جمہوریت ، خلافت اور سزائے موت

ahmad ali kazmiسعودی عرب نے آج صبح شیعہ عالم اور سیاسی رہنما شیخ نمر النمر کو پھانسی دے دی۔ شیخ نمر شاہی حکومت کے خلاف بڑی زوردار آواز تھے اور الیکشن کا مطالبہ رکھتے تھے۔ انھیں 2012 ءمیں حکومت مخالف مظاہروں پر گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے دوران انھیں ٹانگ میں گولی ماری گئی۔ ان پر ’بادشاہ سے بغاوت، اشتعال انگیز تقریر اور گرفتاری کے دوران پولیس پر فائرنگ‘ جیسے دو درجن کے قریب الزامات لگائے گئے۔
ٹرائل کے دوران ان کے خلاف دو قسم کی شہادت دی گئی۔ اول ان کی نو تقاریر عدالت میں پیش کی گئیں جس میں انھوں نے عوام کو حکومت مخالف مظاہروں پر اکسایا تھا (جو سعودی عرب میں جرم ہے)۔ تاہم ان تقاریر میں شیخ النمر نے تشدد کا جواب الفاظ کی طاقت سے دینے کی اپیل کی تھی۔ دوسری شہادت پولیس افسران کے عدالت میں جمع کرائے گئے بیان حلفی تھے جس میں انھوں نے بنا کسی ثبوت کے زبانی کلامی شیخ النمر پر فائرنگ کا الزام لگایا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے ان میں سے ایک پولیس آفیسر کو بھی عدالت نے طلب نہیں کیا اور نہ ہی ان پر جرح ہونے دی بلکہ یک طرفہ طور پر ہی ان کے بیان حلفی کو قبول کر لیا۔ سپریم کورٹ میں دوران اپیل شیخ النمر کے وکیل تک کو پیش ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔
ایران میں 2015 ءمیں جنوری تا جولائی 750 افراد کو پھانسی دی گئی۔ یہ کتنی بڑی تعداد ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اسی عرصے میں سعودی عرب نے ’محض‘ 102 افراد کو پھانسی دی تھی۔ سعودیہ اور ایران دنیا بھر میں سزائے موت کی کثرت کے حوالے سے پہلے تین ممالک میں آتے ہیں۔ ان دونوں ممالک میں عدالتی طریقہ کار انتہائی ناقص، جانبدارانہ اور فئیر ٹرائل کے تقاضوں کے یکسر منافی ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ قتل کے علاوہ بھی کئی جرائم میں یہ ممالک سزائے موت دیتے ہیں۔ ان میں سے اکثر جرائم تو وہ ہیں جو سرے سے جرم ہیں ہی نہیں بلکہ بنیادی حقوق انسانی میں آتے ہیں۔
بنگلہ دیش میں حال ہی میں ختم ہونے والے انتقامی ٹرائلز کا افسانہ ہمارے سامنے ہے۔ ہمارے ہاں اس پر شور تو بہت ہوا مگر اصل بنیاد کو کم ہی چھیڑا گیا۔
ہم مسلمان انسانیت سے اپنی محبت کے لیے ”ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے‘ کا فوراً حوالہ دیتے ہیں، مگر دن رات عدالتی، ریاستی اور غیر ریاستی ناحق قتل کیے جاتے ہیں اور خوشنما عنوانات سے ان کا دفاع بھی کرتے ہیں۔ کیا شیخ النمر کو دی گئی سزائے موت اس آیت کے زمرے میں داخل نہیں۔
سعودی عرب اور ایران کی مثال سامنے رکھیں تو سزائے موت کو ریاست سیاسی اختلاف، آزادی اظہار اور اپنے حقوق کی جد و جہد کو دبانے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔ پاکستان میں اگرچہ ان ممالک کی نسبت حالات بہت بہتر ہیں مگر ہمارے ہاں بھی ریاست کا دامن غیر جمہوری رویوں (جمہوری و آمرانہ دونوں ادوار میں) کے حوالے سے داغدار ہے۔ بھٹو کو سزائے موت نہیں دی گئی بلکہ قتل کیا گیا۔ اور پھر اس پر ہم مسلمانوں کی سزائے موت سے ایک غیر فطری محبت تو بہت عجیب بات ہے۔
سزائے موت کو ہم شرعی سزا مانتے ہیں مگر اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ یہ ایک رومان پرور فلسفہ ہے۔ شریعت نے انتہائی حالات میں ایک ناگزیر آپشن کے طور پر اسے قبول کیا ہے اور ہم اس سے دل لگائے بیٹھے ہیں۔ ہم سرے سے اس انتہائی سزا جس کا مداوا کسی صورت بھی ممکن نہیں پر ایک معقول بحث اٹھانے کو بھی تیار نہیں ہیں؟ ہم اپنے عدالتی نظام کی کمزوریوں، عدالت کا استغاثہ کی جانب جھکاو، ریاستی جبر اور قتل کے علاوہ جرائم میں بھی سزائے موت کے پہلووں پر بھی غور نہیں کرنا چاہتے۔ سعودی عرب نے شیخ النمر کے بھتیجے علی النمر کو بھی سزائے موت سنا رکھی ہے جس کی عمر گرفتاری کے وقت سترہ برس تھی۔ ہم اس پر بھی بات نہیں کرنا چاہتے۔
اپنے ایسے ہی اور ملتے جلتے (مثلا خواتین سے متعلق عجیب و غریب خیالات) غیر جمہوری رویوں کی عملی تعبیر اور نفسیاتی تسکین کے لیے ہم ’خلافت‘ بلانا چاہتے ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بیسویں صدی میں عالم اسلام میں ایسے رویے بھی ذیادہ تر سعودیہ اور ایران ہی سے برآمد ہوتے رہے ہیں۔ ہم دن رات جس فلسفہ خلافت کا نعرہ لگاتے ہیں، اگر وہ خلافت آ گئی تو موجودہ سعودی عرب اور ایران بھی ہمیں ایک نعمت محسوس ہوں گے۔ سبب اس کا یہ ہے کہ خلافت کا جو مفہوم ہمارے ذہنوں میں بیٹھا ہوا ہے وہ ایک غیر فطری اور غیر جمہوری رویے کے سوا کچھ نہیں۔ خلافت کے تین چار ہی عملی ماڈل ہیں۔ ابو بکر البغدادی ماڈل، طالبانی ماڈل، سعودی ماڈل اور ایرانی ماڈل۔ اس کے سوا خلافت ایک گم گشتہ محبت ہے۔ اگر ہم میں معقول بات سمجھنے کی صلاحیت ہوتی تو ہم اپنے مثالی فلسفہ خلافت کا عکس یقینا جمہوریت میں دیکھ لیتے۔

جمہوریت ، خلافت اور سزائے موت” پر ایک تبصرہ

  • جنوری 5, 2016 at 8:54 AM
    Permalink

    ;Its unfortunate to see you lack basic understanding about both Democracy and Khilafah. Let me add to your knowledge;
    Democracy is derived from the Greek terms demos and kratos, ‘empowered people’, encompassing the notion of “government of the people, by the people, for the people” - sovereignty and authority rest with the people. People are subject to the laws of their own making. As a reaction to the governance of church and monarchy, it comfortably embraces the notion of secularism, that religion must be separated from the political arena and is not the source of legislation. Furthermore, it incorporates the need for political plurality, accountability and separation (division) of powers.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *