اسلامی نظریاتی فری سٹائل ریسلنگ

razi uddin raziدیکھے تواسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں کیساتماشہ لگا،مولانا محمد خان شیرانی اورمولانا طاہراشرفی کے درمیان منگل کے روزہونے والے دنگل کی تفصیلات یقیناََ آپ کے سامنے آچکی ہوں گی ۔ آپ کوبخوبی علم ہو گیا ہو گا کہ فرقہ واریت کے خاتمے اور معاشرے میں بھائی چارے کے فروغ کی تجاویز پر غور کرنے والے خود کس بھائی چارے کے ماحول میں رہتے ہیں ۔سناہے اجلاس میں پہلے تو احمدیوں کے حوالے سے نئی قانون سازی کے معاملے پر بحث مباحثہ شروع ہوا اور پھر بات بحث وتکرارسے بڑھ کر ہاتھاپائی تک پہنچ گئی ۔وہ تو بھلا ہو مولانا طاہر اشرفی کا کہ انہوں نے میڈیا پر آ کر اپنا چاک گریباں دکھا دیا ورنہ تو ہمیں معاملے کی نزاکت کا احساس ہی نہ ہوتا ۔ مولانا اشرفی نے یہ بھی بتایاکہ مولاناشیرانی بلوچستان سے اپنے ساتھ ’غنڈے ‘لے کراسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں آتے ہیں اوروہ غنڈے بھی ان پرحملہ آور ہوئے۔ دوسری جانب مولانا محمد خان شیرانی نے الزام عائدکیاکہ مولانااشرفی حالتِ غیرمیں تھے اورانہوںنے نشے کے عالم میں اجلاس میں ہنگامہ آرائی کی ۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں غنڈوں کی آمدورفت یا شراب کا تذکرہ ایک ایسامعاملہ ہے کہ جس پرکم ازکم ہم توکوئی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ ہماری کیامجال کہ دین وفقہ پردسترس رکھنے والی ان تقدس مآب ہستیوں میں سے کسی پردروغ گوئی کا الزام لگائیں۔ اگر یہ غل غپاڑہ کسی مے خانے میں ہوتا تو اس پر کوئی بھی رائے قائم کی جا سکتی تھی۔ مے خواروں کو برا بھلا کہنا ویسے بھی بہت آسان ہوتا ہے۔ لیکن یہ تو معاملہ ہی بہت حساس ہے۔ یہ ہستیاں تو چلتی پھرتی دفعہ 295سی ہیں۔ اس لئے صاحب ہمیں صرف ان خبروں سے لطف اندوز ہی ہونے دیجئے۔ ہم سے کسی تبصرے کی ہر گزتوقع نہ رکھیں۔ ہم تو یہاں’ اپنے بچنے کی فکر کر جھٹ پٹ‘ والے شعر کا پہلا مصرع بھی درج نہیں کر سکتے کہ اس میں دو موذیوں کا ذکر آتا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس صورت حال پر اسلام اور پاکستان کے دشمن طرح طرح کی حاشیہ آرائیاں کریں گے اور یہ سوال بھی کریں گے کہ جو مولوی ایک میز پر مل کر نہیں بیٹھ سکتے وہ بھلا لوگوں کو بھائی چارے کا درس کیا دیں گے؟ اس سوال کا جواب یقینی طور پر خود مولانا شیرانی اور مولانا اشرفی ہی کو دینا ہو گا ۔ ہمیں صرف ایک سوال کا جواب درکار ہے اور سوال یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یہ دونوں ہستیاں بہت معتبر ہیں اور معتبر ہیں تو اسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے میں بیٹھ کر قوم کا قبلہ درست کرنے کی سعی فرما رہی ہیں۔ لیکن میڈیا پر ہم نے ان کی جو گفتگو سنی اور جو الزامات ان کی جانب سے ایک دوجے پر عائد کئے گئے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک تو دروغ گوئی سے کام لے رہا  ہے؟   دروغ گوئی ، غنڈہ گردی اور شراب نوشی کے الزامات کوئی معمولی تو نہیں ہیں۔ ایسا الزام کسی انتخابی امیدوار پر لگ جائے تو وہ آرٹیکل 62 اور 63کے تحت نا اہل قرار پاتا ہے ۔ تو جناب اسلامی نظریاتی کونسل میں فری سٹائل ریسلنگ کرنے والے ان برگزیدہ علماءکے بارے میں اب ہمیں اور آپ کو کیا رائے قائم کرنی چاہئے اور وہ جو شیرانی صاحب احمدیوں والے طے شدہ مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کرنا چاہتے ہیں کیا ان کے فسادی عزائم کا نوٹس نہیں لیا جانا چاہئے۔ اور اگر اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاسوں میں معاملات دھول دھپے ہی سے طے کئے جانا ہیں تو پھر اس ادارے میں علماءکی جگہ پہلوانوں کوکیوں
نہ شامل کر لیا جائے تاکہ فقہی و دینی مسائل مزید خوش اسلوبی کے ساتھ طے کئے جا سکیں ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلے کے ؟

اسلامی نظریاتی فری سٹائل ریسلنگ” پر بصرے

  • دسمبر 31, 2015 at 10:48 PM
    Permalink

    in molvyon na to had he par kar d ha jo log dosron ka lia roll model hony chaye wo khud ak dosra ko hadasht ni kar pa rha yaen inhon na bhala deen kr kia khadmat karne ha in sab ko frg kar ka kuch new log lay jayan ta ka kuch gand idhar sa b saf ho jasa politices ma ho rha ha so plz in dono hazart ko gr bhjan

    Reply
  • جنوری 1, 2016 at 1:15 PM
    Permalink

    آپ کی تحریر پڑھ کر اس واقعہ کی بابت پنجابی فلم کا وہ ڈائلوگ یاد اگیا کہ ''سمجھ تے کجھ نئی آئی پر سواد بڑا آیا''

    Reply
  • جنوری 5, 2016 at 2:43 PM
    Permalink

    یہ بات ناقابل فہم ھے کہ اس کونسل کو صرف دس سال کے محدود عرصہ کیلئے کھڑا کیا گیا تھا - جس سے مولوی حضرات کی تو گویا چاندی ھوگئی - مگر پانچوں گھی میں اور سر کڑاھی میں رکھے رھنے کی خاطر ـــــ کئی "دس سال " گزر گئے، کوئی قابل ذکر سفارش تو سننے میں نہ آسکی تاھم ـــــ سال میں ایک آدھ اس قسم کے فتوے اور سفارشات ھاسے مخول کی زینت ضرور بنتیں رھی ھیں کہ :

    نمازوں کے اوقات کی آگاھی کی خاطر، ٹی وی چینلز / ریڈیو پر اذان نشر کرنا "حرام" ھے .....!!
    رھے نام اللہ کا ــــــ الللہ اللہ تے خیر صلہّ......... !!!
    یا پھر کونسل کے اندر حالیہ قسم کے مولویانہ دنگل اور باھمی "جہاد" کی خبریں سننے کو مل جاتی ھیں - ویسے اقبال کا یہ مشہور مصرعہ علماء کے اس جہاد پر حرف ِ آخر کا درجہ نہں رکھتا کہ .....
    جہادِ مُلاّ فی سبیل اللہ فساد !

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *