تیل اور گیس کی ملکیت

soofiاٹھارہویں ترمیم نے جو سب سے بنیادی تبدیلی متعارف کروائی، وہ صوبوں کو ان کے علاقے میں ملنے والے تیل اور گیس کی مساوی ملکیت دلانا ہے۔پہلے صرف وفاقی حکومت تیل اور گیس کی مالک ہوتی تھی۔آرٹیکل 172میں تبدیلیاں، وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کو مساوی ملکیت دلاتی ہیں۔
دو ساحلی صوبوں، سندھ اور بلوچستان کو اس تیل اور گیس کی ملکیت میں شراکت کا اضافی فائدہ بھی دیا گیا ہے جو کہ پاکستانی علاقے میں شامل سمندر میں مل سکتی ہے۔دوسرے لفظوں میں، سندھ اور بلوچستان دونوں، آرٹیکل 172میں ترمیم کے سبب، اپنے پانیوں میں ملنے والے تیل اور گیس کے یکساں مالکان ہیں اور یہ ذخائرتین مختلف قانونی حکومتوں کے کنٹرول میں آتے ہیں۔
ساحلی پٹی کے درمیانی علاقے، ان سمیت جواندرونی پانیوں میں پائی جانے والی خلیجوں کے درمیان ہیں، پہلی حکومت سے متعلق ہیں۔ تاہم، بندرگاہوں کے علاقوں میں موجود پانی، صوبائی حکومت سے متعلق نہیں ہیں۔ وہ بدستور وفاقی حکومت ہی سے متعلق رہیں گے کیونکہ ایسے علاقے بالعموم بندرگاہوں کے 1908ء کے قانون کے تحت مرکز کی جانب سے جاری کردہ ایک نوٹیفِکیشن کے تحت آتے ہیں۔
دوسری حکومت پاکستان کی بیس لائن کے اندر موجودسمندری حصے کی ملکیت رکھتی ہے جوسمندر کے قانون کے اقوامِ متحدہ کے 1982ء کے کنونشن کے تحت نوٹیفائی کی گئی ہے۔ اس قانون کو 1976ء کے میری ٹائم زونز ایکٹ کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے گا۔
تیسری حکومت کے زیرِ انتظام علاقے میں12 بحری میل تک کا سمندری علاقہ شامل ہے جو سمندر کے قانون کے اقوامِ متحدہ کے 1982ء کے کنونشن کے تحت پاکستان کو دیا گیا ہے اور اسے پہلے وفاقی علاقے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ تاہم، آرٹیکل 172کی مہربانی سے، 12 بحری میل کے علاقے میں موجودتیل اور گیس کے ذخائر، ساحلی صوبے اور مرکزکی مشترکہ ملکیت قرار دئیے گئے ہیں۔ اور یہ ساحلی صوبہ یا تو سندھ ہو سکتا ہے یا بلوچستان۔
آرٹیکل 172اس بات کو بھی واضح کرتا ہے کہ 12بحری میل سے لے کر 200بحری میل تک کا علاقہ، جوپاکستان کے خصوصی معاشی زون پرمشتمل ہے، عملاً وفاقی حکومت کا ’صوبہ‘ ہے اوراس معاشی زون میں موجود تمام معدنیات اور ذرائع ساحلی صوبے کے نہیں بلکہ صرف وفاقی حکومت کی ملکیت ہیں۔ پاکستان کی براعظمی شیلف کی ملکیت بھی بالکل اسی اصول کے تحت وفاق کے پاس ہے جو 350 بحری میل تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس 350بحری میل کے علاقے میں خصوصی معاشی زون کے200 بحری میل بھی شامل ہیں۔
اس معاملے میں، پاکستان سمندر کے قانون کے اقوامِ متحدہ کے 1982ء کے کنونشن کے تحت قائم کردہ ایک خصوصی کمیشن کے سامنے براعظمی شیلف پر اپنی ملکیت کا کیس نہایت کامیابی سے لڑ چکا ہے۔ خصوصی معاشی زون کی حدود میں پائے جانے والے تیل اور گیس اور معدنیات اور سمندری حیات اور براعظمی شیلف وفاقی حکومت کی ملکیت ہیں جو یہ حق رکھتی ہے کہ کسی گروہ یاحکومت کو اجازت دے کر یا اس سے معاہدہ کرکے ان ذرائع کو استعمال میں لائے۔
آرٹیکل 172پر عملدرآمد خود بخود نہیں ہو جاتا۔ اس پر موزوں انداز میں عمل درآمد کرنے کے لئے، یعنی صوبوں کو یکساں طور پر مختار گروہ بنا کر تیل اور گیس استعمال کرنے کا حق دینے کے لئے’’ کانوں اور تیل کے ذخائر اور معدنیات کی ترقی کے قانون مجریہ 1948ء‘‘ کے ضابطوں اور ان کے تحت بنائے گئے متعدد قوانین میں طویل اور پیچیدہ ترامیم کی ضرورت ہے۔
صوبائی حکومتوں کے کردار کو واضح طور پر متعین کرنے کے لئے مزید ترامیم کی ضرورت ہے تاکہ تیل کی ایک سے دوسری جگہ منتقلی کا اختیار طے پا سکے۔
یہ بھی مدنظررکھا جاناچا ہئے کہ آرٹیکل 172 موجودہ مجاز اتھارٹیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے درمیان ہونے والے معاہدوں کو تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔دوسرے لفظوں میں، اس آرٹیکل پر ممکنہ طور پر عملدرآمد اوراس کی قانونی زبان کا عملی طور پر نفاذ اس وقت ہو گا جب تیل اور گیس کے وہ نئے کنویں دریافت ہوں گے جنہیں یا تو صوبوں نے براہ راست دریافت کیا ہوگایا کسی ادارے کو خود اس کا لائسنس دے کر اس سے یہ تیل یا گیس نکلوایا ہوگا۔ جن اداروں کے پاس اس وقت کسی جگہ پر تیل یا گیس کی دریافت کا لائسنس ہے، ان کا تعلق صرف اور صرف موجو دہ لائسنس جاری کرنے والی اتھارٹی یعنی وفاقی حکومت سے ہے۔
صوبوں کو اس موضوع پر بات کرنے اور پٹرولیم سے متعلق قوانین میں آئینی تبدیلیوں کے مسئلہ پر ایک قانونی نقطہ نظر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً، ایک نقطہ نظر تو یہ ہو سکتا ہے کہ وہ وفاق سے موجودہ کنوؤں پرمساوی اختیارکا مطالبہ کریں۔ اس کا دوسرا طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ پٹرولم ڈولیپمنٹ کے ادارے سے ڈائریکٹر جنرل کا عہدہ ختم کرکے اس کی جگہ ایک پینل کو دے دی جائے۔ اس پینل میں کسی کمپنی کو تیل اور گیس کی تلاش کا لائسنس دینے کا اختیار رکھنے والوں میں ایک صوبائی نمائندہ بھی شامل کیا جانا چاہئے۔
ایک اور نقطہء نظر یہ ہے کہ صوبے کو لائسنسوں کی شرائط و ضوابط طے کرنے کے عمل میں شریک کر لیا جائے۔ اس کے علاوہ اس معاملے میں رکاوٹ کا باعث بننے والی آئینی اصطلاح ’’وفاقی حکومت‘‘ میں ترمیم کرنا بھی آگے بڑھنے کا ایک اور راستہ ہو سکتا ہے۔ یہ تجاویز اپنے اندر خاصی وسعت رکھتی ہیں اور صوبائی ماہرین کو ان کا جائزہ لینا چاہئے۔اس بات کا بھی یقین کر لینا چاہئے کہ مجوزہ ترامیم تیل اور گیس کے لائسنس دینے کے طریقہ کارمیں باہمی انحصار بڑھاکر کام میں رکاوٹ کا باعث نہ بنیں۔
آرٹیکل 172پر عملدرآمد کرنے کے لئے اوپر بتائی گئی تبدیلیاں اس لئے بھی ضروری ہیں کہ غیر ملکی سرمایہ کارکو اس کے قانونی مشیر کبھی بھی یہ مشورہ نہیں دیں گے کہ وہ کسی ایسے صوبے میں سرمایہ کاری کریں جہاں لائسنس دینے والے کی اپنی حیثیت قوانین میں واضح اور موزوں طور پر متعین نہیں کی گئی ہے۔ اس لئے صوبوں کو مجوزہ ترامیم کا ڈرافٹ تیار کرنا چاہئے اور وفاقی قوانین و ضوابط میں ضروری تبدیلیوں کے لئے وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *