جمہوری اتفاق رائے اور صحافتی آمریت

farnood alamجمہوریت اور آمریت کی بحث میں دانشورانہ اتفاق رائے بجائے خود ایک المیہ بن گیا ہے۔ یہ اتفاق رائے اب حکومتی پالیسیوں پہ تنقید کو آمریت کی حمایت گردانتا ہے۔ وقت اور حالات سے سیاسی قیادت نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ کئی صعوبتیں جھیلنے کے بعد یہ تدبر و متانت کے نئے زاویوں سے آشنا ہوئی ہے۔ منجملہ دیگر تبدیلیوں کے ایک یہ بھی ہے کہ غیرت مند قلم کاروں اور سچے اخبار نویسوں کی ہمنوائی اب محنتانے کے عوض خریدتے ہیں۔ وہ اور زمانہ تھا جب لفافوں کی سلامی دی جاتی تھی۔ اقتدار کے لئے ’باوقار اداروں‘ فوجیوں کی بے تابیاں تو سمجھ آنے والی بات تھی مگر یہاں دیکھئے کہ اقتدار کی پالکی صحافی سر پہ اٹھائے پھر رہے ہیں۔ تاریخ میں شاید یہ واحد ملک ہو جہاں صحافیوں کی بھی حکومت رہی ہے۔ وہ جن سے ہم لفظ ہی نہیں، اقدار بھی سیکھتے ہیں، ان کا چلن وائے نصیب!
وزیر اعظم ہاو¿س میں وزیر اعظم سے سرگوشیاں کرتے مشیر دیکھ لیں کہ کس انہماک سے اپنا نقشِ خیال بٹھا رہے ہیں۔ ریلوے انجن سے اٹھتے دھویں کے اس پار کاغذ قلم کے بجائے اب سرکا ر کی طیب و طاہر فائلیں اٹھائے اٹھائے پھرنے والا اخبار نویس دیکھ لیں کہ اس عمر میں بھی کیا پھرتیاں پائی ہیں۔ پی ٹی وی کا ماحول دیکھ آیئے کہ اب روزنِ دیوار سے کون سے بزرگ جھانک کر مسکراہٹیں بکھیرتے ہیں۔ ایک نظر کرکٹ کے میدان پہ بھی کیجئے کہ جہاں ایک صحافی کے اذن کے بغیر کوئی ’چڑیا‘ پر نہیں مار سکتی۔ پیمرا کے پردوں میں بھی ضرور جھانکئے کہ عالم پناہ کس کی پناہ میں بیٹھے ہیں۔ اب سنتے ہیں کہ ایک صحافی کشمیر کی وزارتِ اعظمی کے مشتاق ہیں۔ ہم ہیں مشتاق اور وہ بے تاب والا معاملہ ہے۔ بیزاری تو شہشاہ معظم بالکل نہیں برتتے کہ قرطاس و قلم کی تکریم وہ بخوبی جانتے ہیں۔
وقت نے جن سے حرف کی حرمت و تقدیس کا وعدہ لیا تھا، ان کی بد نصیبیاں دیکھیں کہ منشی ہونا گوارا کر لیا۔ وقت کے بھی کیا کہنے، جو زندگی کو ماتھے کے بالوں سے نہیں پکڑ سکے انہیں حرف کی نگہبانی سونپ دی۔ جن راویوں نے ہمیں خبر کرنا تھی، قلم توڑ کر انہوں نے نیرو کی بانسری اٹھالی ہے۔ مسلسل وہ ’راگ درباری‘ میں ہمیں چین ہی چین سنائے جا رہے ہیں۔ سر اور تال ٹھیک توازن کے ساتھ بیٹھ جائیں، تو پھر کون ہے جو حسین دانشوارانہ اتفاق رائے قائم ہونے سے روک لے۔ یہ اتفاق رائے اس بات پر ہے کہ جمہوریت کی واحد ضمانت وزیر اعظم صاحب ہیں، اور یہ کہ جو ان پہ تنقید کرے گا وہ در اصل آمریت کو اقتدار پہ شب خون مارنے کا جواز مہیا کرے گا۔
بات پر آیئے۔ ہمیں سوچنا ہے کہ جمہوریت سے ہماری وابستگی فکری و علمی بنیاد پر ہے یا پھر وقتی ضرورت و عصبیت کی بنیاد پر۔ اہل علم کا وہ طبقہ لائق تحسین ہے، جو فکری بنیادوں پہ جمہوریت سے وابستہ ہے۔ یہی وہ دیپ ہے جو آمریت کی سیاہ راتوں میں کسی طاق میں پناہ گزیں ہونے کے بجائے سرِ راہ جلتے رہنے کی قسم کھاتے ہیں۔ سوال مگر اہل سیاست اور ان کے ہمنوا دانشوروں پہ ہے۔ کیا اربابِ اقتدار کی جمہوریت سے وابستگی کی بنیاد کوئی فکر و نظریہ ہے؟ جواب نفی یا اثبات میں ہوگا۔ اگر نفی میں ہے تو دانشور کی دانش بجائے خود سوالیہ نشان بن جاتی ہے، اور اگر اثبات میں ہے تو پھر آیئے بحث کا آغاز کرتے ہیں۔
اگر اربابِ اقتدار کی جمہوریت سے وابستگی کی بنیاد کوئی فکر ہے، تو یہ ممکن ہی نہیں کہ تخت پنجاب پہ مسلسل راج کرنے والی تجربہ کار جماعت کیلئے اداروں کی بحالی میں ڈیڑھ عشرے کا عرصہ بھی کم پڑ جائے۔ کوئی بھی عمرانی دیوان اپنی کوئی ساکھ نہیں رکھتا اگر وہ عوام کے بنیادی حقوق اور بنیادی ضرورتیں پوری نہیں کر سکتا۔ اہل ِ فکر کیلئے مرحلہ فکر اور لمحہ فکریہ ہوتا ہی یہی ہے کہ جو انہوں نے سوچا، اس نے مثبت نتائج مرتب کئے کہ نہیں؟ اگر دی گئی فکر کے نتائج پہ کسی بھی بنیاد پر سوال پیدا ہورہا ہو، تو اہل فکر چین کی نیند سو نہیں سکتے۔ سوال کا جواب تراشے بغیر صاحبِ فکر آگے نہیں بڑھ سکتا۔ آمریت اور جمہوریت کے بیچ کی جنگ فلسفیانہ بنیادوں پہ لڑی تو جا سکتی ہے، جیتی نہیں جا سکتی۔ ہار اور جیت کا فیصلہ عوام کے پاس ہے۔ عوام کے پاس جیت کا معیار صرف اس کا اطمینان ہے۔ یہ معیار اس وقت تک رہے گا جب تک اس دنیا میں آخری انسان سانس لے رہا ہے۔
سوال پیدا ہوگئے۔ آپ آٹھ ماہ میں میٹرو بس پراجیکٹ مکمل کر سکتے ہیں، دس برس میں تعلیم کا حلیہ کیوں درست نہیں کر سکتے؟ اب بھی تین سو چودہ اسکول ایسے ہیں جو صرف فائلوں میں موجود ہیں۔ آپ اربوں کھربوں پھونک کر اورنج ٹرین چلا سکتے ہیں، صحت کی سہولیات کیوں مہیا نہیں کر سکتے؟ رواں ماہ میں لاہور جیسے مرکزی شہر کے سرکاری ہسپتالوں میں ونٹی لیٹر مشینیں نہ ہونے کی وجہ سے ایک بار آٹھ اور ایک بار چودہ بچے چل بسے۔ آپ ریوڑیوں کی طرح اربوں کے لیپ ٹاپ بانٹ سکتے ہیں، تھانہ سسٹم کی اصلاح کیوں نہیں کر سکتے؟ لاہور جیسے شہر میں ایک عام فرد ایف آئی آر تک درج نہیں کروا سکتا۔ سوال ہوگئے پیدا؟ اب دانشور کا جواب بھی سن لیجیئے۔ میگا پراجیکٹس معاشی استحکام کی ضمانت ہیں۔ پاک چائنا اقتصادی راہداری پیش نظر ہے۔ ترقیاتی منصوبے چل رہے ہیں۔ جیسے جیسے یہ منصوبے تکمیل کو پہنچیں گے ہم معاشی طور پہ مستحکم ہوتے چلے جائیں گے۔ معاشی استحکام کے اس سفر میں صحت تعلیم روزگار اور امن و امان کے مسائل خود حل ہوتے چلے جائیں گے۔ اک ذرا صبر کیجیئے ابھی کچھ وقت درکار ہے۔
ایسے میں عام آدمی سوچ رہا ہے کہ میگا پراجیکٹس کے بغیر پختونخوا جیسے پسماندہ صوبے میں عام لوگوں کا اعتماد اداروں پہ کیسے قائم ہو گیا۔ ترقیاتی منصوبوں کے بغیر پختونخوا کی پولیس پاکستان کی سب سے بہتر پولیس کیسے بن گئی؟ جو ایف آئی آر تھانے میں جاکر نہیں کٹوائی جا سکتی تھی، وہ ایس ایم ایس پہ کیسے کٹنا شروع ہوگئی۔ ایس ایم ایس شکایات پہ ہی با اثر پولیس افسران کے خلاف کارروائی کیسے ممکن ہورہی ہے؟ بغیر رشوت کے یہاں مسائل کا حل کیسے نکل رہا ہے۔؟ امن و مان میں پینسٹھ فیصد بہتری کیسے واقع ہوگئی ؟ ترقیاتی منصوبوں سے پہلے ہی صحت کے شعبے میں ناقابل تردید اصلاح کیسے ممکن ہوگئی؟ صحت کے شعبے میں ہی ناقابل یقین قانون سازی کیسے ہوگئی؟ ڈاکٹر نظم و ضبط میں آنے پر کیوں مجبور ہو گئے؟ تعمیراتی منصوبوں سے پہلے ہی تعلیمی شعبے میں انقلاب کیسے آگیا۔ ہزاروں اساتذہ جو نوکریاں خرید کر بیرون ملک بیٹھے تھے، ان سے استعفے کیسے لے لئے گئے؟ اساتذہ کے نظم اوقات کیلئے مانیٹرنگ سسٹم کیسے قائم ہوگیا؟ ڈھائی برسوں میں لاکھوں بچے اسکول کیسے پہنچا دیئے گئے۔ گھوسٹ اسکولوں کو فائلوں سے نکال کر زمین پر کیسے کھڑا کر دیا گیا۔ تعمیراتی منصوبوں سے پہلے ہی پٹوار نگر میں اندھیرے کیسے ممکن ہوگئے؟ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کر نے کیلئے ایک مثالی بلدیاتی سسٹم کیسے وضع کر لیا گیا۔ ترقیاتی ممبر اسمبلی سے لے کر اسے قانون سازی تک کیسے محدود کر لیا ؟ ترقیاتی منصوبوں کے بغیر ہی میرٹ کا گراف بلند سے بلند تر کیسے ہوا جا رہا ہے؟ سیاسی مداخلتوں پہ قابو کیسے پالیا گیا۔ بنیادی کرپشن بالکل صفر پہ کیسے آ گئی؟ ٹھیکے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر کیسے مل رہے ہیں؟ پھر ان سارے سوالوں پہ ایک ایک سوال یہ کہ جہاں ان تبدیلیوں کیلئے پندرہ برس بعد بھی مزید صبر کا کہا جارہا ہے، وہیں کچھ فاصلے پہ یہ چمت کار صرف ڈھائی برس میں کیسے ہوگیا؟
دانشور کا جواب خدا جانے کیا ہوگا، مگر اتنا ہی عرض کروں گا کہ عذر رکھئے گا برطرف۔ مجھ ایسے شخص کو میگا پراجیکٹس کی افادیت پہ ذرہ بھر بھی کوئی سوال نہیں، مگر یہ تاویل ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں کی جاسکتی کہ میگا پراجیکٹس کے ہوتے اداروں پہ توجہ دینا ممکن نہیں۔ یہ عذر بھی بھی کسی طور منطقی نہیں کہ میگا پراجیکٹس کو صحت تعلیم اور امن و امان جیسی بنیادی انسانی ضرورتوں پہ کوئی فوقیت حاصل ہے۔ پہلے جان ہے، پھر جہان ہے۔ یہ ایک تقاضا ہے جسے سیاست کے مجھ جیسے روایتی طالب علموں نے ناممکن قرار دے کر سیاسی قوتوں کو کھلی چھوٹ دیدی ہے۔ بحث اس بات پہ ہونی چاہیے تھی کہ جمہوریت کے علمبردار اپنی پالیسیوں میں کتنے جمہوری ہیں؟ کیا جمہوریت کی سا نسیں اس انداز و ادا کے ساتھ بحال ہوسکتی ہیں؟
دیکھیں، کتنے صوبوں کے آئی جی، وزرائے صحت اور وزرائے تعلیم ہیں جن کا نام یہ قوم جانتی ہو۔ پختونخوا واحد صوبہ ہے جہاں آئی جی ناصر درانی، وزیر تعلیم عاطف خان اور وزیر صحت شہرام ترکئی اپنے کامل اختیارات کے ساتھ نظر آتے ہیں۔ وزیر اعلی کبھی تھانوں پہ چھاپے مارتے اور آفیسرز کو معطل کرتے نظر نہیں آتے۔ ایسا بھی نہیں ہوتا کہ کوئی خاتون انصاف مانگتی پھرے، کوئی نہ پوچھے، جونہی میڈیا کی آنکھ پڑ جائے تو وزیر اعلی اڑن کھٹولے پہ اڑتے چلے آئیں۔ یہ آئی جی ہی کا فرض منصبی ہے، جس میں معطلیاں میڈیا پہ نہیں ہوتیں۔ و زیر اعلی کسی ہسپتال کے کوڑے دان سونگھتے نہیں پھرتے۔ ایمر جنسی میں وزیر اعلی مریض کے سرہانے کھڑے نہیں ہوتے۔ ہر منظر میں وزیر صحت ہی نظر آتے ہیں۔ وزیر اعلی کو کسی اسکول پر تاتاری کی فوج کے ساتھ نازل بھی نہیں ہونا پڑتا۔ یہ تمام ادارے چھاپوں اور فوٹو سیشن کے بغیر بالکل اسی طرح چل رہے ہیں جس طرح شہزادوں کی غیر موجود گی میں ان کی کمپنیاں چل رہی ہوتی ہیں۔
رکئے ، سوچ کر بتلایئے، عوام کس طرف دیکھیں؟ یہ سوال اس دانشور سے نہیں جس کی دانش کرم کی امید اور خمیازے کے خوف پہ اپنا رنگ جماتی ہے۔ یہ سوال اس دانشور سے ہے، جو علمی بنیادوں پہ جمہوریت کے لئے فکر مند ہے۔ اسی دانشور پہ عقل محو حیرت بھی ہے کہ تنقید اور نشاندہی کے عمل کو اس نے جمہوریت کیلئے خطرہ کیسے سمجھ لیا؟ کیونکر اس کا یہ خیال بن گیا ہے کہ اس کی تنقید جمہوریت کو کمزور کر دے گی؟ اگر ہماری تنقید سے عسکری ادارے کمزور نہیں ہوتے، تو یاد رکھیئے گا جمہوری ادارے بھی کمزور نہیں ہوسکتے۔ تنقید ہی میں اصلاح کا راز پنہاں ہے۔
آخری تجزیئے میں۔!!
دانشور نے اگر نشاندہی نہ کی تو اداروں کی اصلاح کی فکر جنم نہیں لے سکے گی۔ ادارے کمزور رہ گئے، تو عوام کا اعتماد جمہوریت پر بحال نہیں ہوسکے گا۔ اگر یہ اعتماد بحال نہ ہوا تو جمہوریت کا خون خود اپنے ہی ہاتھوں پہ دیکھئے گا۔

جمہوری اتفاق رائے اور صحافتی آمریت” پر ایک تبصرہ

  • دسمبر 29, 2015 at 4:33 PM
    Permalink

    اس کالم کا سب سے قیمتی پیراف گراف:
    آپ آٹھ ماہ میں میٹرو بس پراجیکٹ مکمل کر سکتے ہیں، دس برس میں تعلیم کا حلیہ کیوں درست نہیں کر سکتے؟ اب بھی تین سو چودہ اسکول ایسے ہیں جو صرف فائلوں میں موجود ہیں۔ آپ اربوں کھربوں پھونک کر اورنج ٹرین چلا سکتے ہیں، صحت کی سہولیات کیوں مہیا نہیں کر سکتے؟ رواں ماہ میں لاہور جیسے مرکزی شہر کے سرکاری ہسپتالوں میں ونٹی لیٹر مشینیں نہ ہونے کی وجہ سے ایک بار آٹھ اور ایک بار چودہ بچے چل بسے۔ آپ ریوڑیوں کی طرح اربوں کے لیپ ٹاپ بانٹ سکتے ہیں، تھانہ سسٹم کی اصلاح کیوں نہیں کر سکتے؟ لاہور جیسے شہر میں ایک عام فرد ایف آئی آر تک درج نہیں کروا سکتا۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *