سچ کو سانس لینے دیں....

zafarullah Khanمحترمہ بے نظیر بھٹو کی آٹھویں برسی ہے۔ ایک نہتی لڑکی جو تاریک راہوں میں ماری گئی۔جس کے خون نے اقتدار کے در تو وا کر دیئے مگر انصاف نہ پا سکی۔درد کی حکایت تکلیف دہ ہے مگر بات کہیں اور سے شروع کرتے ہیں۔سترہویں صدی کی ابتدا کا زمانہ تھا۔ اکبر اعظم کا انتقال ہوا۔مسلمان علما نے اکبر کے پچاس سالہ دور کو ہندی مسلمانوں کے لئے بدترین دور قرار دیا۔ ’مکتوبات ‘ میں مجدد الف ثانی لکھتے ہیں ’کفار ہند بے تحاشامسجدوں کو گرا کر وہاں اپنے معبد و مندر تعمیر کر رہے تھے‘۔نور الدین محمد جہانگیر نے مسلمان اکابر کے ساتھ وعدہ کیا کہ تخت نشینی کے بعد شریعت محمدی کا تحفظ کرے گا۔تخت نشینی کے بعد جہانگیر نے مساجد کی تعمیر کا حکم دیا۔ گاﺅ کشی کے امتناع کا حکم منسوخ کیا۔ شراب پر پابندی لگا دی۔یہاں تک محل کے باہر سنہری زنجیر عدل لٹکا دی جو ایک استعارہ بن گئی۔ شاعر نے لکھا تھا۔ اور مت دیکھیے اب عدل جہانگیر کے خواب.... ایک اور شاعر نے شاید اسی سے تحریک پا کر لکھا ہو .... پھر قصر جہانگیر ہے زنجیر سے خالی۔
سچ کا یہ مگر ایک رخ ہے۔ سچ کا دوسرا رخ یوں کہ اس عادل حکمران نے سجدہ تعظیم بجا نہ لانے پر مجدد الف ثانی کو گوالیار کے عقوبت خانے میں نہ صرف قید کر لیا بلکہ ان کی زمین، حویلی اور کتب خانہ تک ضبط کر لیا۔ اسلامی اقدار کی حالت یہ تھی کہ شہنشاہ کے حرم میں اٹھارہ عورتیں تھیں جن میں سے سات ہندو تھیں۔ سلطنت کی حالت یہ تھی کہ بادشاہ سلامت فرماتے تھے کہ ’ میں نے سلطنت نور جہاں کو بخش دی، مجھے ایک سیر شراب اور آدھا سیر گوشت روزانہ کے سوا کچھ نہیں چاہیے۔‘ اور پھر تاریخ گواہ ہے کہ ہندوستان کی سلطنت کے سکے پرنور جہاں کے نام کے ساتھ یہ شعر کندہ تھا۔ بحکم شاہ جہانگیر یافت صد زیور، بنامِ نور جہاں بادشاہ بیگم زر
بات یوں ہے کہ سچ اس کائنات کی سب سے خوبصورت قدر ہے۔تاریخ نے اوراق سیاہ کر دیئے مطلق سچ کی تعریف میں،سقراط کا کلیجہ زہر آلود ہوا اسی سچ کی خاطر، سچ کا حتمی تعین مگر نہ ہو سکا۔مشکل یہ ہے کہ سچ اجزا میں بکھرا پڑا ہے اس کی کلیت کبھی بھی حتمی نہیں رہی۔ سچ کے لئے انسان کو حالات، واقعات اور بیانیوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ جونہی سچ متعین ہوتا ہے نئے حالات و واقعات اور بیانیے اس کی ہیت تبدیل کرنے لگتے ہیں۔ ایک زمانے میں زمین کا چپٹا ہونا سچ تھا اور جو اسے گول قرار دیتا، وہ لائق تعزیر ٹہرتا۔ اب یوں ہے کہ جو چپٹا قرار دیں، ان پر بس ایک ہلکی مسکراہٹ نچھاور ہوتی ہے۔قیام پاکستان میں قائد کے بعد اگر کسی کا نام آتا ہے تو وہ شہید ملت لیاقت علی خان کا ہے۔ سچ کا دوسرا رخ یہ ہے کہ دوران علالت زیارت میں قائد نے اپنی بہن کو انہی کے بارے میں کہا تھا کہ یہ میری عیادت کرنے نہیں بلکہ یہ دیکھنے آئے ہیں کہ میں زندہ کب تک رہتا ہوں۔کون یہ گواہی نہیں دے گا کہ ذوالفقار علی بھٹو اس ملک کے پہلے جمہوری عوامی لیڈر تھے۔ سچ کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ بھٹو صاحب ایک آمر کے دور میں وزیر خارجہ ہوا کرتے تھے۔ ایک سچ جنرل ضیا کا تھا جس نے کہا کہ اگرحزب اختلاف کے ساتھ مذاکرات ناکام نہ ہوتے تو میں مارشل لاءنہ لگاتا۔ ایک سچ یہ ہے کہ اسی ضیاءنے پورے ملک سے سیاسی کارکن چن چن کر کوڑوں کی تھاپ پر رقص سکھایا۔ ابھی کل ہی تو بات ہے جب ہمیں یہ سچ بتایا گیا کہ کارگل میں مجاہدین جنگ لڑ رہے ہیں مگر پھر اس ملک کا وزیراعظم امریکہ جا کر جان کی امان پانے کا خواہاں تھا۔ طیارہ سازش کیس سے تو سب واقف ہوں گے سچ مگر یوں ہے کہ ایک آمر نے نو سال کی غیر آئینی آمریت اس دیس پر مسلط کی۔آج محمد نواز شریف ایک جمہوری لیڈر ہونے کا نہ صرف تاثر دیتے ہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کی سیاست میں مداخلت کا رونا بھی روتے ہیں کل یہی صاحب کہہ رہے تھے کہ وہ ضیا الحق کے مشن کو پورا کریںگے۔طول کلام کا یارا نہیں وگرنہ داستانیں ہزار ہیں۔
11clip_169بات چلی تھی محترمہ بے نظیر بھٹو کی۔ ان کی برسی کی مناسبت سے بس یہ دو جملے لکھے۔’یک نہتی لڑکی جو تاریک راہوں میں ماری گئی۔جس کے خون نے اقتدار کے در تو وا کر دیئے مگر انصاف نہ پا سکی۔‘ مانو! پارساﺅں کو آگ لگ گئی۔ بھانت بھانت کی آوازیں آئیں۔ کسی نے بتایا کہ بی بی چور تھیں۔ کسی نے کہا کرپٹ تھیں۔ کسی نے انکشاف کیا کہ قوم انہی کی وجہ سے مقروض ہے۔ کسی نے کہا کہ ان کو لیڈر کہنا لیڈر کی توہین ہے۔جس کو جتنا سچ معلوم تھا سب نے انڈیل دیا۔یہ ٹھیک ہے کہ عذاب آگہی میں مبتلا صالحین کو سچ کا عارضہ لاحق ہے لیکن کیا سچ کا کوئی موقع محل بھی ہوتا ہے یا یہ بغیر کسی موقع محل کے بولنے کی چیز ہے؟ کچھ دن بعد عمران خان پشاور شوکت خانم کا افتتاح کریں گے۔ کیا اسی دن صالحین سیتا وائٹ کی بیٹی کو حق ولدیت دلانے کی جنگ لڑیں گے؟ (بھائی ظفراللہ ، سیاست میں ذاتی زندگی کو زیر بحث لانا مناسب نہیں قطع نظر اس سے کہ بات سچ ہے یا غلط.... مدیر) کیا ہر سیاسی راہنما کی موت کے دن ہم سیاسی اختلاف کی بنیاد پر ’پارلیمنٹ سے بازار حسن‘ کا نسخہ لہراتے رہیں گے؟ کہا گیا کہ بے نظیر شہید نہیں ہے کیونکہ اقتدار کی خاطر ماری گئی ہے۔ اس فارمولے کے تحت اگر جائزہ لیں گے تو ریاستی بندوبست میں شریک ہر رہمنا کا نام لکھنا پڑے گا۔کیا مارٹن لوتھر کنگ، کیا گاندھی،کیا شاہ فیصل ، کیا صدام ، کیا بھٹو، کیا ضیا الحق۔ بات اوپر تلک چلی جائے گی اور شاید ٹیپو سلطان بھی بچ نہ پائیں۔ جان کی امان پاﺅں تو پوچھ سکتا ہوں کہ شہید ملت کس چیز کی خاطر شہید کئے گئے؟
انسانی زندگی المیوں سے بھری ہوئی ہے اور موت انسانی زندگی کا آخری بڑا المیہ ہے۔ مسائل مگر دو ہیں۔ ایک یہ کہ مجھے سچ بولنا ہے دوسرا یہ کہ مجھے حفظ مراتب کا خیال رکھنا ہے۔جن کا مسئلہ سچ ہے وہ جان لیں کہ سچ نہ جامد عمل ہے اور نہ بے موقع و بے محل بولنے کی چیز ہے۔ہم میں سے ہر بچے نے اپنے ماں باپ سے ضرور پوچھا ہو گا کہ میں نے کیسے جنم لیا؟ سچ کا تقاضا یہ تھا کہ وہ ہمیں اس تخلیق کا عمل بتا دیتے مگر حفظ مراتب یہ تھا کہ وہ یہی کہتے کہ تمہیں میرے پاس پریاں چھوڑ گئی تھیں۔انسان سماج کی بنیادی اکائی ہے۔ سماج کے مراتب کا لحاظ کرنا بنیادی انسانیت کا اصول ہے۔محترمہ پر بے شمار الزام ہوں گے لیکن ان کی موت کا دن سیاسی حساب برابر کرنے کا دن نہیں ہے۔ ان کی جماعت موجود ہے۔ وہ کروڑوں انسانوں کی محبوب لیڈر تھیں۔وہ کروڑوں لوگ ہمارے ہی بھائی ہیں۔ اسی دیس کے باسی ہیں۔ آج ان کے دکھ میں شریک ہو کر ان کا دکھ بانٹنے کا دن ہے۔اپنے سچ کو تھوڑی دیر سنبھال کر رکھیے۔ اپنے تین سالہ بچے کو تخلیق کا عمل سمجھانا سچ کی توہین ہے۔ یہ یاد رکھنا چاہیے کہ سچائی پر کسی گروہ کا قبضہ نہیں ہوتا۔ میرا سچ کسی اور کو سچ نہیں لگتا بالکل ایسے ہی جیسے اس کا سچ مجھے سچ نہیں لگتا۔یہ نظریات اور سیاسی اختلاف کی بحث ہے کرتے رہیں گے۔
ریاست موجود ہے۔ ریاست کے باب میں سچ بولنے کا موقع آئے گا۔ میں بھی کھل کر بولوں گا۔ آپ بھی کھل کر بولیے گا۔ لیکن انسانی المیہ پر میرا ضمیر ماتم کے علاوہ کسی سچ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ایک دن کے لئے سچ کو سانس لینے دیں۔ کل سچ بھی بولیں گے اور بقول درویش ’ اہل سیاست پر تنقید کریں گے۔ریاستی اداروں کی کوتاہیوں پر ان کی خبر لیں گے۔افتادگان خاک کے آنسو پونچھیں گے۔مے خانے کی چھت سلامت ہو گی تو تزئین حرم کی سو صورتیں نکلیں گی‘۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *