سعودی عرب میں ظلم

سعودی عرب نے آج ایک ممتاز سعودی شیعہ عالم دین شیخ نمر الباقر النمر کو سزائے موت دے کر اپنے ملک کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں شیعہ سنی تفریق کو واضح کرتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ سعودی شاہی خاندان ملکی اور علاقائی مسائل کو سمجھنے اور مفاہمانہ طرز اختیار کرنے پر تیار نہیں ہے۔ شیخ نمر کو ملک کے مشرقی صوبے الشرقیہ میں 12-2011 کے دوران شیعہ باشندوں کے احتجاج اور مظاہروں کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں 2014 میں دہشت گردی اور شاہی خاندان کی نافرمانی کے الزام میں موت کی سزا دی گئی۔ 2015 میں ملک کی سپریم کورٹ نے اس سزا کی توثیق کر دی تھی۔ تاہم سعودی شیعہ آبادی میں شیخ نمر الباقر النمر کی مقبولیت اور ان کی طرف سے صرف پرامن احتجاج کی حمایت کی بنیاد پر یہ توقع کی جا رہی تھی کہ سعودی حکومت انہیں موت کے گھاٹ اتارنے کے انتہائی اقدام سے باز رہے گی۔ آج سعودی عرب کی 12 مختلف جیلوں میں 47 قیدیوں کو موت کی سزا دی گئی۔ ان میں شیخ نمر سمیت چار شیعہ شہری بھی شامل ہیں۔ باقی ماندہ قیدیوں کا تعلق القاعدہ سے بتایا گیا ہے جو 06۔2003 کے دوران ملک میں دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔
اگرچہ سعودی عرب میں 1979 کے بعد بیک وقت اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کی سزائے موت دنیا بھر کے لوگوں کے لئے چونکا دینے والی خبر تھی لیکن سعودی حکام نے شیخ نمر الباقر النمر کو اس فہرست میں شامل کر کے ایک سوچا سمجھا پیغام دینے کی کوشش کی ہے۔ اگرچہ سعودی حمایت یافتہ مبصر یہ بتانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ سنیوں کے ساتھ شیعہ باشندوں کو بھی موت کی سزا دے کر سعودی عرب نے یہ واضح کیا ہے کہ وہ دہشت گردی اور مملکت کے خلاف جرائم کو برداشت نہیں کرتا اور نہ ہی اس حوالے سے عقیدہ کی تخصیص کی جاتی ہے۔ لیکن ایک اقلیتی گروہ کے مقبول اور بنیادی حقوق کی جدوجہد کرنے والے عالم کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر کے اور عام مجرموں کی طرح موت کی سزا دے کر دراصل سعودی شاہی خاندان کی طرف سے ملک کی اقلیتی شیعہ آبادی کو یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ان کی طرف سے مساوی حقوق کا کوئی مطالبہ قابل قبول نہیں ہے۔ ان کے حقوق اور مزید مراعات کے لئے جدوجہد کا طریقہ خواہ کتنا ہی مہذب اور پرامن ہو اور اس کی قیادت کرنے والا خواہ کتنا ہی نیک نام اور نیکوکار ہو، حکومت اپنے اختیار کو درپیش سیاسی چیلنج کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی شام میں خانہ جنگی کے خاتمہ کی عالمی کوششوں اور سنی و شیعہ آبادیوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے کی کوششوں کو مسترد کرنے کا بالواسطہ پیغام بھی دیا گیا ہے۔
سعودی عرب کی تین کروڑ کے لگ بھگ آبادی میں 15 فیصد کے قریب شیعہ ہیں۔ یہ لوگ ملک کے مشرقی صوبوں میں رہتے ہیں جو تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ اس کے باوجود شاہی خاندان نے ملک کی شیعہ آبادی کو بنیادی سہولتوں اور ملک کے مالی وسائل میں مناسب حصہ دینے یا ترقی و خوشحالی کے مساوی مواقع فراہم کرنے سے گریز کیا ہے۔ ریاض کی حکومت سخت گیر سنی عقیدہ کی تبلیغ کرتی ہے اور باقی عقائد و مسالک کو غیر شرعی قرار دیتی ہے۔ تاہم خطے میں سیاسی تسلط و اختیار کی جنگ میں چونکہ اس کا مقابلہ شیعہ آبادی کے ملک ایران سے ہے، اس لئے سعودی شاہی خاندان شیعہ آبادی کے خلاف خاص طور سے امتیازی سلوک روا رکھتا ہے۔ شام کی خانہ جنگی کو طول دینے اور سیکولر بشار الاسد کی حکومت کو ختم کرنے کا ایجنڈا بھی اسی لئے مقرر کیا گیا تھا کیونکہ سعودی عرب کو اندیشہ ہے کہ بشار الاسد شیعہ عقیدہ کی وجہ سے خطے میں ایران کے تسلط کو وسعت دینے کا سبب بن رہا ہے۔ سعودی حکمرانوں کی شیعہ آبادیوں سے گھبراہٹ اور ان کے خلاف معاندانہ طرز عمل کا اندازہ 2011 ءمیں بحرین میں اکثریتی شیعہ آبادی کے سول حقوق کی مہم کے دوران بھی ہوا تھا۔ سعودی عرب نے بحرین کے سنی حکمرانوں کو بچانے کے لئے اپنے فوجی دستے وہاں روانہ کئے تھے جنہوں نے ظلم و بربریت کے ذریعے شہری احتجاج کو کچل دیا تھا۔ اس موقع پر شیعہ لوگوں کو مارنے کے علاوہ ان کی مساجد اور دیگر مقدس مقامات کو بھی کثیر تعداد میں مسمار کیا گیا تھا۔
سعودی عرب میں شیخ نمر الباقر النمر کی موت کے بعد دنیا بھر کے ملکوں میں شیعہ آبادیوں کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا ہے۔ ایران نے سخت لفظوں میں اس ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کو اس ظلم کی قیمت ادا کرنا ہو گی۔ ممتاز ایرانی لیڈر آیت اللہ احمد خاتمی نے شیخ نمر کی موت پر سخت غم و غصہ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے سعودی شاہی خاندان کو اس قتل کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکمرانوں کا نام تاریخ کے صفحات سے مٹ کر رہے گا۔ عراق، یمن ، بحران کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں میں شیخ نمر کی موت کو عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے ، اس کی شدید مذمت کی گئی اور جلوس نکال کر اس سعودی اقدام کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کیا گیا۔
سعودی عرب کے مختلف شہروں میں دی جانے والی موت کی سزاﺅں کے کئی پہلو قابل غور ہیں۔ اوّل تو اتنی بڑی تعداد میں قیدیوں کو سزا دینا اور ان لوگوں میں ممتاز شیعہ عالم کو شامل کرنا نہایت افسوسناک فعل ہے۔ یہ بات بجائے خود قابل مذمت ہے کہ سعودی عرب میں اب تک تلوار سے سر قلم کر کے موت کی سزا دی جاتی ہے۔ یہ طریقہ کار فی زمانہ دور جاہلیت کی یاد دلاتا ہے۔ آج سعودی عرب کی بارہ جیلوں میں 47 قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ ان میں صرف 4 جیلوں میں فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے مجرموں کو مارا گیا۔ جبکہ باقی مقامات پر ان کے سر قلم کئے گئے۔ ان قیدیوں میں بلاشبہ سخت گیر دہشت گرد اور بہیمانہ حملوں میں ملوث لوگ بھی شامل تھے۔ لیکن شیخ نمر سمیت بعض ایسے لوگ بھی قتل کئے گئے ہیں جو بنیادی طور پر شاہی خاندان کے تسلط کے خلاف آواز بلند کر رہے تھے اور ان انسانی حقوق کے حصول کا تقاضہ کرتے تھے جن کا حصول اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کے تحت بنیادی حقوق کی حیثیت رکھتا ہے۔ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ شیخ نمر اور دیگر سیاسی قیدیوں کو عدالتی کارروائی کے دوران وکیل کی سہولت حاصل نہیں تھی۔ ان سے تشدد کے ذریعے بیانات حاصل کئے گئے جنہیں عدالتوں نے کسی اعتراض کے بغیر قبول کر لیا۔ ان مقدمات کی سماعت کے دوران منصفانہ ٹرائل کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے۔
آزادی¿ اظہار اور شہری حقوق کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں موت کی سزا دینا گھناو¿نا اور قابل مذمت فعل ہے۔ سعودی عرب ادیبوں، شاعروں ، فنکاروں ، نوجوانوں اور مذہبی لیڈروں کو اس حق سے محروم کر کے معاشرے میں گھٹن، خوف اور دہشت پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور دنیا میں حالات جس تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں، ان کی روشنی میں یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ پالیسی خود سعودی حکمرانوں کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گی۔ سعودی حکام نظریاتی اور مالی لحاظ سے انتہا پسند گروہوں کی مدد کرتے رہے ہیں۔ اسلامی شریعت کی خود ساختہ تفہیم کو عام کرنے کے شوق میں سعودی وسائل سے پاکستان سمیت بیشتر اسلامی ملکوں میں ایسا مزاج تقویت پکڑ رہا ہے جو دہشت گرد گروہوں کا دست و بازو بنتا ہے۔ شام و عراق میں داعش کا ابھرنا اور قوت پکڑنا بھی اسی منفی اور افسوسناک سعودی پالیسی کا مظہر ہے۔ داعش کی طرف سے خلافت کے اعلان کے بعد اگرچہ سعودی عرب اس گروہ کے خلاف برسر پیکار ہے لیکن اس کے باوجود شام کی خانہ جنگی میں ایسے مذہبی گروہوں کی سرپرستی کرتا رہا ہے جو ویسے ہی ہتھکنڈے اختیار کرتے ہیں اور دہشت گردی میں ملوث ہیں۔
شام میں عالمی طاقتوں کی طرف سے مصالحت کے لئے کام کرنے کے سوال پر اتفاق رائے کے بعد سعودی عرب سمیت دنیا بھر کے مسلمان ملکوں سے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ شیعہ سنی کی تفریق ختم کرتے ہوئے مصالحانہ ماحول پیدا کرنے میں معاونت کریں گے۔ شام اور عراق میں قیام امن کے لئے اس قسم کی یگانگت اور بھائی چارہ بے حد ضروری ہے۔ ان حالات میں سعودی عرب میں شیخ نمر الباقر النمر کی موت بین المسلکی بنیادوں پر مصالحت کے رویہ کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ موجودہ حالات میں ایران سعودی عرب کو سزا دینے کے لئے کیا اقدام کر سکتا ہے لیکن شیعہ آبادیوں کو اشتعال دلا کر سعودی حکام نے ایک ایسے تنازع کو چنگاری دکھائی ہے جو مسلمان ملکوں میں ہی نہیں، دنیا بھر میں مسلمانوں کے درمیان تفریق اور تنازع کی بنیاد بن سکتا ہے۔ سعودی عرب سنی طاقت ہونے کے ناتے قوت حاصل کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے حصول کے لئے اختیار کیا گیا طرز عمل غلط ، ناجائز اور ظالمانہ ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *