مجھ پہ آئی کہاں ٹلی ہے ابھی....

wisi babaروس کے بے دریغ داعش کے خلاف سرگرم ہو جانے کے بعد اس تنظیم کو کافی چانن ہو چکا ہے۔ اب داعش کی قیادت محفوظ علاقے کی جانب منتقل ہونے کے لئے سنجیدہ سوچ بچار کر رہی ہے۔ یہاں تک سب ٹھیک ہے کہ ہمارا اس سب سے کچھ خاص لینا دینا نہیں۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے جلال آباد آنے کی اطلاعات مل رہی ہیں۔
سینٹ کام کے امریکی کمانڈر نے ننگرہار میں داعش سے منسلک لڑاکوں کی تعداد تین ہزار کے قریب بتائی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان کو ٹی ٹی پی کی حمایت حاصل ہے۔ داعش کے قیادت کے اس علاقے میں منتقل ہونے سے پاکستان کے لئے مسائل میں بے تحاشا اضافہ ہو جائے گا۔
البغدادی کے جلال آباد آنے کے اثرات بہت دور تک جائیں گے۔ اس کے متاثرین میں علاقائی ممالک کے ساتھ افغان طالبان بھی براہ راست متاثر فریق ہونگے۔ داعش کے خلاف سب سے موثر کارروائی کا آغاز بھی طالبان نے ہی کیا ہے جو ان تمام ولائیت اور اضلاع میں سرگرم ہو گئے ہیں جہاں داعش جڑ پکڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
البغدادی کے اس ریجن میں آنے کی وجہ شدت پسندوں کی قیادت حاصل کرنا ہے اس کے علاوہ خراسان کے بارے میں احادیث جن میں غزوہ ہند کا بھی زکر کیا گیا ہے ان کی بنیاد پر داعش کا خیال ہے کہ وہ یہاں سے بیٹھ کر تکنیکی طور پر تمام شدت پسندوں کو قیادت فراہم کر سکیں گے۔ ایسے میں وہ اپنے لئے امکانات بہت زیادہ محسوس کرتے ہیں جب افغان طالبان اپنی لڑائی کو افغانستان کی حدود کے اندر تک محدود کر چکے ہیں جبکہ داعش کا گلوبل ایجنڈا ہے جو غیر ملکی شدت پسند تنظیموں کو بہت اٹریکٹ کرتا ہے۔
ایسے میں یہ صورتحال اور بھی خوفناک ہو جاتی ہے کہ طالبان کے پاس امن کی بات کرنے کا امکان کم ہو جاتا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ جنگ آزما لوگ امن کی بات کرنے پر داعش کی جانب چلے جائیں گے خاص کر افغانستان میں موجود غیر ملکی شدت پسند جن میں چیچن، ازبک اور چینی عسکریت پسند شامل ہیں۔
پاکستان کے لئے یہ صورتحال آپریشن ضرب عضب اور ایک منظم فوج کی وجہ سے اتنی تشویشناک نہیں ہے لیکن اگر واقعی بغدای نے ہمارے ریجن کا رخ کر لیا تو اس کے اثرات ہمارے لئے بھی بہت پریشانیاں لانے والے ہیں ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *