کوکا کولا کمپنی کا وہ سچ جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔

ٹائمز آف انڈیا میں چھپنے والے ایک آرٹیکل نے لوگوں میں غم وcocala 3 غّصے کی لہر دوڑا دی ہے۔آرٹیکل میں نشاندہی کی گئی ہے کہ کوکا کولا کمپنی کس طرح اپنے لاکھوں ڈالر اُس سچ کو جھٹلانے میں ضائع کرتی ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔کوئی بھی انسان چاہے جتنا بھی سیدھا ہو یہ بات تو سمجھ ہی سکتا ہے کہ کوک میں موجود چینی کی وافر مقدار موٹاپے کا سبب بنتی ہے۔
میں نے شائد اپنے گناہوں کی سزا میں سال 2009 میں کوکا کولا کمپنی میں نوکری کر لی۔ مجھے ’’ سیلز ریپ‘‘ بنایا گیا تھا اور میرا کام جہاں ہو سکے اور جتنا ہوسکے کوکا کولا بیچنا تھا۔ایک قلیل مدّت میں ہی میں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ کوکا کولا کمپنی کے لیے اپنی پراڈکٹ بیچنا اُن کی عزت کا مسئلہ ہے۔میری نوکری کا تیسرا دن تھا جب میں پٹرول پمپ پر بنی ایک دوکان میں کوکا کولا کی ترسیل کے لیے گیا۔ وہاں میری نظر ایک چودہ سالہ بچے پر پڑی جو اتنا موٹا تھا کہ اُس کی اپنی ٹانگیں اُس کا بوجھ اُٹھانے سے انکاری تھیں اور اُس کے ہاتھ میں تھی ’ایک 2لیٹر کی سپرائٹ کی بوتل‘۔ اس کے بعد مجھے اس سوچ نے چین نہیں لینے دیا کہ کہیں نا کہیں اس موٹاپے کا ذمہ دار میں بھی ہوں۔
ہر مہینے ہمارے ٹارگٹ میں اضافہ کیا جاتا تھا بلکہ ہمیں مجبور کیا جاتا تھا کہ جتنا ہو سکے ہم کوکا کولا بیچیں۔ اور شائد اس منافع سے کمپنی عہدیداروں کا پیٹ نہیں بھر رہا تھا اسلیے کوکا کولا کمپنی نے ا انرجی ڈرنک نام کا ایک نیا شوشا چھوڑا اور ’’ red bull ‘‘ کو متعارف کروایا۔اس زہر کی 500 ملی لیٹر مقدار میں ہماری ضروری شوگر کا 47 فیصد ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ہوتی ہے 160 ملی گرام ’کیفین‘۔ یہ مقدار 10چمچ چینی ملی ڈیڑھ کپ کافی کے برابر ہے۔آپ اپنے ایمان سے بتائیں کہ کیا آپ اپنی نوجوان بیٹی کو یہ پینے دیں گے۔
رفتہ رفتہ سکولوں سے شکایات موصول ہونی شروع ہوئیں کہ ریڈ بُل بچوں کی صحت اور اُن کی عادات و اطوار coke and sugar 2  پر منفی اثرات مرّتب کر رہی ہے۔ اس کے بعد کوکا کولا اور باقی fizzy ڈرنکس کو سکولوں میں بین کر دیا گیا۔لیکن کمپنی کا اپنا صول تھا۔ اُن کا ماننا تھا کہ ا یسے نہیں تو ویسے بیچو۔ مطلب سکولوں کے اندر نہیں تو باہر بیچو اور یہی وہ ٹائم تھا جب ’’میل ڈیل‘‘ کی پھلجھڑی چھوڑی گئی۔ جس کے تحت کوک کو تقریباََ ہر کھانے کا حصّہ بنا دیا گیا۔ پزا کے ساتھ کوک، فرائیڈ چکن کے ساتھ کوک، چپس کے ساتھ کوک اور شائد کوک کے ساتھ کوک۔
اولمپکس کے دوران کوکا کولا کی کیمپین نے مجھے خوفزدہ کر دیا۔ سپانسر شپ کے نام پر اولمپکس کی مشعل ریلے ہم نے تقریباََ خرید لی لیکن ہما را دھیان مشعل کی منتقلی پر نہیں بلکہ کوکا کولا بیچنے پر تھا۔میں نے اپنے طور پر اس سب کی مخالفت کی لیکن جواب میں صرف غصّہ اور بے عزّتی ملی اور میرے سامنے اُن لوگوں کو انعام واکرام سے نوازا جاتا رہا جنہوں نے کوکا کولا کے کینز کی مدد سے نقلی فٹبال سٹیڈیم بنایا تھا۔
ہمیں ماننا چاہیے کہ ہم سب لوگوں نے مل کر کوکا کولا کو ایک ڈرنک کے بجائے ایک برانڈ بنایا ہے۔ ہم خود کوک جیسی کمپنیوں سے ا اولمپکس، فیفا ورلڈ کپ اور رگبی ورلڈ کپ جیسی بڑی تقاریب سپانسر کرواتے ہیں اور اُن اصولوں اور اقدار کو بالکل بھول جاتے ہیں جو ان کھیلوں کی بنیاد ہیں۔کیا ہم سچ میں اپنی صحت کو ان fizzy ڈرنکس کا شاخسانہ مانتے ہیں۔کہاوت ہے کہ ’’پیسا بولتا ہے‘‘ اور یہ کہاوت کوکا کولا کمپنی پر صحیح بیٹھتی ہے۔اپنےcoke and sugar پیسے سے کوکا کولا نے وہ ڈاکٹر بھی خریدے ہوے ہیں جن کا یہ کہنا ہے کہ ’’ نہیں نہیں کوکا کولا موٹا بالکل نہیں کرتی‘‘۔ کوکا کولا وہ عفریت ہے جو اپنے منافع کے لیے ہماری شائستگی اور صحت نگل رہا ہے۔اس سے جتنا ہو سکے بچیے اور آنے والی نسلوں کو بھی بچائیے۔

کوکا کولا کمپنی کا وہ سچ جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔” پر ایک تبصرہ

  • فروری 8, 2016 at 5:52 PM
    Permalink

    Excellent article, worth sharing wide.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *