پچیس دسمبر اور قائد کے رومال پوش شاہین

farnood alamقائد اعظم محمد علی جناح کا جنم دن ہے۔ کرسمس کا شور الگ تھا کہ نریندر مودی کے طیارے نے کچھ اور بھی دھول اڑادی. ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا، قائد اعظم کیا خاک دکھائی پڑتے؟ ہمارا نصیب کہیئے کہ قائد اعظم محمد علی جناح ایسا راہنما ملا. قائد اعظم کی بدنصیبی کہیئے کہ ہم ایسے منتشر المزاج سپاہی ملے. انہیں کہنا پڑا
"افسوس تو یہ ہے کہ میری جیب میں کھوٹے سکے کھنک رہے ہیں"
زیارت میں جب قائد علالت کے دن کاٹ رہے تھے تو لیاقت علی خان عیادت کو آئے. چلے گئے تو قائد اعظم نے فاطمہ جناح سے پوچھا
"تمہیں کیا لگتا ہے یہ کیوں آئے تھے؟"
فاطمہ جناح نے کہا
"عیادت کرنے"
قائد نے انکار میں سر ہلا کر کہا
"یہ معلوم کرنے آئے تھے کہ میری زندگی ختم ہونے میں اور کتنی دیر ہے"
قائد کی طبعیت کچھ مزید بگڑی تو کراچی پہنچائے گئے. ایک سوزوکی میں رکھ دیئے گئے جس کا انجر بنجر سر تا پا ہلا ہوا تھا. سوزوکی قدم دو قدم چل کر ہانپ گئی اور اسی اثنا میں قائد چل بسے. سچ یہ ہے کہ ہم نے قائد اعظم کا کفن پیشگی تیار کر دیا تھا. وفات پائی تو دفنانے میں لمحہ بھر کی دیر نہیں کی۔ آج پون صدی ہونے کو آئی ہے ہم طے نہیں کرپائے کہ قائد اعظم کون تھے کیا تھے؟ ابھی تو ہم نے یہ بھی طے کرنا ہے کہ قائد اعظم شیعہ تھے کہ سنی۔ شیعہ اکابر اپنا امتیاز جتاتے ہیں کہ میت کو غسل ایک شیعہ مجاور نے دیا تھا اور دیوبندی فخر فرماتے ہیں کہ جنازے کی نماز ہمارے نصیب میں آئی. بریلوی مکتب کا قائد اعظم دیکھیئے تو وہ سبز ہلالی عمامے والا میٹھا سااسلامی قائد ہے اور اہل حدیث کا قائد اعظم ایک سخت گیر ریش دراز مجتہد ہے. اصلاحی خانقاہوں میں مصلح کاروں نے قائد اعظم کے منہ سے سگار چھین کے مسواک اٹکا دی ہے، مجاہد نے قائد کی جناح کیپ ہٹا کر پیجدار عمامہ پہنادیا ہے. خلیفہ بلا وصل حضرت ضیا الحق کے عقیدت مندوں نے قائد کے نفیس کھسے اترواکر بوٹ چڑھا دیئے ہیں اور لبرل ازم کے علمبرداروں نے سارے کام چھڑ واکر قائد کو اعلی نسل کے کتوں کی رکھوالی پہ ہی بٹھا دیا ہے. تماشہ دیکھیئے کہ آج بھی قائد اعظم کی فکر اپنی وضاحت کیلئے ڈاکٹر صفدر محمود صاحب کے سلسلہ وار کالموں کی محتاج ہے. تماشے پہ تماشہ یہ کہ یہ وضاحت بھی اب دلیل کے مرحلے سے نکل کر کشف وکرامات کے مرحلے میں داخل ہوگءہے. الوہی تشریحات کی مدد سے سمجھایا جاتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناح کے دو قومی نظریئے کا وسیع تر مفہوم کیا تھا. سنا ہے کل رات بھی بہت نامور مبلغ کو قائد کی زیارت نصیب ہوئی ہے۔ کہتے ہیں قائد اپنی قبر میں آسودہ تو خیر تھے، مگر پاکستان کے حالات پہ بہت دل گرفتہ و سرگرفتہ تھے. اب خواب کیا بیچیں اور کرامات کیا سنائیں. ہم ایسے رو سیاہ جمع تفریق اور ضرب تقسیم پہ یقین رکھتے ہیں. دو اور دو چار کی طرح قائد کا فرمان عالی شان سامنے ہے، تو ہم مراقبوں کی سرگوشیوں پہ کان کیونکر دھریں؟ یہ فرمان ہے گیارہ اگست انیس سو سینتا لیس کی مجلس دستور ساز کا، جس کی سند میں کسی کلام کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے. یہ وہ خطاب نہیں ہے جس کی سند کی صحت کیلئے خطیب کی جلالی و جمالی حیثیت ہی کافی ہو.
فرمایا ہمارے قائد نے
"اب اس مملکت میں آپ آزاد ہیں. آپ آزاد ہیں کہ مسجد جائیں یا مندر. ہم اس اصول کے ساتھ ابتدا کر رہے ہیں ہم سب ایک ریاست کے مساوی شہری ہیں. انگلستان کی عوام نے بھی خود کو اس مشکل سے نکالا جو حکومت کے ذریعے مسلط کر دی گئی تھی. وہ آگ کے مرحلے سے گزر گئے اور اب وہاں نہ کوئی کیتھولک ہے اور نہ پروٹسٹنٹ، بلکہ سب ایک ریاست کے شہری ہیں۔ اسی بات کو ہمیں ایک نصب العین کے طور پہ لینا چاہیئے. ایک دن آپ دیکھیں گے اس ملک میں نہ کوئی ہندو رہے گا نہ مسلمان کیونکہ یہ ذاتی اعتقاد کا مسئلہ ہے، بلکہ سیاسی طور پہ ہم سب بلاتفریق مذھب ایک ریاست کے شہری ہوں گے"
اس قوم کو کبھی ایک وطن کی تلاش تھی، جو مل کے رہا. اب یہ وقت ہے کہ وطن کو قوم کی تلاش ہے، مل کے نہیں دے رہی. وجہ کیا ہے؟ اسی سوال کے جواب پہ ہم نے غور کرنا ہے، مگر خوابوں میں ملنے والے جوابوں سے یہ معرکہ سر نہیں ہوگا. اگر ہوسکتا ہے تو پھر ایک خواب ہمیں بھی دیکھنے دیجئے، کہ جس میں قائد اعظم کو نریندر مودی کے تازہ دورے پہ کوئی اعتراض نہیں ہے. ظاہر ہے ازروئے شرع ایسا کوئی خواب دیکھنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی مگر ہمیں کیا، ہم ایسے دنیا پرست ان خوابوں پہ یقین بھی نہیں رکھتے جو سوتے میں دیکھے جاتے ہیں. ہمارا ایمان ان خوابوں پہ ہے، جو سونے نہیں دیتے. جو خواب دیکھے جاتے ہیں ان کی تعبیر شیوخ وسالک سے پوچھی جاتی ہے اور جو خواب تخلیق کیئے جاتے ہیں ان کی تعبیر خون جگر سے تراشنی پڑتی ہے. سو ایک خواب ہے کہ کبھی وہ سحر طلوع ہو کہ ہم یہ کہہ سکیں
"پاک پھارت تعلقات ہمالیہ سے بلند اور بہت بلند ہیں"
مگر کیا کیجیئے اس پیر تسمہ پا کا، جو دو قومی نظریئے کی پٹاری کھول کے بیٹھ چکا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم کا طیارہ بعد میں اترا اور اقبال کے رومال پوش شاہین احتجاج کو پہلے پہنچ گئے۔ ایسی جھپٹ اور ایسی پلٹ؟ اللہ اللہ، یہ برق رفتاری کیا کہیئے.

پچیس دسمبر اور قائد کے رومال پوش شاہین” پر بصرے

  • دسمبر 26, 2015 at 5:47 PM
    Permalink

    بھائی فرنود عالم یہ "سوزوکی" کیا کیا سلسلہ ہے. تب تو مسٹر سوزوکی شاید جاپان کے کسی گاؤں میں جاپانی ریوڑیاں پبیچ رہا تھا جنگ عطیم دوم کی شکست کے بعد. ہم نے سنا تھا کوئی ایمبولینس تھی جس کا ناجر پنجر ڈھیلا تھا ویسے ہی جییست تبکے ملک کا. سچ تو یہ ہے کہ اس ملک کے پیچ آج تک نہیں کسے جا سکے.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *