’فحاشی بھگاو تحریک‘ کے تضادات

zeeshan hashimیہ ہمارے مذہبی، قومی اور ثقافتی اقدار کی غیرت سے مالامال دوستوں نے نرگس فخری کے اشتہار پر جس طرح رسپانس کیا ہے ، خدا کی قسم اگر اسی طرح کا ردعمل طالبانی دہشت گرد حملوں اور فرقہ وارانہ فسادات کے فوراً بعد آتا تو اس بے چاری قوم اور اس کی سیاسی طور پر کنفیوز اور عسکری طور پر مہم جو قیادت کو ان درندوں سے لڑنے کا فیصلہ کرنے میں دس سال نہ لگتے اور یہ اچھے برے جہادیوں کی تقسیم ہنوز قائم نہ ہوتی-
میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا غصہ جائز ہے ، اور ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ کسی بھی سماجی عنصر کو ناپسند کرتا ہے تو اس کے خلاف آواز اٹھا سکے ، یوں آپ نے ایک ناپسندیدہ عمل کے خلاف آواز اٹھا کر اپنے حق کا اظہار کیا ۔ مگر اس کا کیا کیا جائے کہ اگر میں لاہور سے ملتان یا کسی اور شہر بذریعہ بس یا ٹرین سفر کروں تو تمام راستہ مجھے دیواروں پر لکھے جو بڑے بڑے اشتہار نظر آتے ہیں ان میں اسی فیصد مرد کے جملہ امراض مخصوصہ کے حکیموں کے ہوتے ہیں یا پیر باوا لوگ کے ،اور یا پھر بانجھ پن کے علاج کے کسی خفیہ نسخہ کے رازدانوں کے۔ اب اس جوش و جذبہ کو ملاحظہ کرنے کے بعد میں امید کرتا ہوں کہ آپ آج یا کل ہاتھوں میں برش لئے ان تمام اشتہارات پر سفیدی یا کالک مل کر سڑکوں کو اس بے حیائی سے پاک کر دیں گے -
بعض اخبارات کے سنڈے میگزین جیسا کہ روزنامہ خبریں (ملتان) کے آخری صفحات انتہائی بداخلاق ہوتے ہیں .... اس میں بھی وہی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جنہوں نے ہماری سڑکوں کو آلودہ کر رکھا ہے - اور اور تو بعض اشتہارات کا عنوان ہوتا ہے "عضو تناسل کو.... کیجئے" ، "بیوی کے پاس جاتے ہیں ، شرمندگی کا علاج " ،اور "شادی سے پہلے یہ نسخہ ضرور استعمال کیجئے "وغیرہ وغیرہ - اسی طرح بعض ویب سائٹ پر بھی اسی طرح کے بداخلاق اشتہار ملتے ہیں - میں نے ابھی تھوڑی دیر قبل ایک مذہبی آن لائن اخبار کی ویب سائٹ پر وزٹ کیا جس میں نرگس فخری کے اشتہار پر بہت زیادہ تنقید کی گئی ، سب سے پہلے جس اشتہار پر نظر پڑی لکھا تھا UAE Women in Single Meet اور ساتھ میں نرگس فخری والی تصویر سے کہیں زیادہ عریاں تصویر مجھے ’دعوت نظارہ ‘ دے رہی تھی - ایک اور ویب سائٹ پر گیا وہاں بھی روزنامہ جنگ کی شدید ترین مذمت کی گئی اور میرے ایک دوست وصی بابا کے ایک پرانے کالم کے اوپر اک ’مردانہ تجویز‘ کا اشتہار تھا مہذب ترجمہ کچھ سمجھ لیجئے کہ ”گیسوئے تابدار کو اور بھی تابدار کر....“۔
مجھے امید ہے کہ تمام مذہبی و غیر مذہبی آن لائن اخبارات و جرائد ایسے اشتہارات سے پرہیز کریں گے اور تحریک برائے بحالی اخلاقیات میں انہیں بھی شامل کیا جائے گا -
کچھ دوست اس اشتہار پر اتنا آگ بگولہ ہوئے کہ انہوں نے اسے لبرل ازم سے منسوب کر دیا - حیرت تو اس بات کی ہے کہ روزنامہ جنگ کسی طرح بھی لبرل ازم کا نمائندہ نہیں ۔ وہاں لکھنے والے کالم نگاروں کی اکثریت جماعت اسلامی سے نسبت رکھتی ہے - سوائے دو اشخاص وجاہت مسعود اور ایاز امیرکے باقی سب لبرل ازم کو شک و شبہ سے دیکھتے ہیں بعض لوگ تو اسی اخبار میں کھلم کھلا اس کی مخالفت بھی کر چکے ہیں۔ ہر جمعہ کو یہ اخبار رجعت پسند مذہبی تعلیمات پر مشتمل خصوصی صفحہ شائع کرتا ہے - اس اخبار نے تو کبھی لبرل ازم کی بنیادی تعریف و تشریح پر کوئی فیچر تک شائع نہیں کیا - اور نہ ہی اس نے یہ اشتہار دیتے ہوئے لکھا کہ ’ہم لبرل ازم کے علم بردار ہیں ‘ اور نہ ہی یہ نعرہ لگایا ’لبرل ازم سب سے بہتر ہے‘ ... مگر جب طالبان ، داعش ، بوکو حرام ، القاعدہ ،اور شباب وغیرہ لوگوں کو ذبح کرتے ہوئے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہیں ، خود کو اسلام سے منسوب کرتے ہیں اور اپنے ہر عمل کے جواز میں قرآن و حدیث اور اسلاف کے اقوال سے حوالے دیتے ہیں تو آپ اسے اسلام سے نہیں بلکہ خوارجیت سے منسوب کرتے ہو ، انہیں اسلام کا نمائندہ نہیں بلکہ مغربی ایجنٹ سمجھتے ہو (باوجود اس کے کہ ان کے خلاف ایک لفظ بھی سننے کا آپ میں حوصلہ نہیں ) اور یہاں لبرل ازم کے نام پر آپ کا اچھل کود سمجھ سے باہر ہے بھائی ۔
پاکستانی مردوں کی ایک بڑی تعداد نرگس فخری کے سرخ لباس میں الٹا لیٹنے پر خفا ہے - مذمت کا یہ حق خواتین کو بھی ملنا چاہئے اور وہ جس چیز کو فحاشی سمجھتی ہیں ، انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ مرد بھی اس سے اجتناب کریں -
مثال کے طور پر ماں بہن کی گالیاں جو مرد ہر جھگڑے میں بآواز بلند دیتے ہیں انہیں چاہئے کہ اس فحش گوئی سے مکمل پرہیز کریں -
عورت کو مکمل پردے کا حکم ہے جبکہ بعض مرد بعض اوقات بغیر قمیض کے گھر اور گلی محلے میں گھومتے پھرتے ہیں ، انہیں چاہئے کہ عورتوں کی طرح پورا بدن ڈھانپ کے رکھیں ۔
یہ جو سڑکوں کے کنارے مرد بیٹھے رفع حاجت کر رہے ہوتے ہیں ، یہ فحاشی اور بداخلاقی ہے - نرگس فخری اگر سرخ لباس میں الٹا لیٹ کر ہماری ثقافت کو تار تار کر سکتی ہے تو مردوں کا یوں عوامی جگہ پر آدھا ننگا بیٹھنا بھی اخلاقی اقدار کے منافی ہونا چاہئے اور ہمارے پاسبان مشرقی اقدار اس پر ضرور احتجاج کریں اور انہیں روکیں -
آج کے بعد مشرقی اقدار کے تمام محافظ اس بات کا تہیہ کر لیں کہ بس سٹاپ ، بازار ، یا کسی بھی عوامی جگہ پہ کسی بھی مرد کے ہاتھوں کو اس کی شلوار میں آوارہ گرد دیکھیں گے تو فورا اس کے ہاتھ روک کر اس کے خلاف اسی غصہ کا اظہار کریں گے جو روزنامہ جنگ کے اس اشتہار کے بعد دیکھا جا سکتا ہے -
مجھے امید ہے کہ ہم سب فحاشی کی اسی تعریف کی رو سے جو نرگس فخری کے فوٹو کو فحش قرار دیتی ہے ، فیس بک پر ان تمام پیجز کو unlike کر دیں گے جن میں فحش فوٹو ہوتے ہیں ، جو ہم نے شیطانی بہکاوے میں آ کر لائک کر دیئے تھے - ایسی ویب سائٹ کا وزٹ کرنا چھوڑ دیں گے جنہوں نے ہم پاکستانیوں کو پوری دنیا میں فحش ویب سائٹ پر سالانہ وزٹ کے اعتبار سے پہلی پوزیشن دلائی ہے ، مجھے امید ہے دو ہزار سولہ کے اعداد و شمار میں پاکستان کا نام ان ممالک میں سرفہرست ہو گا جو ایسی ویب سائٹ پر جانا تو دور کی بات ان کا نام تک سننا پسند نہیں کرتے -
میں اس ’فحاشی بھگاو¿ تحریک ‘ میں اپنے تمام پاکستانی دوستوں کے ساتھ ہوں -

’فحاشی بھگاو تحریک‘ کے تضادات” پر بصرے

  • دسمبر 21, 2015 at 11:00 PM
    Permalink

    The liberaloons, secularoons, and murtadoons spare no opportunity to put in their anti-islamic mindset.......Pakistan is FUNDAMENTALIST Islamic nation...TRy not to dilute it into "modern" "liberal" "roshan Khayal " kind of lowlife's level. .

    Reply
  • دسمبر 22, 2015 at 2:27 PM
    Permalink

    بہت عمدہ تجزیہ کیا ہے ۔ ہم سب بحثیت قوم منفافقت کا شکار ہیں اور یہ تضادات اسی منافقت کے باعث ہیں

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *