ایک نیم پاپ بیتی عرف ’شعلہ سا جل بجھا ہوں ‘

zafarullah Khanلو بھیا! اپنی آرزووں، سرمستیوں، طلب مستیوں اور معرکہ آرائیوں کے باعث ناٹک تو ہم نے بھی بہت رچائے لیکن اتنے پھسڈی بھی نہ تھے کہ کھوپرے کے تیل پر واری جاتے۔ یونیورسٹی کے دن تھے۔ چل چلاو¿ کا زمانہ تھا۔ محبتوں کی کل اوقات طاہر القادری کے خوابوں سے زیادہ نہ تھی۔ ادھر ڈوبے ادھر نکلے ادھر ڈوبے ادھر وارد ہوئے۔وصی شاہ اور فرحت عباس شاہ کی گڈیاں آسمانوں پر تھیں۔میر و غالب اور فیض و جالب کو پڑھنے والا یہ کدو حسیں ہاتھ کے کنگن پر واہ واہ کر جاتا ....
محترمہ جب پہلے سمیسٹر میں ابا جی کے ساتھ سکوٹرپر آتی تو مولوی کرنٹ کی پگڑی کے برابر بارہ میٹر کی چادر اوڑھ کر آتی جو آخری سمیسٹر تک سکڑتے سکڑتے ربن بن چکا تھا۔دوسرے سمیسٹر میں محترمہ کو الہام ہوا کہ اس خاکسار کدو جیسا ملنسار، خوش گفتار اور مغز بیدار شاید ہی یونیورسٹی میں دوسرا کوئی ہو۔ حالانکہ بات صرف وہ چھ (اے) تھے جو فدوی نے پہلے سمیسٹر میں لئے تھے۔ نئے سرے سے تعارف ہوا تو پتہ چلا کہ ابا جی اب پاپا تھے جو امپورٹ کا بزنس کرتے تھے۔ دل میں خیال آیا کہ ایک ہمارے جیسوں کے ابے ہیں جو یا آری مشین چلاتے ہیں یا کسی جگہ کلرک ہوتے ہیں ورنہ پاپے تو سب ہی امپورٹ اور ایکسپورٹ کا بزنس کرتے ہیں۔
بہت تھوڑے دنوں میں ہی محترمہ کی آنکھوں میں سجا خواب اور پلکوں سے لپٹا سپنا بس یہی کدو بن گیا جو بی بی کے سارے اسائنمٹ تیار کر کے دیتا تھا اور لیکچر کے نوٹس بھی بنا دیتا تھا۔ کسی خوبصورت سے رجسٹر میں اپنے ہاتھوں کے گریمونڈ فونٹ سے ( احمق کہیں کا)۔ لیکن اس پر بھی کیا بس۔ ساری جیب خرچ (ان کی پاکٹ منی ہوا کرتی تھی) بھی ان کے چٹخاروں کی نذر ہو جاتی۔ بدبخت ڈائیٹ پر ہوتے ہوئے بھی چھ چھ پلیٹ گول گپے ڈکار جاتی۔ روز روز تو اس کو شاپنگ کرنی ہوتی تھی۔ ادھر مہینے کے آخر میں کینٹین والا سات سو ادھار بھی لگا چکاہوتا فدوی کے کھاتے میں جو دوستوں کی مدد سے ادا ہوتا۔
جس دن یہ پینڈو باپ کی پاکٹ پر ہاتھ مار آتا، اس دن تو لگتا تھا محترمہ بل گیٹس کی بیٹی ہیں۔ ورساشے کرسٹل نائیر سے کم کی تو بات ہی نہیں کرتی اور پینڈو جانتے بوجھتے احمق بنا ہوتا کہ لڑکی روٹھ نہ جائے۔ دل میں تو کئی بار آتا کہ کہہ دوں کہ بی بی اس پانچ ہزار کے پرفیوم کو چھوڑو، اسی سے کام چلاﺅ جو یونیورسٹی کے پہلے سمیسٹر میں لگا کر آتی تھی۔کلاس میں آتی تو لگتا تھا بندہ رائے ونڈ کے تبلیغی اجتماع میں پہنچ گیا ہے۔ وہی سو روپے پانچ تولے والا کھوپرے کا تیل ملا عطر۔ یہ رائے ونڈ والے ’اکرام مسلم ‘کے شوقین ساتھی بھی ناں! جو بھی ملتا تھا کچھ نہ کچھ مل کے ہی جاتا تھا اور بندے کو اپنا آپ کھوپرے کی گری یا چنبیلی کولیسٹرول زدہ پھول محسوس ہوتاتھا۔ سخن گسترانہ بات مقطع میں آپڑی۔ میں نے لکھی نہیں، آپ نے پڑھی نہیں۔
کارزار’ عشق مخولی‘ میںمحترمہ کھوپرے کا تیل لگاتی لگاتی ورساشے تک توچھلانگ لگا آئی مگرگھر کا پتہ کبھی نہیں بتایا۔ غالب گمان تھا کہ اس سے تو پاپا کا پول کھل جانا تھا۔جوں جوں سمیسٹر سکڑتے گئے، زلیخائی ٹھیکیاں لینے لگی۔ اب کہیں تو ٹھینگا بجے گا .... لو جی پھر یوں ہوا کہ راستے یکجا نہیں رہے۔ بھلے دنوں کی بات ہے۔ بھلی سی ایک شکل تھی۔ دو دن یونیورسٹی سے غائب رہنے کے بعد اگلے دن میک اپ والے پنسل سے آنکھوں کے گرد حلقے بنا کر آئی اور رونی صورت بنا کر کہا۔ پاپا نے آپ کے میسیجز دیکھ لئے۔ باقاعدہ ہچکیاں بندھ گئیں۔اس کو روتے دیکھ کر اپنے اوسان خطا ہو گئے اور بن گئے عید قربان کے بیل۔ کمبخت مارے صنف نازک کے آنسو بڑے بڑے جغادری مردوں کا پتہ پانی کر دیتے ہیں۔پینڈو آدمی تھے۔ ماں باپ نے پڑھنے بھیجا تھا۔ یونیورسٹی سے نکالے جاتے تو سیاہ منہ کہاں لے کر جاتے۔ داﺅ ٹھیک بیٹھتا دیکھ کر بی بی نے اور زور سے پیمانہ چھلکایا۔ پاپا تو ریکٹر سے ملنے آ رہے تھے۔ حتی کہ میری یونیورسٹی آنے پر بھی پابندی لگانے لگے تھے۔ ادھر ہم دل ہی دل سو نفلوں کا وعدہ کر کے آیت الکرسی پڑھنے لگے کہ پاپا یونیورسٹی نہ آئے۔
لیکن پکی بی بی صرف محبت کے پیندے کو ہلکا کرنے والی تھی۔ جان کہاں آخری امتحان تک چھوڑنے والی تھی آخر پاس بھی تو ہونا تھا۔ جانو! شکر کرو ماما بیچ میں آ گئیں۔ انہوں نے پاپا سے کہا۔ نہیں نہیں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہو گی ورنہ وہ تو بڑا شریف بچہ ہے۔ بالکل اس کے بھائی جیسا ہے (الو کا پٹھا)۔ اور ماما نے ناں مجھے سختی سے آپ سے بات کرنے سے منع کر رکھا ہے۔جانو پلیز میں اب آپ سے دوستی نہیں رکھ سکتی۔ آپ پلیز میرے بھائی بن جاﺅ۔ دیہاتی ویسے بھائی بھی جلدی بن جاتا ہے۔ بن گیا کوہلو کا بیل اک واری فیر کیونکہ اس کے ابا اگر ریکٹر سے شکایت کر دیتے تو پینڈو سیدھے باپ کے ساتھ آری مشین پر لکڑی کاٹتا یا پھر تایا جی کر ساتھ کپڑے کے تھان ڈھوتا۔
کچھ دن بعد بی بی نے اسی یونیورسٹی کی ایک جاندار آسامی کو اپنا کزن کہہ کر متعارف کروایا اور کزن بھی وہ والا جوماما کی ’ بیسٹ فرینڈ‘کا بیٹا تھا۔ اب کے ایف سی کے برگر کزن کھلاتا اورگول گپے کی ریڑھی تو ویسے بھی ’ ایکس‘ بھائی کے باپ تھی۔اب ایسا ہے کہ سال نو کی آمد پر کچھ نئے نمبروں سے دل آویز قسم کے مبارکبادی پیغامات وصول ہوئے تو خاکسار کو خیال آیا کہ کچھ پردہ نشینوں نے شاید یاد کیا ہو۔ اس لئے ہڈبیتیاں بلکہ نیم پاپ بیتی یاد آ ئیں تو آپ حضرات کو شریک جرم کیا۔ اللہ سے دعا ہے کہ یہ نیا سال آپ لوگوں کے لئے رحمت و خوشی کا باعث ہو۔

ایک نیم پاپ بیتی عرف ’شعلہ سا جل بجھا ہوں ‘” پر بصرے

  • جنوری 4, 2016 at 12:27 AM
    Permalink

    عمدہ تحریر۔۔۔۔مزہ آگیا جناب

    Reply
  • جنوری 5, 2016 at 8:13 PM
    Permalink

    بہت خوب ۔۔۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *