اندھیرا بیچنے والے! پشتون شناسوں کے نام (2)

برکت شاہ کاکڑ

Barkat Shah Kakarجنگ زدہ علاقوں میں وارد ہونے والے نئے دور کے جنگی صحافیوں،سیاحوں،ادیبوں، قصہ نویسوں، سماجی سائینسدانوں اور محققین کا وتیرہ بھی وہی ہوتا ہے جو نئے دور کے سامراجی فوج کا ہوتا ہے۔بالا بالا ہی کچھ کر کے چلا جاتا ہے، نہ صورت دکھائی نہ بہادری، پنجے کازور آزمایا نہ گھٹنے کا۔کارپٹ بم برسا کر باگرام ایر بیس یا جیکب آباد کے ہوائی اڈے کا رخ کیا، دوپہر کا کھا نا کھایا، قیلولہ کیا ، گھڑی دیکھی اور پھر جہاز اڑایا، میدان جنگ پہنچا ، کچھ بھی رینگتا ہوا پایا، بموں کی بارش کر دی، اور شام کو پارٹی میں آفیسر بالا کو جاب ویلڈن کی اطلاعی رپورٹ دی۔ زمین پر رینگنے والے دشمن کی آنکھیں ترس گئیں، گلے میں تکبیر اور صدائے چہار یار کی بازگشت سوکھ گئی۔ دشمن آسمان کی وسعتوں میں کہیں گھات لگائے صاف چھپتا بھی نہیں، سامنے آتا بھی نہیں اور جو سامنے آئے بھی تو محبوب گذشتہ کی طرح.... رو برو آنے سے جی گھبرائے۔
ایڈورڈسعید نے  Covering Islam کے نام سے جو کتاب لکھی ہے اس میں اس علمی و صحافتی رویئے پر کڑی تنقید کی گئی ِ ہے کہ لکھنے والا خود بھی اس ماحول اور سماجی حقیقت سے واحد غائب ہوتا ہے اور پھراسکا سارا تکیہ ایک فرضی کردار واحد غائب (جسے اردو میں شخصے کہا جاتاہے) پر ہوتا ہے یا اپنے کم پرواز کے تخیل اور روحانیت سے خالی وجدان پر۔ بندی یا بندہ چلا جاتا ہے، فائیو سٹار ہوٹل میں رات گزرتی ہے ، ادبی اسٹیبلشمنٹ، سول سوسائٹی کے گنے چنے رﺅسا اور کیریرسٹس کے حقیقت سے منقطع گروہ سے ملاقات ہوتی ہے اور پھر ہزاروں سالوں پر محیط تہذیب، عقائد اور ایقان کے بارے میں ایسی پھبتیاں کسی جاتی ہیں کہ اللہ کی پناہ۔ اگر ہم رواں جنگ کے شعلوں سے بلند ہوتی ہوئی تحریروں میں دیکھیں تو زیادہ تر صورتوں میں یہی مفروضہ درست ثابت ہوگا۔ 9/11 کے واقعے کے بعد جس تیز رفتاری سے خصوصا پشتونوں کی تاریخ ، لسانی شناخت، غیر تحریری روایتی ضابطہ حیات (پشتون ولی) اور سماجی تنظیم کے بارے میں دھڑا دھڑ معلومات آنی شروع ہوئیں ۔ دوسری عالمی جنگ میں نازی جرمنی توپ کے گولے اتنی تیزی سے نہیں گرتے تھے جس رفتار سے طالبان کو متعارف کرانے میں کتابیں، رسالے، خاکے اور مقالے چھپ رہے تھے۔اس بات کو دہرانا بے سود نہیں ہوگا کہ اٹھارویں صدی کے آخری کوارٹر میں جس طرز پشتون شناسی کا آغا ز ہوا اور سوا دو سو سال تک جاری رہا اس نے پشتونوں کے بارے میں وہی تاثر پیدا کیا جو الف لیلہ کی کہانیاں نے عربوں اور مشرق کی دوسرے اقوام کے بارے میں بنایا۔ جس امیج کو سامراجی مقاصد کے لئے تراشا گیا دراصل وہی تاریخ کی درسی کتب میں انہی لوگوں کے بچے بھی پڑھتے رہے (اور اب بھی پڑھ رہے ہیں) جن کے کلچر اور بود و باش کو مضحکہ خیز انداز میں پیش کیا گیا۔
اکیسویں صدی کے سیاسی و ادبی پیرائے میں لکھی جانے والی کتابوں کے متن میں الفنسٹن، کیرو، کیپلنگ، لیڈی سیل یا جیمز ڈبلیو سپین یا کسی اور یورپی مصنف کے اقتباسات اور اور اقوال سند کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ان کتابوں میں یکساں طور پر ایک تاثر پڑھنے کو ملے گا کہ مصنف یہاں پر جن لوگوں سے ملا ہے وہ قطع، وضع، بود و باش اور اخلاقیات کی رو سے اپنے ان آبا واجداد کی یاد دلاتے ہیں۔ ذرا بھی نہیں بدلے۔ وہی کے وہی ہیں جن سے سکندراعظم کی مڈبھیڑ ہوئی تھی۔طالبان اور ان کی طرز حکمرانی کو پشتون روایات کی عملی تفسیر بتانا، طالب اور پشتون کو ایک ہی سکے کے دو رخ ثابت کرنا، انہیں نئی تہذیب اور تعلیم سے متصادم ٹھہرانا، ان کے فکری رویوں کو غیرارتقائی اور فکسڈ (جامد ) ثابت کرنا ، بندوق کوپشتونوں کا آلہ آرائیش وزیبائش (زیور)بتاکر ان کے ثقافتی عمل کی تحقیراور جمالیاتی ذوق کا مذاق اڑانا۔ دور جدید کے بیرونی اور داخلی لکھاریوں کا اسی پر اجماع ہے کہ یہ قوم جنگی جبلت کے زندان کی قیدی ہے۔ بدلے کی آگ میں جلتے رہنا، آپس میں لڑنا یا پھر باہرسے کسی بھٹکے ہوئے دشمن کی آمدکی دعائیں کرنا وغیرہ غیرہ ایسے مضامیں ہیں جسکی فراوانی ان تحریروں میں ملے گی۔بیسویں صدی کے ایک انگریزمصنف Howard  Hensman نے افغان سر زمین اور معاشرے کوچند الفاظ میں یوں متعارف کرایا ہے،
افغانستان سے مراد انسان اور بہت سارے پتھر ، انسان پتھروں سے سنگر (بکتر) بناتے ہیں اور پھراس کی دفاع میں سر دھڑ کی بازی لگاتے ہیں۔
یہ وتیرہ بارہا دیکھنے کو ملتا ہے کہ لکھاری دیدہ دلیری سے ارد گرد کی چند استثنائی اور زبانی روایات اور مثالیں اکھٹی کر لیتا ہے ا ور پھر اپنے انداز بیان کے زور پر ایسی پھبتی کستا ہے کہ بندے کوحیرت اور پریشانی بیک وقت ہونے لگتی ہے۔ کلچر کے بارے میں مضحکہ خیز انکشافات کئے جاتے ہیں۔ اور ایسے اسرار و رموز افشا ہوتے ہیں جنہیں کبھی چشم فلک نے بھی نہیں دیکھا ہوتا۔
گوکہ انیسویں صدی کے وسط تک پہلی اینگلو افغان جنگ کی وجہ سے پشتونوں کی امیج اور پشتون شناسی نے کئی کروٹیں لیں لیکن یہ امر مصدقہ ہے کہ کمپنی بہادر سے لیکر ملکہ وکٹوریہ کے عہد تک برطانیہ کی آدھی سے زیادہ عسکری قوت مستقل پشتونوں کے مقابل صفحہ آرا رہی۔ خونخوار اور چٹیل دشمن کوجاننے کا تجسس کسے نہیں ہوتا۔ یہی وجہ تھی کہ انیسویں صدی میں ریارڈکیپلنگ نے Kim اور  The Man Who Saw Tomorrow لکھ کر اتنی دولت سمیٹی کہ وہ انگلستان کے آسودہ ترین لوگوں میں شمار ہونے لگے ، شاہد اس بھی زیادہ دولت 2003میں چھپنے والی خالد حسینی کیThe  Kite Runner  نے بٹوری جو اب تک صرف انگریزی میں تیس دفعہ چھپ چکی ہے، ناول کی خوبی یہی ہے کہ اس میں ان تصورات ، امیجزاور کرداری نقائص کو خوب اچھالا گیا ہے جو کسی زمانے میں الیگزنڈربرنس، کیپلنگ ، چرچل یا انگریز آفیسروں کی یاداشتوں اور سفرناموں میں پشتونوں سے متعلق ملتے تھے۔ اس مد میں جتنا کام ہوا ہے اس پر تو کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔ موضوع کی جاذبیت اتنی ہے کہ ذرا سی چیز کسی نے لکھی تو پبلشرز کی لائن لگ جاتی ہے، پہلے چھپتی اور پھر ا س پر فلم بھی بن کر سامنے آجاتی ہے۔ بیسوں نئی فلمیں بنی ہیں جن میں بارہا اسی امیج کوپروموٹ کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی ہے۔
اس بہتی گنگا میں شہر نیویارک میں حلقہ ارباب ذوق کے سرگرم پاکستانی رکن اور قصہ نویس ممتازحسین صاحب نے بھی ہاتھ دھونے کی کوشش کی ہے - ناموری پیدا کی تو کیا کہنے ورنہ پھر بھی بازی مات نہیں۔ نیشنلٹی تو پہلے سے لے رکھی ہے۔ان صاحب نے جو افسانہ حلقہ ارباب ذوق میں پیش کیا اور اس پر داد تحسین حاصل کی اس پر حلقے کی ادبی صحت پر تو شکوک و شبہات پیدا ہی ہوتے ہیں البتہ مصنف کے ذہنی صحت کی طرف بھی گمان چلا جاتا ہے۔ جرات ملاحظہ ہو کہ آنجناب نے اپنے تخیل پر اکتفا کرتے ہوئے فاٹا کے پشتونوں کاایسا خاکہ پیش کیا ہے جس کے پڑھنے کے بعد ایک اجنبی کے دل و دماغ میں یہی بات آتی ہے کہ ڈرون حملے ، بی باون طیارے اور داخلی عسکری آپریشن ناکافی ہے۔ کرہ ارض کے اس کینسر زدہ حصے کو کاٹ ڈالنا ہی بہتر ہے۔
بہشتی دھتورا کے نام سے فکر و فن سے خالی اس افسانے کو جب میں نے پڑھا پہلے پہل میرا سر چکرایا، دوبارہ پڑھا تو بوسٹن یونیورسٹی کی میوگر لائبریری سے سیدھا کافی شاپ گیا ، کافی پیتے ہوئے پھر پڑھا۔ صاحب کے فیس بک اور پروفائل پر نظر دوڑائی، بظاہر نارمل دکھائی دئے۔ یاد رہے کہ اس افسانے کے بارے میں مجھے اپنے دوست سید عبدالرحیم آغا( جو میری طرح غریب الوطن واقع ہوئے ہیں) نے مطلع کیا، افسانہ بھیجا اور اس سے متعلق نیو یارک کے ایک اخبار میں چھپی ہوئی رپورٹ کا لنک بھیجا۔ اس افسانے سے متعلق شرکا کے تاثرات جس رپورٹ میں نیویارک کے اردو اخبارمیں چھپے اس میں شریک ادبا نے موصوف مصنف کے فن و فکر کا خوب سراہا اور اس تخلیقی کاوش کو بے نقص قرار دیا۔کسی نے کہا انداز تمثیلی تھا۔ ایسا لگا صاحب کافکا کی روح جناب میں حلول کر گئی ہو،کسی نے کہا منظر کشی لا جواب تھی، جناب نے بیٹھے بٹھائے لق ودق کوہستانی کھرے پٹھانوں کی جو سیر کرائی۔ اس کا جواب نہیں.... واہ کیا بات ہے سبحان اللہ۔ کسی نے داد ی کہ دہماکہ خان ، شربت خان اور پائندہ خان کیاکھرے پٹھانی نام ہیں،اورکیا جاندار کردار تراشے ہیں.... سبحان اللہ، وغیرہ وغیرہ۔
آغا جان کے پوچھنے پر مصنف نے بتایا کہ وہ پشتو نہیں جانتے ، پشاور وخیبر تو کیا حسن ابدال تک نہیں دیکھا اور ان کی پشتون شناسی یہاں سے شروع ہوتی اور یہی ختم ہوتی ہے کہ برسوں پہلے ان کی اکلوتی اہلیہ کی ولادت پشاور میں ہوئی تھی، ایسے دیدہ دلیر کہانی کار کا قلم بھلاکون پکڑ سکتا ہے جس نے کبھی پوست کے کھیت تو کیا سیب اور بادام کے درخت تک نہیں دیکھے۔ پوست کے ڈوڈوں کے پھولوں کے جو رنگ بتائے سارے غلط۔ پرکیا کرے بکری گھاس سے دوستی کرے اور انسان بکرے سے تو کیا سارے نہ مر جایں۔ ان کو تو کہا نی لکھنی ہے کہ یہی فیشن اور پیشے کا تقاضا ہے۔
جو پدرشاہی ماحول کھینچا ہے اس میں تمام کردار افیون کے نشے میں اونگھ رہے ہیں، لڑکھڑاتے ہوئے ناشدنی سی اردو بک رہے ہوتے ہیں، دہماکہ خان ایک نرم خو قبائلی کا نام ہے، شربت خان ایک خودکش بمبار اور پائیندہ خان ایک موالی عاشق جو ایک خیالی لڑکی پلوشہ سے باتیں کر رہا ہوتا ہے۔کل ملا کر بات یہاں ختم ہوجاتی ہے کہ شربت خان خود کش دہماکہ تو کرجاتاہے پر انکو جو حوریں ملتی ہیں وہ بھی ساری بندوق بردار ہوتی ہیں۔گویا قبر کھودی گئی میری تو وہ بھی پتھریلی نکلی ۔
مشرقی یا نوآبادیاتی دور کے محکوم معاشروں کے بارے میں لکھے گئے غیر مشرقی اور حاکم مصنفوں پر یہی تو اعتراض ہوتا ہے کہ وہ ثقافتی کلیت سے بے خبری کی بنا پر بہکی بہکی اور گمراہ کن باتیں لکھتے ہیں۔ البتہ اتنی جرات تو الفنسٹن کیا چرچل یا رڈیارڈکیپلنگ نے بھی نہ کی کہ موقع و محل سے بے خبر ہوکر پھبتیاں کستے۔الفنسٹن نے اگر پشاور میں بیٹھ کردو جلدوں کی ضخیم کتاب لکھی تو اسکے پیچھے سینکڑوں فرنگی و غیر فرنگیوں سے انفرادی اور گروہی انٹرویوزتھے او ر تو اور کیس سٹڈیز جمع کئیں جس میں بارہا معلومات اور تجزئے کے مسائل موجود ہیں۔ لیکن موصوف افسانہ نویس کے اس تخلیقی کاوش کو دیکھ کر ایسالگتا ہے ہے کہ انہوں نے بس موضوع کی جازبیت سے مرعوب ہوکرجو راگ الاپاہے اس میں نہ سر ہے اور نہ تال۔ماحول ، کلچراور موضوع کے بارے میں مصنف کی معلومات شرم ناک حد تک کم ہیں اور تو اور وہ اس کاوش کو سوشل ریلزم کے زمرے میں شامل کرتے ہیں اوراس دلیل بس یہی ہے کہ ان کی اہلیہ کی جائے ولادت پشاورہے۔
جنگ زدہ اور مفلوک الحال قوموں اور معاشروں کے تراشے گئے مخصوص کردار جس حجم کی سیاسی معیشت رکھتی ہے اس کا اندازہ بس اسی سے لگایا جاسکتا ہے کہ نائن الیون کے نتیجے میں مسلط جنگ کے آغازسے پہلے صدر بش کی للکار میں رڈیارڈکپلنگ کی نظم( Arithmetics at Froniter ) کے کردار بول رہے ہوتے ہیں۔ جو مقام افغا ن مجاہدین کے سورما کمان داروں نے لاکھوں لوگوں کے قتل کے بعد صدر ریگن کے دربار عالیہ میں حاصل کی وہی مقام خالد حسینی چند سو صفحوں کے ایک ناول سے حاکم وقت (صدر بش جونئیر) کے دربارمیں حاصل کر لیتے ہیں۔ جنگی جنوں، سفاکی اور بربریت کو ہروقت ایک اخلاقی جوازکی ضرورت ہوتی ہے۔ پرانے ذمانے میں رتن ، درباری مورخ،کوتاہ قد ادیب، چرب زبان داستان گو، دین فروش عالم اوردرباری مسخرے یہی کام کیاکرتے تھے۔کسی کا منہ اشرفیوں سے بھر دیا جاتا ، کسی کو درباری کنیز عطا کی جاتی اور کسی کو خلوتیں ملتیں۔ آج کل بھی یہی لوگ ہیں جو اپنا کام کرتے ہیں ، پیشے و کردار وہی ہیں البتہ نام بدل گئے ہیں، خلوتیں البتہ نہیں ملتی۔ شہریت اور شہرت مل جاتی ہیں۔ پلاٹ مل جاتے ہیں، عہدوں میں ترقیاں مل جاتی ہیں، نام میڈیا اور خبروں میں گردش کرنا شروع کردیتا ہے اور پڑھنے والے معصوم کے چودہ طبق روشن ہوجاتے ہیں۔

اندھیرا بیچنے والے! پشتون شناسوں کے نام (2)” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 20, 2015 at 10:34 PM
    Permalink

    خوب

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *