا رہتا ہے، گھر آ کر بس سوچ میں گم رہتا ہے، ٹی وی بھی دیکھنا چھوڑ دیا ہے، ہر وقت کہیں نہ کہیں کوئی چینل تم لوگوں کی تصویریں دکھا رہا ہوتا ہے۔ وہ مرد بچہ ہے بیٹا، روتا ہے پھر برداشت کرتا ہے، پھر مجھ سے منہ چھپا کر باہر چلا جاتا ہے۔A Pakistani mourner reads from the Koran as others gather to pray for children and teachers killed in an attack by Taliban militants outside the army-run school where the attack took place in Peshawar on December 18, 2014. Pakistan is mourning 148 people -- mostly children -- killed by the Taliban in a school massacre that prompted global revulsion and put the government under new pressure to combat the scourge of militancy. AFP PHOTO / A MAJEED
بیٹا تمہارے بابا کہتے ہیں کہ لوگ اب ایک نئی بحث میں پڑ چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں اگر یہ بچے فوج کے نہ ہوتے تو کیا یہ فوجی کاروائیاں ہوتیں اور کیا یہ گانے بنتے؟ انہیں جا کر کون بتائے گا کہ مرنے والوں میں عام بچے زیادہ تھے اور فوجیوں کے بچے کم تھے۔ کسی ماں سے وہ نیک بخت پوچھ کر تو دیکھیں، بچے تو بیٹا خدا دشمن کے بھی سلامت رکھے، اولاد کا غم نہ دکھائے۔ بچہ تو کسی جانور کا بھی مرتا ہے تو اس کے غم میں وہ پاگل ہو جاتا ہے۔ بہت بڑا دکھ ہوتا ہے یہ، مجھ سے ہی پوچھ لیں۔ لیکن مجھے تو اپنا حوصلہ بنائے رکھنا ہے۔ میں کیا بولوں گی بیٹا۔
تمہارا چاچا تمہاری موت کے بعد سے عجیب طرح کی باتیں کرنے لگا ہے۔ نماز روزے کا پابند پہلے بھی نہیں تھا، اب تو بالکل ہی گیا۔ کہتا ہے جن لوگوں نے تمہیں مارا ان کا خدا بھی وہی تھا جو ہمارا خدا ہے۔ ان لوگوں میں سے جو مرتے ہیں وہ بھی شہید ہوتے ہیں، وہ بھی وہی عبادت کرتے ہیں جو ہم کرتے ہیں، وہی نماز، روزہ، قران ان کا بھی ہے جو ہمارا ہے۔ وہ باغی ہو گیا ہے بیٹا۔ خدا رحم دل ہے، وہ لوگ ظالم تھے۔ خدا کا کتنا شکر ہے بیٹا تمہارے بہن بھائی سلامت ہیں۔ روز جب یہ سکول جاتے ہیں تو گھر کے کاموں سے فارغ ہو کر جانماز بچھا لیتی ہوں، خدا سے ان کے صحیح سلامت واپس آنے کی دعا مانگتی ہوں، تمہارے بابا کی صحت مانگتی ہوں، ان کا حوصلہ مانگتی ہوں۔ وہ دیتا ہے بیٹا، وہ بڑا رحیم ہے بیٹا۔ تمہارا چاچا ان سب باتوں کو نہیں سمجھتا، اس کے بچے بھی نہیں ہیں نا۔ اس کا دل سخت خفا ہے۔
خدا تمہارے بھائی بہن کو امان میں رکھے، ان کو دیکھ کر تمہارا دکھ سہتی ہوں۔ تمہارے بابا اب ان پر ہاتھ نہیں اٹھاتے۔ بہت بدل گئے ہیں۔ مجھ سے تو اونچی آواز میں بات کرنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ بیٹا، میں اب جاتی ہوں۔ تمہارے بابا کے کپڑے استری کرنے ہیں، تم لوگوں کی یاد میں آج شام ایک پروگرام ہے، وہاں جائیں گے۔ یہ خط، تم سے بات کرنے کو لکھا تھا، دل پھر بھی ہلکا نہیں ہوا، اسی تھیلے میں رکھ دوں گی جہاں تمہاری ٹوپی، سکول بیج، ٹائی اور دوسری چیزیں پڑی ہیں۔ تمہارے بابا سے کہا ہوا ہے، وہ تھیلا میرے ساتھ ہی دفن کریں گے۔
خدا تم پر رحمت کرے۔ تمہیں ہمیشہ جنت کی ہواوں میں رکھے۔
کاش یہ دعا تم میری قبر پر مانگتے۔
تمہاری امی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *