عالمی دہشت گردی کے اسبا ب و علل

mansha afridiمنشا فریدی

موجودہ حالات کیا کہہ رہے ہیں۔؟ جس کا ادراک ہر ذی شعور اور صاحب نظر کو ہے۔پاکستان میں جاری فرقہ ورانہ دہشت گردی اور۔اس دہشت گردی کی آڑ میں مخصوص طاقتوں اور عناصر کے مقاصد کب کے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ان حالات میںبھی اگر حقائق سے نظریں چرائی جائیں تو ہم جیسا بدقسمت شاید ہی کوئی ہو؟ یہاں امریہ بھی پیش نظر رہے کہ مغرب جو اپنے استعمار کو مضبوط کرنے کے لیے مخصوص اور خطرناک قسم کی تنظیموں کوبناتا اور انہیں امداد فراہم کرتا آرہا ہے؟ آج انھی تنظیموں کے ہاتھوں اپنی تہذیب کے انہدام کا شکار ہے۔ حالانکہ ان ممالک نے تیسری دنیا اور عرب خطے کو اپنے استبدادی عزائم کا ہدف بنارکھا ہے۔ عرب خطہ چونکہ متکبرانہ رویّے کا حامل ہے اور پاکستان اور تیسری دنیا کے دیگر ممالک کے لوگ / عوام غربت کی زندگی گزاررہے ہیں۔انھی دگرگروں حالات کے ستائے ہوئے پھران ممالک یا طاقتوں کی پراکسی وار کا باقاعدہ حصہ بن کر اپنے ہی خطے اور ممالک کے باشندوں پر حملہ آور ہو کر ان کا ناحق خون کرنے لگتے ہیں۔ افغانستان پر سویت افواج کی لڑائی امریکہ اور ان کے اتحادیوں کو ناگوار گزری۔جس مقصد کے لیے پہلے مجاہد ین جیسی اصطلاح متعارف کرائی گئی۔بعدازاں طالبان جیسی بھیانک تنظیم کا وجود منظر عام پر لایا گیا۔ طالبان نے دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان پر قبضہ کر لیا تھا۔ مقاصد کی تکمیل کے بعد یہ تنظیم” دہشت گر د“ کے نام سے موسوم ہونے لگی۔اس طرح اس پر امریکی اتحادیوں نے یلغار کردی۔اور افغانستان کا قبضہ چھڑا لیا۔لیکن تاحال طالبان کی باقیات اپنی مکمل آب و تاب کے ساتھ خو د کو نظریے کی صورت میں منوا رہی ہے۔ یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے۔کہ اگر پاکستانی نظام بر ا نہ منائے تو۔ کہ طالبان کو پنپنے کے بہتر مواقع پاکستان میں ہی میسر ہیں۔تبصروں میں بہت سے دیگر الزامات بھی پاکستان پر لگائے جاتے ہیں۔۔جن کو دہرانا میرا مقصد ہر گز نہیں ہے۔۔اٹل حقیقت ہے کہ پاکستان میں شورش پسندی اور بے چینی کا واضح سبب طالبان نامی تنظیم کو بتایا جا رہاہے۔لشکر طیبہ ،لشکر جھنگوی ، اور سپاہ صحابہ کو نظر انداز کرنا بھی حقیقت سے انحراف ہے اس فہرست میں سپا ہ محمد والے بھی واضح سبقت لینے کی کوشش میں نظر آتے ہیں۔ یہاں یہ سوال بھی حل طلب ہے کہ داعش پاکستان میںموجودہے۔ میری رائے معنی خیز خاموشی کی صورت میں پیش خدمت ہے۔ جہاں تک اس Touch کا تعلق ہے کہ مغرب نے اپنے سامراج اور اسلحے کی تجارت کے فروغ اور وسعت کے لیے مخصوص آرگنائزیشنز کو پرموٹ کیا اپنی جگہ حقیقت۔ لیکن یہ بھی تو سچ ہے کہ مشرق و سطی اور خلیج اور خلیج فارس کے ممالک بھی خطے میں اپنا موثر وجود منوانے اور اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے بھی کچھ تنظیموں کو وجود بخشا۔داعش جیسی تنظیموں کو مالی مدد دی ۔ یمن میں سعودی مداخلت عراق اور شام میں بذریعہ داعش سعودی اثر و رسوخ سب کے سامنے ہے۔ جو ناقابل تردید حقیقت کے روپ میں پیش پیش ہے۔ اسی طرح خطے میں ایران بھی اپنا جارحانہ رویہ منوانے کے لیے برسرپیکار ہے۔ یہ اور بات کہ ایران کوروحانی و مذہبی آقا تسیلم کرنے والے اذہان میری اس ذلیل اس سے واضح انکار کردیں گے یا عدم اتفاق کریں گے۔ بات ہورہی تھی مغربی یا دیگر طاقتوں کی جو غیر براہ راست جنگ کے لیے شدت پسند تنظیموں کا وجود اور منظم ڈھانچہ ترتیب دیتے رہے ہیں۔ جن کے مخصوص مقاصد میں اسلحہ کی تجارت کا فروغ اوراپنے اثر و رسوخ کی وسعت نمایاں ہیں۔ بالاآخران مسلح گروہوں کے ہاتھوں خود کو بھی غیر محفوظ سمجھتے ہیں بلکہ یقینی طور پر ان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ماضی او رحال کی تاریخ گواہ ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملہ ہو یا پیرس میں حالیہ دہشت گردانہ کاروائی۔ جس میں بے تحاشا جانی نقصان ہوا۔ مالی نقصان کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے جب قیمتی انسانی جانیںتلف ہوتی ہیں۔ اس وقت کی اطلاعات کے مطابق داعش نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔رد عمل کے طورپر اہل مغرب ایک عام مسلمان کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ مسلما نوں نے فرقہ ورانہ اختلافات کی بنیاد پر ذاتی و انفرادی مفادات کے پیش نظرانتہاو شدت پسندانہ نظریات و افعال کو تحریک دی جس کے باعث ملت اسلامیہ ناصرف تقسیم ہوئی بلکہ یہ فرقے ایک دوسرے کے جانی دشمن بھی بن گئے۔ یہ لڑائی نا صرف مسالک اور فرقوں تک محدود رہی بلکہ مسلمان ممالک کی سطح تک پھیل گئی۔ ایران اور سعودی عرب اختلافات عیاں ہیں۔ ان ممالک کی مثال ایک مضبوط حوالہ ہے۔ حتیّٰ کہ پاکستان میں بھی ایسے جراثیم پائے جاتے ہیں جو سعودی عرب اور ایران کے درمیان اختلافات کو اپنے اپنے ایمان کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ یہاں تک اس ضمن میں جاں سے بھی گزر جاتے ہیں۔ اور اپنی وضع کردہ اصطلاح کے مطابق اپنی اپنی بہشت حاصل کر رہے ہیں۔ اگر کالم کو محض مسلمان ممالک میں سرگر م شورش پسند تنظیموں تک محدود کر دیا جائے ،بخل ہوگا۔ ہو بہو اسی طرح کی تنظیمں امریکہ اور دیگر یورپی ممالک میں بھی شد ومد کے ساتھ کا م کر رہی ہیں۔ وہ نا صرف دیگر ممالک میں پروان چڑھنے والے مختلف نظریات کوسپورٹ کرتی ہیں بلکہ ان تنظیموں کو مالی معاونت بھی فراہم کرتی ہیں۔ عالمی میڈیا میں شواہد بھی ملے ہیں کہ یورپی ممالک میں کا م کرنے والی یہ تنظیمں تربیت یافتہ افراد کی سپلائی کے علاوہ ٹرینرز بھی فراہم کرتی ہیں۔ جو ان تنظیموں کے لیے کام کرنے والے افراد کو جنگی حربے اور گوریلا جنگوں کے گر سکھاتے ہیں۔! یہاں یہ حقیقت بھی ناقابل تردید ہے کہ مغربی ممالک خصوصا ً امریکہ وغیرہ نے تیسری دنیا کے ساتھ جنگیں با ضابطہ طورپر سیکورٹی کمپنیوں کو ٹھیکے پر دی ہیں۔ جیسا کہ افغانستان میں طالبا ن کے خلاف امریکی اور اتحادیوں کی جنگ بھی بلیک واٹر نامی سیکورٹی کمپنی کو دی گئی تھی۔ جو” زی انٹر نیشنل“ کے نام سے بھی مشہور ہے۔ لیکن یہ تنظیمیں خود یورپی ممالک کے لیے ہر گز خطرے کا سبب نہیں ہیں۔ لیکن مسلمان ممالک میں جاری شورش میں ملوث مذکورہ تنظیموں کا اپنے خطے کے لیے خطر ناک کردار ہے۔ یہ کردار اب مہلک ترین کر دار میں تبدیل ہو چکا ہے۔ جس سے نمٹنا شاید ہمارے اداروں کے لیے ناممکن ہو چکا ہے۔ یہ حقیقت اپنی جگہ کہ پاکستان میں بالخصوص اور مسلمان ممالک میں بالعموم کام کرنے والی مذہبی اور کچھ لسانی تنظیموں کو بیرونی ایجنسیاں پروموٹ کررہی ہیں۔ عوام کی ان تنظیموں میں شمولیت کے ضمن میں اہل اقتدار کی ناانصافیوں کا ذکر بھی ضروری امر ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *