نئے سال کی دلچسپ شروعات

hajra mumtazہاجرہ ممتاز

ہر نئے سال میں داخل ہوتے وقت دنیا بھر میں ہونے والی پرشور تقریبات کے متعلق آپ کی جو بھی رائے ہو، اس میں کوئی شک نہیں کہ اب ان تقریبات کا تناسب بہت بڑھ چکا ہے۔
آپ سب لامحدودمادیت، دولت کی فراوانی اوراس کے ضائع کئے جانے پر تنقید تو کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود آپ کو تسلیم کرنا پڑے گاکہ نئے سال کی آمد پر ہونے والی تقریبات بہت بڑے پیمانے پر ہوتی ہیں۔
یہ جاننے کا توکوئی طریقہ نہیں ہے کہ گزشتہ ہفتے جشن منانے والے لاکھوں کروڑوں لوگوں میں سے کس نے سب سے زیادہ لطف اٹھایا لیکن وہ شہر جس نے تقریبات کے کھیل میں فتح حاصل کی اس کا نام دبئی ہے۔دبئی نے دس منٹ سے کم وقت میں دھوئیں کے بیچ آتش بازی کے5 لاکھ مظاہرے کرکے نئے سال کی آمد کی سب سے بڑی تقریبات کے ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ نئے سال کے اس پہلے روز کہ جب باقی دنیا کے لوگوں میں سے زیادہ تریقیناً مدہوشی کے عالم میں گزشتہ رات کے متعلق سوچ رہے تھے، پاکستان میں ہم بھی مختلف اقسام کے ریکارڈوں کے لئے ایک سنجیدہ قسم کی بو لی دینے میں لگے ہوئے تھے۔لیکن یہاں موجود کئی دوسروں کی طرح، یہ اس سے بہت دور تھا کہ جس کی خواہش کی جا سکتی ہے:آنے والے 364 دنوں کے سب سے زیادہ اداس کردینے والے، پریشان کن اور مایوس کن آغاز کا ریکارڈ۔
ایک کالعدم عسکری تنظیم جیش الاسلام نے کوئٹہ کے قریب ایک خود کش حملہ کرکے نئے سال کا آغاز کیا۔ ایران سے واپس آنے والے 45 شیعہ زائرین کو لے جانے والی بس سے ایک بارود سے بھری گاڑی ٹکرا دی گئی۔جب بس جل گئی تودہشت گردوں نے وہاں گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔یہ معجزہ ہے کہ اتنے بڑے حملے کے مقابلے میں جانی نقصان کی تعداد بہت زیادہ نہ بڑھی۔ ابھی تک، 30 مرد، عورتیں اور بچے زخمی تھے، وہاں موجود سب لوگ زندگی سے خوفزدہ تھے۔
لیکن گزشتہ کئی سالوں کے دوران اہلِ پاکستان تکالیف کو بہت کم تسلیم کرنا سیکھ چکے ہیں۔
بہر حال 2013ء کا آغاز اس سے بھی زیادہ خوفناک تھا۔10 جنوری کوکوئٹہ ہی میں، ہزارہ کمیونٹی پر علمدار روڈ پر ہونے والے حملے کو ایک برس مکمل ہو رہا ہے۔اس حملے میں 90 قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ہر طرف کفنوں اور ناقابل برداشت غضب سے بھرپور چہروں کی قطاریں تھیں۔ اس کے علاوہ وہاں کچھ نہ تھا۔
چند روز قبل، ایسے ہی اور ان سے ملتے جلتے معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے، ایک ساتھی نے مجھ سے پوچھاکہ کیا میں یہ سمجھتا تھا کہ ملک کے حالات کے نتیجے میں بطور قوم، پاکستانی تھوڑے سے ٹیڑھے میڑھے یا عجیب و غریب ہوتے جا رہے تھے۔میرا رد عمل یہ تھا ، ’’تھوڑے سے؟ بلاشبہ اورممکنہ طور پر بہت زیادہ۔‘‘
زمانے جوگزر رہے ہیں، انہیں ضرور گزارناچاہئے۔ ہر نئے خوف سے نمٹنا پڑتا ہے اورپھراس کو بھلانا پڑتا ہے جیسے کہ اس سے اگلا اور اس سے منسلک اپنا سر اٹھانے لگتا ہے۔
دور اندیشی کا مظاہرہ کیاجائے توبڑی سی تصویر واضح تر ہو جاتی ہے۔ مثال کے طور پر، جب ضیاء کا سایہ بہت بڑا ہو گیا توکروڑوں انسانوں میں سے چند ’’دلیر‘‘اور’’ زیادہ واضح بصارت‘‘ رکھنے والے لوگوں نے ہمیں بتایاکہ ملک کے ساتھ جو کچھ ہورہا تھا، وہ مستقبل میں تاریکی کی جانب جانے والا ناقابل واپسی سفر ثابت ہو سکتا تھا۔
کیا کبھی وہ وقت آئے گا جب ہم یا ہماری آنے والی نسلیں، پیچھے مڑ کر اس عشرے کی طرف اورحالیہ 500 سالوں کی طرف دیکھیں گی اور غور کریں گی کہ ہمارے حالات نے کس طرح ہمارے طرزِ فکر کو متاثر کیا ہے؟
مجھے اس کی امید ہے کیونکہ ایسے انداز میں احساسات کا جائزہ اس جگہ سے لینا چاہئے جہاں آج کے پاکستان اور کچھ دیر بعد کے پاکستان کے درمیان کچھ فاصلہ پیدا ہو چکا ہو۔۔۔۔ دوسرے لفظوں میں، صرف حالتِ امن میں رہنے والے لوگ ہی درست انداز میں اس قابل ہوتے ہیں کہ شدید تشدد کے زمانے کے اثرات کا جائزہ لے سکیں۔یا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تشدد اور امن کے درمیان کے دس سے پندرہ برس دراصل معاشرے کواس طرح تبدیل کر دیتے ہیں کہ کوئی پرانی نفسیات کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرے گا کیونکہ اس نئے دور میں رہنے والے سب ہی لوگ بدلی ہوئی نفسیات کے حامل ہوں گے۔
آج بہت سے عظیم لوگ زندہ ہیں جنہیں وہ پاکستان یاد ہے کہ جس میں اعلیٰ حکام کو ’’نہ ہتھیارنہ قبضہ ‘‘ کی چٹھی سکولوں میں نہیں بھجوانی پڑتی تھی۔ جہاں قابض اور محروم طبقوں کے درمیان ناقابلِ عبور فاصلہ نہیں تھا۔جہاں خون اس کثرت سے نہیں بہایا جاتا تھااور جہاں روزانہ، دن کے اختتام پرگھر واپس جانے کے قابل نہ ہونے کاخوف زیادہ تر لوگوں کے ذہنوں میں نہیں بیٹھا ہوتا تھا۔
لیکن نسلیں، اپنے ساتھ اپنی یادیں اور تجربات لے کر مٹ جاتی ہیں۔دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بعد کے زمانے، فرض کریں کہ 2001 ء میں پیداہونے والا بچہ اب بے مزہ حقیقتوں کو ساتھ لے کر ہوشمندی کی عمر میں داخل ہو گا۔وہ سب سے چھوٹا بچہ، جس نے حالیہ انتخابات میں ووٹ ڈالا، 1995ء میں پیدا ہوا ہو گا۔اور عمر کے لحاظ سے، پاکستان کی مردم شماری ، کم عمر نوجوانوں کی طرف بہت زیادہ جھکاؤ کو ظاہر کرتی ہے۔
لہٰذا وہ چیز جس کی طرف پوری قوم کی نظریں لگی ہیں، وہ خون اور آنسوؤں اور ایسے حالات میں جوان ہونے والی آبادی ہے جو معاشرے کوبے شکل کر دیتے ہیں۔ سال کے اس وقت، تین روایتی الفا٭۔۔۔ میری دُعاہے کہ وہ پاکستان کے لئے درست ثابت ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *