’نظریہ منافرت‘

mlalaنوبل امن انعام یافتہ پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی نے امریکا میں رپبلکن پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار بننے کے خواہش مند ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں سے متعلق حالیہ بیانات کو ’نظریہ منافرت‘ قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی ہے۔ برطانیہ میں برمنگھم سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ امریکی رپبلکن سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلمانوں سے متعلق حالیہ بیانات نہ صرف قابل مذمت ہیں بلکہ وہ ایک ایسی سوچ کی نمائندگی بھی کرتے ہیں، جس کی بنیاد دوسرے انسانوں کے بارے میں امتیازی رویہ ہے۔ وسطی انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں، جہاں ملالہ یوسفزئی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ رہائش پذیر ہیں، اس پاکستانی طالبہ نے پشاور میں گزشتہ برس آرمی پبلک اسکول پر دہشت گردانہ حملے کی پہلی برسی کی مناسبت سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کے متنازعہ بیانات کے بارے میں کہا، ’’یہ واقعی ایک المیہ ہے کہ آپ کو ایسے بیان اور تبصرے سننے کو ملیں، جو نفرت سے بھرے ہوئے ہوں۔‘‘

donaldامریکا کے ارب پتی رپبلکن سیاستدان ڈونلڈ ٹرمپ نےکیلیفورنیا میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں کے بعد مطالبہ کیا تھا کہ امریکا میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی لگائی جانی چاہیے۔ کیلیفورنیا کے شہر سان بیرناڈینو میں یہ دہشت گردانہ حملہ ایک مسلمان امریکی شہری اور اس کی بیوی نے کیا تھا، جس میں 14افراد مارے گئے تھے۔ پشاور میں ایک سال قبل 150 سے زائد افراد کی ہلاکت کا سبب بننے والے دہشت گردانہ حملے کی پہلی برسی کے سلسلے میں منعقدہ اسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاالدین یوسفزئی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات پر شدید تنقید کی، جن کی بہت سے مسلمان ملکوں میں عام شہریوں اور سیاستدانوں حتیٰ کہ کئی یورپی اور امریکی رہنماؤں نے بھی مذمت کی تھی۔ ضیاالدین یوسفزئی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’یہ بہت بڑی ناانصافی ہے اور اسے ایک غیر منصفانہ عمل کہنا پڑے گا کہ چند انتہا پسند تنظیموں کو دنیا بھر کے 1.6 ارب مسلمانوں سے جوڑ دیا جائے۔‘‘

برمنگھم میں پشاور اسکول حملے کی برسی کے موقع پر اس تقریب کا اہتمام ملالہ یوسفزئی اور ان کے اہل خانہ کی طرف سے کیا گیا تھا اور اس میں آرمی پبلک اسکول پر پاکستانی طالبان عسکریت پسندوں کے حملے میں زندہ بچ جانے والے دو طلبہ نے بھی شرکت کی۔ یہ دونوں طلبہ 14 سالہ احمد نواز اور 13 سالہ محمد ابراہیم تھے۔ پشاور اسکول حملے میں مجموعی طور پر 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں سے 130 سے زائد وہاں زیر تعلیم طلبہ تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *