سیرت نبوی ﷺ اور موجودہ دور

میاں عامر بشیر

mian amirاسلام کا تحریکی شعور برابر اس ضرورت کو محسوس کررہاہے کہ دنیا کے سب سے عظیم انسان سیدنا حضرت محمد ﷺکی زندگی کا مطالعہ نئے انداز سے کیا جائے۔ ایک ایسا انداز جو سرداردوعالم ﷺاور آج کے انسان کے درمیان حائل ہونے والے مختلف پردوں کو اٹھادے آپ کے مبارک دور اور دورحاضر میں موجود تبدیلیوں کی نشان دہی کرکے راہ راست کی طرف ہماری رہبری کرے.وہ مقدس زندگی فقط ایک فرد کی سوانح حیات نہیں ہے بلکہ وہ عظیم ترین مذہب کی مکمل آئینہ دار ہے۔آپہی کی زندگی میں ہم قرآن مجید کا ترجمہ عمل کی زبان میں پڑھ سکتے ہیںاوراسی کی روشنی میں ہم اجتماعی انقلاب کی کٹھن راہوں کو طے کرسکتے ہیں اور اسی سے ہم اپنی راہ عمل متعین کرسکتے ہیں جن راہوں پر انسانیت چل کر اسلامی نظام حیات کی بہشت تک جاسکتی ہے. تاریخ کے ہمالہ پر کھڑے ہوکر ماضی انسان کے وسیع وعریض دور پر نظر دوڑائیں تو اس میں ہمیں طرح طرح کے مفکرین نظر آئیں گے.کوئی شیریں لسان وزبان مقررہے تو کوئی آتش بیان خطیب.کوئی فلسفی ہے اور کوئی کیمیادان.کبھی ہمیں علما کاہجوم ملے گا .جنگجوفاتحین کی داستانیں اور انقلابی طاقتیں نگاہوں میں آتی ہیں جنھوں نے دنیا کے نقشے کو باربار تبدیل کیا.لیکن جب ہم ان کی تعلیمات ان کے کارنامے اور ان سے حاصل شدہ مجموعی نتائج کو دیکھتے ہیں تو کہیں خیروفلاح دکھائی بھی دیتی ہے تو وہ جزوی قسم کی ہے.انبیائے کرام کے سواکوئی عنصر تاریخ میں ایسا نہیں دکھائی دیتا جو انسان کو بلکہ پورے کے پورے انسان کو اندر سے بدل ڈالے. حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اصل کارنامہ یہی ہے کہ آپ کی دعوت نے پورے کے پورے انسان کو اندر سے بدل ڈالا اور صبغت اللہ کا ایک ہی رنگ گھر سے مسجد تک.مسجد سے لے کر بازار تک.درسگاہ سے لے کر عدالت تک اور گھروں سے لےکرمیدان جنگ تک چھا گیا.ذہن بدل گئے.خیالات کی رت بدل گئی.نگاہ کا زاویہ بدل گیا.رسوم ورواج بدل گئے.دستوروقانون ،معیشت اور معاشرت کے اطوار بدل گئے ایک سرے سے دوسرے سرے تک فلاح اور اصلاح ہی نظر آتی تھی. حضوراکرم کا ظہور ایسے حالات میںہوا جب پوری انسانیت تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھی ۔شرک ،بت پرستی کی لعنتیں عام تھیں۔ مصر،ہندوستان ،بابل یونان اور چین میں تہذیب اپنی شمعیں گل کر چکی تھی۔ یہ تھے وہ مختصر حالات جن میں آپ عظیم ترین تبدیلی کا پیغام لے کر تنہا اٹھے ۔ایسے مایوس کن حالات میں کوئی دوسرا ہوتا تو شایدزندگی سے بھاگ کھڑا ہوتا.
پیغمبر حق نے کسی اعتقاد ،کسی نظریے اور کسی نقشہ فکر کے بغیراصلاح وتعمیر کا کام یوں ہی شروع نہیں کیا بلکہ آپ عظیم ترین سچائی کی مشعل لے کر اٹھے۔ غارحرا کی خلوتوں میں مدتوں اپنے اندر کا بھی مطالعہ کیا تھا اور بیرونی عالم پر بھی غور کیا لیکن عملی اقدام اس وقت تک نہیں کیا جب تک علم الٰہی نے آپکے قلب کو حقیقت سے منور نہیں کردیا.اور سب سے بڑی سچائی پوری طرح آپکے سامنے بے نقاب نہیں ہوگئی کہ کائنات کا ایک اللہ جل شانہ ہے اور انسان اس کا بندہ ہے۔ یہی کلمہ حق حضوراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انقلاب کا بیج بنا تھا۔اس بیج سے صالح زندگی اور صحت مند تمدن کا وہ شجر طیبہ نمودارہوا تھا جس کی شان یہ ہے کہ اس کی جڑیں گہری اتری ہوئیں اور اس کی شاخیں فضا کی بلندیوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔
اب وقت آگیا ہے کہ ہم اور ہمارے جوان تہذیب حاضر کی مرعوبیت کا بوجھ سر سے اتار پھینکیں اور اس مادہ پرستانہ دور کے خلاف فکری کام کا علم اٹھائیں.حضوراکرم کی سیرت طیبہ کو کتابوں سے نکال کر نئے سرے سے اپنی عملی زندگیوں کے اوراق میں سجائیں۔ قرآن کو جزدانوں سے نکال کر اپنی پیشانیوں میں بسائیں۔ ایک اللہ کے سامنے گردن جھکائیں.اسی طرح ہم راہ نجات کھولنے والی وہ تیسری طاقت بنیں گے جس کی جگہ تاریخ میں خالی پڑی ہے اور ایسا صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب ہم سب اسلام کی طرف سے عائد قوانین کا احترام کریں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *