کرکٹ میں محمدعامر کی واپسی

farnood alamایک عجب سی کیفیت ہوتی ہے جب ضابطوں کو پامال کردینے والے قانون کی مثالی بالادستی کی بات کرتے ہیں. بیشتر ہم خود اپنی منجی کعبہ و کلیسا کے بیچ رکھ دیتے ہیں۔ کفرپکارتا ہے تو ایمان دامن سے الجھتا ہے، ایمان کی سنیئے تو کفر کی سر مستیاں ہاتھ سے جاتی ہیں. یہی لوگ ہوتے ہیں جو خدا سے تو جاتے ہی ہیں، صنم کا وصال بھی نہیں ہوپاتا. وہی فیض والی جھنجھلاہٹ کہ عشق اور کام کے بیچ توازن قائم کرنے کی کوشش میں دونوں پہ ہی تین حرف ڈالنا پڑے۔
مثال لیجئے۔ مملکت ضیا داد پاکستان کے آئین میں آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ کو عقیدت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وزیراعظم سے لے کر آخری مشیر تک کے نامہ اعمال اٹھاکر ہم پوچھتے ہیں کہ
’یہ کیسی پارلیمنٹ ہے جہاں ایک بھی سیاست دان آرٹیکل باسٹھ اور تریسٹھ پہ پورا نہیں اترتا۔‘
اب ان سے کوئی پوچھے
’پورے پاکستان میں وہ کون سی ذات اقدس ہے جو ان دو شقوں کا احاطہ کرتی ہو۔‘
بات یہ ہے کہ ریاست در اصل سماج کی آئینہ دار ہوتی ہے. یہ ریاست بھی ایک شفاف آئینہ ہے، اس میں وہی کچھ دکھائی دے رہا ہے جو سامنے سماج میں دھرا ہے. سیاست دان تقدیس کی پالکیوں میں بیٹھ کر پارلیمنٹ کے گنبد پہ نہیں اترتے۔ یہ ہم میں سے ہوتے ہیں کہ اسی سماج میں انہوں نے جنم لیا. جو جنس بازار میں نایاب ہے، وہ ہمارے باورچی خانوں کو مہک کیسے بخش سکتی؟ ہماری ان بے ربط اکائیوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنے اپنے راہنماوں کی رفو گری میں جت جاتے ہیں۔ جس رہنما کے نامہ اعمال میں کہیں جھوٹ رکھا ہو اسے ہم دعائے قنوت سے ڈھانپ دیتے ہیں اور جہاں جہاں بددیانتی کے آثار دکھائی دیں وہاں وہاں چھ کلموں کا چھڑکاو کر دیتے ہیں. یہ ٹھیک ہے کہ خالص سیاست دانوں کو دعائے قنوت نہیں آتی، مگر مشکل یہ بھی تو ہے کہ دعائے قنوت جنہیں ازبر ہے انہیں جہاں بانی کے رمز نہیں آتے. اب سماج کے اجتماعی شعور سے اس کا انتخاب پوچھیئے تو وہ دعائے قنوت کے حافظ کو تیراک کے فن پہ ترجیح نہیں دے سکتا۔ خود ہی کہیے کہ پارلیمنٹ اپنے گرد کس کا حصار گوارا کرے گی.؟ ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ قانون کا اپنی مطلوبہ شکل میں نفاذ سے پہلے ریا ست کو دو امور انجام دینے ہیں.
1.سماج کی فکری سطح کو بلند کرنا.
2.سماج کا معیار زندگی بلند کرنا.
یہ دو معرکے جب تک سر نہ ہوجائیں تب تک ریاست قانون پہ اس کی پوری تشریح کے ساتھ عمل درآمد کا اخلاقی جواز کھودیتی ہے.
mohammad-amir-newغور کیجئے گا کہ پاکستان جیسی زبوں حال ریاستوں میں قانون کی ہر شق موجود ہے، مگر اس پہ پوری شدت کے ساتھ عمل یوں ممکن نہیں کہ ارباب اقتدار کا اس کیلئے منہ نہیں بن پڑتا کیونکہ شیر کی نگاہ رکھنا اسی باپ کو زیبا ہے، جو سونے کا نوالہ دیتا ہو. ورنہ نگاہ رہ جاتی ہے، اٹھان مرجاتی ہے. المیہ دیکھیئے کہ معاشی، سیاسی اور یہاں تک کہ اخلاقی بد حالیوں کی شکار اس ریاست میں کچھ لوگ کھڑے ہوکر آئین کی ان شقوں کا ماتم کر تے ہیں، جو انتہائی سزاوں پہ بحث کرتی ہیں. بیشتر کو یہ غم کھائے جارہا ہے کہ موت کی سزا کیوں رائج نہیں کی جاتی. پھر ایک طبقے کا اجتماعی دعویٰ ہے کہ ہم بر سر اقتدار آتے ہی تمام سزاﺅں کو ان کی اصلی شکل میں نافذ کردیں گے. مگر کیسے.؟ ایک نظر گرد وپیش پہ ڈالیئے اور پھر سوچ کر بتلایئے کہ کتنی گردنیں اتارنی ہیں اور کتنے ہاتھ کاٹنے ہیں؟
ایسے میں ہوتا کیا ہے..؟ کچھ نہیں ہوتا، بس ان "ایمانداریوں" کی وجہ سے محمد عامر جیسے نوجوان مارے جاتے ہیں۔ ان کا قصور یہ ہوتا ہے کہ یہ ہمارے ساتھ اسی معاشرے میں جنم لے لیتے ہیں۔ ریاست انہیں تعلیم نہیں دیتی۔ انہیں روٹی کپڑا اور مکان نہیں ملتا۔ انہیں صحت تعلیم روزگار کچھ بھی میسر نہیں آتا۔ یہ اور ان کے گرد وپیش کے سبھی شہری ضابطوں سے ہٹ کر اپنے راستے بناتے ہیں۔ کوئی پرچی چلاتا ہے کوئی جعلی نوٹ چلاتا ہے۔ کوئی ٹھیکے ہڑپ کرتا ہے کوئی ٹیکے لگاتا ہے۔ تنگ گلیوں میں کھیل کھیل کر کوئی کر کٹر بن جاتا ہے۔ اس گرد سفر میں وہ تھوڑی سی پی لے تو ہنگامہ بھرپا ہوجاتا ہے۔ جس کی زبان سنیئے، وہ ایک بے مثال سماج کا تربیت یافتہ لگتا ہے۔ بھئی سترہ برس کی عمر میں غلطی کا اس نے ارتکاب کیا، اور کون نہیں کرتا؟ ہم میں سے کتنے ہیں جو سخت سے سخت سزا کے مستحق نہیں ہیں؟ محمد عامر نے اپنے جرم کی سزا ہی نہیں پائی، مکرر معافی بھی مانگی ہے۔ اپنے حصے کی رسوائیاں بھی اس نے سہ لی ہیں۔ اب یہ "مثالی معاشرہ" اس سے اور کیا چاہتا ہے؟ ایک خطا کی سزا یہ بنتی ہے کہ کرکٹ کو اس کے لئے شجر ممنوعہ ہی قرار دیدیا جائے؟ کسی کو سنگسار کرنے سے پہلے ہم اپنے دامن کے داغ کیوں نہیں گنتے. چادر سے زیادہ پاﺅں پھیلانے کا نتیجہ ہم کیوں نہیں جانتے.؟ کرکٹ کی تاریخ کے سب سے اساطیری بالر وسیم اکرم کہہ چکے
’محمد عامر سزا کاٹ چکا، معافی مانگ چکا، اسے موقع ملنا چاہیئے‘
کرکٹ کی تاریخ کے مثالی آل راونڈر اور کپتان عمران خان کہتے ہیں
’میں نے وسیم اکرم کے بعد اگر کوئی ٹیلنٹ دیکھا ہے، تو وہ محمد عامر ہے. عمر کا لحاظ کر کے اس کی معافی قبول کی جانی چاہیے۔‘
مگرپاک پوتر معاشرے کی پاکیزہ روحوں کو اصرار ہے کہ قانون سب کیلئے ایک برابر ہونا چاہیئے. ایسے مثالی لوگ اپنا دامن نچوڑنے سے پہلے دیکھ لیا کریں کہ وہ خود کسی عامر کے والدین تو نہیں؟ اک ذرا سوچیئے.

کرکٹ میں محمدعامر کی واپسی” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *