2015ء اور اہل قلم

akhtar shumaar2015ءعام آدمی کے لیے ہی کٹھن سال نہیں تھا، ادبی اور ثقافتی طور پر بھی اس برس کوئی بہتری کی صورت دکھائی نہیں دی۔ اہل قلم جن کو اپنی کارکردگی اور کردار کے سبب معاشرے کے لیے ’آئیڈیل‘ ہونا چاہےے۔ ان کے ذاتی احوال اور رویّوں سے پتہ چلتا ہے کہ گزرنے والے 2015 میں بھی ادبی طور پر منافقت، غیبت، حرص و ہوس اور حسد کی وبا پھیلی رہی اور بہت سے اہل قلم ان بیماریوں کا شکار رہے۔ بعض نے شہرت کی چکاچوند کو اپنا ایمان بنا لیا۔ اور اپنی صلاحیتوں سے کہیں زیادہ ’کامیابیاں‘ حاصل کیں۔ شہرت اور عزت کا فرق معمولی سا ہے۔ اس برس بھی اس فرق کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ پاکستان کے ادبی حلقوں پر نگاہ ڈالی جائے تو اکثریت ’جعلی‘ نظر آتی ہے۔ جعلی ان معنوں میں کہ اگر کوئی شاعر یا شاعرہ ہے تو ممکن ہے وہ اپنی کہی ہوئی غزل پر مزیدایک شعر کا بھی اضافہ نہ کر سکے۔ ہم نے ’شاعر گر‘ اہل قلم کا تذکرہ پچھلے کالموں میں کہیں کیا تھا۔ ان شاعروں نے اپنے معمولی مفادات کے لیے ’متشاعروں‘ کو پروموٹ کیا۔ متشاعروں میں بعض معصوم اور بعض چالاک، ہوشیار اور قدرے خوشحال خواتین و حضرات شامل ہیں جو مفلوک الحال اور بے روزگار اور مجبور شعراءکی مالی کمزوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور صاحبِ کتاب بن جاتے ہیں۔ بعض مرد شاعر محض ’ٹھرک‘ کے لیے خواتین کی ’شعری امداد‘ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
2015ءمیں ایسے جعلی اہل قلم ادبی حلقوں اور سوشل میڈیا پر چھائے رہے۔ ایسے لوگوں نے سفید کاغذ پر کمرشل اور مجبور استاد نما شعراءسے اصلاحیں لیں، اپنی کتابیں چھپوائیں اور میڈیا پر چھائے رہے۔ ایسے نام نہاد تخلیق کار اب ملک کے طول و عرض میں پائے جاتے ہیں۔ اب تو وطنِ عزیز سے باہر بھی ایسے افراد کی بہتات ہوتی جا رہی ہے۔ بیرون ملک جنوئن تخلیق کاربہت کم ہیں۔ نام گنوانے کی ضرورت نہیں۔ جنوئن افراد کو پاکستان سے کالم نگاروں اور پاکستان میں تقریبات کرانے والوں کی زیادہ ضرورت نہیں پڑتی۔ وہ لوگ بیرون ملک جانے سے قبل بھی تخلیق کار مشہور تھے۔ مگر آپ ایسے بہت سے نام نہاد تخلیق کاروں سے آگاہ ہیں جو پاکستان میں تھے تو انھیں کو جانتا تک نہ تھا پھر وہ ملک سے باہر چلے گئے۔ وہاں تھوڑی سی آسودگی میسر آئی تو اپنی ادبی تنظیم بنالی اور پاکستان سے جانے والوں کی آو بھگت کی۔ ان کے اعزاز میں نشستیں، تھوڑی بہت شاپنگ اور آئندہ بلائے جانے کے وعدے کے ساتھ یہ تعلقات مضبوط ہوتے جاتے ہیں۔ بس پھر کیا جب وہ لوگ پاکستان آتے ہیں تو ان کی کتابیں بھی شائع ہو جاتی ہیں ان کی بہترین تقریبات اور ان میں شہر بھر کے مستند افراد سے مقالے بھی پڑھوالیے جاتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ادب کے آسمان کے ستارے بن جاتے ہیں۔ اب ایسے ستارے ہماری ’زمین ادب‘ پر جگہ جگہ دمکتے پھرتے ہیں۔ ان کے پاکستانی پروموٹرز انھیں ائر پورٹ ہی سے ہاتھوں ہاتھ لیتے ہیں اور پھر وہیں واپس چھوڑتے ہیں۔ اب تو خلیجی ممالک میں بھی ایسے حضرات کثرت سے نظر آتے ہیں۔
2015میں بھی تعلقات کی بنیادوں پر، کھانوں اور تحفوں کے عوض شہرت کی سیڑھیاں طے کی جاتی رہیں۔ لاہور میں بھی بہت سے ایسے افراد کی ادبی تنظیمیں مستقل ماہانہ تقریبات کراتی ہیں۔ جہاں ایک میسج پر تیس سے پچاس کے لگ بھگ شوقین حضرات اکٹھے ہو جاتے ہیں لیکن اس سلسلے میں تشہیر اپنی اپنی ہوتی ہے جس کے پاس ہنر زیادہ ہے وہ اپنی تصاویر فیس بک پر سب سے پہلے اوربڑھ کر لگاتا ہے اور شہرت کے مزے اڑاتا ہے۔ 2015میں بدقسمتی سے شہرت کے ایسے مزے اڑانے والوں کی تعداد میں خاصا اضافہ ہوا۔ ان دنوں لاہور میں بہت سی جگہوں پر ایسی تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ اگر آپ کے پاس دو کلو بسکٹ کے پیسے اور بیس کپ چائے کی رقم ہو تو بیس پچیس لوگوں کو تو اکادمی ادبیات لاہور کے دفتر میں جمع کر کے شام بھی منا سکتے ہیں۔ وہاں ہمارے ہر دلعزیز محمد جمیل کچھ خواتین و حضرات کو مفت فون پر اطلاع بھی کر دیتے ہیں۔ صدارت کے لیے ان دنوں شہر میں بہت سے سینئر ادیب تو موجود نہیں البتہ اِس وقت آسانی سے دستیاب صدور میں نجیب احمد، خالد شریف، ڈاکٹر اجمل نیازی، باقی احمد پوری، اسلم گورداسپوری، حسن عسکری کاظمی، ناصر زیدی، کنول فروز جبکہ مہمانان خصوصی کی فہرست کے لیے یہ خاکسار بھی ہر وقت حاضر رہتا ہے۔ دیگر میرے دوستوں میں جو بخوشی و برضا و رغبت 2015ءمیں مہمان بنتے رہے ان میں جواز جعفری، کرامت بخاری، لطیف ساحل، سعد اللہ شاہ، اعتبار ساجد اور قدرے بڑی تقریبات یا مشاعروں کے لیے حضرت ظفر اقبال، امجد اسلام امجد، عطاءالحق قاسمی، ڈاکٹر خورشید رضوی کا دم غنیمت ہے۔ لاہور میں 2015ءکی تقریبات میں یہی لوگ ہر جگہ دکھائی دئیے۔ البتہ مضامین پڑھنے والوں میں غافر شہزاد سر فہرست رہے ،انہوں نے 2015میں سب سے زیادہ مضامین پڑھے اور دوستوں پر کالم لکھے۔ سب سے زیادہ مشاعرے اور کانفرنسوں میں شرکت کرنے والوں میں صغرا صدف سرِ فہرست رہیں البتہ ان کے ساتھ عباس تابش، رخشندہ نوید، حسن عباسی، صوفیہ بیدار، فرحت پروین، ندیم بھابھہ، قمر رضا شہزاد کا نام بھی آتارہا۔ قمر رضا شہزاد نے سب سے زیادہ فیس بک پر تصاویر لگانے کا اعزاز بھی برقرار رکھا اور صغرا صدف ان سے سبقت نہ لے سکیں۔
جان کا شمیری، ناصر بشیر، خالد علیم، نوید صادق، سعد اللہ شاہ، ممتاز شیخ، شاہد علی خان، رضی الدین رضی، شاکر حسین شاکر، نسیم شاہد، ناصر علی سید، عارف شفیق، عقیل عباس جعفری، سونان اظہر جاوید، جبار مرزا، صہیب مرغوب، خالد یزدانی، کاظم جعفری، افتخار مجاز، قائم نقوی نے ادبی صحافت میں نمایاں کردار ادا کیا۔ مزاح گو شعرا نے 2015میں بھی سب سے زیادہ مشاعرے پڑھے۔ اس برس اس گروپ میں ایک اضافہ ڈاکٹر محمد طاہر شہیر کا ہوا۔ جو دیگر مزاح گو شعرا کے ساتھ الیکڑانک میڈیا پر چھائے رہے۔ زاہد فخری، سلمان گیلانی، خالد مسعود، سرفراز شاہد، ڈاکٹر انعام الحق جاوید، سعید اقبال سعدی اور ڈاکٹر فخر عباس کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ انور مسعود تو اس معاملے میں سب سے آگے ہیں۔ کراچی میں فاطمہ حسن نے انجمن ترقی اردو پر اپنی گرفت مضبوط کی۔ اور اپنے مخالفین پر سبقت حاصل کی۔ انجمن ترقی اردو کراچی میں تقریبات کا سلسلہ جاری رہا۔ احمد شاہ آرٹس کونسل کراچی میں کانفرنسوں کی وجہ سے بدنامی کی حد تک مشہور ہوئے۔ قیصر وجدی نے میٹرو چینل کو ادبی حلقوں میں مقبول بنایا۔ انور شعور کے ایک انٹرویو نے انھیں زیر بحث بنایا۔ ظفر اقبال نے متنازع کالم لکھنے کا ریکارڈ قائم کیا۔ اسلام آباد میں بزرگ شعرا تو قدرے گوشہ نشیں ہو گئے ہیں۔ 2015ءمیں اکادمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین قاسم بگھیو نے ادیبوں (خواتین) کی محبت حاصل کی۔ ڈاکٹر فرحت عباس کسی زمانے میں بہاول پورہوتے تھے تو امروز میں ادبی کالم بھی لکھتے تھے۔ پھر اچانک منظر سے غائب ہو گئے اِن دنوں راولپنڈی میں بے حد متحرک ہیں بلکہ انہوں نے اس سلسلے میں محبوب ظفر کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پنڈی میں شاعری میں اس وقت جلیل عالی اور حسن عباس رضا تقریبات کی جان نظر آتے ہیں۔ افتخار عارف اسلام آباد خالی کر گئے ہیں۔ اب وہاں جلیل عالی اور حسن عباس رضا اور ان کے ساتھ کہیں کہیں احسن اکبر اور یوسف حسن نمایاں ہیں۔ اختر عثمان قدرے منظر سے غائب ہیں جبکہ منظر نقوی بھی حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کے اقتدار کے بعد گوشہ نشیں لگتے ہیں۔ خواتین میں ان دنوں راشدہ مہین بہت مقبول ہو رہی ہیں۔ اگرچہ ان کے حوالے سے مبینہ طور پر بہت سی اختلافی آرا کا اظہار بھی سننے میں ملتا رہا۔ اچھی شاعری کرنے والوں میں نصیراحمد ناصر، علی محمد فرشی، طارق نعیم، اختر عثمان، احمد لطیف اور قدرے بعد میں آنے والوں میں عطا تراب، احمد رضا راجا نے 2015میں اپنی انفرادیت برقرار رکھی۔ کراچی میں لیاقت علی عاصم، عارف شفیق، فاضل جمیلی، قیصر وجدی، یامین اختر، شاہدہ حسن، فاطمہ حسن، عقیل عباس جعفری کے علاوہ بزرگوں میں پیر زادہ قاسم، سحر انصاری، جاذب قریشی، جاوید منظر، ریحانہ روحی، راشد نور، سلیم کوثر، صابر ظفر، انور شعور، تاجدار عادل، ڈاکٹر حسن وقار گل، اظہار حیدری منظر عام پر رہے۔ اس برس جن کی کتب شائع ہوئیں ان میں منصور آفاق کا دیوان، کلیات بیدل حیدری، شفیق احمد خان، رخشندہ نوید، ضیاءالحسن، حمیدہ شاہین، علامہ بشیر رزمی، آفتاب خان (شام)، ممتاز راشد لاہوری، مقصود وفا، طارق اسماعیل ساگر، فرخ سہیل گوئندی، صغرا صدف، عرفان صادق، نوید مرزا، توقیر شریفی، غلام حسین ساجد، ڈاکٹر وحید الرحمن، شاہدہ دلاور شاہ(وسیلہ) غافر شہزاد، فخر زمان، فرحت زاہد، ڈاکٹر امجد پرویز، محسن بگھیانہ، گلزار بخاری، ڈاکٹر جواز جعفری، بصیرہ غبرین، جبار مرزا(پہل اس نے کی تھی) محمد رفیق ڈوگر(نور القرآن تفسیر) حسین مجروح(آواز) جمیل اطہر قاضی(ایک عہد کی سرگزشت) آسناتھ کنول، زلفی سید، صابر ظفر(غزل نے کہا) فاخرہ انجم، ڈاکٹر صفدر محمود(امانت) راشدہ مہین، جیلانی بانو(درد کی آوازیں) ظفر سپل، ڈاکٹر محمد امین، مستنصر حسین تارڑ، اختر وقار عظیم، ڈاکٹر اخلاق گیلانی، ڈاکٹر جاوید منظر، ڈاکٹر اشفاق ورک، ڈاکٹر علی محمد خان، ڈاکٹر غفور شاہ قاسم، حسن عباس رضا، ڈاکٹر رشید امجد، ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی، صوفیہ بیدار، ڈاکٹر انور احمد، اعجاز اللہ ناز، اکرم شیخ، مدثر اقبال بٹ، سعد اللہ شاہ، تنویر حسین، رضی الدین رضی، افتخار حسین بخاری شامل ہیں۔
دوسرے شہروں کے متحرک اہل قلم میں میانوالی سے مظہر بخاری، منور علی ملک، نور محمد ترکپوری، نذیر یاد، حامد سراج، ملتان سے نوازش علی ندیم، رضی الدین رضی، اظہر سلیم مجوکہ، ممتاز اطہر، ڈاکٹر محمد امین، وسیم ممتاز، سہیل عابدی، شاکر حسین شاکر اور خالد مسعود شامل رہے۔ جھنگ میں ممتاز غزل گو صفدر سلیم سیال، ڈاکٹر محسن مگھیانہ، فیصل آباد میں انجم سلیمی، مقصود وفا کے علاوہ شبیر احمد قادری، اصغر علی بلوچ، شہزاد بیگ، طاہر اقبال ، منظر پھلوری، آج بھی متحرک ہیں جبکہ ڈاکٹر ریاض مجید اکرام مجید گوشہ نشیں رہے۔ اس طرح گوجرہ میں نزول کے روح رواں اذلان شاہ ادبی طور پر نمایاں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ سیالکوٹ میں آصف بھلی ادب صحافت اور سیاست کی پہچان ہیں۔عامر شریف حلقہ ادب و ثقافت چلا رہے ہیں اور سوشل میڈیا پر بھی نہایت متحرک ہیں۔ بریگیڈئیر صادق راہی ان دنوں کھاریاں چھاو¿نی میں تعینات ہیں۔ انہوں نے 2015ءمیں چھاونی میں ایک شاندار مشاعرہ منعقد کیا اور پرانے احباب کو اکٹھا کیا۔ یوسف عالمگیرین، راولپنڈی میں رہتے ہوئے سرکاری خدمات کے ساتھ ساتھ کالم نگاری کے فرائض بھی سر انجام دےتے رہے۔ مظفر گڑھ میں سجاد حیدر پرویز نے بیسویں گریڈ میں ترقی پائی وہ مقامی کالج کے وائس پرنسپل ہیں۔ پنڈی سے نثاترابی کا پنجابی شعری مجموعہ منظر عام پر آیا۔ اس کی تعارفی تقریب لاہور میں منعقد ہوئی۔ حلقہ ارباب ذوق کے دونوں دھڑے متحرک رہے۔ امجد طفیل اور علی نواز شاہ پاک ٹی ہاوس میں اجلاس منعقد کرتے ہیں جبکہ حفیظ طاہر ایوان اقبال میںدونوں طرف اہل قلم حاضری لگواتے ہیں۔ تسلیم احمد تصور نے 2015ءمیں غالب کانفرنس منعقد کرائی جس میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبد القدیر خان نے خصوصی شرکت کی۔ یہ کانفرنس بھی نہایت کامیاب رہی۔ اس میں ملک بھر سے کئی ممتاز ادبی شخصیات نے شرکت کی۔ ادبی میلہ عطا الحق قاسمی کی سرپرستی میں الحمراءآرٹس کونسل کی انتظامیہ نے منعقد کیا۔ ہر روز تیس سے چالیس سیشن منعقد ہوتے رہے۔ شاعروں کو اس مرتبہ لفافے نہیں ملے البتہ اس کانفرنس سے تین روز قبل کراچی آرٹس کونسل نے اپنی کانفرنس کا ڈول ڈال کر الحمرا آرٹس کونسل کے میلے کے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی کوشش کی۔ کئی اہل قلم کراچی سے بروقت اس میلے میں شرکت نہ کر سکے۔ اس میلے میں ڈاکٹر اجمل نیازی بھی شریک ہوئے اور عرصے بعد عطاءالحق قاسمی اور ڈاکٹر اجمل نیازی بغل گیر ہو گئے اصغر ندیم سید نے 2015ءمیں ’دنیا پاکستان‘ میں چند اچھے کالم لکھ کر کئی داغ دھو دئےے۔ ان کالموں کے موضوعات زیر بحث رہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *