ابلیس کی مجلس شوری اور ٹائر لاہوری

farnood alamایک طوائف تو لکھنو کی ہوتی ہے۔ شبِ مختصر کی سیاہ مستیوں کے بعد اپنی دھن میں اگر آپ چل دیں تو تقاضے کی کوئی آواز نہیں آئے گی۔ وقتِ رخصت پوری انا اور خود داری کے ساتھ دھیمے لہجے میں کہے گی
”ممکن ہو تو کچھ خاطر مدارت کرتے جایئے، نہیں تو ایسی بھی کوئی مشکل نہیں، پھر سہی۔ ”
ادائیگی کے ہنگام قدرے بے التفاتی برتتے ہوئے کہے گی
”اگر نہیں ہیں تو کوئی بات نہیں، آگے بھی آپ نے آنا ہی ہے، تو رکھ لیجیئے“
لکھنو کا مقدر ہی کہیئے کہ گناہ بھی کیا تو کس قدر نفاست سے کیا۔ لحمیاتی بد اعمالیوں کا ذوق بھی ایسا پایا کہ دم پخت کے قصے بھی محض قصے ہی رہ جائیں۔ بدذوقی ہی ہوگی اگر سیاہ کاریوں میں بھی لکھنو کو ممتاز مقام پہ نہیں رکھا گیا۔ اب تو سنتے ہیں حالات بہت پتلے ہیں، مگر ہمارے وقتوں میں (کچھ نہیں ہوتا اگر مجھے گئے وقتوں کا شاعر فرض کرلیا جائے) تو صاحب کیا کہیئے۔ استقبال کریں تو غالب کے قافیوں میں، رخصت کریں تو میر کے مصرعوں میں۔ ایک طوائف کے سامنے کسی نے میر کی غزل بغیر مرکیوں کے یونہی سیدھی سیدھی پڑھ دی۔ طبعیت اس قدر مکدر ہوئی کہ گھنگرو پہ سکوتِ مرگ طاری ہوگیا۔ ہمت جواب دے گئی تو بولی
”او میاں۔! غزل ٹھیک سے پڑھو، یہ میر کا کلام ہے کوئی قرآن و حدیث نہیں ہے کہ جیسے چاہا پڑھ دیا“
اب ضرورت ہی کیا تھی طوائف کا یہ جملہ نقل کرنے کی۔ آگیا، سو کردیا۔ مگر اس جملے سے آپ توہینِ مصحف کا پہلو نکالنے کے بجائے اس پہلو پہ زیادہ زور دیں کہ ایک طوائف کی نظر میں بھی قرآن کی تلاوت پورے قرینے اور سلیقے کا تقاضا کرتی ہے۔ مگر مولویوں نے تو گویا اس بات پر اتفاق کر لیا ہو کہ قرآن کو اتنا ہی سیدھا پڑھیں گے جتنا خود سیدھے ہیں۔ اتنا ہی سادہ پڑھیں گے جتنا کہ گھر کی دیواریں باہر سے سادہ ہیں۔ حالانکہ شد اور مد اسی لیئے ہوتے ہیں کہ تان کو عمامے کے پیج و خم کی طرح اٹھایا جایا جائے، اور غنہ و تشدید بھی اسی لیئے ہوتے ہیں کہ آیت کو اسی خوبصورتی سے نبھایا جائے جتنی خوبصورتی سے مولوی اپنے زنان خانے کی اندرونی دیوار کو نبھاتا ہے۔ غضب خدا کا، مولوی قرآن پڑھے تو لگتا ہے جیسے خدا نے قرض مانگ لیا ہو، اور موذن خانے کیلئے چھانٹ کے ایسا بانگی ڈھونڈ لائیں گے کہ سنتے کانوں کا خدا پر سے ایمان ہی اٹھ جائے۔ یہی حضرات نعت کا اہتمام پورے دھوم دھڑکوں کے ساتھ فرمائیں گے، ایسے میں طوائف کہے بھی تو کیا کہے۔؟
آمدم بر سرِ مطلب۔!!
تیسری دنیا میں سستی طوائف کے گھن چکر آپ نے نہیں دیکھے ہوں گے۔ کیونکہ آپ نے ہمیشہ فرشتے ہی دیکھے ہیں جو جناب کا دامن نچوڑ نچوڑ کے وضو فرماتے ہیں۔ اسی دامن پہ کھڑے ہوکر پھر باجماعت سجدے بھی ادا کرتے ہیں۔ خیر،ان طوائفوں کی تربیت بالکل مختلف ہے۔ شاید اس لیئے کہ باغیرت مردوں کے ساتھ ان کا تجربہ بھی بہت مختلف ہے۔ اب جیسی روح ہوگی ویسی ہی طوائف ہوگی نا صاحب۔ یعنی جیسے کو تیسا۔ اسی لیئے یونہی منہ اٹھائے نکلنے کی کوشش کیجیئے تو آواز آتی ہے کہ ”اوئے پیسے تیرا باپ دے گا کیا؟“۔ اس جملے کو بحسن خوبی پی جانے میں ہی عافیت جانیئے۔ مٹھی گرم کیجئے اور دائیں بائیں دیکھے بغیر نکل جایئے ورنہ ساحر لدھیانوی خداوندانِ تقدیس مشرق کہہ کر آواز دیدیں گے، کہیں کے بھی نہیں رہوگے۔ طوائف کے جملے پہ اگر آپ غیرت کھا گئے تو وہ اپنا زیرِ جامہ سر پہ باندھ کر آپ کو بیچ چوراہے پہ لے جائے گی۔ ایسے میں آپ سود سمیت ادائیگی پہ مجبور ہوں گے کیونکہ آپ کے پاس گنوانے کو بہت کچھ ہے۔ طوائف کے پاس گنوانے کو کچھ نہیں، بلکہ اضافی نفع ہے کہ جتنا نام بدنام ہوگا تنا ہی اس کا نام ہوگا۔
سستی طوائف کی ایک مثال تو گزشتہ برس مہینوں سماجی ذرائع ابلاغ پہ گردش کرتی رہی۔ ایک طوائف جس کی اگھاڑی اور پچھاڑی کو صرف دامن نے ڈھانپ رکھا ہے، ایک پولیس اہلکار سے تھانے کے احاطے میں الجھ رہی ہے۔ شور کرتی طوائف پیچھے پیچھے پولیس اہلکار دامن بچانے کو آگے آگے۔ معروف ٹی وی چینل کا نمائندہ اس منظر کو کیمرے کی آنکھ سے محفوظ کر رہا ہے۔ طوائف کا مقدمہ یہ ہے کہ مجھے اس اہلکار نے جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ اہلکار نے بھی طوائف کو کسی غریب کا چھابڑی پہ پرا سیب کا دانہ سمجھ لیا تھا کہ اٹھا کر چل دوں گا۔ اسے کیا خبر تھی کہ کوٹھوں پہ بے ایمانی کا ہر کام پوری ایمانداری سے انجام دیا جاتا ہے۔ یہ تھانے نہیں کہ کسی کا بھی ٹیٹوا جہاں سے چاہا دبا دیا۔
اب ہوا کیا ہوگا یہ تو آپ سمجھتے ہی ہیں، مگر اس سے زیادہ دلچسپ یہ طریقہ واردات اور اس کی نفسیات ہیں جو طوائف کیلئے کسی ناقابلِ شکست ہتھیار کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ورنہ کوئی بھی پاکدامن مردوں کی دی ہوئی اذیتوں کو اندر ہی اندر پی جاتی ہے۔ یہی سب سے بڑی مشکل ہے، جس نے خاتون کیلئے بچے پیدا کرنا آسان کردیا ہے۔
اچھا۔!!
اس طوائف کا معاملہ دو آتشہ ہوتا ہے جس کی رعنائیاں ماند پڑچکی ہوں۔ گزری ہوئی عمر اور ڈھلکے ہوئے جسم میں جب دعوتِ مبارزت کا کوئی سامان نہیں رہتا تو رونا دھونا، ٹانگیں کھینچنا، گلے پھاڑنا، پولیس کے ساتھ مل کر ٹھکانوں کی خبریں دینا، بلیک میل کرنا اور دوسروں کی کمائیوں میں زبردستی منہ دینا ہی اس کے گزر بسر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
آپ جانتے ہیں۔؟
طوائف کی ایک قسم مردوں میں بھی پائی جاتی ہے۔ وہی احساسات وہی رجحانات اور وہی نفسیات۔ بظاہر بزرگِ خدا مست، مگر اندر سے شبِ سیاہ مست۔ دھینگا مشتی اور نورا کشتی پہ زندگی کا انحصار۔ ٹانگ کھینچ اور رستہ کاٹ سرگرمیاں۔ گزری عمر خمیدہ کمر اس پہ مستزاد۔
رات خواب میں میں نے ابلیس کی مجلسِ شوری دیکھی۔ ایک شخص ادھڑا گریبان لیئے میڈیا کے روبرو اپنی بیوگی کا ماتم کرہا ہے۔ میں رنڈوا سمجھا مگر بتایا گیا کہ ابلیس کی بیوہ ہے۔ اجلا لباس پھیلی داڑھی چمکتی ٹوپی۔ چیخ چیخ کر بتا رہا تھا کہ ایک بزرگ نے میری عزت لوٹ لی ہے۔ ہائے یہ دیکھو میرا گریبان پھاڑ دیا ہے۔ ہائے میرے دو بٹن بھی توڑ دیئے ہیں۔ ہائے میں لٹ گیا۔ ہائے میں مرگیا۔ اس ہاہاکار میں عقل یہ سوچ رہی ہے کہ ایک دھان پان بزرگ ایتھنز کے گیناڈوز کو کیسے لوٹ سکتا ہے۔ سبحان تیری قدرت۔
کچھ جھانک تانک مزید کی تو پتہ چلا کہ بیوہ کا آج مجلس شوری میں آخری دن تھا۔ اس کے بعد بے روزگاری کے شب وروز منتظر تھے۔ فرصت کے ان شب وروز میں وہ اپنی ’سوانح خمری‘ بھی لکھ سکتے تھے، مگر طوائف تو ہوتی ہی ایک کھلی کتاب کی مانند ہے، اسے کیا ضرورت۔ پھر وہ طوائف بھی کیا جو کسی بھی طور ہار مان لے۔ وہ روئے گی، چلائے گی، سر پہ خاک ڈالے گی، اور کیا۔
حرفِ آخر:
طوائف کے کچھ دلال ہوتے ہیں۔ ہم لکھنے والوں کے قلم، کیمرے کی آنکھ، پھیلے ہوئے اوراق انہی طوائف کی دلالی کے سوا کچھ نہیں کر رہے۔ کیوں؟
کیونکہ۔!!
ہمارے لیئے قصور میں اتری ہوئی شلواروں سے زیادہ اہم سپریم کورٹ کی دیوار پہ لٹکی ہوئی شلواریں ہوتی ہیں۔ کل ہم ایک سانحے سے گزرے ہیں۔ شہر مردان میں نادرا آفس کے باہر دھماکہ ہوا، جس میں پچیس سے زائد معصوم غریب غربا مارے گئے۔ لفظوں کے ہم جیسے تاجر اور مقدس دلال کٹی ہوئی گردنیں کھلے آسمان تلے چھوڑ کر ایک پھٹے ہوئے گریبان کی رفو گری میں جت گئے۔ خون قلم کی نوک پہ ہے، مگر میں رکتا ہوں۔ یکایک جون ایلیا یاد آگئے ہیں
پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم
اہلِ قلم کیا منہ دکھائیں گے، خدا جانے،البتہ دو عذر میرے پاس ہیں، جو شہید وحوں کے سامنے پیش کرنے کی جسارت کر سکتا ہوں۔ قصور تمہارا بھی ہے۔ پیدا ہوئے تو غریب گھرا نوں میں کیوں پیدا ہوئے؟ مرے تو پھر لاہور میں کیوں نہیں مرے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *