شام میں امن کی امید

mujahid aliشام میں جنگ بندی اور قیام امن کے لئے مذاکرات سے متعلق اقوام متحدہ کی قرارداد سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ امریکہ اور روس اس بات پر متفق ہیں کہ اس علاقے میں دہشت گرد گروہ داعش سے نمٹنے کے لئے صدر بشار الاسد اور ان کے مخالفین کے درمیان تنازعہ ختم ہونا ضروری ہے۔ اس طرح امریکہ اور اس کے مغربی حلیفوں نے پہلی بار یہ اعتراف بھی کر لیا ہے کہ اصل مسئلہ بشار الاسد کی فوری معزولی نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے سے برسر جنگ گروہوں کو مذاکرات پر آمادہ کرنا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امن اور شام میں خانہ جنگی کے خاتمہ کے لئے یہ ایک اچھی خبر ہے۔ اگرچہ عرب ملکوں کی طرف سے ابھی اس حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ سعودی عرب نے چند روز قبل جس اسلامی فوجی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا تھا۔ اس کے مقاصد میں شام میں سعودی پالیسی کا مکمل اطلاق بھی شامل تھا۔ البتہ اب سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر جنگ بندی اور سیاسی مذاکرات کی قرارداد منظور کر کے اس سعودی منصوبے کو آغاز سے پہلے ہی مسترد کر دیا ہے۔ سلامتی کونسل کی قرارداد کے مطابق جنوری میں شامی فوج اور متحارب گروہوں کے درمیان جنگ بندی شروع ہو جائے گی اور فریقین مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے۔
شام میں 5 سالہ خانہ جنگی کے دوران اڑھائی لاکھ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور 12 ملین شامی باشندے اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ اس جنگ میں ملک مکمل طور سے تباہ ہو چکا ہے اور اس انتشار اور خانہ جنگی کی بدولت دولت اسلامیہ اور النصرہ فرنٹ جیسے دہشت گرد گروہ طاقتور ہوئے ہیں۔ دولت اسلامیہ نے شام کے علاوہ عراق کے وسیع علاقوں پر قبضہ کر کے اسلامی خلافت کے قیام کا اعلان کیا لیکن اس گروہ نے نئی ریاست کو مستحکم کرنے کی بجائے ظلم و ستم اور قتل و غار ت گری کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہ جنگ خود کش حملوں اور بم دھماکوں کی صورت میں دیگر عرب ملکوں تک پھیلا دی گئی۔ نومبر میں پیرس میں ہونے والے حملوں سے یہ بات کھل کر سامنے آ گئی تھی کہ داعش کا اصل مقصد دہشت گردی کو فروغ دے کر دنیا کو ہراساں کرنا اور ایک خطرناک بے یقینی کی کیفیت پیدا کرنا ہے۔ 2 دسمبر کو کیلی فورنیا کے علاقے سان برنارڈینو میں میاں بیوی نے فائرنگ کر کے 14 افراد کو ہلاک کر دیا۔ اس طرح دولت اسلامیہ جیسے گروہوں کے ذریعے پیدا ہونے والے رجحان اور خطرات کی سنگینی دوچند ہو گئی ہے۔ صدر باراک اوباما نے سال رواں کی آخری پریس کانفرنس میں خاص طور سے اس سانحہ کا حوالے دیتے ہوئے کہا کہ جب میاں بیوی یا کوئی تنہا شخص کسی انتہا پسند پروپیگنڈا سے متاثر ہو کر قتل و غارتگری کا تہیہ کرتا ہے، تو اسے کنٹرول کرنا، اس کا سراغ لگانا اور اس حملہ کو روکنا سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ کیونکہ امریکہ میں سکیورٹی اور انفرادی آزادی کے درمیان توازن قائم کرنا بے حد ضروری ہے۔
صدر باراک اوباما نے 2015 کی آخری پریس کانفرنس کا زیادہ حصہ کیلی فورنیا میں قتل عام کے سانحہ کی وضاحت کرنے اور امریکی شہریوں کو محفوظ بنانے کے اقدامات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر صرف کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دولت اسلامیہ کے خلاف امریکی جنگ جاری رہے گی کیونکہ دہشت گردی کے انفرادی واقعات کو روکنے کے لئے ان گروہوں کا خاتمہ ضروری ہے جو اس مزاج کو پروان چڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ داعش کے خلاف جنگ پوری شدت سے جاری رہے گی، اس کا دائرہ کار محدود کیا جائے گا، ان کی قیادت کو نشانہ بنایا جائے گا اور اس دہشت گرد گروہ کو امداد فراہم کرنے اور اس کے مالی وسائل کو تباہ کرنے کے لئے مو¿ثر کارروائی ہو گی۔ امریکی صدر نے اس حوالے سے شام کی خانہ جنگی کے خاتمہ کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ ہمیں پہلے سے علم تھا کہ روس بشار الاسد کی حکومت کو برقرار رکھنے کے لئے جس گرمجوشی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ کچھ ہی دیر میں ماند پڑ جائے گی۔ دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ مشکل اور طویل ہو سکتی ہے۔ البتہ صدر اوباما نے اس پریس کانفرنس میں یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اگرچہ ہمارے خیال میں صدر اسد اپنے عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں اور ان کے ہوتے ملک میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا لیکن شام میں خانہ جنگی ختم کرنے اور سیاسی عمل کے دوران روس ، چین اور ایران کے مفادات کا خیال رکھنا ضروری ہو گا۔
سلامتی کونسل کی قرارداد بھی اسی لئے متفقہ طور پر منظور ہو سکی ہے کہ امریکہ اور اس کے حلیف ملک اب یہ اعتراف کر رہے ہیں کہ داعش یا دولت اسلامیہ صدر بشار الاسد سے زیادہ بڑا خطرہ ہے اور شام میں امن کے لئے پیشگی شرائط منوانا ممکن نہیں ہے۔ اب سلامتی کونسل کی رہنمائی میں شام میں سرکاری افواج اور ان سے لڑنے والے گروہوں کے درمیان جنگ بندی کروائی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل وسط جنوری تک اس جنگ کی نگرانی کے لئے رپورٹ پیش کریں گے اور ویانا گروپ شام میں سیاسی مذاکرات کے لئے راہ ہموار کرے گا۔ اس گروپ میں امریکہ ، روس اور چین کے علاوہ سعودی عرب اور ایران بھی شامل ہیں۔ اس لئے یہ امید کی جا رہی ہے کہ شام میں ایک ایسا سیاسی ڈھانچہ استوار کرنے پر اتفاق رائے ہو سکتا ہے جس پر تنازعہ کے سارے فریق متفق ہوں اور کوئی ملک یہ محسوس نہ کرے کہ اس کے مفادات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
روس کی طرف سے بھی شام میں اسد مخالف گروہوں کو سیاسی عمل کا حصہ بنانے کی تجویز کی حمایت کی گئی ہے۔ روسی قائدین یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ اس بات کا فیصلہ شام کے عوام ہی کو کرنا ہے کہ ملک میں کسی گروہ کو حکومت کرنے کا اختیار دیا جائے۔ اسی لئے صدر بشار الاسد یا بعث پارٹی کو سیاسی عمل سے علیحدہ رکھنے کی تجویز کی مخالفت کی جاتی رہی ہے۔ جبکہ مغرب اور عرب ملکوں کا اتحاد بہرصورت بشار الاسد کو مسئلہ کی جڑ قرار دیتے ہوئے عبوری حکومت قائم کرنے اور ایسا نظام متعارف کروانے کی بات کرتا رہا ہے جس میں بشار الاسد کا عمل دخل نہ ہو۔ اب اس بات پر اتفاق رائے ایک خوشگوار تبدیلی ہے کہ شرائط منوانے اور ہٹ دھرمی کا رویہ ترک کرتے ہوئے شام کے تنازعہ کا سیاسی حل تلاش کرنے پر اتفاق رائے کیا جا رہا ہے۔ اس پیش رفت کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ داعش ایک حقیقی عالمی خطرہ بنا کر سامنے آیا ہے اور اس کے جنگ جویانہ مزاج اور حکمت عملی کی وجہ سے صرف علاقے میں ہی نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ تک میں سکیورٹی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ سلامتی کونسل کی قرارداد میں واضح کر دیا گیا ہے کہ سیاسی عمل میں کسی دہشت گرد گروہ کو شامل نہیں کیا جائے گا۔ بلکہ ان گروہوں کے خلاف عالمی جنگ جاری رہے گی۔
یہ حکمت عملی درست سمت میں ایک فیصلہ کن قدم ہے۔ عالمی برادری نے گزشتہ 5 برس کے دوران اپنے علاقائی اور گروہی مفادات کو پیش نظر رکھا تھا جس کی وجہ سے دولت اسلامیہ جیسے گروہوں کو قوت پکڑنے کا موقع ملا۔ علاقے میں فرقے اور مسلک کی بنیاد پر گروہ بندی ہوئی اور سنی اور شیعہ آبادیاں ایک دوسرے کے مقابل آ کھڑی ہوئیں۔ شام کے عوام نے گزشتہ 5 برس کے دوران اپنے خون سے اس غلط اور تباہ کن حکمت عملی کی قیمت ادا کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی مشرق وسطیٰ میں ایسے طاقتور دہشت گرد گروہ متحرک ہو چکے ہیں جو اپنے تخریبی ہتھکنڈوں کے ذریعے کسی بھی ملک کی سلامتی اور امن و امان کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس وقت شام اور عراق کے باشندے اس تباہ کن صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔ لیکن اگر علاقائی اور عالمی طاقتیں سلامتی کونسل کی قرارداد کی روح کے مطابق شام میں قیام امن کے منصوبہ کی کامیابی کے لئے سرگرم نہ ہوئیں تو داعش جیسے گروہ دیگر عرب ملکوں اور ترکی کے لئے خطرہ بننے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
عالمی سطح پر موجودہ اتفاق رائے شام میں روس کی مداخلت اور داعش کی سفاکانہ دہشت گردی کی وجہ سے ممکن ہو¿ا ہے۔ البتہ جس طرح شام و عراق میں روس و ایران کے مفادات کا تحفظ ضروری ہے، اسی طرح امریکہ ، یورپ اور سعودی عرب بھی یہ چاہیں گے کہ شام کے سیاسی حل میں ان کے مفادات کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔ شام کی خانہ جنگی کی بنیاد یہ تاثر تھا کہ امریکہ اور سعودی عرب بشار الاسد کا تختہ الٹ کر دمشق میں اپنی مرضی کی حکومت مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ یہ صورتحال ایران کے لئے قابل قبول نہیں تھی۔ اس نے پراکسی وار کے ہتھکنڈوں سے اس خانہ جنگی کو طول دینے اور مغرب نواز عسکری گروہوں کو نیچا دکھانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ تب ایران اپنے جوہری پروگرام کی وجہ سے عالمی تنہائی کا شکار تھا۔ اس لئے وہ امریکہ اور یورپ کے ساتھ دشمنی اور ضد کا رشتہ بھی نبھا رہا تھا۔ تاہم جون میں ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں ہونے والے معاہدے کے بعد اب ایران دوبارہ عالمی برادری میں اپنا رول ادا کرنے کے قابل ہے۔ تہران پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شام کے بحران کو حل کرنے میں مدد کے ذریعے یہ ثابت کرے کہ وہ توسیع پسند عزائم نہیں رکھتا اور علاقے میں امن و امان اور بقائے باہمی کے اصول کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ یہ رویہ سامنے آنے کی صورت میں ہی سعودی عرب کو لاحق پریشانی اور تشویش کا خاتمہ ہو گا۔
شام میں قیام امن کے لئے موجودہ عالمی منصوبے کی کامیابی سے اعتماد ، امن اور خوشحالی کے ایک نئے دور کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ البتہ اگر اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے دور رس اور خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ اس منصوبہ کی کامیابی کسی گروہ یا ملک کی کامیابی یا شکست نہیں ہو گی۔ البتہ اشتراک و تعاون کے اس عمل میں پرانے حریف ایک دوسرے کے قریب آ سکتے ہیں۔ اسی طرح دہشت گردی کو شکست دے کر دنیا کو محفوظ بنانے کا خواب پورا ہو سکتا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *