بیانئے کی تلاش

jamshe iqbalاسلام ، امن اور جنگ کے موضوع پر جس قدر کتابیں گیارہ ستمبر کے واقعے کے بعد لکھی گئی ہیں ان کی تعداد اس موضوع پر اس واقعے سے قبل لکھی جانی والی کتابوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ان میں سے کچھ کتب تنقیدی نوعیت کی ہیں تاہم وہ ممالک جہاں مسلمانوں کی تعداد زیادہ ہے وہاں مابعد الطبیعاتی اور روحانی، الہٰیاتی، فقہی و سیاسی اور سماجی و ثقافتی اپروچز کی مدد سے ایسے بیانئے سامنے لائے جارہے ہیں جو پائیدار امن کی بنیاد بن سکیں۔ دنیا کی کئی یونیورسٹیوں میں عصری اسلام ، تشدد اور قیام ِ امن کے ساتھ اسلام کا رشتہ اور مسلمانوں میں تشدد پر قابو پانے اور قیام امن کو یقینی بنانے کے لئے طریقہ ہائے کارکو نئی شکل دینے اور ان کی از سر نو تشریح کے امکانات پر غور و خوض کیاجارہا ہے۔ ہوسکتا ہے پاکستان میں بھی کچھ ادارے اس پر کام کررہے ہوں لیکن اس وقت پاکستان میں جو بیانیہ شرفِ قبولیت حاصل کر چکا ہے وہ’کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا ‘ہے۔
اس بیانئے کے اختصار پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا کیونکہ طاقتور بیانئے ہمیشہ مختصر اور تمثیلی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر قرونِ وسطیٰ میں کلیسا کوجس بیانئے کی مدد سے طاقت حاصل ہوئی وہ بھی اختصار ، تمثیل اور سادگی کی شرائط پر پورا اترتا تھا ۔ اس دور میں لوگوں کو یہ سمجھایا گیا تھا کہ کلیسا سورج جبکہ تاج چاند ہے۔ سورج خدا سے براہِ راست روشنی لیتا ہے لیکن اگر چاند سورج سے روشنی مستعار نہ لے تو وہ خود بھی اندھا ہوجاتا ہے۔کہتے ہیں مغرب میں جب تک اس بیانئے کا راج رہا ، طالع کلیسا کو اوج نصیب رہا۔
اس بیانئے سے اختلاف کی وجہ اس کا اختصار کی نسبت اس کی تباہ کن سادگی اور فرار ہے ۔جب یہ جملہ پہلی بار بولا گیا تھا تو اس وقت بھی اس کی مدد سے گروہی طرز کی جنگی فکر کو بچانا مقصود تھا اور آج بھی اس سے یہی کام لیا جارہا ہے۔ صدیاں بیت گئیں، وقت بدل گیا، وقت کے تقاضے بدل گئے لیکن اس جملے کا مقصد نہیں بدلا۔
کچھ لوگ کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا کا خالق سابق وزیر داخلہ ر حمن ملک کو سمجھتے ہیں لیکن یہ جملہ پہلی بار رحمن ملک نے پارلیمنٹ میں نہیں بلکہ رچرڈ شیر دل کی فوج نے میدانِ جنگ میں اس وقت بولا جب صلاح الدین ایوبی نے مسلمانوں کے قتل ِ عام کا بدلہ لینے کی بجائے عام معافی کا اعلان کردیا تھا۔اس وقت بھی کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا صدائے فرار تھی۔ کیونکہ مسلمان دشمن تھا اور میدانِ جنگ میں کسی دشمن کے اخلاقی عمل کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔اگر تسلیم کرنا ہے تو اسے اپنے گروہ میں شامل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ورنہ مسلمانوں اور مسیحیوں کے مابین مزید جنگیں نہ ہوسکتیں کیونکہ صلاح الدین کو مسلمان تسلیم کرنا دراصل یہ تسلیم کرنا تھا کہ معافی جیسی اعلیٰ اخلاقی اقدار پر کسی ایک مذہب کی اجارہ داری نہیں ہوسکتی۔ ایسے میں ’کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا ‘کا فسانہ اس لئے گھڑا گیا تاکہ جنگ جاری رہے۔
میدانِ جنگ میں دشمن کو اخلاقی اور دوست کو غیر اخلاقی منصب پر فائز سمجھنا خطرناک ہے کیونکہ یہ مانتے ہی جنگجوﺅں کا مورال گرجاتا ہے۔ حق و باطل کے عظیم معرکوں پر لگے چاندی کے ورق یکلخت جھڑ جاتے ہیں اور وہ محض زر ، زمین اور اختیار کے لئے لڑی جانے والی عام جنگیں بن جاتی ہیں۔
میدان جنگ میں کھڑے لوگ اگر یہ سوچ لیں کہ ان کا مدمقابل اخلاقی لحاظ سے ان سے بہتر یا پھر ہم پلہ ہے تو وہ شاید اس گرم جوشی سے نہ لڑ سکیں جتنا کہ وہ یہ سوچ کر لڑتے کہ ا±ن کے مد مقابل شر کا نمائندہ ہے اور وہ شر کی قوت سے جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس لئے کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا دراصل ایک جنگی بیانیہ ہے اور اس کی کوکھ سے امن نہیں جنگ ہی جنم لے سکتی ہے۔
جب ہم کہتے ہیں کہ کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا تو ایک طرف یہ ظاہر کررہے ہوتے ہیں کہ ہم میدانِ جنگ میں ہیں اور ہم نے اپنوں کے چہرے پر پردہ ڈالنا ہے۔یا پھر ہم ا±ن چہروں پر پردہ ڈال دیتے ہیں جنہیں ہم دیکھنا نہیں چاہتے۔ ہم ا±ن ناموں پر پردہ ڈالتے ہیں جو ہم لینے سے ڈرتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ کسی کا نام نہ لے کر ہم اس کی دہشت بڑھا رہے ہیں۔اس بیانئے کی اوٹ میں ہم ذمہ داری قبول نہیں کرتے۔ ان چراغوں سے نظریں چرا لیتے ہیں جو ہمارے گھروں کو جلا رہے ہیں۔ایسے میں ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہم دیکھیں یا نہ دیکھیں۔ جلنے کا عمل جاری ہے۔ہمارے نہ دیکھنے سے آگ اندازِ گلستاں پیدا نہیں کرسکتی۔
’کوئی مسلمان ایسا نہیں کرسکتا ‘کی آواز شناخت کا کہنہ بت ٹوٹنے سے آتی ہے۔دہشت گردی کا ہر واقعہ اس بے بنیاد احساسِ تفاخر پر سوالیہ دراڑ ڈال جاتا ہے کہ دوسرے مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ اچھے اور ہمارے ہم مذہب برے نہیں ہوسکتے۔ یہ خواب ٹوٹنے سے آتی ہے کہ صرف ہمارا گروہ خیر کا علمبردار اور باقی سب مطلق شر۔
د±وسرے گروہ کو مطلق شر قرار دینا ایک جنگی حکمتِ عملی ہے جوکہ گروہی فکر کے نتیجے میں جنم لیتی ہے۔ گروہی فکر جنگی جنون کے موسموں میں پروان چڑھتی ہے۔ گروہی سوچ کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس طرزِ فکر کو اپنا کر ہمیں سوچنا نہیں پڑتا۔ سب کچھ پہلے ہی سوچا سمجھا جاچکا ہوتا ہے۔ کچھ تزویراتی ذہنوں نے ایک حلوہ تیار کیا ہوتا ہے۔ہمارا کام آنکھیں بند کر کے کھانا ہوتا ہے اورپھر اس کا جادو سر چڑھ کر بولنا شروع کردیتا ہے۔ہماری دنیا سازش کی بو سے معطر ہوجاتی ہے اور ہم جہاں ہاتھ رکھتے ہیں، جو جگہ ٹٹولتے ہیں، وہیں تیسرے ہاتھ کو منتظر پاتے ہیں۔گروہی فکر کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس میں ہم نہ ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور نہ مسائل حل ہوتے ہیں۔ہم مسائل کو نہیں لوگوں کو مسائل سمجھ لیتے ہیں۔ اس طرز کی سوچ سے ڈارون کا نظریہ ارتقا بھی درست ثابت ہوتا ہے کیونکہ ہمارے ہم عصر آباو اجداد اور گومبے کے چمپنزی ابھی تک اسی انداز میں سوچ رہے ہیں۔
گروہی فکر میں ذمہ داری قبول نہیں بلکہ دوسروں پر ڈالی جاتی ہے۔مثال کے طور پر یہ کہنا کہ دہشت گردی کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ۔ یہ کہنا بھی غلط ہے کہ دہشت گردی کا صرف مسلمانوں سے ہی تعلق ہے۔ پہلا موقف فرار اور دوسرا فساد ہے۔ لیکن دہشت گردی کا تعلق مسلمانوں سے نہ سہی اسلام کی توسیع پسندانہ ، عسکری و سیاسی تشریح سے ضرور ہے۔یہ مان لینا نہ فساد ہے نہ فرار ہے بلکہ ذمہ داری قبول کرنا ہے۔ تنازعے اور مسئلے کے وجود کو تسلیم کرنا ہے۔ اور جب تک ہم مسئلہ تسلیم نہیں کرتے اس کا حل بھی نہیں نکالا جاسکتا۔ جیسے جب تک ہم بیماری تسلیم نہیں کرلیتے اس کا علاج ممکن نہیں۔اگر ہم زخم کو پھول سمجھتے رہیں تو کبھی صحت یاب نہیں ہوسکتے۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے زخم کو زخم سمجھیں۔میدانِ جنگ میں نہیں کسی جائے امن میں پائیدار امن کا قومی بیانیہ تشکیل دیں۔ وہ فلاں سے ڈرتا ہے اور مجھے فلاں کو پڑھانا ہے بھی جنگی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ہمیں امن کا بیانیہ سامنے لانے میں جذبات سے نہیں عقل و دانش سے کام لینا ہے ورنہ دیر ہوسکتی ہے۔ دنیا کی نظر صرف داعش پر مرکوز ہیں لیکن سنٹر آن ریلیجن اینڈ جیوپالیٹکس (CRG) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس وقت پندرہ گروہ ایسے ہیں جو داعش کا خلا پیدا ہونے سے پہلے ہی اسے پر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جس وقت وطن عزیز سے یہ خبریں آرہی ہوں کہ بڑے تعلیمی اداروں کے سربراہوں کا تعلق انتہا پسند تنظیموں سے ہے ، ایسے میں ’ کوئی مسلمان ایسا نہیں کر سکتا‘ کی ہوائی ڈھال کے پیچھے چھپے رہنا اجتماعی خودکشی کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

بیانئے کی تلاش” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 23, 2015 at 8:25 PM
    Permalink

    اس کالم کا تنقیدی جائزہ لینے سے پہلے صرف اتنا عرض ہے کہ مسلمان ایسا نہیں کر سکتا کا مطلب اگر تمام مسلمانوں کی معصوم تصور کیا جائے تو یقنا غلط ہوگا مگر اس ناچیز کی رائے یہ ہے کہ اس کا مطلب ہے دہشت گردی جیسی مذموم حرکت کا اسلامی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے مزید برآں یہ کہ اسلام نے عام حالات کی علاوہ جنگی میدان میں بھی کچھ اصول متعین کر رکھےہیں جس کی پیروی لازمی ہے۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *