Site icon DUNYA PAKISTAN

وبا کے موسم میں‘ ایک خط اور ایک ای میل

Share

اللہ مجھے بد گمانی سے محفوظ رکھے ‘لیکن سچی بات تو یہ ہے کہ ہم من حیث القوم خاصی موٹی کھال والے لوگ ہیں۔ بے خوف‘ نڈر اور ڈھیٹ۔ ہمیں رمضان المبارک میں خوفِ خدا سے آزاد ہوئے تو ایک عرصہ ہو گیا ہے‘ تاہم اس رمضان المبارک میں امید تھی کہ ہم اپنی شاہ رگ سے زیادہ قریب والے اللہ سے تو شاید اس لیے بے خوف ہو گئے ہیں کہ ہمارا ایمان کمزور ہے اور باطن کی آنکھ بند ہے‘ لہٰذا اپنی دنیاوی آنکھ سے نظر نہ آنے کے باعث ہم گنہگار اس مالک کائنات سے لاپروا ہو گئے ہیں‘ لیکن شاید اس عالمی وبا کی تباہ کاریوں کے طفیل دنیا کی بے ثباتی اور زندگی کی ناپائیداری کی رمز کو سمجھ جائیں اور چور بازاری و ناجائز منافع خوری سے باز آ جائیں‘ مگر یہ سخت جان قوم ہماری اس توقع پر بھی پوری نہیں اتری۔
مورخہ 23 اپریل‘ یعنی رمضان المبارک کے شروع ہونے سے محض دو دن پہلے دیسی لیموں اسی روپے پائو یعنی تین سو بیس روپے کلو تھا۔ مورخہ پچیس اپریل بمطابق ‘یکم رمضان المبارک یہی دیسی لیموں کھلے عام ریڑھیوں اور دکانوں پر مبلغ ایک سو اسی روپے پائو‘ یعنی سات سو بیس روپے کلو فروخت ہو رہا تھا۔ مارکیٹ کمیٹی کی ریٹ لسٹ گئی بھاڑ میں۔ دکاندار ہر جگہ اپنی چلا رہے ہیں‘ وزیراعلیٰ اسی خوشی میں ہیں کہ وہ ایک بار پھر صوبے کا چیف سیکرٹری تبدیل کروا لائے ہیں‘خوش ہونے کے ساتھ ساتھ تھوڑے سے افسردہ بھی ہیں کہ حسب ِ معمول وہ ابھی تک صوبے کا آئی جی پولیس تبدیل نہیں کروا سکے۔
مہنگائی‘ بے روزگاری اور دیہاڑی داروں کے مسائل ایسے ہیں کہ اس وبا کے موسم میں حکمرانوں سے پہلے سے کچھ زیادہ کی امید رکھتے ہیں اور وہ اس میں حق بجانب بھی ہیں کہ حاکم ماں باپ جیسا ہوتا ہے اور رعایا کی دیکھ بھال اس کی ذمہ داری اور فرض ہے۔ اسے اپنے عوام کا ویسے ہی خیال رکھنا چاہیے جیسا کہ ایک صنعتی ادارے کے مالک نے اپنے تمام ملازمین کو اپنی ذمہ داری اور ان کے حقوق کے بارے میں ایک ای میل کی ہے۔ یہ ای میل بعد میں۔ پہلے ایک خط جو سیت پور‘ تحصیل علی پور‘ ضلع مظفر گڑھ کے ایک سکول کے استاد نے لکھا ہے اور مجھ تک پہنچا ہے۔ خدا جانے یہ وہاں تک پہنچتا ہے یا نہیں‘ جہاں اسے پہنچانا مقصود تھا‘ میں یہ خط لفظ بہ لفظ اور من و عن شائع کر کے اپنا فرض ادا کر رہا ہوں:۔
”میری تنخواہ آٹھ ہزار روپے فی مہینہ ہے‘ جو گزشتہ چار ماہ سے نہیں ملی۔ میں مسلم پبلک سکول سیت پور (EVS) میں پڑھاتا ہوں۔اس سکول کا پرنسپل (نام او ر موبائل نمبر) ہے۔تمام سیت پور کے (EVS) سکولز میں جنوری اور فروری 2020ء کی تنخواہ تمام ٹیچرز کو مل چکی ہے‘ لیکن ہمارے سکول میں ابھی تک جنوری اور فروری کی تنخواہ نہیں دی۔ مہربانی فرما کر مجھے میری تنخواہ دلوائی جائے۔مارچ اور اپریل بھی گزر گئے ہیں۔ ان مہینوں کی تنخواہ اگلے ہفتے میں آ جائے گی۔ مہربانی فرما کر مجھے تمام تنخواہ دلائی جائے۔ میری صدر پاکستان‘ وزیراعظم پاکستان‘SHO تھانہ سیت پور‘ AEO مرکز سیت پور‘ EDO‘DEO پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن سے اپیل ہے کہ میری چار مہینے کی تنخواہ دلائی جائے۔ گزشتہ چار ماہ سے تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے گھر میں نوبت فاقوں تک آ گئی ہے۔ گھر کا راشن ختم ہو گیا ہے۔ مہربانی فرما کر میری تمام تنخواہ دلائی جائے۔ درخواست گزار محمد شہباز ولد محمد اسماعیل ۔
نوٹ: پچھلے سال 2019ء جون‘ جولائی اور اگست کی چھٹیوں کی تنخواہ بھی نہیں دی گئی وہ بھی مجھے دلوائی جائے ‘جو PEF (پنجاب ایجوکیشن فائونڈیشن) اس سکول کو ادا کر چکی ہے۔
اگر یہ خط پڑھ کر کسی کے دل میں ٹیس نہیں اٹھی تو یقین کریں اس کا سینہ دل نامی چیز سے محروم ہے۔ اس خط میں دو تین چیزیں بڑی قابلِ غور ہیں۔ پہلی یہ کہ سکول ٹیچر نے اس خط میں صدر ِپاکستان اور وزیراعظم پاکستان کے بعد براہ ِراست SHO کو مخاطب کیا ہے اور ہمارے عزیز وزیراعلیٰ جن کا تعلق اسی وسیب سے ہے ‘کو کسی کھاتے میں شمار نہیں کیا۔ اب مجھے نہیں پتا کہ یہ بھول چوک ہے یا حقیقت حال سے آگاہی‘ بہر حال۔ دوسری یہ کہ حکومت کی کم از کم مقرر کردہ تنخواہ پندرہ ہزار روپے ہے اور PEF کے سکول اساتذہ کو آٹھ ہزار روپے ماہانہ ادا کر رہے ہیں‘ بلکہ ادا بھی کہاں کر رہے ہیں؟ تیسری یہ کہ سکول چھٹیوں میں طلبا سے فیس پوری وصول کرتے ہیں‘ لیکن اساتذہ کو تنخواہ ادا نہیں کرتے‘‘۔
اب ایک صنعتی ادارے کے سربراہ کی ای میل: (ترجمہ)
”فرم کے تمام ملازمین کے لیے۔ میں جانتا ہوں کہ آپ تمام لوگوں کو اب تک معلوم ہو گیا ہوگا کہ ہم بحران کی کس شدت سے گزر رہے ہیں‘ اور مجھے اس بارے میں یہ بتانے کی بھی ضرورت نہیں کہ پاکستان اور تمام دنیا کے اداروں کو اپنی بقا کے لیے کن حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس بحران کے ساتھ ساتھ ہمیں سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان سے جڑے ہوئے کچھ خاص مسائل‘ جیسے گزشتہ چند سال کی معاشی سست روی اور اداروں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے میسر انتہائی محدود حکومتی وسائل نے حالیہ مشکل حالات میں بہتری کی کاوشوں کو مزید مشکل تر بنا دیا ہے‘ تاہم میں آپ لوگوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ میں اس بحران کی شروعات کے پہلے دن سے ہی آپ لوگوں کا ساتھ دینے کا اٹل اور مصمم ارادہ کر چکا تھا۔ میرے ذہن میں ایک لمحے کے لیے بھی آپ لوگوں اور آپ کا ساتھ چھوڑنے کا خیال نہیں آیا۔ مجھے اچھی طرح علم ہے کہ گھر رہنے اور کام نہ کر سکنے میں آپ کا کوئی قصور نہیں۔ یہ اللہ کی طرف سے آنے والی قدرتی آفت ہے اور ہم اس قدر ظالم نہیں کہ آپ کو اس بات کی سزا دیں‘ جس میں آپ کا قطعاً کوئی عمل دخل نہیں۔ میری منطق بڑی واضح ہے کہ جب ادارہ زیادہ منافع کماتا ہے تو اس مہینے آپ کو زیادہ ادائیگی نہیں کی جاتی تو نقصان کی صورت میں آپ کو کس لیے حصہ دار بنایا جائے؟میرا یقین ہے کہ اس ارادے کے طفیل اللہ نے ہمارا راستہ آسان بنا رکھا ہے اور اتنی رقم مہیا کی ہے کہ اس ”گھروں میں بند کر دیئے جانے کے عمل‘‘ کے دوران بھی ہم آپ لوگوں کی تمام ادائیگیوں کو یقینی بنا سکیں۔ میں نے اپنا یہ ارادہ پہلے دن سے ہی آپ پر ظاہر کر دیا تھا اور میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ یہ پیغام مزدوروں سے لے کر صفائی کے عملے تک پہنچا دیں ‘تا کہ وہ ذہنی طور پر مطمئن رہیں اور روزگار کے بارے میں پریشان نہ ہوں‘ اگر ایسی صورت ِ حال پیدا ہوئی کہ میرے پاس آپ کی ادائیگی کے لیے رقم نہ ہوئی تو بھی میں آپ کے پاس صرف اس ادائیگی کو ملتوی کروانے کے لیے آئوں گا‘ لیکن اس مشکل وقت میں آپ کی کوئی کٹوتی نہیں کروں گا۔ میں یہ کسی پر احسان نہیں کر رہا‘ آپ نے اس ادارے کے استحکام کیلئے برسوں محنت کی ہے اور ہم کم از کم آپ کو اس کا اتنا صلہ تو دے سکتے ہیں۔ میں اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ہر ممکن کوشش کروں گا کہ اپنے فرائض کی ادائیگی عزت و آبرو سے کر سکوں۔ آخر میں آپ سے استدعا ہے کہ اس ادارے کی بقا اور ترقی کو اپنی دعائوں میں شامل رکھیے۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو اور ہمیں اور ہمارے خاندان کے تمام افراد کو اس وبا سے محفوظ رکھے۔ اس کے ساتھ یہ دعا ان کے لیے بھی جو اس وبا کا شکار ہیں کہ اللہ ان کو جلد از جلد صحت کاملہ عطا کرے۔ آمین۔ آصف صدیق‘‘۔
اور کیا عجب معاملہ ہے کہ سالانہ پندرہ سے بیس ارب روپے کا منافع کمانے والے بینکوں نے اس دوران اپنی بند کی جانے والی برانچوں کے صفائی کے عملے کی تنخواہیں (صفائی کے یہ ملازمین تھرڈ پارٹی کے ذریعے کنٹریکٹ پر رکھے ہوتے ہیں) جو بمشکل ساٹھ ستر لاکھ فی بینک بنتی ہے‘ کاٹ لی ہے۔ میرے آقاﷺنے فرمایا ہے کہ ”انسان کا پیٹ صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے‘‘۔

Exit mobile version