موسم سرما اورامریکہ میں شدید طوفان

Flood Reutersامریکہ میں پولیس کا کہنا ہے کہ ریاست ٹیکساس میں آنے والے طوفان کے نتیجے میں 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جس کے بعد ایک ہفتے کے دوران کئی امریکی ریاستوں میں ہلاکتوں کی کل تعداد 29 تک پہنچ گئی ہے۔ کم سے کم آٹھ افراد ڈیلاس کے قریب گارلینڈ میں ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے پانچ افراد موٹر وے پر طوفان کے باعث گاڑی الٹ جانے کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔ دیگر قصبوں سے ملنے والی لاشوں کی تعداد تین ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مغربی ٹیکساس اور نیو میکسیکو میں شدید برف باری کا امکان ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 16 انچ برف پڑ سکتی ہے۔ جنوبی علاقوں میں موسم سرما کے دوران اتنا شدید طوفان غیر معمولی بات ہے۔ ٹیکساس سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جنوبی ڈیلاس سے شمال مغربی علاقوں تک چرچ تباہ ہو چکے ہیں، گاڑیاں الٹ گئی ہے اور درخت اکھڑ گئے ہیں۔ گارلینڈ میں پولیس اہلکار میلیندا اربینا نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ سنیچر کو طوفان کے باعث تیز ہواؤں کے نتیجے میں گاڑیوں کو حادثے پیش آئے۔ مس اربینا کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں نے ’گاڑیوں کو گھما کر‘ پھینکا جنھیں بعد میں شمال مغربی ڈیلاس میں دیکھا گیا تھا۔انھوں نے مقامی افراد سے درخواست کی ہے کہ وہ سڑک سے دور رہیں۔

AP Flood

اتوار کو گارلینڈ پولیس کے لیفٹیننٹ پیدرو بیرینیو نے بریفینگ کے دوران بتایا کہ تقریباً 600 عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ امدادی ادارہ ’ریڈ کراس‘ ان افراد کے لیے رہنے کی جگہ کے انتظامات کر رہا ہے جن کے مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ پولیس کے مطابق گلیوں اور ہائی وے پر نصب لائٹیں ٹوٹ چکی ہیں جس کی وجہ سے اہلکاروں کو رات کے اندھیرے میں کام کرنا پڑ رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق کم سے کم 30 ہزار افراد کو بجلی کی سہولیات میسر نہیں ہیں اور کئی مقامات پر گیس کے پائپ پھٹنے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ گذشتہ ہفتے کے دوران خراب موسم کے باعث جہاں ڈیلاس میں ہلاکتیں ہوئی ہیں وہیں بعض امریکی وسط مغربی ریاستوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ شدید ترین طوفان کے باعث مسی سپی میں دس، ٹینیسی میں چھ ، آرکنساس اور الاباما میں ایک، ایک ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔ مسی سپی میں 20 کے قریب ٹورنیڈوز کی وجہ سے حکام کا کہنا ہے کہ 56 افراد زخمی اور 400 سے زائد مکانات تباہ ہوئے یا جزوی طور پر نقصان پہنچا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *