پاک بھارت تعلقات اور تجارت

majid siddiquiمشکل سے پندرہ دن پہلے تک پاکستان اور انڈیا کے ڈیڑہ ارب نفوس میں سے کسی ایک بھی معلوم نہ تھا ایک دوسرے پر ہر وقت چڑھائی کرنے والے یہ دونوں ملک اچانک سے ایک دوسرے کے اتنے قریب بھی ہوجائیں گے۔ نزدیک تووہ پہلے بھی کئی بار ہوئے ہیں، مگر برصغیر کی قلیل تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ وہ دونون جتنی جلدی سے ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، اتنی ہی تیزی سے واپسی کی راہ بھی اختیار کرتے ہیں۔ستر سالوں سے دونوں ملکوں کی اسٹبلشمینٹ اپنے اپنے ملک کی بقا صرف اور صرف جھگڑے اور فساد کی بنیاد پر رکھتی آئی ہیں۔ دونوں ملکوں کا غیر علانیہ معاہدہ صرف اسی بات پر رہا کہ وہ پائیدار امن کے لئے کبھی کوئی معاہدہ نہیں کرسکتے۔دونوں ملکوں کی ہیئت مقتدرہ اپنے اپنے عوام کواکھنڈ بھارت اور اسلام کے قلعے قائم کرنے کے بے سود خواب دکھاکرملکی اثا ثوں کے بیشتر حصے سے ٹینکس، میزائیل، جنگی جہازاور ایٹمی بم بناتی رہی ہیں او ر کمال مہارت سے بھوک اور بدحالی میں سر سے پاوں تک پھنسے انسانوں کو جنگی جنون میں مبتلا کرتی رہی ہیں۔حد تویہ ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ میچ بھی جنگ کے میدان کا منظر پیش کرتے رہے ہیں۔
اس بار بھی قریب آنے کی بنیادی وجہ اپنی اپنی سیاسی اور معاشی ضروریات کم افغانستان کی صورتحال زیادہ ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ امریکا، چین اور روس سمیت پوری دنیا افغانستان میں امن کی خواہاں ہیں۔ وہ طالبان سمیت تمام فریقوں سے بات چیت کرکے امن قائم کرنے کے خواہشمند ہوچکے ہیں اورپاکستان اور بھارت سمیت تمام پڑوسی ممالک کو برابر کردار دینے کے لئے بھی رضامند ہوچکے ہیں۔ اصل میں یہ سلسلہ دو ہزار پانچ میں شروع ہوا تھا جو اب اپنے منطقی صورتحال کی طرف بڑہ رہا ہے۔ سو اسلام آباد میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا بنیادی مقصداور محورپاکستان اور بھارت بات چیت نہیں بلکہ افغانستان کے حالات، اس کے مستقبل میں بننے والے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے،اس کے قریبی اور تھوڑے سے دور پڑوسیوں کا برابر پر مبنی کردار، اسکے تمام اسٹیک ہولڈر ز کو ساتھ لیکر چلنے اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے امن کے حصول کو سنجیدگی اور سچائی سے زیر بحث لانا تھا۔اس ساری صورتحال کے پس منظر میں ظاہر ہے پاکستا ن اور بھارت دونوں اہم حصہ دار ہیں، جن کے قریب آنے اور کسی ہم آہنگی کے بغیر مستحکم افغانستان کا حصول ناممکن ہے، اس لئے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا زیادہ تر فوکس پاک بھارت بات چیت پر مرکوز رہا۔ دوسر ی اہم وجہ ہمارا میڈیا تھا، جس نے کانفرنس کے اصل موضوعات اور طے پانے والے فیصلوں سے ہٹ کر صرف پا ک بھارت میل ملاقات کو اپنی خبروں میں زیادہ توجہ دی اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ جیسے اس کانفرنس کا مقصد ہی پاک بھارت تعلقات اور ان کی بہتری ہو۔حد تو یہ کہ پورے کا پورے قومی میڈیا نے اپنے فوکس کو مزید تنگ کرتے ہوئے اسے صرف اور صرف کرکٹ سیریز تک محدود کردیا، اور تو اور عمران خان کے بھارتی دورے میں سے بھی کرکٹ سیریز کی خبر نکالنے کی کوشش کی گئی۔بہرحال ہار ٹ آف ایشیا کا مقصد بنیادی طور پر افغانستان کے مسائل کا حل کرنا تھا اس لئے پاک بھارت بات چیت کو بھی اسی پس منظر میں دیکھا جائے تو بہتر ہوگا۔
ہارٹ آف ایشیا کانفرنس استنبول پروسیس کے تحت پہلی بار ترکی میں نومبر دوہزار گیارہ میں منعقد ہوئی تھی، جس کا بنیادی مقصدافغانستان، اس کے پڑوسی ممالک کے ساتھ مل کر مشترکہ حکمت عملی کے تحت امن اور سلامتی کا ماحول پیدا کرنا تھا۔اس لئے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے تحت ہونی والی بات چیت کوبشمول افغانستان خطے کے تمام ممالک کے درمیان سیاسی، سماجی ، معاشی اور سیکیورٹی کی سطح پرتعاون کے پلیٹ فارم کا نام دیا گیا۔پاکستان اور بھارت سمیت ہارٹ آف ایشیا کے 14 ممبر اورامریکا اور برطانیہ سمیت 20 مددگاری ممالک نے اس کانفرنس میں اس بات پرگفتگو کی کہ بشمول افغانستان، خطے کے تمام ممالک کو دہشت گردی، منشیات کے بڑھتے ہوئے کاروبار، غربت اور انتہاپسندی جیسے معاملات سے جان کیسے چھڑوائی جائے۔ اسی سلسلے کی دوسری نشست خود افغانستا ن کی جانب سے کابل میں 2012ءمیں منعقد کی گئی، جس میں ایک سال کی اندر ہونے والی پیش رفت کو زیر بحث لایا گیا۔اسی حوالے سے تیسری کانفرنس قزاقستان کے دارالحکومت الماتی میں 2013ءمیں منعقد کی گئی، جس میں پہلے بیان کئے گئے معاملات کے علاوہ رکن ممالک کے درمیان کاروباری تعاون،ٹاپی گیس پروجیکٹ، کاسا ۰۰۰۱ الیکٹرک سٹی منصوبے کے ساتھ ساتھ ایشیائی ترقیاتی بینک کی جانب سے وسطی ایشیاریجنل اکنامک کاریڈور کی توسیع جیسے اہم معاملات پر بات چیت ہوئی اور خطے میں معاشی تعاون بڑہانے کے ساتھ ساتھ غربت کے خاتمے پر کی ضرورت پر بھی زورد یا گیا۔اسی سلسلے کی چوتھی کانفرنس بیجنگ میں 2014ءمیں منعقد ہوئی، جس میں بھی گذشتہ تینوں نشستوں میں طے پانے والے فیصلوں پر ہونے والی پیش رفت پربات چیت کی گئی۔اسلام آباد میں ۹دسمبر کوہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس اسی سلسلے کی پانچوین کانفرنس تھی، جس میں گذشتہ کانفرنسوں میں طے کئے گئے اہداف پر غور خوض کے علاوہ افغان متحارب دھڑوں کو بات چیت کی دعوت ، دہشت گردوں کی مالی امداد نہ کرنے اور ایک دوسرے پر الزامات عائد نہ کرنے کی بات کی گئی۔اسی کانفرنس نے افغان امن عمل کے تحت رکی ہوئی بات چیت کے سلسلے کو دوبارہ اسی جگہ سے جوڑنے کی طرف اشارہ بھی کیا اور اسی کانفرنس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے پاک بھارت مضبوط تعلقات کی بات کرتے ہوئے پاکستان سے افغانستان کے زمینی راستہ کھولنے کی اجازت بھی مانگ لی۔دونوں ملکوں کے عوام کے ساتھ ساتھ دنیا بھر نے یہ دیکھا کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اپنے ہم منصب سرتاج عزیز کے بڑھائے ہوئے ہاتھ کو اپنے دونوں ہاتھوں سے تھاما اور کہا کہ دونوں ممالک کو اب بردباری کا مظاہر ہ کرنا چاہئے۔یہ بہت ہی اچھی بات ہے، اس طرح کی اپروچ سے افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان اور بھارت کے عوام کا بھی فائدہ ہوگا، جو گذشتہ سات دہائیوں سے صرف جنگی کیفیت کا سامنا کیا ہے۔ بھارت نے پاکستان سے زمینی راستہ دینے کا مطالبہ پہلے بھی کیاتھا، تاہم پاکستان نے صرف سامان واہگہ تک لانے اور وہاں سے پاکستانی ٹرکوں کے ذریعے رسد پہنچانے تک رضامندی ظاہر کی تھی۔
دونوں ممالک کے درمیان شروع سے اعتماد کا شدید فقدا ن رہا ہے، جس کی وجہ سے کئی ایک منصوبے پیدا ہونے سے پہلے ہی مرگئے۔لیکن میرے خیال میں اب وہ وقت آگیا ہے کہ صحیح معنوں میں کاروباری تعلقات کو بڑھایا جائے، ایک دوسرے کو اپنے مارکیٹ تک رسائی دینی چاہیے۔پاک بھارت تجارتی تعلقات سے پاکستان کو بہت فائد ہ ہوگا۔بھارت تقریباً ایک سو پچیس کروڑ نفوس کا ملک ہے، پاکستان میں بننے والی سوئی بھی اگر کلکتے تک فروخت ہوئی تو کروڑوں کماسکتی ہے۔اس کے علاوہ پاکستانی بازاروں میں ہندستانی اشیاءکے آنے سے خریداروں کے لئے آپشنز میں اضافہ ہوگا،یہ بات ہمارے مینوفیکچررز کے لئے کچھ پریشانی کا باعث بن سکتی ہے مگر اصل میں یہ آگے چل کر یہ ان کے لئے مثبت بات ہوستکی ہے۔بہت ساری اشیاءپاکستان دوسرے ممالک سے مہنگی منگواتا ہے، جو بھارت سے سستی میسر ہوسکتی ہیں۔
۴۱۔۳۱۰۲ کے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان تجارت (اٹاری۔واہگہ کے ذریعے) تین بلین امریکی ڈالرز سے بھی کم ہے۔ دونوں ممالک کو 2016ءتک اسے چھ بلین آمریکی ڈالرز تک لانا تھا مگر ظاہر ہے اس چیز کا دارومدار ان کے تعلقات پر منحصر ہے۔ امریکی تھنک ٹینک ووڈروولسن سینٹر کی رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان تجارت 40 بلین ڈالر ز تک جاسکتی ہے۔ یہ ہوجائے تواور کیا چاہئے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت پوری دنیا میںسمجھدرا ریاستوں کے رویے میں تبدیلی آچکی ہے۔وہ اپنے مسائل اور تجارت کو الگ الگ باسکیٹس میں رکھتے ہیں۔خود بھارت جس کے چین کے ساتھ سرحد اور پانی کے حوالے سات دہائیوں پر محیط مسائل ہیں، مگر اس بات نے کی تجارت تعلقات پر کوئی منفی اثر نہیں چھوڑا۔دونوں ملکوں کے درمیان قریب 70 بلین کا سالانہ ٹریڈ ہوتا ہے، جسے 2015ءتک 100 بلین ڈالرز تک پہنچانا تھا، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کے باعث اس میں گذشتہ دو برسوں میں تھوڑی سی کمی ہوئی۔ اسی طرح چین کے تائیوان اور جاپان سے کافی سارے مسائل ہیں مگر اس کے باوجود ان کے درمیان تجارت اسی طرح برقرا ر ہے، سومیرے خیال میں ہمیں بھی ہوش کے ناخن لینے چاہیئں اور بلا تعطل تجارتی تعلقات بڑھانے چاہئیں۔ پاکستان کا اقتصادی ڈھانچہ غریب عوام پر جبری ٹیکسز اور اندرونی اور بیرونی قرضوں پر کھڑا کیا گیاہے۔ایک قوم جو آئی ایم ایف اور عالمی بینک سے قرضہ لے کر اپنی زندگی گذارتی ہو، وہ سر اٹھاکر کیسے جی سکتی ہے۔سچی بات تویہ ہے کہ دشمنیاں اور جھگڑے بھی صرف وہ ملک پال سکتے ہیں، جن کی اقتصادی حالت بہتر ہو۔ وہ الگ بات ہے کہ جن ملکوں کی اقتصادی حالت مضبوط ہوتی ہے، وہ بھی جھگڑوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ہمیں گیٹ وے ٹوایشیا کہا جاتاہے اور ہمارا حال یہ ہے کہ ہم نے اپنے پڑوسیوں تک کے لئے دروازے بند رکھے ہوئے ہیں۔ سوائے چین کے ہمارے کسی پڑوسی سے تعلقات ٹھیک نہیں ہیں۔ جس کی وجہ سے ہم لینڈ لاک جیسی صورتحال میں ہیں۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ کشمیرسمیت تمام معاملات پر بات چیت جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ بھارت کے علاوہ تمام ممالک سے تجارتی تعلقات بڑھائے تاکہ ملک کے اقتصادی حالات کچھ بہتر ہوسکیں۔
جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے۔ یہ بات طے ہے کہ مستحکم افغانستان دنیا بھر کے لئے انتہائی ضروری بن چکا ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے لئے توان حالات میں اس کی بہت بڑی اہمیت ہے، کیونکہ پاکستان کواپنی صنعتیں چلانے کے لئے وسطی ایشیا گیس درکار ہے،جوکہ افغانستان کے رستے سے آنی ہے۔اسی طرح کچھ بجلی کے منصوبوں کی تکمیل کے لئے بھی افغانستان کا روٹ درکار ہے۔ ایسے حالات میں مستحکم افغانستان پاکستان کے لئے نوید مسرت ہے ، جبکہ اس کی تباہی ہماری بربادی بن سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *