احساس ہوا بربادی کا ؟

khizer Hayat Khanاحساس ہوا بربادی کا ،جب سارے گھر میں دھول اٹھی ؟
جب یہ سوال فیس بک پر ڈالا
کیا یہ آپ کیلئے بھی حیران کن بات ہے ؟
"کراچی میں 13 مئی کو پیش آنے والے سانحہ صفورا کی تحقیقات کے وسیع ہوتے دائرے نے ایسے ایسے پڑھے لکھے چہرے سامنے لاکھڑے کیے ہیں، جنھیں دیکھ کر یا جن کے بارے میں سن کر وہم و گمان بھی نہیں ہوتا کہ ایسے افراد بھی دہشت گردی میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ نہ صرف ملک کے مایہ ناز تعلیمی اداروں بلکہ امریکا کی معروف یونیورسٹیز سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد بھی دہشت گردوں کے سہولت کار اور انھیں مالی معاونت کرنے والوں کی فہرست میں نکلے۔ یہ افراد نہ صرف بیچلرز، ماسٹرز اور انجینئرنگ کی ڈگریوں کے حامل ہیں بلکہ سرکاری و نجی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے تعلیم یافتہ افراد قانون کے شکنجے میں آئے جوکہ مختلف کالعدم تنظیموں سے وابستہ رہے اور ان کے لیے کسی نہ کسی طرح کام کرتے رہے۔
دہشت گردی کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ اس میں ایسے افراد ملوث ہوتے ہیں، جن کی مالی حالت انتہائی کمزور ہو یا وہ زندگی کے مصائب و آلام اور مشکلات کو جھیلنے میں ناکام ہوں۔ اس قسم کے افراد چونکہ دہشت گرد تنظیموں کے لیے ترنوالہ ہوتے ہیں، لہٰذا وہ ان کی برین واشنگ کرتے ہیں اور انھیں بھاری رقوم کے عوض اپنی تنظیم میں شامل کرلیتے ہیں، لیکن سانحہ صفورا نے نہ صرف تحقیقاتی اداروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا بلکہ شہریوں کو بھی تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔"
تو محترمہ نجمہ صدیقی یوں گویا ہوئیں .
”حیران کن بات تو یہ ہے کہ پکڑے گئے۔ یہ سوچنا غلط ہے کہ 'پڑھے لکھوں' کا، یا اعلیٰ ع±ہدوں پر فائز ہونے کا، یا م±لکی، غیر م±لکی مایہ ناز یونیورسٹی سے پڑھے ہونے کا کوئی تعلق نہیں ہوسکتا ہے۔ دہشت گرد ہونے سے۔ جہاں دو نسلوں کی تعلیم میں صرف طالبان تیار کرنے اور ہر دوسرے کو دشمن منوانے، اپنی اور دنیا کی تباہی میں یہود و ہنود کا ہاتھ دکھانے پر زور ہو، جہاں عالم اور سیکولر کا تصور ختم کرکے اب مذہب کی بنیاد پر، اور داڑھی کی لمبائی اور حجاب نقاب کی کاٹ چھانٹ پر اعلیٰ مقام حاصل کئے جاتے ہوں، وہاں حیرت کیسی؟“
سعید ضیا صاحب بولے ..."ریاست نے اپنی رٹ قائم نہیں رکھی شروع سے ہی ہر شخص جس نے داڑھی رکھی ہوءتھی یہ جانے بغیر کہ اس کا مطالعہ کتنا ہے اس کو مذہبی پیشوا بنا لیا گیا اور اس نے جو بھی مذہب کی تشریح کی ، ہم نے مان لی۔ اس کی تحقیق کئے بغیر کہ اس سلسلے میں مذہب کیا کہتا ہے کیا نہیں دوسرے ہم نے اپنے بچوں کی کالج اسکول اور یونیورسٹی کی تعلیم پر توجہ دی لیکن دینی تعلیم سے نہ ہم واقف تھے اور نہ ہی ہم نے اپنے بچوں پر توجہ دی"
میرا جواب کچھ یوں تھا .
شاعر نے تو کہا تھا کہ
احساس ہوا بربادی کا جب سارے گھر میں دھول اٹھی !
مگر اپنی حالت یہ ہے کہ دھول تو کیا دھواں بھی اٹھ رہا ہے اور احساس نامی چڑیا کا دور دور کوئی گزر نہیں۔کہیں کوئی احساس ندامت نہیں اور نہ ہی کوئی قومی سطح پر کوئی بحث چل رہی ہے ۔ ایسا نہیں کہ قوموں میں مشکل مقامات نہیں آتے اور کہیں کوئی غلط فیصلے نہیں کیے جاتے مگر جب پتہ چل جائے تو ذمہ داران اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں آئندہ سے ایسی غلطیاں نہ کرنے کی یقین دہانیاں ہوتی ہیں اور قومیں ایک بہتر مستقبل کی طرف چل پڑتی ہیں.....مگر اپنے ہاں تو ہر کوئی اپنی ذمہ داری دوسرے پر ڈال دیتا ہے اور پکڑے جانے والے غلط فیصلوں کے بارے میں بھی تاویلیں گھڑی جاتی ہیں اور بحث و مباحثہ کی ایسی گرد اڑا ءجاتی ہے کہ کسی کو کچھ دکھائی نہیں دیتا سچ جھوٹ میں اورجھوٹ سچ میں چھپ جاتا ہے ۔
پھر روشن کر زہر کا پیالہ چمکا نئی صلیبیں
جھوٹوں کی دنیا میں سچ کو تابانی دے مولا !!
تیرے ہوتے کوئی کسی کی جان کا دشمن کیوں ہو
جینے والوں کو مرنے کی آسانی دے مولا !
گرج برس پیاسی دھرتی پر پھر پانی دے مولا
چڑیوں کو دانے بچوں کو گڑ دھانی دے مولا !!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *