ہوا میں اڑتے ہوئے پتے (5)

mirza mujhaidاس ملک میں آج بھی ریل گاڑی کا ٹکٹ لینے کے لیے (شناختی) پاسپورٹ دکھانا ضروری ہے پھر جن دنوں کی بات ہو رہی ہے تب تو سوویت یونین بھی زندہ تھی جہاں غیر ملکی کے بین الاقوامی پاسپورٹ کی بجائے چھوٹے چھوٹے دو صفحوں پر مشتمل ویزا علیحدہ ہوا کرتا تھا، جس پر درج مخصوص شہروں میں ہی جانے کی اجازت ہوا کرتی تھی۔ نتاشا کسی طرح سے طغرل کے لیے بھی ٹکٹ خرید لائی تھی۔ رات کو جب وہ ریل گاڑی میں سوار ہو گئے تھے اور ریل گاڑی چل دی تھی تو حسام نتاشا کے کچھ کہنے پر طغرل کو ساتھ لے کر سگریٹ نوشی کے لیے مخصوص جگہ پر چلا گیا تھا۔ نتاشا نے خود ہی ڈبے کی انچارج خاتون سے بستروں کی چادریں وغیرہ لی تھیں اور جب "کوپے" سجا لیا تھا تو جا کر انہیں بلا لائی تھی۔ وہ اپنے "بنکر" میں محبوس ہو گئے تھے۔
طغرل پہلی بار سوویت یونین کی کسی ریل گاڑی میں بیٹھا تھا۔ اس زمانے میں بھی دو طرح کی ریل گاڑیاں چلا کرتی تھیں جن میں سے ایک قسم کو "فرمنّے پوئزد" یعنی فرم کی ریل گاڑی کہا جاتا تھا اور اب تک کہا جاتا ہے۔ یہ گاڑیاں علیحدہ کمپنیوں کے زیر انصرام ہوتی ہیں اور ان گاڑیوں میں سروس بہتر ہوتی ہے۔ سٹاپ کم ہوتے ہیں مگر کرایہ زیادہ۔ البتہ دوسری قسم کی ریل گاڑیاں بھی اپنی صفائی، کارکردگی اور سہولت میں کچھ کم نہیں ہوتیں۔
گاڑی کی روانگی سے پہلے ہر ڈبے کے باہر وردی میں ملبوس مستعد ڈبہ بان خاتون یا مرد کھڑے ہوتے ہیں جو ہر شخص کے ٹکٹ کی پڑتال کرتے ہیں اور انہیں اپنے ڈبے میں آنے پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ عین وقت پر گاڑی کی روانگی سے تیس سیکنڈ پہلے ڈبہ بان دروازہ بند کر لیتے ہیں اور ریل گاڑی چل پڑتی ہے۔ ہر ڈبے میں پانی گرم کرنے کا ایک بڑا سا آلہ لگا ہوتا ہے جس سے مسافر گاڑی کی روانگی کے چند منٹ بعد استفادہ کر سکتے ہیں۔
ڈبے تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک کو "پلس کارت" کہا جاتا ہے جس میں تمام نشستیں لیٹنے کے لیے ہوتی ہیں لیکن پورے ڈبے میں انہیں ایک دوسرے سے ڈھانپنے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا یعنی سب سب کو دیکھ سکتے ہیں۔ ایسے ڈبے کی نشستوں کا کرایہ سب سے کم ہوتا ہے۔ دوسری قسم کے ڈبوں کو "کوپے" والے ڈبے کہا جاتا ہے جن میں ایک جانب کھڑکیوں کے ساتھ تقریبا" ڈیڑھ فٹ چوڑا کاریڈور ہوتا ہے جس میں قالین نما دری بچھی ہوتی ہے۔ ہر تین کھڑکیوں کے بعد ایک فولڈنگ نشست ہوتی ہے جسے باہر کا نظارہ کرنے والا شخص تھک جانے کی صورت میں بیٹھنے کی خاطر استعمال کر سکتا ہے۔ کاریڈور کے دوسری جانب چار چار kharkovبرتھوں والے کیبن ہوتے ہیں جن کا دروازہ بند ہو سکتا ہے اور اندر سے مقفل کیا جا سکتا ہے۔ دروازے کے عقب میں قد آدم آئنیہ ہوتا ہے۔ دروازے کے اطراف میں اوپر والی برتھوں سے تھوڑا سا اوپر کرکے ہک لگے ہوتے ہیں جن کے ساتھ ہر جانب ہینگر آویزاں ہوتے ہیں تاکہ ہر مسافر اپنے اپنے کپڑے ان پر لٹکا سکے۔ کھڑکی کی جانب برتھوں کے درمیان ایک محکم جڑی ہوئی میز ہوتی ہے جس پر کھانے کا سامان، چائے وغیرہ رکھے جا سکتے ہیں۔ اس پر میز پوش بچھا ہوتا ہے اور مصنوعی پھولوں سے سجا ایک گلدان بھی دھرا ہوتا ہے۔ کھڑکی کے آگے ایک مصنوعی چمڑے سے بنا پردہ ہوتا ہے جس کو کھینچ کر نیچے لگے ہک میں اٹکایا جا سکتا ہے یوں باہر سے روشنی نہیں آتی۔ اس روشنی بند شیلڈ کے آگے کپڑے سے سیے دو پردے آویزاں ہوتے ہیں جو ادھر ادھر کیے جا سکتے ہیں۔ ہر برتھ کے سرہانے دیوار میں لیمپ نصب ہوتے ہیں جنہیں چھت پر کی ٹیوب لائٹس بجھائے جانے کے بعد حسب ضرورت روشن کیا جا سکتا ہے۔ نیچے کی برتھوں کو اوپر اٹھائیں تو ان کے نیچے بنے صندوقوں میں اپنا سامان محفوظ کیا جا سکتا ہے۔ دروازے کے اوپر کاریڈور کی چھت پر کھلنے والا ایک بڑا سا خانہ ہوتا ہے جس میں چار کمبل دھرے ہوتے ہیں، ضرورت پڑنے پر وہاں اضافی سامان بھی رکھا جا سکتا ہے۔
ریل گاڑی چل پڑنے کے پندرہ بیس منٹ بعد ڈبہ بان خاتون یا مرد سب مسافروں سے چائے کی طلب بارے پوچھتے ہیں۔ اثبات میں جواب پانے پر دھات کے بنے ہوئے کنڈے والے منقش گلاس دانوں میں رکھے شیشے کے گلاسوں میں چائے پیش کر دیتے ہیں اور چار چار بسکٹوں کا پیکٹ بھی۔ رات نو بجے کے بعد وہ ہر kahrkov familyمسافر کو گڈے پر بچھانے کی خاطر دھلی ہوئی استری شدہ چادر، اسی طرح کی دوسری چادر کمبل کے نیچے لگانے کے لیے، تکیے کا غلاف اور ایک چھوٹا تولیہ دیتے ہیں جو پلاسٹک کے تھیلے میں بند ہوتے ہیں۔ چائے اور بسکٹوں کی قیمت تو ٹکٹ کی قیمت میں شامل ہوتی ہے مگر بستر کے کمپلکس کے لیے قیمت ادا کرنا پڑتی ہے، جس زمانے کی یہ بات ہے تب یہ قیمت پانچ روبل ہوتی تھی۔ آج یہ قیمت سینکڑوں روبلوں میں ہوتی ہے۔
ہر ڈبے کے آخر میں کے دونوں دروازوں کے بیچ کی جگہ سگریٹ نوش لوگوں کے لیے مخصوص ہوتی تھی (گذشتہ چند سالوں سے بند جگہوں پر سگریٹ نوشی یکسر ممنوع قرار دی جا چکی ہے)۔ درمیان کا دروازہ جو دوسرے ڈبے میں جانے کی خاطر کھولا جا سکتا ہے کے دونوں اطراف میں ایش ٹرے نصب ہوتی تھی۔ اس مقام سے ڈبے کی جانب کے جھولنے والے دروازے کے ساتھ ٹوائلٹ ہوتا ہے اور اسی حصے میں ایک جانب کوڑا پھینکنے کی خاطر بند ڈبہ لگا ہوتا ہے۔ اس کے اوپر 220 وولٹ بجلی کا ایک پلگ ہوتا ہے جس میں لگا کر مسافر اپنا الیٹرک شیور استعمال کر سکتے ہیں۔ گاڑی کے شہر سے نکلنے اور داخل ہونے سے آدھ گھنٹہ پہلے ٹوائلٹ مقفل کر دیے جاتے ہیں۔
تیسری قسم کے ڈبے "ایس وے" والے ہوتے ہیں، جس کا مطلب خصوصی اہمیت کا حامل بنتا ہے۔ ایسے کیبنوں میں صرف دو برتھ ہوتے ہیں۔ اوپر برتھ نہیں ہوتے۔ دو برتھ نسبتا" چوڑے ہوتے ہیں۔ سروس مزید بہتر ہوتی ہے۔ ایسے کیبن عموما" جوڑے استعمال کرتے ہیں یا کاروباری افراد۔ یہاں سے پورے یورپ کو ریل گاڑیاں 664جاتی ہین اور اب تو ایسی ریل گاریاں بھی چلنے لگی ہیں جن کے کرائے ہوائی جہازوں کے کرائے سے زیادہ ہیں۔ ان میں شاندار غسل خانوں کے علاوہ ٹی وی، ویڈیو، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ تک کی سہولتیں ہیں۔
لیکن بات ہو رہی ہے جولائی 1991 میں ہارکوو جانے کی۔ جب نتاشا نے انہیں بلا لیا تو انہوں نے رات کا کھانا نوش جان کیا اور باتیں کرتے ہوئے روشنیاں بجھا کر بستروں پر دراز ہو گئے تھے۔ طغرل کو متحرک حالت میں نیند نہیں آتی اس لیے کروٹیں بدلتا رہا تھا اور صبح پانچ بجے سے کاریڈور میں نکل کر باہر کے مناظر دیکھنے لگا تھا۔ جنگل ہی جنگل، سبزہ ہی سبزہ۔ کاریڈور کی چھوٹی کھڑکیاں کھلی تھیں جن میں داخل ہوتی تازہ ہوا سے روح و جاں مطمئن ہو رہے تھے۔ وہ سات بجے ہی منہ ہاتھ دھو، شیو بنا، کپڑے تبدیل کرکے تیار ہو چکا تھا۔ پھر دوسرے کیبنوں میں موجود لوگوں نے بھی تیار ہونا شروع کر دیا تھا۔ نتاشا اور حسام بھی جاگ کر تیار ہو چکے تھے۔ ڈبہ بان خاتون نے چائے پیش کی تھی جسے پی کر طغرل کی طبیعت کچھ بحال ہوئی تھی۔ وہ صبح آٹھ بجے ہاریکوو کے سٹیشن پر اترے تھے پھر زیر زمین ریل گاڑی پر سوار ہو کر نتاشا کی نانی کے ہاں پہنچے تھے جو بوڑھی، جاندار اور دلچسپ خاتون تھیں۔ انہوں نے ان کے آنے سے پہلے ہی دستر خوان سجایا ہوا تھا۔ جس پر طرح طرح کے سلاد کے علاوہ "ہریلکا" کی بھری بوتل بھی دھری تھی۔ ہریلکا کا تحریری تلفظ گریلکا ہے مگر یوکرینی گاف کو ہ بولتے ہیں۔ گریلکا کا لفظی معنی "گرما دینے والی" بنتا ہے۔ دراصل گھر میں بنائی گئی دیسی وادکا کو ہی ہریلکا کہا جاتا ہے۔
طغرل منہ نہار شراب کو منہ لگانے کا تصور نہیں کر سکتا تھا لیکن مہمان ہونے کی اخلاقیات کے تحت بوڑھی جاندار نانی کے ساتھ "پیات دیست گرام" یعنی پچاس ملی لیٹر ہریلکا، خوش آمدی کے ضمن میں اسے حلق سے نیچے اتارنا ہی پڑی تھی اور پھر مزید پچاس ملی لٹر اور بھی۔ بھوک تو ویسے ہی لگی ہوئی تھی، ہریلکا ظالم نے مزید بھڑکا دی تھی۔ اسی اثنائ میں نتاشا کی والدہ بھی جو سادہ اور دہہاتی قسم کی خاتون تھیں دیہات سے آ گئی تھیں۔ وہ اپنے دوست کے ہمراہ شہر سے باہر دیہات میں رہتی تھیں۔ کھانے کی احتیاج کا ذکر سنتے ہی ہمارے لیے آلو گوشت کے سالن کا بڑا سا ڈونگا لا کر میز پر رکھ دیا گیا تھا۔ گرم گرم سالن سے اٹھتی ہوئی بھاپ بھوک کو چمکا رہی تھی۔
حسام نے نتاشا سے پوچھا تھا کہ اس سالن میں گوشت کونسا ہے، اس کا جواب تھا کہ وہ تو ہمارے ساتھ آئی تھی اسے کیا معلوم۔ نتاشا کی ماں بھی ابھی ابھی دیہات سے آئی تھیں۔ اس لیے بے خبر تھیں۔ نانی ویسے ہی سو گرام کے خمار میں تھیں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ گوشت لائی بھی ان کی سہیلی تھی اور پکایا بھی اس ہی نے تھا۔ طغرل نے کہا تھا،"ٹھہرو حسام میں بتاتا ہوں" پھر چمچ سے گوشت کی ایک دو بوٹیاں نکال کر دیکھتے ہوئے کہا تھا،" اللہ کی قسم گائے کا گوشت ہے، چلو یار کھاتے ہیں"۔ دونوں سالن پلیٹوں میں ڈال کر اس پر ٹوٹ پڑے تھے۔ جب طغرل اپنی پلیٹ میں دوبارہ سالن ڈالنے کو تھا تو حسام نے اپنی پلیٹ سے نظریں اٹھائے بغیر بلند آواز میں کہا تھا،" اللہ معاف کرے، کھا تو رہے ہیں لیکن مجھے شک ہے"۔ طغرل بضد تھا کہ خواہ مخواہ ضد کر رہے ہو۔ اتنے میں ایک اور بوڑھی خاتون گھر میں داخل ہوئی تھیں اور اپنی زبان میں سلام کہا تھا۔ نانی اسے دیکھتے ہی بولی تھیں، "لو یہ آ گئی ہے۔ یہی بتا سکتی ہے کہ گوشت کس جانور کا ہے؟" بوڑھی معمر خاتون نے چھوٹتے ہی کہا تھا،" کیا فرق پڑتا ہے اگر خنزیر کا ہے"۔ طغرل اور حسام دونوں اکٹھے غسل خانے کی طرف دوڑے تھے اور کلیاں و غرارے کرنے شروع کر دیے تھے مگر قے کرنے سے گریزاں رہے تھے اس لیے کہ سور کا گوشت نگلنا تو مشکل ہے ہی مگر اسے اگلنا کہیں زیادہ مشکل۔ بڑی کوفت سے دوچار  ہوئے تھے پر برداشت کر گئے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *