یہاں ہر روز 16 دسمبر کا سورج طلوع ہوتا ہے

jamil khanفطرت کا نظام جس طریقہ کار کے تابع ہے اس میں ”تاریخ خود کو دوہراتی ہے“ اور ”مظلوم کی آہ لگتی ہے“ یا پھر ”مکافاتِ عمل“کی طرز کے توہمات اور فروضات کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ اگر عام افراد اس طرزکے توہمات پر یقین رکھیں تو شاید اچھنبے کی بات نہ ہو، لیکن جب ہم اپنے ہاں دانشوروں کو بھی ایسی مفروضہ لکیریں پیٹتے دیکھتے ہیں تو عقل سربہ گریباں ہوجاتی ہے۔
معاشرے کا ایسا طبقہ جسے افرادِ معاشرہ کی فکری رہنمائی کی اہم اور حساس ذمہ داری کا فریضہ انجام دینا ہو، وہ خود ہی حقائق سے بے بہرہ اور توہمات کا پجاری بن جائے تو پھر معاشرے میں ایسے خواص اور صفات عنقا ہوجاتی ہیں، جو اسے عام افراد سے ممتاز کر سکیں۔
تاریخ انہی اقوام اور خطوں میں دوہرائی جاتی ہے، جہاں ماضی کی بربادیوں کی وجوہات و اسباب کی تلاش نہیں کی جاتی، اور اس بات کو یقینی نہیں بنایا جاتا کہ آئندہ ان وجوہات و اسباب کی روشنی میں ہی اجتماعی فیصلے کیے جائیں۔
جبکہ مکافاتِ عمل کے حوالے سے ہمارے ہاں بدعا اور مظلوم کی آہ وغیرہ کی طرز کے جو تصورات پائے جاتے ہیں، ان کا کائناتی نظام میں کوئی وجود نہیں۔ فطرت کا اصول ہے کہ جو بوو¿ گے وہی کاٹو گے۔ لیکن ایسی اقوام اور افراد جوصدیوں سے خود پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والوں جابروں کے خلاف متحد ہوکر مزاحمت نہیں کرتے، نسل در نسل ظلم سہتے رہتے ہیں، اور محض بدعائیں دینے پر ہی اکتفا کیے رہتے ہیں، ہمارے خیال میں ان ظالموں سے کہیں زیادہ ظالم و جابر ہوتے ہیں کہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا احساس ہی کھو بیٹھتے ہیں، اور ظالم کو پھلنے پھولنے کا سنہری موقع فراہم کرتے ہیں۔
آج سولہ دسمبر ہے!یہ اس پاکستان کا سقوط ہے، جس کے بانی قائدِ اعظم محمد علی جناح تھے۔ اور یہ ا±س پاکستان کا یومِ تاسیس بھی ہے، جسے جماعت اسلامی کے متقی بزرگوں نے البدر الشمس کے پلیٹ فارم کے تحت فوجی اشرافیہ کی سرپرستی میں تشکیل دیا تھا۔
تباہی، بربادی اور خونریزی کی یہ ہنڈیا جس کا ڈھکنا اتارنے کا شرف جماعت اسلامی کے متقی بزرگوں کو حاصل ہوا، ملکی بیوروکریسی کے بے ریش بزرگوں نے قیام پاکستان کے عشرہ اوّل کے ابتدائی برسوں کے دوران ہی نفرت کے چولہے پر چڑھا دی تھی، یقیناً ابتدا میں آنچ ہلکی رکھی گئی تھی، لیکن اس وقت جس قسم کے مسالے شامل کیے جارہے تھے، اس سے ایسا ہی سالن تیار ہونا تھا، جس کا ذائقہ آج ہم سب چکھنے پر مجبور ہیں۔
بانی پاکستان کی مانند یہ بے ریش بزرگ تھری پیس سوٹ زیب تن کرتے تھے اور ا±ن تمام درآمدی ماکولات و مشروبات سے مستفیض ہوتے تھے، باریش متقی بزرگ جن مشروبات و ماکولات کے جنت میں استعمال کی تمنا رکھتے تھے، اور ہیں۔
ان بے ریش بزرگوں نے خود طے کیا یا پھر بالا ہی بالا اس حوالے سے فیصلہ کرکے انہیں اس پر عملدرآمد کرنے و کروانے کا حکم دیا گیا تھا کہ برصغیر کے نقشے پر ا±بھرنے والی اس نوآزاد ریاست کی ثقافت کو باقی خطے کی ثقافت سے جداگانہ و ممتاز بنایا جائے۔ ان بے ریش بزرگوں کا خیال تھا کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان ایک تہذیبی دیوار کھڑی کی جانی چاہیے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ محض ان کا ذاتی خیال نہیں تھا، ظاہر ہے کہ انہیں اس کام پر مامور کیا گیا تھا۔
پنجاب میں تو ان بے ریش بزرگوں کے افکار کو آہستہ آہستہ پذیرائی ملنی شروع ہوگئی تھی، اور سندھ میں مذہبی جماعتوں نے ابتدا سے ہی اردو بولنے والی آبادی کی اکثریت کو یہ راہ دکھائی تھی کہ ان کی بقا کا راز مذہب کے دائرے میں مضمر ہے، بعض سندھی بزرگوں نے بھی محمد بن قاسم کو ہیرو تسلیم کرلیا تھا، لیکن مشرقی پاکستان جو سابقہ مشرقی بنگال تھا، میں اس طرز کی اختراعات کے لیے فوری پذیرائی حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔ وہاں تو قائداعظم کی جانب سے اردو کو قومی زبان قرار دینے کے اعلان پر پہلے ہی کافی فساد ہوچکا تھا۔
سرکاری سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ لوگوں کے ذہنوں سے اس ہندوستان کے تصور کو مٹادیا جائے، جس میں مختلف مذاہب کے لوگ صدیوں سے ایک ساتھ زندگی گزارتے آئے تھے۔ گوہندوستان ایک آزاد ریاست کے طور پر موجود تھا، لیکن پاکستان میں پریس انفارمیشن بیورو کی جانب سے لفظ انڈیا کا ترجمہ ہندوستان کے بجائے بھارت لکھنے کے احکامات جاری کیے گئے۔
جس کی وجہ سے بہت سے لطیفے بھی سامنے آئے، جن میں سے ایک کو کافی شہرت بھی حاصل ہوئی۔ اس زمانے میں روزنامہ ڈان انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو زبان میں بھی شایع ہوا کرتا تھا۔ ہوا یوں کہ امریکا کے ایک ریڈ انڈین قبیلے کی خبر اردو ڈان کے سب ایڈیٹر نے تیار کرکے شایع کروادی جس میں ریڈ انڈین کا ترجمہ ”سرخ بھارتی“ کیا گیا تھا۔
یہ نفرت کے وہ بیج تھے، جو ہمارے بزرگوں نے بوئے تھے۔ آج اگر ہم شکوہ کریں کے ہماری دھرتی سے محبت کے گلاب کیوں نہیں ا±گتے، تو یہ ہماری لاعلمی ہی ہوگی۔ کیکر کی جھاڑیوں میں کبھی گلاب کے پھول نہیں کھلا کرتے۔
جاپان کے شہروں کو جب امریکا نے ایٹمی حملہ کرکے خاکستر کردیاتو جاپانی قوم کے پاس دو راستے تھے۔ ایک راستہ یہ تھا کہ وہ اپنے سے ہزار گنا زیادہ طاقت رکھنے والے دشمن کے ساتھ ایسی جنگ جاری رکھتے جس میں انہیں شکست ہوچکی تھی، اور صفحہ ہستی سے حرفِ غلط کی مانند مٹادیے جاتے۔ دوسرا راستہ ان کے بادشاہ نے یہ دکھایا کہ اب انہیں میدانِ جنگ سے منہ موڑ کر علم و ہنر کے میدان میں فتح کے جھنڈے گاڑنے ہوں گے۔
ایک قریبی عزیز ایک عشرے سے زیادہ کا عرصہ جاپان میں گزار آئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جب جاپانی قوم نے اپنے بادشاہ کے تجویز کردہ مو¿خرالذکر راستے پر چلنے کا فیصلہ کرلیا تو اس قوم نے ابتدائی درجات سے لے کر اعلیٰ درجات تک اپنے تدریسی نصاب میں بنیادی نوعیت کی ایسی تبدیلیاں کیں، جس طرز کی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کے بارے میں اگر ہمارے ہاں محض بات بھی کی جائے تو شاید نہیں یقیناً کفر کے فتووں کا سامنا کرنا پڑے۔ جاپانیوں کے نصاب سے ان تمام اسلاف کا تذکرہ خارج کردیا گیا، جو جنگجو تھے، یا جنگجویانہ فکر کا پرچار کرتے رہے تھے۔ ابتدائی درجات کے نصاب میں بھی انہوں نے اپنی اگلی نسل کو سمجھایا کہ ماضی میں ہم نے جہاں جہاں بھی حملے کیے، وہ غلط تھے۔ چنانچہ تعمیری فکر رکھنے والے اذہان تیار ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے اس قوم کی کایا ہی پلٹ گئی۔
جبکہ ہمارے ہاں صورتحال یہ تھی کہ ہم دو جنگیں ہارنے، ملک دولخت ہونے اور 90 ہزار سپاہیوں کے ہتھیار ڈالنے اور دشمن کی قید میں چلے جانے کی ذلت دیکھنے کے باوجود گھاس کھا کر ایٹم بم بنانے کا عزم کرتے رہے۔ یہ انتہائی دلچسپ امر ہے کہ اس وقت باریش متقی بزرگوں نے گھاس کھاکر ایٹم بم تیار کرنے کے عزم کا جس قدر شور و شرابے کے ساتھ مذاق بنایا تھا، آج اسی ایٹم بم کو گود لیے بیٹھے ہیں۔ جبکہ پوری قوم آج تین دہائیاں گزرنے کے بعد بھی گھاس ہی کھارہی ہے۔
ہم نے سولہ دسمبر1971ءسے کوئی سبق نہیں سیکھا تھا، اور ہمارے اجتماعی فیصلوں میں اسی طرز کی حماقتیں دوہرائی جاتی رہیں، جس طرز کی حماقتوں کے سبب 1971ءکو سولہ دسمبر برپا ہوئی تھی۔
چنانچہ 1971ءکے بعد سے اب تک نجانے کتنی 16دسمبر برپا ہوچکی ہیں۔ ملک کی اقلیتیں تو اب تک نجانے کتنی سولہ دسمبر بھگت چکی ہیں، ان کے لیے تو ہر نئی صبح 16 دسمبر کے خدشات کے ساتھ ہی طلوع ہوتی ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پاکستانی فوج نے بنگالیوں پر جو ظلم ڈھائے تھے، یہ ان کا مکافاتِ عمل ہے کہ 2014ءمیں پاک فوج کو بھی 16 دسمبر کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مظلوم کی آہ اور بدعا وغیرہ محض مفروضات ہے، اگر اس طرح کی باتوں میں ذرا بھی حقیقت ہوتی تو پھر امریکی حکمرانوں کو بھی ریڈانڈین کی بدعائیں لگ جاتیں یا آسٹریلیا کے حکمرانوں کو ا±ن مقامی لوگوں کی، جن کی نسل اب معدوم ہوتی جارہی ہے۔
ہماری بربادی ردّعمل کے قانون کے تحت جاری ہے، ہم جو کررہے ہیں، اسی کے نتائج بھگت رہے ہیں، جو بورہے ہیں، وہی کچھ کاٹنے پر مجبور ہیں۔ جس طرز کی چال چل رہے ہیں، اس کے تحت ہی اقوامِ عالم کی صف میں کوئی قابلِ فخر مقام نہیں رکھتے۔
اور جو سولہ دسمبر آج سرکاری سطح پر منایا جارہا ہے، وہ بھی ہمارے لیے نیا نہیں۔ کراچی میں ہم ایسے سولہ دسمبر نجانے کتنی مرتبہ دیکھ چکے ہیں۔ چودہ دسمبر 1986ءکو علیگڑھ و قصبہ کالونی پر حملہ بھی ایک سولہ دسمبر ہی تھی۔ جب ایسے ہی وحشی درندوں نے ان دونوں بستیوں کو جلا کر خاکستر کرڈالا تھا، اس حملے میں 200 سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔
کراچی میں شیعہ ڈاکٹرز کی ہلاکتوں کے اعداد و شمار اکھٹا کیے جائیں تو شاید ایک اور سولہ دسمبر تیار ہوجائے۔ سندھ میں مقیم ہندو برادری شاید روزانہ ہی سولہ دسمبر کے خوف سے دوچار رہتی ہے،ایسا ہی حال ہزارہ برادری کا بھی ہے۔ مسیحیوں پر بھی بہت سی سولہ دسمبر گزری ہیں۔ احمدیوں کا تو ذکر ہی کیا، انہیں تو اس ملک میں انسان ہی نہیں سمجھا جاتا۔
اس مملکتِ خداداد میں ظالم اور مظلوموں کا ابھی نجانے کتنے سولہ دسمبر دیکھنے ہیں، کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ البتہ یہ بات یقینی ہے کہ جب بھی سولہ دسمبر جیسا کوئی سانحہ رونما ہوگا، ہم اطمینان کے ساتھ یہی کہیں گے کہ تاریخ خود کو دوہرا رہی ہے، اور پھر وہی کچھ کرنے میں مگن ہوجائیں گے، کہ تاریخ خود کو دوہرانے پر مجبور ہوجائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *