کافروں کا سال....

salim javedسلیم جاوید

آج کی دنیا ایک عالمی گاﺅں ہے اور یہاں نیو ائر فنکشن، ایک ایسا موقع ہے جس میں عام انسان، رنگ ونسل اور عقائد کے اختلافات سے بالاتر ہوکر، یکجا ہو کر خوشی منا سکتے ہیں۔ لیکن اب اس کو بھی مذہب کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔ نفرت کا سودا بک رہا ہے اور دکانداروں کے پاس بیچنے کو مال بہت....
جناب! یہ اسلامی سال کیا ہوتا ہے؟ محرم، صفر حتیٰ کہ رمضان، عہد جاہلیت میں بھی انہی ناموں سے مشہور تھے-وہ پاک نبیﷺ، جو لوگوں کے غلط نام بدل دیا کرتے تھے، انہوں نے ان مہینوں اور دنوں کے ناموں کو نہیں چھیڑا۔ بھائی، منگل کادن، ایک دن ہی ہے۔ نہ کافر ہے نہ مسلمان....
سرکار دو عالم (ص) کے زمانے میں تو کوئی نیا کیلنڈر بنا نہیں۔ حضرت عمر کے دور میں، جب محاصل اور غنائم کا حساب کتاب زیادہ ہوا تو ریکارڈ رکھنے کی خاطر، ایک کیلنڈر کی ضرورت پیش آئی۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس کیلنڈر میں پہلا سال کہاں سے شروع کیا جائے؟ ورنہ مہینوں کے نام اور ترتیب تو وہی تھے جو ابوجہل بھی استعمال کرتا تھا- اس موقع پر، اس زمانے میں رائج، فارسی، رومی کیلنڈروں کو نہ ہی ڈسکس کیا گیا اور نہ ہی ان کے ایکسپرٹ موجود تھے-موجودہ انگریزی کیلنڈر (جو اس قدر مستند ہے کہ مساجد میں دائمی نقشہ اوقات نماز،اسی پر موزوں کیا ہوتا ہے)، اس وقت حضرت عمر کے سامنے پیش ہوا ہوتا تو اسے شایداسی طرح قبول فرما لیتے جیسے حضور نے جنگ خندق میں ایرانیوں کی ٹیکنیک کو یا پھر خود حضرت عمر نے رجسٹر حسابات میں، مصری قبطیوں کے طرز کو قبولا تھا۔ (مگر اس وقت یہ گریگری تقویم یا عیسوی کیلنڈر موجود ہی نہیں تھی۔)
یہاں ایک بات کا تذکرہ بے جا نہ ہوگا کہ نیا کیلنڈر شروع کرنے لئے، جب مشورہ ہوا تو بہت سے صحابہ نے اسے حضور کی ولادت کے سال سے شروع کرنے کا مشورہ دیا لیکن حضرت عمر نے ہجرت کے سال سے شروع کرکے یہ پیغام دیا کہ اسلام، شخصیات سے زیادہ ان قربانیوں کی قدر کرتا ہے جو دین حق کی خاطر اجتماعی طور پر دی گئی ہوں۔ (اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سب صحابہ کی فراست برابر نہ تھی)-
برسبیل تذکرہ،حضرت عیسی(ع) کی ولادت کا نئے گریگورین سال سے کوئی تعلق نہیں۔ رومی چرچ 25 دسمبر کو اور قسطنطنیہ چرچ 7 جنوری کو حضرت عیسی کی ولادت مانتے اورجشن مناتے ہیں۔ موجودہ نیو ائر ایونٹ، اس وقت عالمی تہوار ہے اورملحد ین اسے زیادہ جوش وخروش سے مناتے ہیں کہ وہ اسے ایک غیرمذہبی تہوارقراردیتے ہیں۔ (جو حقیقت بھی ہے۔)
اب رہا یہ مسئلہ کہ نیو ائرپرمبارکباد دینا یا خوشی منانا کافروں کا فعل ہے جس کی نقل نہیں کرنا چاہیے۔ عرض یہ ہے کہ کافروں کی نقل، عبادات میں منع ہے(جیسے محرم کے روزے وغیرہ) ورنہ صحابہ نے بعد میں نہ صرف رومی اور ایرانی عورتوں سے نکاح کئے بلکہ ان جیسے گھر بھی بنائے اورلباس بھی پہنے۔ یادش بخیر! مدرسہ بنوری ٹاو¿ن میں، ورلڈ کپ کے موقع پر، پاکستان کی فتح کے لئے ختم القرآن اور دعا کا اہتمام کیا گیا تھا۔ بھائی صاحب! یہ کرکٹ سے لے کر کبڈی تک، سارے غیرمسلموں کے کھیل ہیں اور آپ ان کفار کے سپورٹس کو جلا بخشنے کی دعا فرماتے ہیں؟
حضرت! اگر کفار کی ہر ترتیب کا الٹ کرنا ہی عین اسلام ہے تو یہ سیاسی جماعتوں کا بنانا، ووٹ مانگنا اور ووٹ دینا تو خالص مغرب کی ایجاد ہے۔ کہاں کی پارٹی اور اس کا پرچم؟ کہاں کا انتخابی نشان اور دھرنے ورنے.... لیکن.... اگر.... مگر.... جی !جی!
بہرحال، معافی چاہتا ہوں، ہوا یہ کہ ایک سوڈانی دوست کو نئے سال کی ِوش کربیٹھا تو اس نے ٹوکا کہ کفار کے سال پہ تہنیت کرتے ہو؟اس سے اندازہ ہوا کہ مولانا حضرات بھی بین الاقوامی لابی رکھتے ہیں لہٰذا یہ چند سطور سپردِ قلم کردیں۔
جہاں تک نئے سال کے فنکشن میں ان خرافات کا تعلق ہے جن کو ہرسلیم الفطرت اور باوقار انسان غلط سمجھتا ہے تو اسلام انہیں بدرجہ اولی لغو قرار دیتا ہے۔ بھائی، اسلام نے چھچھورے پن کی حوصلہ افزائی خلوت میں نہیں کی تو فنکشن میں کیسے کرسکتا ہے؟ چاہے وہ فنکشن نیو ائر کا ہو یا عید میلاد النبی کاہو....

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *