مشرق کی بیٹی

farnood alamبے نظیر بھٹو سے پوچھا
"آپ کی زندگی کا بڑا المیہ کیا ہے"
کہنے لگیں
"مرد میری زندگی کا المیہ ہیں. والد کو پھانسی چڑھا دیا گیا. بھائی مارے گئے. شوہر کی عمر جیل میں گزر گئی"
آپ کو پتہ ہے..؟
جرنل ضیاالحق کو الیکشن کروانے تھے. کروائے تو آفت نہ کروائے تو قیامت. ایک ہڈی ہے کہ اگلی جاتی ہے نہ نگلی جاتی ہے. کرے تو کیا کرے. محترمہ امید سے تھیں. جنرل ضیا نے انٹیلی جنس کے ذریعے ڈیلیوری کی تاریخ معلوم کروالی. بہادر انسان نے وہی تاریخ الیکشن کیلئے متعین کردی.مگر وہ جانتے نہیں تھے کہ کالی بلیاں صرف وہم کے پرستاروں کا ہی رستہ کاٹ سکی ہیں. بازو پہ جنہیں بھروسہ ہو وہ ستاروں کی چال بھی خطا کردیتیں ہیں. محترمہ ایک روز لیاری کے دورے پہ تھیں، پتہ چلا وہاں کے ایک غیر معروف ہسپتال میں کسی کی عیادت کو چلی گئی ہیں. وقت گزرتا گیا محترمہ لوٹ کر نہ آئیں. کچھ گھنٹوں بعد خبر آئی کہ محترمہ نے متعین تاریخ سے دیڑھ ماہ پہلے ہی ڈیلیوری کروالی ہے. آج شام ڈیلیوری ہوئی اور صبح تڑکے محترمہ نے سیاسی جدوجہد کا آغاز کردیا.
عرض یہ کہ..!!
کمسنی میں ہی اذیتیں محترمہ کا نصیب ٹھہریں. جس دوران والد جیل میں تھے اور ہر گزرتا دن پھندے کو گلے کے قریب تر کررہا تھا، وہ پڑھیئے تو روح بری طرح سے چھلنی ہوجاتی ہے. پھر پھانسی کے لمحوں کو بیان کرنے کی تاب ایک بیٹی کیسے لاسکتی ہے. زخم ابھی ہرا ہے اور بہادر سلطان کی فوج ماں کو بالوں سے پکڑ کر سڑکوں پہ گھسیٹ رہی ہے۔ ابھی عمر ہی کیا تھی جو جلاوطنی کا دکھ نصیب میں آگیا۔ کارکن قلعے کاٹ رہے ہیں کوڑے ہیں اور زندان ہیں. حالات کا جبر اپنی انتہا پہ ہے، مگر انسانیت کا کامل ظرف سمٹ کر ایک لڑکی میں سما گیا ہے۔ دیا جل رہا ہے اور ہوا چل رہی ہے۔ عقل محو حیرت ہے کہ ایام کی ان اعصاب شکن گردشوں میں محترمہ نے اپنی عورت کو مرنے نہیں دیا.
کیسے..؟
12235080_885190114867601_6782806736370909667_nان کے ماتھے پہ مردانہ کرختگیاں جگہ نہیں پاسکیں. ان کے لب ورخسار اپنی حسین قبا کتر کر نوحہ گری پہ نہیں اترے. ان کے بالوں نے بکھر کے ماتم نہیں کیا. ان کی روشن ستارہ آنکھوں نے اشکوں کی سلامی گوارا نہیں کی. ان کے لہجے سے نسوانی ٹھہراو نہیں روٹھا. ان کی بدن بولی نے نسوانی انداز و ادا پہ سمجھوتہ نہیں کیا. ان کے پہناوے میں احتجاج کے رنگ نہیں بھرے۔ ان کے لفظوں کو شکایت اور بول کو خود ترحمی کی آلودگیوں نے پراگندہ نہیں کیا. ان سے بڑھ کر بھی کوئی مصروف ہوا ہے.؟ مگر اپنے بچے نوکروں کو نہیں سونپے. اپنے خاص مہمانوں کیلئے چائے خود بنا کر پیش کرنے کی روایت قائم رکھی. وہ سرتا پا ایک عورت ہی رہی. وہ جنرل ضیا تو نہیں تھیں کہ طاقتور فوج کا سالار ہوکر بھی اپنی جنس کو منہ دکھانے کے لائق نہ چھوڑے.
جی ہاں..!!
اس جنگ کی خوبصورتی ہی یہی ہے کہ ایک مکمل عورت کے عزم و استقلال نے ایک مکمل مرد کی بے تابیوں کو تمغوں پہ لگی دھول چاٹنے پہ مجبور کیا. خود تیغ ہلال کی طرح عیش نیام سے گزر گئیں. اس خوبصورتی سے گزریں کہ دوپٹے پہ دو سلوٹیں تک بھی نمودار نہ ہونے دیں. ایک ادا ہے، پر اسے بھی مردانگی کیوں کہوں. نسوانیت کا سینہ سدا چوڑا رہے کہ کوئی خاتون تھی جس نے پاکستان میں در بدر بھٹکتی موت کو دبئی سے کہلوا بھیجا تھا
’تم وہیں رکو، میں خود آتی ہوں‘
وہ ائیر پورٹ پہ اتریں تو استقبال کو جہاں خلق خدا امڈ کر آئی، وہاں موت بھی آئی. کارساز پہ موقع پاکر موت روبرو آگئی، مگر موت کی اپنی ہی سانسیں اکھڑ گئیں. حواس باختگی میں نقصان اپنے گرد وپیش کا کر گئی. ہر آنکھ میں تشویش تھی. ہر خیال میں اندیشے تھے. وسوسے سر اٹھائے چل رہے تھے. اطمینان تھا تو بس ایک عورت کی نگاہ ناز میں تھا. اسی اطمینان سے وہ گاڑی کی چھت سے نمودار ہوئیں، ٹھیک اسی جانب سینہ رکھا کہ جہاں موت سہمی سہمی منڈلا رہی تھی، بانہیں پھیلا کر موت کو اعتماد بخشا، اذن ہوتے ہی وہ محترمہ پہ جان وتن فدا ہوگئی، سینے سے لگا کر عمر بھر کیلئے موت پہ ایک احسان کر دیا. مقتل کی جانب اٹھتے قدموں کے دو ہی تو دھج ہیں، جن کی شان اب تک سلامت ہے. ایک وہ دھج جو تختہ دار پہ باپ کا تھا ایک یہ دھج جو قتل گاہ میں بیٹی کا تھا.
ہم بھی آج فیض کی شاعری کرتے۔ مگر فیض بھی ہوتے تو لفظ ڈھونڈتے رہ جاتے. یہ باتیں رہ یار کو قدم قدم یادگار بنانے سے آگے کی کوئی باتیں ہیں. یہ جان پہ رکھے کسی قرض کی ادائیگی سے بھی ادھر کا کوئی قصہ ہے. وہ قصہ جو سمٹ جائے تو کسی عاشق کا دل ہے، پھیل جائے تو زمانے بھر کو محیط ہے.

مشرق کی بیٹی” پر بصرے

  • جنوری 15, 2016 at 12:20 PM
    Permalink

    " ایک وہ دھج جو تختہ دار پہ باپ کا تھا ایک یہ دھج جو قتل گاہ میں بیٹی کا تھا.
    ہم بھی آج فیض کی شاعری کرتے۔ مگر فیض بھی ہوتے تو لفظ ڈھونڈتے رہ جاتے. یہ باتیں رہ یار کو قدم قدم یادگار بنانے سے آگے کی کوئی باتیں ہیں. یہ جان پہ رکھے کسی قرض کی ادائیگی سے بھی ادھر کا کوئی قصہ ہے. وہ قصہ جو سمٹ جائے تو کسی عاشق کا دل ہے، پھیل جائے تو زمانے بھر کو محیط ہے."

    تیرا غم رہے سلامت
    میری زندگی کے سنگ سنگ

    Reply
  • جنوری 19, 2016 at 3:05 PM
    Permalink

    kafan pa trakh ke da seyalai meedan la zama
    margeya ma raza derzama
    sir pa taale ke da ALLAH darbar lazma
    margeya ma raza derzama

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *