سؤر کے پیٹ میں انسانی اعضا اگانے پر غور

nakochiجاپان میں ایک ایسی تکنیک پر غور کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے سؤر کے اندر انسانی اعضا اگاممکن ہو سکے گا  جو کہ سائنس کی دنیا میں ایک بہت بڑا کارنامہ ثابت ہوگا۔اس منصوبے پر کام کرنے والے پروفیسر ناکوچی کہتے ہیں کہ انسانی جلد کے خلیوں کو آئی پی ایس بناکرانھیں سؤر کے ایمبریو میں داخل کیا  جائے گا ۔پروفیسر ناکوچی کو امید ہے کہ اس عمل سے سؤر کے جسم کے اندر انسانی لبلبہ، گردہ یا جگر یا پھر دل تک بن سکے گا اور یہی نہیں بلکہ یہ عضو جینیاتی طور پر اسی فرد سے مماثلت رکھے گا جس کی جلد کے خلیے استعمال کیے گئے تھے۔
ضرورت مند مریض سے جینیاتی طور پر مماثلت رکھنے والا انسانی عضو اگانا طبّی سائنس کے حتمی عزائم میں سے ایک ہے کیونکہ اس صورت میں نہ صرف خراب عضو والے مریضوں کا اس کی تبدیلی کے لیے انتظار ختم ہو جائے گا بلکہ جسم کے کسی دوسرے فرد کے عضو کو قبول نہ کرنے جیسی مشکلات بھی پیدا نہیں ہوں گی۔
تاہم اس سلسلے میں ابھی کئی اہم رکاوٹیں حائل ہیں۔ پہلا مسئلہ یہ ہے کہ انسانوں اور سؤروں کا جینیاتی تعلق بڑے دور کا ہے۔ سفید سؤر میں سیاہ سؤر کا لبلبہ اگانا اور بات ہے لیکن اس میں انسانی لبلبہ اگانا کہیں زیادہ مشکل کام ہے۔پروفیسر ناکوچی کو یقین ہے کہ ایسا ممکن ہے اور اس کام میں کم از کم پانچ برس کا عرصہ لگ سکتا ہے لیکن وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ عرصہ اس سے کہیں زیادہ طویل بھی ہو سکتا ہے۔
ایک اور مسئلہ اس عمل کی منظوری حاصل کرنا ہے۔ جاپان میں انسان اور جانور کے اعضا کے اتصال کی اجازت نہیں۔ پروفیسر ناکوچی اس سلسلے میں قانون میں تبدیلی کے لیے کوشاں ہیں لیکن اگر یہ ممکن نہ ہوا تو انھیں باقی تحقیق کے لیے امریکہ کا رخ کرنا پڑے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ نئی سائنسی تحقیق کے خلاف ہمیشہ آواز اٹھتی رہی ہے۔ انھوں نے آئی وی ایف (ٹیسٹ ٹیوب بے بی) کی مثال دی اور کہا کہ 1970 کی دہائی میں جب برطانیہ میں بانجھ پن کا یہ طریقۂ علاج دریافت ہوا تھا تو اس کی بہت مخالفت ہوئی تھی، لیکن آج یہ دنیا بھر میں استعمال کیا جاتا ہے اور کوئی اسے عجیب یا غیر اخلاقی نہیں سمجھتا۔اس معاملے پر اخلاقی بحث جو بھی ہو دنیا میں نئے گردے یا جگر کے منتظر لاکھوں افراد کے لیے اعضا اگانے کا خیال بے حد خوش کن ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *