سانحہ پشاور.... رونے دھونے کادن ؟

usman ghaziمیں پاکستانی ہوں اور سانحہ پشاور پر میں صرف آنسونہیں بہاو¿ں گا بلکہ میں تو انتقام کی بات کروں گا، تم موم بتیاں جلاو¿ اور گانے گاو¿ ، میں تو احتساب کی بات کروں گا
میرے پھول مجھ سے چھین لیے گئے، میرے لعل خون میں نہلادیئے گئے اور میں رونی سی صورت بنا کر ہائے ہائے کروں.... یہ ظرف تم جیسے قاہروں میں ہوگا، میں تو ملیامیٹ کردینے کی بات کروں گا، میں تو سوال کروں گا کہ یہ دشمن کس نے پیدا کیے
میرا حق ہے کہ میں سوال کروں کہ آج سانحہ پشاور کو ایک سال بیت گیا، ابوشامل، نعمان شاہ ہلمند، وزیر عالم ہرات، خاطب الزبیدی اور جبرا ن السعیدی کو کیوں گرفتار نہیں کیا گیا،اگر سلالہ میں وہ ہم پر گھس کر حملہ کرسکتے ہیں تو اگر ہمارے بچوں کے دشمن افغانستان میں ہیں تو ہم نے اس بارے میں کیا سوچا ہے ؟ کیا ہماری بہادر افواج صرف صرف اندرون ملک آپریشنز کے لیے ہیں؟
کل تک جو لوگ ہمارااسٹریٹجک اثاثہ تھے، آج وہ ہمارے دشمن بن کر ہمارے بچوں کو قتل کرنے لگے، میرا حق ہے کہ سوال کروں کہ ان دہشت گردوں کو اسٹریٹجک اثاثہ بنانے والوں کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟ کیا کسی فوجی عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ چلایاجائے گا؟
پشاور کے ہر چوک پر چوکیاں تھیں، دہشت گرد افغانستان سے ہوتے ہوئے پشاورآئے اور پھر پورے پشاور کو کراس کرکے آرمی پبلک اسکول میں گھس گئے ، میں پاکستانی ہوں، میں تو سوال کروں گا کہ یہ دہشت گرد یہاں تک پہنچے کیسے، کیا سرحدوں کے محافظ بیدار تھے۔ کیا پشاور میں حفاظتی چیک پوسٹ والوں نے غفلت سے کام نہیں لیا؟ کتنے معطل ہوئے اور کتنوں کو سزائیں دیں، میں پاکستانی ہوں، مجھے میرے بچوں کا حساب د۔
دہشت گردوں کے حملے سے پہلے وہ سیاست دان جو پشاور میں طالبان کا دفترکھلوانے کی باتیں کرتے تھے، کیا ان سے کہا گیا کہ وہ معافی مانگیں، وہ صحافی جو افغانستان کے سفرنامے لکھ کر کل کے مجاہدوں اور آج کے دہشت گردوں کے اوصاف حمیدہ بیان کرتے تھے، ان پر نظررکھی گئی کہ کہیں وہ اب بھی ان دہشت گردوں کے ساتھ تو نہیں ہیں، بچوں کا خون اتنا سستا نہیں ہے کہ موم بتیاں جلاکر اور گانے سن کر بھلادیا جائے گا، یہ سانحہ ہے، رونے دھونے کا تہوارنہیں ، روتے بزدل ہیں، ہم پنج آبوں کے بیٹے ہیں، خیبراور بولان کی وادیوں میں ہماری پرورش ہوئی ہے، سندھ مدینے نے ہماری آبیاری کی ہے، ہم تو انتقام کی بات کرتے ہیں؟
جنرل راحیل شریف، آپ ہماری سپہ کے سالار ہو، ہمارے ماتھے کا جھومر ہو، آپ کا چوڑاچکلا سینہ اور غضب ڈھاتی کرشماتی شخصیت اس بات کی گواہ ہے کہ آپ پہاڑوں کے فرزند ہو،آپ کے توانا بازو موجوں کارخ بدل سکتے ہیں،اپنی نگاہوں سے آپ ہواو¿ں کا رخ موڑسکتے ہو، یہ آپ ہی ہو جس نے نام نہاد اسٹریٹجک اثاثوں کی کمر توڑ کر شبیر شریف کے خون کی لاج رکھی، عزیزبھٹی روزقیامت اپنے بھانجے پر فخر کریں گے ، آپ نے جس کام کا بیڑا اٹھایا ہے، اس کو ختم ضرور کرناورنہ میں تو شاید آپ کی توقیر میں چپ ہوجاو¿ں، تاریخ ضرور سوال کرتی رہے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *