باتیں کرتی .... مسکراتی کوہستانی آنکھیں!

waqar ahmad malikصا حب ادھر.... ابھی.... تھوڑا سربت .... تو .... پی کر .... جاﺅ ناں
اس فقرے میں جہاں جہاں وقفے ہیں وہاں آپ ہنسی کا فوارہ لگا لیں۔ ایسی ہنسی کا فوارہ جس کو روکنے کے لیے کوہستانی بابا کوشش کر رہا ہے لیکن اس کے باوجود وہ ہنسی لیک ہو جاتی ہے ، اس تردد کے ساتھ وہ یہ ٹوٹا پھوٹا فقرہ بھی منہ سے نکال لیتا ہے۔ اس کے گال لال سرخ ہیں اور اس کا ہنسی میں ڈوبا یہ سراپا.... اس کی ہنستی آنکھوں سے آگے نہیں نکل سکتا۔ کوہستانی بابا اور اس کی آنکھوں سے پھوٹتی ہنسی دونوں باقاعدہ الگ دکھائی دیتی ہیں ، کہ آنکھوں سے نکلتی ہنسی کہیں زور آور ہے ۔
اور ایسے موقع پر میں ایک اور ہی عذاب میں مبتلا ہو جاتا ہوں۔ مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں نے ایک ایسا لباس زیب تن کیا ہوا ہے جو میرے اور کوہستانی بابے کے مابین ایک دیوار بن کر کھڑا ہوا ہے ۔ اس لباس کے حوالے سے کوہستانی بابا کی ایک خاص سوچ ہے اور کچھ ایسی غلط بھی نہیں۔
میں جب گھر میں اوون پر کھانا گرم کرتا ہوں ، جب میرا گھر برقی قمقموں سے روشن ہوتا ہے اور لاوئنج میں ٹی وی لگا ہوتا ہے جس میں پروگرام سے پہلے ریٹنگ کے نکتہ نظر سے پروگرام کے موضوعات کا تعین ہوتا ہے ،جہاں جغرافیے سے نابلد قد آدم بندر چیخ رہے ہوتے ہیں اور میں صوفے پر نیم دراز ہوتا ہوں.... تو ، میرے فرشتوں کو علم نہیں ہوتا کہ یہ ساری رونقیں کس کی قربانیوں کی دین ہیں۔
وہ کوہستانی جس نے سیکڑوں برس سے نالہ دوبیر، نالہ خوان خڑ(شانگلہ)، نالہ کیا ل اور نالہ سمر کی آوازیں سنیں ہیں، انہی نالوں سے اس نے پانی کی چھوٹی چھوٹی گزرگاہیں بنائیں اور اپنی تھوڑی سی زمین کو سیراب کیا کہ دریائے سندھ کا ہونا نہ ہونا ان کے لیے برابر ہے۔ اس تھوڑی سی سیراب کی ہوئی زمین پر وہ اپنی بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ مشقت کرتا رہا، فصل پکنے میں اس کے بچوں کی قلقاریاں اور ان نالوں سے آئے پانیوں نے مدد دی۔
پھر اچانک سیکڑوں برس بعد کہیں دور سے رجا ل الغیب کی صورت کچھ سرکار کے نمائندے آئے اور انہوں نے کہا کہ یہاں خوان خڑ اور دوبیر پر بجلی گھر بنیں گے۔ خوان خڑ کے پانی کا رخ موڑ کر پہاڑ کے اندر ایک سرنگ میں لے جایا گیا۔
کوہستانی اور شانگلہ کے باسیوں کو کہا گیا.... آپ کو نوکری دیںگے، گھر بیٹھے سرکار کی نوکری کرو گے ، اور تم کو یہاں سے بجلی دیں گے۔
1کوہستانی خوش ہو گیا۔ بجلی گھر بن گئے، ایک سے 72میگا واٹ اور دوسرے سے 128میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ کا حصہ بن گئی۔ کوہستان اور بشام بدستور اندھیروں میں ڈوبے رہے۔ نہ بجلی ، نہ نوکری.... کوہستانیوں نے احتجاج کیا، معاہدے دکھائے ، لیکن ہم نے تو وقت گزارنے کے لیے وہ سب کہا تھا، غلطی تو اس کوہستانی کی ہے جو اپنی سادہ لوحی میں سب کچھ سچ سمجھ بیٹھا۔
بابا یہ کوہستانی ہوا نہیں ہے جہاں معاہدوں کی پاسداری ، جان سے زیادہ عزیز ہوتی ہے ۔ جہاں کا کہا ، پتھر پر نقش ہوتا ہے۔
میں آج گھر میں جب اوون میں کھانا گرم کرتا ہوں، جب میرا گھر بجلی کے قمقموں سے روشن ہوتا ہے تو مجھے وہ سکڑی کوہستانی آنکھیں یاد آتیں ہیں کہ جو سکڑنے کے باوجود ہنسی کے فواروں کو روکنے سے قاصر تھیں۔
کاش صرف دو میگا واٹ بجلی بشام کو ہم مفت میں دے دیتے....
کاش کوہستان کو چار میگا واٹ بجلی بغیر بلوں کے ہی دے دیتے تو سارا کوہستان روشن ہو جاتا۔
کوہستانی نے بلب ہی روشن کرنے ہیں باقی بجلی کی مصنوعات اس کے پاس کہاں سے آئیں۔
اور آپ کوئی احسان نہ کرتے کہ پوری دنیا میں اس طرح کے سخت پہاڑی علاقوں میں رعایتی نرخوں پر اشیائے ضرورت دینا ایک معمول ہے۔
آپ احسان نہیں کرتے کیونکہ آپ ان پہاڑوں سے بہت کچھ حاصل کرتے ہیں۔
آپ واش روم میں نل کھولتے ہیں تو کہاں سوچتے ہیں کہ یہ پانی نالہ دوبیر کا ہے یا پسو گلیشئر کا۔
2اب کا کوہستان ایک مختلف کوہستان ہے لیکن جب کوہستان کی باقاعدہ شہرت ’خطرناک ‘ کی تھی ، ان دنوں بھی عکسی مفتی کوہستان کے کسی ویرانے میں دریائے سندھ کے کنارے خیمہ لگاتے تھے۔ اس لیے کہ عکسی مفتی اس ملک کے جغرافیہ اور ثقافت سے واقف تھے ۔ ان کا ہاتھ دیس کے باسیوں کی نبض پر تھا۔ کاش اعلی سطح پر چند عکسی مفتی ہمیں نصیب ہو جاتے۔
’خطرناک‘ کی بھی عجب اصطلاح ہے۔ کسی بھی علاقے کو خطرناک ، سرکار کے جھوٹے معاہدے بناتے ہیں۔
اور دوسری سطح پر یہ علاقے باقاعدہ خطرناک ہونے لگتے ہیں جب عوامی سطح پر فاصلے پیدا ہونے لگیں۔ بات چیت نہ ہونے کے برابر رہ جائے۔
تو یہ وہ وقت ہوتا ہے جب کوہستانی بابا، تیل اورفلالین سے اپنی گن کی نالی کی صفائی شروع کرتا ہے۔
پھر جب جھوٹے معاہدوں والے اپنے ہی علاقوں میں فوج بھیجتے ہیں اور نقصان شروع ہوتا ہے تو فاصلے یوں تیزی سے بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں کہ ان کو سمیٹنا اور اعتماد کی بحالی میں بڑا وقت صرف ہو جاتا ہے۔
جمہوریت کا حسن ہے کہ وفاق کا مرکز چاہے جغرافیائی طور پر دور بھی ہو، علاقے کا منتخب نمائندہ جب اسمبلی میں بیٹھتا ہے تو ایسا ہی لگتا ہے جیسے وہ علاقہ ، اپنی سوچ، تحفظات اور مسائل سمیت وہاں آ بیٹھا ہے۔ اور یوں مرکز سے دوری کوئی معانی نہیں رکھتی لیکن....
کوہستان کے درد اتنے ہیں کہ جسم کہ کسی بھی حصے پر ہاتھ رکھیں ، ایک کراہ نکلتی ہے۔
جمہوریت کوہستان میں کیا کرے کہ جہاں ووٹ دس سے بیس ہزار روپے میں فروخت ہوتا ہے ۔
میں 2013ءکے انتخابات میں کوہستان میں انٹرویو کر رہا تھا۔ وہاں ایک پڑھا لکھا ایم اے پاس نو جوان ، ان انتخابات میں مقابلے کے لیے میدان میں اترا۔
میں اس کے ساتھ اس کے گاﺅں میں تھا اور اس کے چچا بھی ساتھ کھڑے تھے۔
3ہم دونوں نے چچا سے اجازت لی اور آگے نکلے تو مجھے اس کوہستانی امیدوار کی بات کبھی نہیں بھولے گی۔’ آپ کو پتہ ہے یہ جو میرا چچا ہے ناں یہ بھی مجھے ووٹ نہیں دے گا‘
میں نے کہا کیوں؟ یہ تو فرسودہ نظام اور ووٹوں کی خریداری کے مذموم کاروبار پر تنقید کر رہے تھے اور خوشی کا اظہار کر رہے تھے کہ ان کا بھتیجا انتخابات میں مقابلے پر اترا ہے۔
انہوں نے کہا، ’ ہاں لیکن میں آپ کو بتا رہا ہوں یہ مجھے ووٹ نہیں دیںگے، کوئی بھی نہیں دے گا.... دس سے بیس ہزار بڑی رقم ہوتی ہے ‘
ایک کوہستانی کو شاید آپ باتوں میں قائل کرنے کی کوشش کریں کہ ووٹ فروخت کرنے سے کبھی تبدیلی نہیں آئے گی۔ ترقی کے فنڈ سے علاقے میں ترقیاتی کام نہیں ہوں گے بلکہ یہی ترقیاتی فنڈ پانچ سال بعد ووٹ خریدنے کے لیے استعمال ہو گا او ر تم اس منحوس چکر سے کبھی نہیں نکل سکو گے .... اور ووٹ ایک قومی امانت ہے وغیرہ، وغیرہ۔
یہ سارے بھاشن اپنی جگہ لیکن ایک کوہستانی بن کر سوچیے....
دس سے بیس ہزار کی رقم ایک ایسی رقم ہے کہ اس سے ۔۔’زندگی سنور سکتی ہے‘
کو ہستانی بن کر سوچیے تو آپ کو معلوم ہو کہ یہ بھاشن ، بھیانک غربت کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتے۔
اور مرکز کو کیا چاہیے .... ایک سیٹ.... ایک ووٹ .... وہ اسمبلی میں ان کو میسر ہوتا ہے ، اس بات سے قطع نظر کہ اس ووٹ کے پیچھے ، مایوسیوں اور نا امیدیوں کی طویل کہانیاں ہیں۔
خیر چھوڑیے.... منہ کا ذائقہ بدلیے ۔ ایک واقعہ سنیے اور .... اوون میں کھانا گرم کرتے وقت ایسی ویسی باتیں مت سوچیے کہ کھانا بد مزہ کرنے کا کیا فائدہ؟
میں اور عائشہ گلگت سے آ رہے تھے۔ بہت تھکے ہوئے تھے اور داسو میں قیام کا ارادہ رکھتے تھے
قراقرم ہائی وے کے آوارہ گرد جانتے ہیں کہ بشام سے چلاس تک فاقے ہی ہوتے ہیں ۔
ان دس سے بارہ گھنٹوں کے سفر میں مناسب کھانا کم ہی میسر ہوتا ہے سوائے سمر نالہ کے ٹرک ہوٹل کے ، جہاں کچھ بہتر کھانا کھانے کو مل جاتا ہے۔
4تجربہ کار آوارہ گرد جانتے ہیں کہ ایسے علاقوں میں انڈا ، پیاز، نمک ، مرچ اگر مل جائیں تو زندگی کی رنگینیوں کو برقرار رہنے سے کون روک سکتا ہے۔
تو ہوٹل میں آتے ہی ہوٹل کے مالک جو بہ یک وقت ہوٹل کا مالک، باورچی، ویٹر اور ہمارا دوست بھی تھا ، سے پوچھا کہ انڈا، نمک ، مرچ اور پیاز ہیں ؟
کہنے لگے کہ سب موجود ہے۔ میں نے کہا بس انہی کو ملاکر کچھ بنا دیں۔
اور انہوں نے ان سب کو ملا کر واقعی ’کچھ‘ بنا دیا۔
وہ ’کچھ‘ جب سامنے آیا تو دیکھا کہ انڈا باقاعدہ کچا تھا اور لجلجاتا تھا۔
میں واپس گیا اور کچن میں دوبارہ فرائی پین کو چولہے پر رکھا اور اس وقت تک بنا تا رہا جب تک یہ ’کچھ‘ رنگ میں گہرا براﺅن ہوکر آملیٹ نہ بن گیا۔
جب میں یہ آملیٹ واپس لے کر جا رہا تھا تو کوہستانی دوست کو کہا کہ اس کو چکھیں۔
انہوں نے نوالہ لیا اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔امم م م ۔۔فرط لذت کا کیا عالم تھا کہ ان کی آنکھیں بند ہو گئیں اور جنتوں کے ذائقے ان کے دماغ میں کھلتے چلے گئے ۔
مراقبہ سے واپس آئے اور کہنے لگے .... کیا بات ہے ، وقار بھائی .... یہ ہم سیکھ سکتا ہے؟
تم ہم کو سیکھاﺅ ناں.... ادھر مہمان آئے گا تو ایسا بنا کھائے گا تو خوش ہو جائے گا۔
میں نے سوچا.... میرے سادہ دل کوہستانی .... کھانے کی یہ نایاب ترکیبیں ، قدیم حکیمی نسخوں کی طرح قیمتی ہوتی ہیں۔
میں علم کو قبر میں لے جانے کی روایت پر کیوں نہ عمل کروں۔
لیکن پھر نہ جانے میرے من میں کیا آئی کہ میں نے کوہستانی سے معاہدہ کر لیا.... کہ جب آئندہ آﺅں گا تو سکھا دوں گا۔
آج بھی وہ معصوم اور سادہ کوہستانی اس معاہدے کو سینے سے لگائے ، ہوٹل کی چھت پر بیٹھا، راولپنڈی کی جانب سے آتی قراقرم ہائی وے کی جانب دیکھتا ہے!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *