پروٹوکول، بچی کی موت اور ضمنی انتخاب

syed Mujahid Aliآج پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پر دو خبروں کا راج رہا۔ صبح سے ملک کے سب ٹیلی ویڑن اسٹیشنوں پر یہ افسوسناک خبر بار بار نشر کی گئی کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پروٹوکول اور سکیورٹی انتظامات کی وجہ سے دس ماہ کی بسمہ بروقت اسپتال نہ پہنچائی جا سکی اور وہ اسپتال کے دروازے پر دم توڑ گئی۔ گو کہ ملک میں سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر اور وی آئی پی کلچر کی بدولت راستے روکنے اور عام شہریوں کو عاجز کرنے کا مسئلہ قومی عارضے کی حیثیت اختیار کر چکا ہے لیکن اس معاملہ کو میڈیا اور مخالف سیاسی پارٹیوں نے جس طرح قبول عام اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کیا ہے، وہ اپنے طور پر ایک افسوسناک رویہ ہے۔ ایسے معاملات میں کسی ایک فرد یا پارٹی کو نشانہ بنانے کی بجائے ملک میں عمومی مزاج کی اصلاح کے لئے کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ میڈیا پر دوسری بڑی خبر لودھراں کے حلقہ 154 کے ضمنی انتخاب سے متعلق تھی۔ اس انتخاب میں آخری خبریں آنے تک تحریک انصاف کے جہانگیر ترین بڑے مارجن سے جیت رہے تھے۔ اس کے باوجود ان کی طرف سے پری پول دھاندلی کے الزامات بھی عائد ہو رہے تھے۔ یہ مزاج اور رویہ بھی سیاسی جمہوری ماحول کے لئے مستحسن نہیں ہے۔
یوں تو کسی بھی جگہ کسی بھی شخص کی موت ایک المناک سانحہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ خاص طور سے اگر یہ سانحہ کسی دس ماہ کی بچی کے ساتھ پیش آئے اور وہ محض اس لئے جانبر نہ ہو سکے کہ اسے بروقت طبی امداد فراہم نہیں ہو سکی تو یہ واقعہ مزید افسوسناک اور قابل مذمت ہو جاتا ہے۔ تاہم آج صبح کراچی میں سول اسپتال کے قریب بسمہ نامی بچی کی رحلت کو جس طرح قومی میڈیا نے غم و غصہ اور جارحانہ انداز میں پیش کیا اور معاملہ کی مکمل تحقیق کئے بغیر بلاول بھٹو سمیت پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت کو ہدف تنقید بنایا گیا، وہ میڈیا کی آزادی اور خود مختاری سے زیادہ اس اہم شعبہ کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔ ایک کے بعد دوسرے چینل کے لئے یہ خبر ایک بچی کی المناک موت کی وجہ سے اہم نہیں تھی بلکہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں بڑھ چڑھ کر اس خبر کو جذباتی انداز میں نشر کرنے اور پیپلز پارٹی کے لیڈروں کے ساتھ جارحانہ اور غیر متوازن رویہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ رپورٹنگ یا کسی معاملہ پر بحث کرنے کا یہ طریقہ ناظرین کی توجہ حاصل کرنے اور مدمقابل ٹیلی ویڑن اسٹیشن کو نیچا دکھانے کے لئے اختیار کیا جاتا ہے۔ اس مزاج کو فروغ دینے میں خبریت، سیاسی آگہی اور پروفیشنل ذمہ داری سے زیادہ کمرشل مفادات کا عمل دخل ہوتا ہے۔ اسی لئے ایسے کسی بھی موقع پر صحافی ، رپورٹر یا اینکر خبر کے بارے میں واقعاتی حقائق بتانے کی بجائے یک طرفہ بیان نشر کرنے یا جارحانہ سوال کر کے اپنی خود مختاری ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ رویہ ملک میں صحافتی خود مختاری اور غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کے لئے شدید نقصان کا سبب بن رہا ہے۔
اسی طرح پیپلز پارٹی کی مخالف پارٹیوں نے ایک بچی کی موت کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے لئے استعمال کرنے کی پوری کوشش کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے مقامی لیڈر فوری طور پر اس بچی کے گھر پہنچے اور اس سانحہ کو قتل قرار دے کر جلتی پر تیل ڈالنے کی کوشش کی۔ اس طرح کی بیان بازی سے نہ تو متعلقہ خاندان کو ڈھارس دی جا سکتی ہے اور نہ ہی سماجی و سیاسی رویے تبدیل ہو سکتے ہیں۔ لیکن ایک المیہ کی بنیاد پر بعض چہرے یا لوگ اہمیت اور توجہ ضرور حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ طرز عمل ذمہ دارانہ جمہوری سیاسی عمل کے برعکس ہے۔ پاکستان میں اس وقت ہم آہنگی ، اتفاق رائے اور مسائل کو حل کرنے کے لئے ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایک المیہ پر کسی جانچ پڑتال کے بغیر سیاسی مخالفین کو تختہ مشق بنانے کی کوشش کی جائے گی کیونکہ ملک کا میڈیا اپنے تجارتی مفادات کی وجہ سے ایسی آوازوں کو جگہ دینے پر آمادہ ہے تو موقع ملنے پر دوسری پارٹیاں بھی بالکل اسی رویہ کا مظاہرہ کریں گی۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وی آئی پی کلچر اور سکیورٹی کے نام پر ہونے والے ناقص انتظامات کی وجہ سے ہر روز ملک کے ہر شہر میں لاکھوں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مریض ، بوڑھے اور بچے کئی کئی گھنٹے تک ٹریفک میں پھنسے رہتے ہیں۔ درجنوں ایمبولینسز راستہ نہ ملنے کے سبب شدید بیمار لوگوں کو اسپتال تک پہنچانے سے قاصر رہتی ہیں۔ کوئی نہیں جانتا کہ ان رکاوٹوں کے باعث کتنے لوگ لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ کوئی یہ بھی نہیں جانتا کہ آج سارا دن کے دوران جب دس ماہ کی بسمہ کی موت کی خبر کو اہم ترین قومی المیہ اور انتظامی و سیاسی غفلت کے طور پر پیش کیا جا رہا تھا .... تو اسی دوران کتنے دوسرے بچے اور لوگ اسی قسم کی رکاوٹوں کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے ہوں یا کسی دوسرے جرم کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے ہیں۔ یا دوا نہ ملنے ، سہولت میسر نہ آنے یا متعلقہ اداروں اور ذمہ داروں کی غفلت کی وجہ سے جانبر نہ ہو سکے ہوں۔ یہ معاملات ایک سماجی علت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس میں صرف پیپلز پارٹی یا بلاول بھٹو کو تنقید کا نشانہ بنا کر مسائل حل نہیں کئے جا سکتے۔ یہ مشکلات دور کرنے کے لئے لوگوں میں شعور اور حکمرانوں میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ رویہ چند گھنٹے ایک دوسرے کے مقابلے میں چیخنے ، چلّانے اور الزام تراشی کرنے سے پیدا نہیں ہو سکتا۔ اسے عام کرنے کے لئے میڈیا ، سیاستدانوں ، انتظامی افسروں اور عوام کو یکساں طور سے اپنی ذمہ داری محسوس کرنی ہو گی۔ بصورت دیگر اس قسم کی میڈیا کوریج قوم کے احساس محرومی میں تو اضافہ کر سکتی ہے، معاملات طے کرنے میں کردار ادا نہیں کر سکتی۔
پاکستان میں دوسری اہم ترین خبر لودھراں کا ضمنی انتخاب تھا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے جہانگیر ترین اپنے مدمقابل مسلم لیگ (ن) کے صدیق بلوچ کو شکست دے رہے تھے۔ اس نشست پر بظاہر کامیابی حاصل کرتے ہوئے بھی جہانگیر ترین نے قبل از انتخاب دھاندلی کا الزام عائد کر کے کسی ممکنہ غیر متوقع نتیجہ کے حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کر دی تھی۔ اس نشست پر کامیابی تحریک انصاف کے لئے بے حد اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ ان 5 نشستوں میں شامل تھی جس پر 2013 کے انتخابات کے دوران دھاندلی کے الزامات سے ملک میں دھاندلی ڈرامہ کا آغاز کیا گیا تھا۔ آج حلقہ 154 کے ضمنی انتخاب میں کامیابی کے بعد تحریک انصاف اور عمران خان کو ایک بار پھر دھاندلی کا راگ الاپنے کی بجائے یہ تسلیم کر لینا چاہئے کہ جس طرح بعض حلقوں میں اس پارٹی کو مقبولیت حاصل ہے، اسی طرح بعض دوسرے حلقوں میں دوسری پارٹیاں مقبول ہو سکتی ہیں۔ اس اصول کو تسلیم کئے بغیر پاکستان تحریک انصاف ملکی سیاست میں اپنی اہمیت اور قدر و قیمت کھوتی چلی جائے گی۔
یہ امید کی جا سکتی ہے کہ حلقہ 154 میں جہانگیر ترین کی کامیابی کے بعد اب عمران خان اور ان کی پارٹی دھاندلی کے نام پر لوگوں کو گمراہ اور ہراساں کرنے کی بجائے قومی اسمبلی میں اپنا پارلیمانی رول ادا کرنے پر توجہ دیں گے۔ اس کے علاوہ انہیں پارٹی کی تنظیم نو کرتے ہوئے 2018 کے انتخابات کی تیاری پر توجہ دینی چاہئے۔ حالات و واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ ملک میں نہ تو مڈٹرم الیکشن ہوں گے، نہ نواز شریف کی حکومت ختم ہو گی اور نہ ہی کوئی نادیدہ غیبی ہاتھ عمران خان کو وزارت عظمیٰ کی کرسی پر متمکن کروائے گا۔ اس عہدے تک پہنچنے کے لئے تحریک انصاف کو پاکستان کے عوام کو قائل کرنا ہو گا کہ وہی اس ملک میں بہترین سیاسی متبادل ہیں۔ بصورت دیگر 2018 کے انتخابات کے بعد بھی عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو دھاندلی کے آزمودہ ہتھکنڈے کا سہارا لینا پڑے گا۔ اس طرح تبدیلی تو نہیں آئے گی لیکن عمران خان اپنی اور دوسروں کی پریشانیوں میں اضافہ ضرور کرتے رہیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *