کیا پڑھانا ہے (آخری قسط )

farnood alamبچے بڑے ہوگئے۔ دماغ کے ہر گوشے میں اپنی طرز کے بیسیوں سوالات انگڑائی بھرنے لگے۔ بڑے بچے نے خود سے جو پہلا سوال کیا وہ کچھ یوں تھا
”اگر سویت یونین کو ہم نے خداوند کی نصرت سے صرف دس برس میں دریائے آمو کے اس پار لگادیا تھا، تو نصف صدی سے ہم برہمن کو مقبو ضہ کشمیر سے پسپا کیوں نہیں کر پا رہے“
استاد نے جواب دیا
”افغانستان میں جو لڑے ان کی نیتیں اجلی اور اعمال نیک تھے سو فرشتے نصرت کو قطار اندر قطار اترا کرتے تھے۔ یہاں اگر فتح نہیں مل پارہی تو دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آپ کے اعمال میں کہاں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ میں سے کوئی مجاہد ایک روٹی سے زیادہ کھا رہا ہو۔؟ اگر ایسا ہے تو یاد رکھیئے گا خدا کو یہ عمل سخت ناپسند ہے۔ یاد ہے نا صحابہ پپیٹ پہ پتھر باندھتے تھے؟ تبھی تو نصرت آتی تھی“
بچہ جواب سے مطمئن ہوگیا۔ اب نصف صدی ہوگئی ہے کشمیر کا بچہ اپنے اعمال پہ ہی غور کر رہا ہے۔ سوال تو پھر سوال ہے، جنم لے کر رہتا ہے۔ اب سوالوں کا ایک سلسلہ ہے۔ بچہ سوچتا ہے
”اگر افغانستان میں فحاشی و عریانی کے سبب خلافت کا قیام ناگزیر ہے، تو کیا پاکستان میں فحاشی و عریانی کی شرح افغانستان سے کم ہے۔؟ یہاں کیوں نہیں۔؟“
استاد نے جواب دینے کیلئے لب کو جنبش دی ہی تھی کہ بچے نے دوسرا سوال رکھ دیا
”اگر احمد شاہ مسعود یونس خالص برھان الدین ربانی رسول سیاف گلبدین حکمت یار اسلام دشمن ہیں، تو مولانا فضل الرحمن مولانا سمیع الحق قاضی حسین احمد پروفیسر ساجد میر اور شاہ احمد نورانی اسلام کے علمبردار کیسے ہوگئے۔؟“
استاد ابھی ہاتھ بغل میں باندھے خاموش کھڑا ہے کہ سوال سے جڑا ایک سوال اور آگیا
”اگر احمد شاہ مسعود رشید دوستم اور گلبدین کو اپنے ملک میں رہنے کا حق نہیں تو میاں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو ایک اسلامی ملک میں یہ حق کیسے دیا جا سکتا ہے؟”
استاد نے کہا
”دیکھو پاکستان ایک مکمل ریاست ہے، یہاں عدلیہ مقننہ اور انتظامیہ موجود ہے۔ پھر حکمران ’کفربواح ‘ کے مرتکب بھی نہیں ہوئے، سو ازروئے فقہ پاکستان میں ریاست کے خلاف مسلح خروج کی اجازت نہیں ہے“
بچہ کچھ دیر دلیل کے سحر میں رہا، مگر لمحہ بھر میں سوال نے یہ فسوں توڑ ڈالا۔ پوچھا
”مگر افغانستان میں بھی تو عدلیہ و مقننہ موجود ہے، تو پھر ریاست کے خلاف بغاوت کیسی؟“
استاد نے ایک قہقہے میں اول بچے کا اعتماد تحلیل کرنے کی کوشش کی، اور پھر سنجیدگی طاری کرکے کہا
”احمق انسان ! حامد کرزئی تو امریکہ کا پٹھو ہے، عدلیہ نیٹو کی جیب میں ہے، مقننہ واشنگٹن ڈی سی سے کنٹرول ہورہی ہے۔ وہ کیسے ریاست ہوسکتی ہے“
ہنسنے کی باری اب بچے کی تھی۔ بمشکل تمام اپنی ہنسی پہ قابو پاتے ہوئے بولا
”مگر ساٹھ برسوں سے تو آپ ہی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت اور سیاست پہ عالمی طاقتوں کا قبضہ ہے، اور یہ کہ یہاں اقتدار کا انتقال امریکہ بہادر کی ایما پہ ہوتا ہے۔ کیا آپ نے نہیں پڑھایا تھا کہ میاں نواز شریف بے نظیر بھٹو امریکہ کے، ولی خان میر بخش بزنجو اور محمود خان اچکزئی ماسکو کے اسی طرح الطاف حسین ہندوستان کے ایجنٹ ہیں۔؟ یاد کریں آپ ہی تو پڑھاتے رہے ہیں یہ سارے ابواب“
استاد نے کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے پانی کے گلاس کی طرف ہاتھ بڑھا دیا، مہلت کو دراز کرنے کیلئے پانی تین سانسوں میں پیا، گلاس رکھتے ہوئے بچے کی عقل پہ مسکرائے، پھر گویا ہوئے
”دیکھو بیٹا۔! صورت حال میں فرق ہے۔ کیسے۔؟ وہ ایسے کہ امریکہ نے افغانستان پہ ننگی جارحیت کررکھی ہے۔ عالمی قوتیں براہ راست ایک مسلم ریاست پہ حملہ آور ہوچکی ہیں۔ یاد رکھو کہ اس حملے کا مقصد خلافت کے خاتمے کے سوا کچھ نہیں تھا۔“
بچے نے حیرت سے یوں پہلو بدلا جیسے سرد دسمبر میں کسی نے جامے میں برف کی ڈلی چھوڑ دی ہو۔ بے ادبی کا ابتدائیہ اعصاب سے جھلکنے لگا۔ حیرت کا ایک جہاں اپنے ماتھے پہ سمیٹتے ہوئے بولا
’قبلہ عالی مقام۔! انہی عالمی قوتوں کو شمسی ائیر بیس جیکب ائیر بیس کراچی ائیر پورٹ پشاور بیس آپ ہی نے حوالے کر رکھا ہے۔ تیل و توا اور توپ و تفنگ کی رسد کیلئے کراچی قاسم پورٹ سے لیکر طورخم تک کی راہداری آپ نے عطا کر رکھی ہے۔ پھر ڈرون طیارے آپ کی سرحدوں کو یومیہ بنیادوں پہ پامال کر کے باجوڑ اور ہنگو تک پہ حملہ آور ہیں۔ سلالہ چیک پوسٹ پہ امریکی طیاروں نے چو کیاں آپ کی جلاکر خاستر کیں۔ آپ کے فوجی آپ ہی کی سرحد میں مارے گئے۔ رات کے آخری پہر امریکہ کے گن شپ ہیلی کاپٹر آپ ہی کے ایبٹ آباد پہ اڑانیں بھرتے ہیں۔ ریمنڈ ڈیو س بیچ شاہراہ پر پاکستانیوں کو تہ تیغ کرتا ہے اور مکھن سے بال کی طرح صاف بچ نکلتا ہے۔ بلیک واٹر اسی لاہور اور اسی پشاور میں دندناتی پھرتی ہے۔ استاد دو سوال پیدا ہوگئے۔ اول یہ کہ کیا عالمی جارح قوتوں کو کندھا آپ نے نہیں دیا؟ دوسرا یہ کہ یہاں پاکستان میں جو امریکیوں نے غدر مچا رکھا ہے، کیا اسے جارحیت کے سوا کچھ کہیئے گا ؟ الٰہی یہ ماجرا کیا ہے؟‘
استاد سے اب کچھ نہ بن پڑا تو جمہوری سیاسی قوتوں کو موردِ الزام ٹھہراتے ہوئے کہا
”بیٹا تمہاری نماز کا ٹائم ہونے والا ہے اگلا سوال کرو۔؟“
جی استاد ہے نا، ایک اور سوال بھی ہے۔ وہ کیا۔؟
وہ یہ کہ۔!!
’افغانستان کے سابق صدر نجیب کو قتل کرنے کے بعد کابل چوک میں کئی دن تک لٹکائے کیوں رکھا تھا۔ جرم کیا تھا ان کا؟‘
استاد نے کہا
”یہ بھی کوئی پوچھنے والی بات ہوئی۔ ارے نادان روح۔! وہ نجیب ملعون ایجنٹ تھا ماسکو کا ایجنٹ۔ سمجھے نا؟ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بر سر پیکار تھا۔ اب جب خلافت کے راستے کاٹو گے تو پھر لٹکو گے بھی۔ خود بتاو ایسے اسلام دشمن کا انجام عبرتناک ہونا چاہیئے کہ نہیں۔؟ ظاہر ہے یہی انجام ہوسکتا تھا“
بچہ جواب سنتے ہوئے کاغذ پہ لائنیں کھینچ رہا تھا۔ کچھ دیر خاموشی رہی۔ استفہام میں سر اٹھا کر بولا
”آپ تو بشیر بلور کو بھی ماسکو کا ایجنٹ کہتے تھے۔ نہیں،؟ اب جب اسی ماسکو کے ایجنٹ کو خود کش حملے میں اڑادیا، تو آپ کے دیئے ہوئے امیر الہائے مجاھدین تو پہلی صف میں کھڑے جنازہ ادا کر رہے تھے۔ وہ جنہوں نے آپ کے کہے پہ نجیب کو لٹکانے کا ہمیں حکم کیا تھا، وہی بشیر بلور کو پورے عقیدت و احترام سے مرقد میں اتارنے کیوں پہنچ گئے تھے۔؟ استاد آپ سمجھ رہے ہیں نا میں کیا کہہ رہا ہوں۔؟“
استاد نے کنپٹی کھجائی، متفکر لہجے میں بولا
”بیٹا بشیر بلور کی طرف بھی آتے ہیں مگر بات خود کش حملے سے شروع کرتے ہیں“
جی استاد۔۔!!
دیکھو بیٹا۔۔!!
”پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں خود کش حملوں کی قطعی طور پہ ممانعت آئی ہے۔ اب جب ممانعت آئی ہے تو پھر بشیر بلور ہو کہ غلام بلور، حملہ تو ناجائز ہی ٹھہرا“
اور افغانستان میں خود کش حملے جو ہوتے ہیں، وہ۔؟
”افغانستان میں تو خود کش حملے جائز ہی نہیں بلکہ فرضِ عین کے درجے میں ہیں“
یہ سب کہاں کیسے اور کس اصول کی بنیاد پہ طے ہوگیا استاد محترم۔ کچھ سمجھائیں گے۔؟
”برخوردار۔! یہ پاکستان کے تمام علما نے اتفاق رائے کے ساتھ لاہور کے ایک اجلاس میں یہ طے کیا تھا۔ بلاتفریق مسلک مدارسِ دینیہ کا اس فتوے پہ اتفاق ہے“
بچہ تو بے بسی سے سر بزانو ہی ہوگیا۔ روئے کہ ہنسے۔ روہانسے انداز میں سوال اٹھایا
”اے میرے روحانی باپ۔! یہ بتلایئے کہ اگر افغانستان کے تمام علما مکمل اتفاق رائے کے ساتھ یہ فیصلہ کرلیں کہ افغانستان میں خود کش حملے حرام اور پاکستان میں فرض عین ہیں، تو آپ کیا کہیئے گا حضور؟”
استاد کا پارہ ساتویں آسمان سے جا ٹکرایا، ہونٹ لرزنے لگے، اعصاب چٹخنے لگے، چشمہ اتار کے کیس میں رکھا، فائلیں اٹھاتے ہوئے تھوک آور جملے برسانے لگے
”تم جیسے بے غیرتوں اور نالائقوں کو ابھی تک یہ بھی پتہ نہیں چلا کہ علما کسے کہتے ہیں۔ اب کابل کے سیاسی مولوی طے کریں گے کہ کیا جائز ہے اور کیا ناجائز۔؟ اب ربانی اور احمد شاہ مسعود کے لونڈے فیصلہ کریں گے افغا نستان کا۔؟ تم جیسے کوڑھ مغزوں اور دین بیزاروں سے بات کرنا اپنی عاقبت خراب کرنے والی بات ہے۔ شکل مت دکھانا آئندہ مجھے۔ سمجھے تم۔؟”
بچے نے ایک فلگ شگاف قہقہے کو حلق کے پردوں میں بمشکل دبائے رکھتے ہوئے کہا
”استاد۔! آپ تو برا ہی مان گئے مگر جاتے جاتے یہ تو بتاتے جاﺅ افغانستان کے علما کون ہیں۔؟“
استاد نے لرز گرج کر کہا
”وہ تمہارے باپ جو طالبان شوری میں بیٹھے سامراج کے خلاف لڑ رہے ہیں وہ ہیں خالص علما۔ علما ڈبل ڈور کیبنوں میں نہیں گھومتے، وہ رو کھی کھا کر استعمار سے پنجے لڑاتے ہیں۔ مگر یہ باتیں تم جیسے زبان دراز مسلمانوں کو سمجھ میں آنے والی نہیں ہیں۔“
یہ کہہ کر استاد نے دروازہ پوری طاقت سے بھیڑا اور چل دیا۔ بچہ جو سوال کرتے کرتے بہت بڑا ہوچکا تھا، بھاگ کر دروازے پہ آیا۔ گیلری میں بوٹ پٹختے ہوئے جاتے استاد کو پیچھے سے چلا کر کہا
”واہ بھئی واہ۔ جہاد اور اسلام کی کیا ہی وشملے تعبیر دیکر پتلی گلی سے نکل لیئے۔ افغانستان میں روکھی کھا کر لڑنے والوں کا فتوی چلے گا اور پاکستان میں ویگو اور لینڈ کروز والے مولویوں کا چلے گا ؟ سبحان تیری قدرت۔ بات سنو اوئے ٹیپو سلطان۔! جو تعبیر تم نے دی ہے نا اسی تعبیر کی بنیاد پہ میرے لیئے صرف ایک ہی راستہ بچا ہے اب۔ کہاں جا رہے ہو، پوچھو گے نہیں کون سا راستہ بچا ہے؟‘
استاد کو جھٹکا لگا، ترنت پلٹا کھایا، سرد آہ بھری، کھا جانے والی نظریں جماتے ہوئے پوچھا
”کون سا راستہ“
بچے نے کہا
”جہاد کا راستہ۔ احیائے خلافت کا راستہ۔ نفاذ شریعت کا راستہ۔ مختصر کہوں تو وزیرستان کا راستہ“
استاد کے ہاتھوں سے فائلیں اڑ گئیں۔ بچے کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے بولا
”تمہارا دماغ تو اپنی جگہ پر ہے نا؟“
بچے نے نیفے سے ریوالور نکالی، میگزین گھمایا، اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا، ٹریگر دبایا، استاد کو اسی تعبیر کے مطابق ”جہنم رسید“ کردیا جو تعبیر استاد نے خود دی تھی۔ وہ دن ہے اور آج کا دن ہے
”یہ مجاھد دشمن ہوگیا، اور اس کا بیٹا دشمن کا بچہ ہوگیا“
سنتے ہیں کہ اب زمانے کے انداز بدلے گئے۔ نئے راگ ہیں ساز بدلے گئے۔ لگتا ہے استاد بھی بدلے گئے۔ کیونکہ اس شور میں بھی ایک خوشگوار آواز سنائی دی ہے
”مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے“
میرا سوال مکرر عرض ہے کہ
”جناب کون سا سبق پڑھانا ہے۔؟“
وہی لال قلعے اور سبز ہلالی پرچم والا سبق۔؟ وہی خلافت اور چھٹے صوبے والا سبق۔؟ وہی کفر اور اسلام والا سبق؟ وہی دو قومی نظریئے والا سبق۔؟
استاد محترم۔!!
اگر یہی سبق پڑھانا ہے، تو آپ کو واسطہ ہے تمام مرحوم و مغفور جرنیلوں کی روحوں کا کہ خدارا اس قوم کو جاہل رہنے دیجیئے۔
خدارا۔!! اب مت پڑھایئے گا۔ اب بس۔!!
سنتے ہیں کہ اب زمانے کے انداز بدلے گئے۔ نئے راگ ہیں ساز بدلے گئے۔ لگتا ہے استاد بھی بدلے گئے۔ کیونکہ اس شور میں بھی ایک خوشگوار آواز سنائی دی ہے
”مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے“
میرا سوال مکرر عرض ہے کہ
”جناب کون سا سبق پڑھانا ہے۔؟“
وہی لال قلعے اور سبز ہلالی پرچم والا سبق۔؟ وہی خلافت اور چھٹے صوبے والا سبق۔؟ وہی کفر اور اسلام والا سبق؟ وہی دو قومی نظریئے والا سبق؟
استاد محترم۔!!
اگر وہ سبق پڑھانا ہے جو آپ اپنے سگے بچے کو پڑھاتے ہیں تو چشمِ ماروشن دلِ ماشاد۔ اور اگر وہ سبق پڑھانا ہے جو آپ ’دشمن‘ کے بچوں کو پڑھاتے ہیں، تو آپ کو واسطہ ہے تمام مرحوم و مغفور جرنیلوں کی مقدس روحوں کا کہ خدارا اس قوم کو جاہل رہنے دیجیئے۔
خدارا۔!! اب مت پڑھایئے گا۔ اب بس۔!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *