دہشت گردی کے خلاف جنگ

shakila sher ali16 دسمبر 2014ءتاتاریوں کو شرما دینے والی اور فرعونوں کو مات کرنے والی بربریت سے بھر پور ایک ایسا یوم سیاہ جس کے ٹھیک ایک سال کے بعد بھی اس نعرہ مستانہ کی گونج کہ یہ پاکستانی قوم کے یکجہت ہونے کا نقطہ آغاز تھا(جبکہ آثاروقرائن کچھ اور ہی داستان سنا رہے ہوں) ہماری کنفیوژن کا بین ثبوت ہے۔
شاید ہم گدلائے ہوئے ذہن کی مالک،ایک الجھی ہوئی اور مخمصہ زدہ قوم ہیں جو اپنی تاریخ کے اڑسٹھ سال گزارنے کے بعد بھی اپنی نظری ذات،شناخت اور ان سے منسلکہ حالات کے گرداب میں بے طرح پھنسی ہوئی ہے - کہیں یہ ہی وجہ تو نہیں کہ جو کام ہمارے اپنے کرنے کے ہیں،ان کے بارے میں بھی ہم دوسروں سے سوال کر رہے ہیں کہ یہ کام اب تک کیونکر نہیں ہوا؟
بطور مثال ہفتہ،ڈیڑھ ہفتہ قبل قومی اسمبلی کے فلور پر وزیرداخلہ؛ چوہدری نثار کا وہ خطاب ہے جس میں ان کا ارشاد تھا کہ کس طرح اور کیونکر لال مسجد آپریشن کے کچھ عرصہ بعد ہی مولانا عبدالعزیز دوبارہ مسند امامت پر بحال وبراجمان ہو گئے - سوال تو بالکل جائزوحق بجانب ہے لیکن بر محل و بروقت نہیں ہے بلکہ سرے سے ہی اذ کار رفتہ ہے کیونکہ جب مولانا صاحب دوبارہ نمودار ہوئے تو چوہدری صاحب اپوزیشن لیڈر تھے لہٰذا اگر اس مسئلے پر محترم کی تشویش جینوئن ہوتی تو وہ اس ایشو کو انتہائی شدومد کے ساتھ اسمبلی کے اندروباہر اٹھا سکتے اور ہیجان بپا کر سکتے تھے جیسا کہ بہت سے فروعی ایشوز کو لے کر وہ چائے کی پیالی میں طوفان بپا کئے رکھتے تھے - یہ تو پھر قوم کی بقا سے وابستہ انتہائی اہمیت کا حامل مسئلہ تھا لیکن اس وقت تو چوہدری صاحب منہ میں گھنگنیاں ڈال کر بیٹھے رہے - اس پر طرہ یہ کہ پچھلے اڑھائی سال سے وہ وزیر داخلہ ہیں لیکن مولانا مذکور اپنی جگہ پر بدرجہ اتم موجود ہیں - اب بات ان کے اپنے اوپر آئی ہے تو وہ فرماتے ہیں کہ مولانا کو کس بنا پر گرفتار کریں کہ انکے خلاف تو کوئی مقدمہ ہی نہیں ہے حالانکہ اسلام آباد میں سول سوسائٹی کے روح رواں جناب جبران ناصر ببانگ دہل کہتے ہیں کہ 16 دسمبر 2014 کے المیے پر مولانا نے جو ہرزہ سرائی کی تھی،اس پر تھانہ آبپارہ میں مولانا کے خلاف پرچہ درج کروایا گیا تھا.اس کے علاوہ بھی دیگر متفرق ایشوز پر انکے خلاف ایف آئی آرز درج ہیں. ابھی حال ہی میں سول و ملٹری خفیہ اداروں کی رپورٹ میں لفظ "لال مسجد مافیا" استعمال کیا گیا ہے - چوہدری صاحب ذرا ہمت تو کریں لیکن جس وزیر نے ہزاروں انسانوں کے قاتل(حکیم اللہ محسود) کے ایک ڈرون حملے میں مارے جانے پر باقاعدہ بین ڈالے ہوں،وہ مولانا عبدالعزیز کے جمعے کے خطبے کے لیئے لال مسجد کے اطراف موبائل فون سروس تو جام کروا سکتا ہے،اسکو گرفتار نہیں کر سکتا کہ وزیر صاحب کے نزدیک یہ کوئی بڑی بات ہی نہیں کہ مولانا سر عام دہشت گردوں کو شہید کہتے پھریں - کوئی فرق نہیں پڑتا اگر بین الاقوامی دہشت گردی میں ملوث لوگوں(داعش) سے ان کے روابط کے ثبوت سامنے آ جائیں یا پھر اگر وہ تاشفین کے سہولت کار ہوں،پھر بھی چوہدری صاحب کے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں،وہ صرف معصومیت سے یہ پوچھ سکتے ہیں کہ وہ مولانا کو کیسے گرفتار کریں؟
کچھ ایسی ہی بدہیئت 'معصومیت' کا اظہار سابق وزیر داخلہ رحمان ملک صاحب نے 27 دسمبر،2015 کو بے نظیر بھٹو کی آٹھویں برسی کے موقع پر جوش خطابت کی رو میں بہتے ہوئے کیا جب وہ محترمہ کے قاتلوں کی گرفتاری میں موجودہ حکومت کی نااہلی کا رونا رو رہے تھے حالانکہ ان ہی صاحب کے بارے میں اقوام متحدہ کے تحقیقاتی مشن نے اپنے تحفظات کا شدومد سے اظہار کیا تھا.شاید بطور وزیر داخلہ ملک صاحب کو مزید پانچ سال اور چاہیے تھے تاآنکہ وہ قاتلین کو زیادہ سہولت سے پکڑ سکتے،
'کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی'
چلیے ان بڑے لوگوں کی بڑی باتوں کو تو رکھیئے ایک طرف، وطن عزیز کے عام آدمی کی سوچ،فہم اور ادراک پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالتے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں.ایک ان پڑھ یا واجبی تعلیم کے حامل شخص کو تو ادراک دین کے حوالے سے کج فہمی کا مارجن دیا جا سکتا ہے مگر یہ جو آج کل جدید،پروفیشنل اور معروف تعلیمی ادروں سے فارغ التحصیل اعلی تعلیم یافتہ افراد کے شدت پسند تنظیموں خاص طور پر داعش سے روابط اور ان کے سہولت کار ہونے کی ہوشربا خبریں آرہی ہیں،وہ حیران کن ہونے سے زیادہ،دل دہلا دینے کا سبب بن رہی ہیں کہ ہماری آئندہ نسلیں ؛ ہمارا قیمتی اثاثہ، کس آگ کا ایندھن بن چکی ہیں.اور ابھی اس خاموش عنصر کا تو کوئی ذکر اور کوئی فکر ہی نہیں کہ ذرا چھیڑ کر دیکھ لیں،انکے خیالات شاید نشان زدوں سے دو ہاتھ بڑھ کر ہی ہوں -
سوچا جائے تو قصور کس کا ہے؟ کیوں رواداری،تحمل اور برداشت کا وہ مذہبی بیانیہ جو ریاست کو نہایت سلیقے سے اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہیے تھا،اسے نہایت بھونڈے پن سے نہ صرف نان سٹیٹ ایکٹرز کے حوالے کردیا گیا بلکہ اس کام میں یعنی عدم برداشت اور انتہا پسندی کو مہمیز دینے میں، گاہے بہ گاہے سٹیٹ خود بوجوہ ایک سہولت کار کا فریضہ انجام دیتی رہی ہے مگر اب اس معاملے میں بظاہر یوں لگتا ہے کہ ریاست ایک یو ٹرن لے رہی ہے.لیکن بغیر دلوں کی تبدیلی کے، بنا کسی نظریاتی تشکیل نو کے اور نیم دلانہ حکومتی اقدامات کے ساتھ کیا یہ بھاری پتھر اپنی جگہ سے سرکایا جا سکتا ہے؟ واللہ اعلم باالصواب؟؟؟
یاد رہے کہ جنگ چاہے روایتی طور پر میدان میں لڑی جائے یا پھر گلی گلی ایک ان دیکھے دشمن کے خلاف گوریلا جنگ کی سی کیفیت ہو،ہر دو صورتوں میں صرف ملٹری سٹریٹجی ہی جیت کی کنجی نہیں ہوتی بلکہ مضبوط فوج کے پیچھے مضبوطی سے کھڑی ایک متحد اور پختہ یقین کی حامل قوم اور سیاسی مہارت کے ہتھیاروں سے لیس قیادت کے بغیر بھی جنگیں ہر گز کامیابی سے نہیں لڑی جا سکتیں -

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *