نیا سال مبارک، پرانے خواب مبارک

husnain jamal (2)سن رہے ہو میاں نسیان ؟
کہیے بھائی ہذیان
کہاں مصروف ہو میاں، تمہاری شکل دیکھے کئی دن گزر جاتے ہیں، اب بھی آئے ہو تو یوں چپ چاپ گم سم بیٹھے ہو۔ کیا سوچ رہے ہو؟
بھائی ہذیان، نیا سال سر پر ہے، بس آیا کہ آیا، تو اسی بارے میں سوچ رہا تھا۔ بلکہ ہاں، یاد آیا وہ اپنے حافظ شیرازی نے کچھ فرمایا تھا نئے سال کے بارے میں۔ اپنی فارسی تو واجبی سی ہے، سنائیے گا ذرا دوبارہ اگر آپ کو یاد ہو، وہی بھائی جو آپ نے پچھلے سال کالے مرزا صاحب کو سنائی تھی۔
آہ ہا، کیا یاد دلا دیا نسیان، لو سنو؛
سال و فال و مال و حال و اصل و نسل و تخت و بخت
بادت اندر شہریاری برقرار و بر دوام
سال خرم فال نیکو مال وافر حال خوش
اصل ثابت نسل باقی تخت عالی بخت رام
یار دیکھو کیا خوب صورت دعا دیتے تھے حافظ بھی کہ تمام پہلو ایک قطعے میں سمو دئیے۔ اے بادشاہ وقت، تمہاری سلطنت میں تمہارے اچھے نصیب، تمہارا سب مال و دولت، تمہارا خوش کن آج، تمہاری مکمل ذریت، تمہاری بادشاہی سب کچھ پھلتے پھولتے رہیں، اس برس بھی اور آئندہ بھی، اور یہ سب ایسے ہی قائم دائم رہے اور تم اپنے مقدرروں کے ہمیشہ شاہ سوار رہو۔ ہائے ہائے نسیان میاں، نہ ہوئے ضیا ....جو ان کے عہد میں حافظ ایسا کچھ کہتے تو غالباً ایسے موتیوں سے منہ بھرا پاتے کہ جن کو بیچ بیچ کر قوم کے ہر بچے کے واسطے ایک الگ سڑک بنواتے اور جب رقم پھر بھی نہ ختم ہوتی تو انہی سڑکوں کو تڑوا کر ریل گاڑیاں چلواتے اور عوام سے دعائیں لیتے۔
ہذیان بھائی، آپ بھی پٹڑی سے پھسل پھسل جاتے ہیں، بھئی اتنا اسم بامسمیٰ مت رہیے، نئے سال کی بات کیجیے، کدھر چوبرجیوں اور شالاماروں کے غم میں ڈوبے پھرتے ہیں۔ ملک میں اتنے اور مسائل ہیں، کس کس کو روئیے گا، کچھ اور بات کیجیے۔ یہ کہیے کہ نئے سال میں کیا نیک ارادے ہیں، کیسے گزارئیے گا؟
نسیان، دیکھو میاں، ہم تو مردم بیزار آدمی ہیں، ایسا کیا نیا اکھاڑ لیں گے ہم صرف تاریخ کے بدل جانے سے۔ بھئی وہ اپنے فیض صاحب بھی تو ایک غزل میں کہہ گئے تھے کہ وہی زمین، وہی آسمان، وہی دن، وہی رات، وہی ستارے، وہی ان کی دمک، وہی گرمی کا موسم، وہی سردی، سب کچھ ویسا ہی رہے گا تو کاہے کا نیا سال۔ بھئی نیا سال بے شک ہماری بلا سے 12 جولائی کو منانا شروع کر دو، لیکن کچھ تو نیا ہو اس سال میں۔ مثلاً ہم جانیں سال نیا ہے اگر نصاب میں سے بھارت دشمنی ختم کر دی جائے، سال نیا تب ہو اگر احمدی اور شیعہ مسلمانوں کو اس دھرتی پر امن نصیب ہو جائے، سال نیا تب منائیں جب پاراچنار اور مردان میں مرنے والوں کا چہلم ہو جائے اور کوئی نئی دہشت گردی نہ ہوئی ہو۔ عزیز من، کسی مبارک ساعت کی امید دلا دو، اپن لوگ بھی نئے سال کی مبارکی دیوانہ وار دیویں گے دوستوں کو یاروں کو۔ چلو کوئی خواب ہی دکھا دو یار، نسیان کچھ امید، کوئی تو آسرا ہو۔
ہذیان آغا، مرشدی، دیکھیے یہ سب مایوسیوں کی باتیں ہیں۔ صرف آپ کے اداس ہونے سے یہ مسئلے حل نہیں ہونے والے۔ دیکھیے آپ زندہ ہیں، بلکہ بقول استاد جون ایلیا، آج کا دن بھی خیر سے گزرا / سر سے پا تک بدن سلامت ہے، اور جون ایلیا سے یاد آیا، یہ میرے ابا کے ہمزاد تھے، نشیان میرے ابا کا نام تھا، انہوں نے تین نقطے ہٹا کر مجھے نسیان کر دیا، تو میں نسیان ابن نشیان آپ کو اپنے ابا کے ہمزاد سیدی ایلیا کا یہ شعر سنا کر عرض گزار ہوں کہ سرکار، جو دن خیر سے گذرا اس پر شکر منائیے اور اگلے دن کا ایک نئے جذبے سے استقبال کیجیے کہ اس سرزمین پر ہر اگلا دن جو آپ کو نصیب ہے، وہ قدرت کا انعام ہے، آپ ہیں کہ تمام نعمتوں کو جھٹلائے جاتے ہیں۔ کیا سنک ہے بھائی یہ، اس یبوست زدہ دماغ کو تروتازہ ہوا لگوائیے، آئیے باہر چلتے ہیں۔
اماں الٹی باتیں مت کرو نسیان عزیز از جان، دیکھو، ہم تمہیں بتاتے ہیں تمہارے چچا جون کا نظریہ کیا تھا ماضی، حال اور مستقبل کے بارے میں، پھر تم منا لینا مستقبل کا نیا سال۔ بھئی ایسے ہونقوں کی طرح مت دیکھو ہماری طرف، غور سے سنو۔ وہ کہتے تھے، "ماضی وہ طور ہے جس کی کوئی بود نہیں ہے، مستقبل وہ طور ہے جس کا کوئی وجود نہیں ہے، اگر وہ موجود ہو تو حال کہلائے، اور رہا حال، تو اگر وہ موجود ہو تو اس کی طرف اشارہ کیا جا سکے گا، اور اگر اس کی طرف اشارہ کیا جا سکے گا تو وہ اشارے سے پہلے موجود ہو گا، اور جو اشارے سے پہلے موجود ہو، وہ حال نہیں ہو سکتا۔" تو میاں، جو موجود نہیں وہ مستقبل، اور وہ حال جس کی طرف تم اشارہ بھی نہیں کر پاتے کہ تمہارے اشارے سے پہلے وہ ماضی ہو جاتا ہے، ایسا حال، بلکہ ایسا بدحال حال، تو کدھر کا نیا سال مرے یار، فرماو، کچھ آیا عقل شریف میں؟ کیا فرماتے ہیں جہلائے کرام بیچ اس مسئلے کے؟
قبلہ ہذیان، دماغی سرطان، حضور والا، آپ سے انتہائی خلوص دل سے درخواست کی تھی کہ دماغ کو ہوا لگوا لائیں، آپ نے میرے دماغ کی بھی دہی کر دی۔
رکو رکو، یار یہ دماغ کی دہی کیا محاورہ ہے، ہم تو دہی کی تذکیر کے قائل ہیں، ہمارے اماں ابا بھی وہی کہتے آئے تھے، یہ دہی کی تانیثیت اور پھر دماغ کی دہی، کیا فضول گوئی ہے نسیان؟ ہم بھی اسلاف کے مانند منہ لپیٹ کر بیٹھ جائیں؟ کہ اب تم سے بات کرنے میں بھی زبان بگڑنے کا خطرہ لگتا ہے ہمیں۔
ہٹائیں بھائی ہذیان، آپ نیا سال کیا منائیں گے، صرف اس سال کے احترام میں اگر آپ اپنے دماغ سے زبان دانی کا تعصب نکال دیجیے تو یہی عین نوازش ہو گی۔ دماغ کی دہی گلی محلے کا محاورہ ہے، زبان زد عام ہے، کیا اہل زبان اور کیا "نا اہل زبان"، سبھی بولتے ہیں۔ اس عالم میں کہ جب اردو چل چلاﺅ پر تھی، آپ کے پنجابیوں نے اسے عزت بخشی، پٹھانوں نے گلے لگایا، سندھیوں نے سر آنکھوں پر بٹھایا، بلوچ بھائیوں نے اپنے گھر میں جگہ دی، گلگت بلتستان تک میں رابطے کی زبان بنی اور آپ ہیں کہ اہل زبان ہونے کا پھن کاڑھے بیٹھے ہیں۔ صاحب جانے دیجیے، خلیل خاں جب فاختہ اڑاتے تھے لد گئے وہ زمانے، اب تو ویسے بھی انگریزی کا چلن ہے۔ جتنی "عزت سادات" بچ گئی اسے غنیمت جانیے۔
ناراض مت ہو نسیان، میرے بھائی، چلو تم ہمیں نئے سال کے لیے کچھ اچھے خواب دکھا دو، ہم نے پہلے بھی کہا تھا۔
سنیے، یہ چند پرانے خواب ہیں آغا۔ انہیں کے بل پر میں ہر نیا سال آغاز کرتا ہوں۔
ہمارے تمام ہمسایہ ممالک سے مثالی تعلقات قائم ہو جائیں گے۔
پاکستان سے مذہبی عصبیت کا خاتمہ ہو جائے گا۔
ہمیں گلیوں میں سونا اچھالتے نہیں گزرنا، اتنے امن کا خواب کہ ہمارے بچے گلیوں میں کھیل سکیں گے۔
پاکستان کے ہر شہر کو پیرس بنانے کا دعویٰ کرنے والا کوئی تو آئے گا۔
پاکستان ایک فلاحی ریاست بنے گا۔
فوج اور سیاست دان ضرب عضب کی طرح ہر معاملے پر یک جان و دو قالب ہوں گے۔
پاکستان میں ننانوے فی صد لوگ تعلیم یافتہ ہوں گے۔
دنیا سے مہلک ہتھیاروں کا خاتمہ ہو جائے گا۔
ہمارے لوگوں میں برداشت اور رواداری پیدا ہو گی۔
اور ہاں
خالص دودھ ہر گلی ہر محلے میں دستیاب ہو گا۔
یار نسیان، یہ کتابی باتیں ہیں، اور تمہارا تو لہجہ ہی بالکل کتابی سا ہو گیا یہ سب کہتے ہوئے، چلو، خیر جانے دو، ہم بھی تمہاری آنکھوں سے یہی خواب دیکھتے ہیں۔ کم از کم خالص دودھ کا خواب دیکھنے میں کیا مضائقہ ہے۔ ہمارے یار دوست خوش ہو جائیں گے۔ نیا سال مبارک ہو بھئی۔
میں کامیاب ہو گیا، میں کامیاب ہو گیا، میں کامیاب ہو گیا۔ نیا سال مبارک آغا ہذیان، پرانے خواب مبارک!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *