کراچی اور ماورائی مخلوق

jamil khanآج کل کراچی میں ہڑتالوں کا رجحان کچھ کمزور پڑگیا ہے، اس کا سہرا رینجرز کے سر ڈالا جاتا ہے۔ یقیناً متحدہ قومی موومنٹ کراچی کے بڑے حصے کو بند کروانے اور کاروبارِ زندگی معطل کرنے کی طاقت رکھتی ہے، تاہم تواتر سے ہڑتالوں نے اس کی اس طاقت کو بھی کمزور کردیا تھا، اور شہر کی بڑی شاہراوں پر سخت ہڑتالوں کے دوران بھی ٹریفک کی روانی دیکھی جانے لگی تھی۔ لیکن چونکہ رینجرز نے متحدہ قومی موومنٹ کے بیشتر کارکنان کو گرفتار کررکھا ہے، اور بہت سے گرفتاری سے بچنے کے لیے روپوش ہیں، اس لیے اگر اب متحدہ قومی موومنٹ ہڑتال کا اعلان کرے گی تو پھر شاید یہ پہلے سے مزید کمزور ہوگی۔
کراچی میں پچھلے دس برس کے دوران دیکھا گیا ہے کہ بیشتر ہڑتالوں اور پرتشدد سیاسی و مذہبی مظاہروں کے واقعات میں رینجرز غیرجانبدار رہا کرتی تھی، بلکہ سچ پوچھیے تو کسی بھی عوامی مسائل کے سلسلے میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا۔ ڈکیتیوں اور قتل کی واردات کرنے والے رینجرز کی چوکیوں کے سامنے سے بلاخوف و خطر گزرجاتے تھے۔ رینجرز کے سپاہیوں کے سامنے ٹریفک جام کے دوران گاڑیوں کے مسافروں سے لوٹ مار کے واقعات چشم دید ہیں۔ بعض واقعات میں چھنا جھپٹی کے دوران زیورات اتارنے یا موبائل دینے میں تاخیر پر مجرموں نے گولیاں چلانے سے بھی گریز نہیں کیا اور ان سے ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ لیکن عام مشاہدہ تو یہی تھا کہ اکثر واقعات کے دوران رینجرز کے سپاہی غیرجانبدار کھڑے رہتے تھے۔
سندھ کے ساحلی شہر میں متحدہ ہی نہیں بیشتر مذہبی اور سیاسی جماعتیں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔ چونکہ بدنام متحدہ ہے، اس لیے نزلہ بھی اسی پر گرتا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ معاملہ مذہبی ہو یا سیاسی، اکھاڑہ کراچی کو ہی بنایا جاتا رہا ہے۔
بے نظیر بھٹو مرحومہ کو راولپنڈی میں قتل کیا گیا، کراچی پیپلزپارٹی کا گڑھ بھی نہیں لیکن سب سے زیادہ برباد کراچی ہی ہوا۔ یہ میرا ذاتی مشاہدہ بھی تھا کہ کراچی میں پیپلزپارٹی کے بیشتر کارکنان نے ٹائر جلا کر احتجاج کیا اور جہاں جہاں بلوچ گوٹھ ہیں وہاں پر شاہراو¿ں کو بند کردیا گیا، لیکن اکثر جگہ نہ تو لوٹ مار کی گئی نہ ہی میلوں پیدل چل کر گھر جانے والے ہزاروں لوگوں کو تنگ کیا گیا، جن میں خواتین اور بچوں کی بھی بہت بڑی تعداد شامل تھی۔
4e58تاہم تین دن تک کراچی میں کسی ماورائی مخلوق کا راج رہا، جس نے ناصرف لوٹ مار کی، بینکوں کے تالے توڑ کر لوٹا گیا، اے ٹی ایم مشینیں اکھاڑ کر لے گئے، سینکڑوں لڑکیاں اغوا ہوئیں، کھربوں روپے کی املاک کو جلا کر خاکستر کردیا گیا.... اور الحمدللہ رینجرز کے سپاہی تمام کارروائیوں سے لاتعلق رہے۔
اس ماورائی مخلوق سے کراچی کے بیشتر باشعور شہری اب واقف ہوتے جارہے ہیں۔ جب افغانستان پر حملہ ہوا تو کراچی میں اس ماورائی مخلوق کی طاقت کا مظاہرہ دیکھا گیا۔ شہر کی بڑی شاہرائیں بند ہوگئیں، ٹریفک سگنلز تباہ کردیے گئے، سرکاری املاک نذرِ آتش کردی گئیں۔ ایسا ہی کچھ عراق پر حملے کے بعد بھی ہوا۔ آپسی چپقلش ہو یاکروڑوں بلکہ بعض لوگوں کے مطابق اربوں روپے کے فنڈز پر مذہبی مدرسوں کے منتظمین کے باہمی جھگڑوں کی بنا پر کراچی میں قتل ہونے والے مذہبی عالموں کے نام پر کیے جانے والے پرتشدد احتجاج کو کون بھلا سکتا ہے؟ ایک مفتی کی ہلاکت پرشہر میں کا جو طوفان اٹھا تو اس میں پٹرول پمپ اور دیگر سرکاری املاک نذرآتش کرنے کے ساتھ ساتھ قائداعظم اکیڈمی کی عمارت کو بھی نذرِ آتش کردیا گیا، جس سے عمارت میں قائم لائبریری میں قیمتی اور نادر کتابیں بھی جل کر خاک ہوگئیں۔
آپ کو بھی یاد ہوگا کہ 21 ستمبر 2012ءکو ملک بھر میں یومِ عشقِ رسول ﷺ منایا گیا تھا۔ اس روز شہر میں وحشت اور دہشت کا جو خوفناک کھیل کھیلا گیا، شہر کے کاروباری طبقے کے بیشتر لوگ شاید ہی کبھی بھلا سکیں۔ اس روز عام تعطیل تھی، چنانچہ تالے توڑ کر بینک لوٹے گئے، دفاتر کا سامان لوٹا گیا، الیکٹرانکس کی دکانوں کا سامان لوٹ لیا گیا۔ اس روز پندرہ سے چھبیس برس کے نوجوان بھی ماورائی مخلوق کے ہمقدم تھے۔ اس روز رات گئے ایک دوست کا میسج موصول ہوا جس میں انہوں نے مجھے آگاہ کیا کہ ان کے ایک نمازی پرہیزگار پڑوسی جو شرعی وضع قطع کے بھی حامل ہیں، احتجاجی مظاہرے میں شرکت کرنے گئے تھے، واپسی پر 32 انچ کا ایل ای ڈی ٹی وی اور چند موبائل فون بطور مالِ غنیمت اپنے ہمرہ لیتے آئے۔
5f88اس وحشتناک دن پٹرول پمپس نذرآتش کرنے اور بینکوں کو لوٹنے کے علاوہ بہت سے سینما بھی نذرآتش کیے گئے، شاید احتجاج کرنے والوں کو یہ باور کرایا گیا تھا کہ وہ توہین آمیز فلم جس کے خلاف یہ مظاہرہ کیا جارہا ہے، انہی سینماو¿ں میں دکھائی جارہی تھی۔
ایک دن قبل اسی فلم کے خلاف بطور احتجاج کراچی کے سول ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی گئی اور لاکھوں روپے کے قیمتی آلات تباہ و برباد کردیے گئے، علاوہ ازیں ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملے کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
اس وحشتناک اور پرتشدد احتجاج پر ہم نے اس روز ایک قطعہ کہا تھا، جو کچھ یوں تھا
عشق کے نام پر تو عقل سے بیگانہ نہ بن
مرکز جہل نہ بن، غافل و مستانہ نہ بن
بہشت میں لے جائے گا تجھے کیا تیرا جنون؟
بن نہ آزار جہاں کے لیے، دیوانہ نہ بن
اس قطعے کو بی بی سی کی اردو ویب سائٹ پر شایع ہونے والے ایک مضمون میں میرا نام دیے بغیر شامل کیا گیا تھا۔ گوکہ ہم نے کبھی شاعر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا، تاہم بی بی سی کی اس حرکت پر افسوس ہوا تھا۔
خیر بات ہورہی تھی کراچی میں ہونے والے پرتشدد احتجاج اور ہڑتالوں کی.... کہاجاتا ہے کہ کراچی کی آبادی ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ ہوگی، اس قدر کثیر آبادی والے شہر کو بند کردینے سے شہریوں کو کس قدر گھمبیر مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اس پر تفصیل کے ساتھ تو شاید ہی کبھی لکھا گیا ہو۔ ہمارا الیکٹرانک میڈیا تو یوں بھی انہی مسائل پر بات کرتا ہے، جن کے ذریعے اس کی ریٹنگ میں اضافہ ہوسکے۔ ہر ہڑتال، یاپرتشدد احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے غریب لوگوں کی دیہاڑی ماری جاتی ہے، کتنے ہی مریض فوری طبی امداد نہ ملنے سے فوت ہوجاتے ہیں اس حوالے سے ہمارے پاس کوئی اعداد و شمار نہیں ہیں، اور اگر کسی مذہبی معاملے پر احتجاج یا ہڑتال ہورہی ہو تو ہمارا تھالی کا بینگن میڈیا مذہبی طبقے کی ناراضگی کے ڈر سے ایسی خبریں دینے سے گریز ہی کرتا ہے۔ خود مجھے اور میرے جاننے والوں، پڑوسیوں، عزیزوں اور رشتہ داروں کو ان حالات میں جس طرح کی تکالیف اور پریشانی سے گزرنا پڑا، انہیں بھلانا ممکن نہیں۔ یہ ایک 36669محدود حلقے کے تجربات ہیں، اگر پورے شہر سے اس طرح کے واقعات اکھٹا کیے جائیں تو ان کا احاطہ کرنے کے لیے شاید کئی جلدوں پر مشتمل ایک کتاب درکار ہوگی۔
کراچی میں جابجا فلائی اوورز اور انڈرپاسز کی تعمیر کے باوجود ٹریفک جام کی صورتحال بھی انتہائی خطرناک ہوتی جارہی ہے۔ جس کی وجہ سے بھی اکثر مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بہت سے ٹریفک جام میں کئی مریض کی ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں، اور زچہ خواتین کے رحم میں بچوں کی اموات بھی، لیکن ایسے بیشتر واقعات کا تذکرہ میڈیا پر نہیں ہوتا۔
آج دس مہینے کی بسمہ کی موت کی خبر دوپہر سے میڈیا پر زور و شور کے ساتھ چل رہی ہے۔ ایسی کتنی ہی بسمہ شہر میں ہڑتالوں، پرتشدداحتجاجی مظاہروں، ٹریفک جام، وی وی آئی پی موومنٹ اور احتجاجی دھرنوں کی وجہ سے ہلاک ہوچکی ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ایک پڑوسی کے ہاں ولادت ہونے والی تھی، کسی مذہبی جماعت کی احتجاجی اور پرتشدد ہڑتال کے باعث بچے کی قبل از ولادت موت ہوگئی تھی۔
اسی طرح ایک عزیز اپنی بیمار اہلیہ کو لیے پانچ گھنٹے تک ہسپتال جانے کی کوشش کرتے رہے تھے، اس روز ایک مذہبی طبقے کے لوگ شہر کی بڑی شاہراہوں پر جگہ جگہ دھرنا دیے بیٹھے تھے، ان صاحب نے بہت منت سماجت کی کہ انہیں جناح یا سول ہسپتال فوراً پہنچنا ہے، ان کی اہلیہ کی جان خطرے میں ہے، انہیں جانے دیا جائے، لیکن دھرنے پر براجمان لوگوں نے ان سے انتہائی ڈھٹائی سے کہہ دیا کہ ان کے علما کی اجازت نہیں ہے کہ کسی کو بھی آگے جانے دیا جائے۔ سروس روڈ یا گلیوں میں سے ہوتے ہوئے وہ پانچ گھنٹوں میں ہسپتال پہنچ سکے اور زچہ و بچہ کی جان بمشکل بچ سکی، جبکہ عام طور پر یہ فاصلہ چالیس منٹ میں طے ہوجاتا ہے۔
ٹریفک جام ہو یا پرتشدد مظاہرے یا ہڑتال، اس روز مسافروں کو ایئرپورٹ پہنچنا امرمحال بن جاتا ہے۔ لیکن ایسی خبریں میڈیا پر نشر نہیں ہوتیں۔
واضح رہے کہ ماضی کے ان واقعات کے دوران بھی شہر میں رینجرز کے سپاہی تعینات ہوا کرتے تھے، اور تمام حالات و واقعات سے لاتعلق اپنی اپنی چوکیوں پر چوکس کھڑے رہتے تھے۔
آج بسمہ کی ہلاکت کے حوالے سے میڈیا کے شور و غوغا پر محترم دوست سرفراز احمد نے نہایت جامع تبصرہ کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ:
”سول ملٹری لڑائی میں آج ملٹری کا پلڑا بھاری ہے، آرمی اسکول میں بچے قتل ہوں تو ذمہ داری کسی پر نہیں، بے بی بسمہ کی موت کی ذمہ داری سے سول گورنمنٹ بری الذّمہ ہو ہی نہیں سکتی۔“
خیر اربابِ اقتدار سول ہوں یا فوجی یا نیم فوجی، ان سب کی ذمہ داری عوام کی جان، مال اور املاک کا تحفظ کرنا ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت یا پیپلزپارٹی کی موجودہ قیادت سے ہمیں کوئی ہمدردی نہیں، لیکن کچھ عرصے سے فوج اور وفاقی حکومت نے جس طرز کا جانبدارانہ رویہ اختیار کررکھا ہے، ہمیں نجانے کیوں اس رویے میں مشرقی پاکستان کے شہریوں اور سیاسی قیادت کے حوالے سے اختیار کیے گئے رویے کا عکس دکھائی دینے لگا ہے۔
عجیب طرفہ تماشہ ہے کہ دہشت گردی کے مقدمات کے تحت پھانسی کی سزا پانے والے مجرموں کی نمازِ جنازہ پڑھانے والے علمائے دین کہلائیں اور پولیس کی جانب سے ڈاکٹر عاصم کے خلاف ثبوت نہ ملنے کے اعتراف کے باوجود انہیں دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دیا جائے۔
کراچی میں بلدیاتی انتخابات ہوچکے ہیں، اب مقامی سطح کی قیادت کو ان کی ذمہ داریاں سونپنے سے گریز کی کوششیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ کراچی کے شہریوں کو ماورائی مخلوق سے جب تک نجات نہیں ملے گی، اس وقت تک اس شہر پر چھایا ہوا آسیب دور نہیں ہوگا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *