کیا عمران خان کا سورج ڈوب چکا.... ؟

Sehrish_Mansoorسحرش منصور

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان 11 مئی 2013 ءکے انتخابات کیا ہارے کہ سیاست میں شکست ان کا مقدر بن گئی۔
اسلام اآباد میں 14 اگست 2014 ءکو شروع ہونے والا دھرنا ناکام ہوا
عمران خان کے لئے ایم کیو ایم کا گڑھ سمجھے جانے والے این اے 246 میں جیت خواب رہی
این اے 19کے عام ابتخابات میں ناکامی عمران خان کا مقدر بنی،پھر این اے 122 کے ضمنی انتخاب میں بھی تحریک انصاف کو ناکامی کا مزہ چکھنا پڑا۔
بلدیاتی انتخابات میں ناکامی تحریک انصاف کی وہ شکست تھی جو عمران خان کے بلند وبانگ دعووں، میڈیا کوریج اور میڈیا اینکرز کی پیش گوئیوں کے بالکل برعکس تھی
یہ تو انتخابی ناکامیاں ہیں، سیاست میں آمد کے ساتھ ہی عمران خان کوہرسطح پر پے در پے ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا، پہلی شادی نو سال بعد ناکام ہوگئی، دوسری شادی بھی دس مہینے سے زیادہ نہ چل سکی
23 دسمبر کو اب لودھراں میں ضمنی انتخاب ہونے جارہا ہے، شکستوں کے اس شان دار ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے لودھران کا کیا نتیجہ ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے
عمران خان جب بھی پریس کانفرنس کرتے ہیں تو ان کے پاس خیبرپختونخوا میں اپنی صوبائی حکومت کی کامیابیاں گنوانے کے لیے صرف دو چیزیں ہیں، شجرکاری مہم جو وہ ڈیرہ اسماعیل خان، ہری پور اور خیبر پختون خواہ کے مختلف شہروں میں شروع کی جاچکی ہے جبکہ دوسرا شوکت خانم اسپتال جو لاہور میں تو موجود ہے اور اب عمران خان کے بقول پشاور میں بھی جلد اس کا افتتاح ہونے والا ہے، بدقسمتی سے ان دونوں کارناموں کے علاوہ عمران خان کی اور کوئی ایسی کارکردگی نہیں، جس سے وہ عوام کو مطمئن کرسکیں، ایک ارب درختوں کی شجر کاری عمران خان کا ایک ایسا منصوبہ ہے، جس کے حقیقی ہونے کو ابھی تک عوامی حلقوں نے ہضم نہیں کیا ہے، شوکت خانم عمران خان کا ذاتی فلاحی منصوبہ ہے، اسے خیبرپختونخوا کی حکومت کی کارکردگی سے جوڑنا شاید مناسب نہیں ہوگا
مختلف حکومتی منصوبوں کو لے کر عمران خان ان پر تنقید تو کرتے ہیں لیکن ان سے کوئی یہ سوال پوچھے کہ آپ نے درخت اگانے کے علاوہ خیبر پختونخواہ میں کون سے ایسے منصوبے شروع کیے ہیں جن سے عام آدمی کو فائدہ ہوا ہے
حکومتی کیمپ کی بات کی جائے تو ن لیگی رہنما جب اپنی حکومت کی کارکردگی کی بات کرتے ہیں تو ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے، ان کا بیانیہ عمران خان سے کافی زیادہ مضبوط ہے، وہ سینہ تان کر پریس کانفرنس کرتے ہیں اور صحافیوں کے سوالوں کے جواب بھی پر اعتماد انداز میں دیتے ہیں، وزیراعظم اپنی ہر تقریر میں اپنی حکومت کی کارکردگی کو اجاگر کرتے ہوئے مختلف منصوبوں کا نام لیتے ہیں اور ان کا بھرپور کریڈٹ لیتے ہوئے عوام کو اپنی کارکردگی کا یقین دلاتے ہیں، وہ براہ راست پختونخواہ حکومت پر تنقید تو نہیں کرتے لیکن کارکردگی بتا کرعمران خان کی تنقید کا جواب ضرور دے دیتے ہیں، وزیراعظم بتاتے ہیں کہ ان کی حکومت نے آکر آپریشن ضرب عضب شروع کیا اور دہشت گردوں کے خلاف باقاعدہ جنگ کا اعلان کیا، امن و امان کی صورتحال سے پریشان کراچی کے لیے آپریشن شروع کیا، پاک چین اقتصادی راہداری پر کام چل رہا ہے، وہ آئے دن بجلی کے منصوبوں کا افتتاح کر رہے ہیں، اور صرف بجلی کی نہیں بلکہ سستی بجلی بنانے کا کریڈٹ بھی لے کر جانا چاہتے ہیں،13دسمبر کو وزیراعظم نواز شریف نے ترکمانستان، افغانستان، پاکستان اور بھارت گیس پائپ لائن کے منصوبے کا افتتاح کیا،21 نومبر کو ملتان خانیوال موٹر وے کا افتتاح کیا، 15 اکتوبر کو گل پاور ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کا افتتاح کیا، 12 جون کو پاکستان کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کا افتتاح کیا، 5 مئی کو پاکستان کے سب سے بڑے سولر سسٹم جنریشن سسٹم کا افتتاح کیا اور دیگر بے شمار منصوبے ہیں جن کا وہ افتتاح کرچکے ہیں اور ان کی حکومت کے مطابق وہ آگے بھی ایسے کئی منصوبے شروع کرنے کا ارادہ کرتے ہیں
تبدیلی کا نعرہ اب پرانا ہوگیا ہے، خان صاحب کو اب کچھ کرکے دکھانا ہوگا ورنہ جس طرح نومبر کے پہلے ہفتے میں وہ میڈیا پر آنے سے کترا رہے تھے، اسی طرح کی خفت کا سامنا انہیں زندگی بھر کرنا پڑے گا
خان صاحب، دھاندلی، شجر کاری مہم اور شوکت خانم اسپتال سے اب باہر آجائیں ورنہ آپ کا انجام بھی پاکستان تحریک استقلال کے سربراہ اصغر خان کی طرح ہوگا، انہوں نے بھٹو کے خلاف دھاندلی کی تحریک چلائی تھی تو عمران خان ن لیگ کے خلاف کھڑے ہوئے ہیں، تاریخ سے اب سبق سیکھ لیا جائے تو بہتر ہوگا ورنہ داستان تک نہ ہوگی داستانوں میں
پی ٹی آئی کے چیئر مین عمران خان اگر تنقید کرنے والوں کے منہ بند کرانا چاہتے ہیں تو ان کے پاس اب ایک ہی راستہ ہے کہ وہ دھاندلی کی رٹ لگانا چھوڑ دیں اور خیبرپختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دیں کیونکہ اگر انہوں نے ایسا نہیں کیا تو وہ ندامت اور جھجک جو وہ قومی اسمبلی میں 126دن کے دھرنے کے بعد آمد کے موقع پر محسوس کررہے تھے، ہمیشہ ان کے ساتھ رہے گی

کیا عمران خان کا سورج ڈوب چکا.... ؟” پر بصرے

  • دسمبر 21, 2015 at 5:58 AM
    Permalink

    مجھے کوئی مائی کا لعل مندرجہ ذیل ٹائپ کی خبر اسلام آباد، پنجاب اور سندھ پہ 40 اور 25 سالہ حکمرانی کرنے والے دیکھائےکہ ایک عام آدمی کیوجہ سے اے آئی جی پولیس کو جرمانہ ہوگیا اور وہ جرمانہ بھی اس عام شہری کو ملے گا۔
    پنجاب اور سندھ میں تو ایک سپاہی کے سامنے سب کی بھیگ جاتی ہے۔

    ان بے شرموں کو شرم بھی نہیں آتی اتنی بکواس کرتے ہوئے۔

    خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کاقانون ؟

    19 دسمبر 2015
    پشاور(نیوزڈیسک)خیبر پختونخوا میں اے آئی جی پولیس کو معلومات فراہم نہ کرنا مہنگا پڑ گیا،رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن نے معلومات فراہم نہ کرنے پر اے آئی جی ساجد الدین کو 25ہزار روپے جرمانہ کر دیا۔ذرائع کے مطابق معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت معلومات فراہم نہ کرنے پر اے آئی جی پولیس کو 25ہزار روپے جرمانہ کر دیا گیا،رائٹ ٹو انفارمیشن کمیشن سے جاری خط میں اے آئی جی پولیس قاضی ساجد الدین کو 23ستمبر کو د ی جانے والی درخواست پر معلومات فراہم نہ کرنے کے باعث جرمانہ کیا گیا،قاضی ساجد الدین کو ادارے کا پبلک انفارمیشن آفیسر ہونے کی حیثیت سے معلومات فراہم کرنے کا پابند بنایا گیا تھا تاہم انہو ں نے معلومات فراہم نہیں کی،کمیشن نے 2نومبر کو اے آئی جی کو شو کاز نوٹس بھی جاری کیا لیکن انہوں نے اسکا بھی جواب نہ دیا جس کے بعد کمیشن نے انہیں 25ہزار روپے جرمانہ کر دیا

    http://javedch.com/pakistan/2015/12/19/124111

    Reply
  • دسمبر 22, 2015 at 11:01 AM
    Permalink

    آپ نے مدلل مضمون لکھا ہے۔ لیکن دیگ کے ایک دانے کا مزہ ہی چکھ لیں۔ آپ جس سب سے بڑی ریفائنری کا ذکر کر رہی ہیں وہ بائکو ریفائنری ہے۔ آپ کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ یہ ریفانئری آج سے کئی سال قبل تنصیب، کمیشننگ اور پائلٹ رن ہوچکی ہے اور مذکورہ منصوبے کے جنرل مینجر اب میرے کولیگ ہیں۔ ہم دونوں ایک ہی پٹرولیم کمپنی میں کام کر رہے ہیں۔ باقی کے منصوبوں بارے بھی سبھی جانتے ہیں

    Reply
  • دسمبر 23, 2015 at 3:18 AM
    Permalink

    سورج اللہ کا ہے اور طلوع و غروب اس نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے، جہاں تک عمران کا تعلق ہے یہ عوام کے ہاتھوں میں ہے۔ جس نے کبھی بھی کوئ صحیح قدم نہیں اُٹھایا جس کا نتیجہ ہے کہ آزادی کے کچھ ہی عرصہ کے بعد عوام کبھی بھی کوئ مستحکم حکومت نہ دیکھ پائ۔ اللہ نے ایک موقع اور دیا معلوم ہوتا ہے اس کو بھی پچھلے وقتوں کی طرح کسی اور کو تاج پہنائیں گے پھر تھوڑے ہی عرصہ بعد اسے گالیاں دیکر کسی دوسرے چور کو تاج پِنہا دینگے اور یہ سلسلہ پیڑھی در پیڑھی چلاتا رہے گا، لوگ آتے رہیں گے اپنی جیبیں بھرتے رہیں گے اپنی جاگیریں بناتے رہیں گے اور ملک کو غیر ملکی قرض میں ڈُبوتے رہیں گے۔ قوم ہے کہ سوتی رہیگی ۔ اللہ حافظ

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *